ہگز بوزون (8)۔۔وہاراامباکر

ہر قسم کی یکجائی کے ساتھ ایک مسئلہ ہے۔ آپ جس فینامینا کو اکٹھا کرنے کی امید رکھتے ہیں، وہ اگر بہت مختلف نہ ہوتا تو پھر حیرت کا عنصر نہ ہوتا۔ یہ کام پہلے ہی کیا جا چکا ہوتا۔ بڑا سوال یہی ہے کہ یہ الگ کیوں نظر آتے ہیں۔
اگر سورج ستارہ ہی ہے تو پھر یہ ستاروں سے اتنا مختلف کیوں نظر آتا ہے؟ اس کی وجہ (فاصلہ) کو سمجھے بغیر یہ دعویٰ مضحکہ خیز لگے گا۔
آئن سٹائن نے یکجائی کے اپنے خیالات کا زبردست طریقے سے جواب آبزرور کے نکتہ نظر کی مدد سے دیا تھا۔ بظاہر نظر آنے والے فرق آبزور کی حالت کی وجہ سے ہیں، نہ کہ یہ فینامینا کی اپنی خاصیت ہیں۔ الیکٹریسیٹی اور میگنٹزم، حرکت اور سکون، گریویٹی اور ایکسلریشن اس طریقے سے یکجا ہوئے تھے۔
فورسز کی یکجائی کے پیچھے ایک اور نیا اصول تجویز کیا گیا جو سمٹری کے ٹوٹ جانے کا تھا۔ اس کو سمجھنے کے لئے ہم مدد اپنی دنیا کے قوانین کی مثال سے لے لیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے معاشرتی قوانین کا اطلاق ہر ایک پر یکساں ہوتا ہے۔ کسی بھی اچھے معاشرے کی یہ خاصیت قانون کی سمٹری کہلائے گی۔ ایک شخص کی جگہ دوسرے کو ڈال دیں، تب بھی وہی قوانین لاگو ہوں گے۔ ہر ایک کو قواعد کے مطابق ٹیکس دینا ہے۔ مقرر حد رفتار سے تیز گاڑی نہیں چلانی۔ یہ قانون تو ایک ہی ہیں لیکن ایک شخص کی اپنی خاصیت ہو سکتی ہیں۔ کسی کی آمدنی دوسرے سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے پاس گاڑی نہ ہو۔ قوانین تو ایک ہیں لیکن قانون کا اطلاق جب دوسرے شخص پر ہوا تو نتیجہ ایک نہیں رہا۔ شخص کی کسی خاصیت نے طے کیا کہ نتائج کیا رہیں گے۔ کونسا قانون متعلقہ بھی ہو گا یا نہیں۔
کسی آئیڈیل معاشرے میں ہر ایک نے ایک ابتدائی حالت سے شروع کیا۔ بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں، لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابتدائی مواقع کی سمٹری تھی۔ جس طرح زندگی آگے بڑھتی گئی، یہ ابتدائی سمٹری محدود ہوتی گئی۔ سمٹری کا ٹوٹ جانا لازم ہے۔ لیکن یہ کیسے ٹوٹتی ہے؟ یہ نہیں بتایا جا سکتا۔ Spontaneous symmetry breaking کا یہ اصول فزکس سٹینڈرڈ ماڈل کا دوسرا بڑا اصول ہے۔
اس کو سمجھنے کیلئے ایک اور مثال: فرض کیجئے کہ ایک یونیورسٹی میں نئی کلاس آئی ہے۔ سٹوڈنٹ ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ یہ ایک دوسرے سے ملیں گے، دوستیاں ہوں گی، گروپ بنیں گے۔ (کچھ کی آپس میں شادی بھی ہو سکتی ہے)۔ تعلقات کا یہ نیٹورک بنے گا۔ پہلے روز، جب ان سب کی ملاقات، بطور اجنبی، ہوئی تھی تو اس گروپ میں بہت سمٹری تھی۔ تعلقات بہت طریقے سے بن سکتے تھے، لیکن اصل میں ان میں سے ایک ہی راستہ realize ہوا۔ سمٹری کی صورتحال مستحکم نہیں تھی۔ اصل دنیا میں سمٹری ٹوٹتی گئی اور استحکام آتا گیا۔ امکان کی آزادی کی غیرمستحکم حالت سے حقیقت کے مستحکم تجربے تک پہنچے۔
فزکس میں بھی ایسا ہی ہے۔ ایک مثال دی جاتی ہے کہ اگر ایک پنسل کو اس کے سکے کی نوک پر کھڑا کر دیا جائے۔ اب یہ بالکل سمٹری میں ہے۔ کسی بھی سمت میں جا سکتی ہے۔ لیکن یہ حالت مستحکم نہیں۔ اس نے گرنا ہی ہے۔ کس طرح؟ یہ رینڈم ہو گا۔ یہ جس بھی سمت میں گرے گی، سمٹری ٹوٹ جائے گی۔ ایک بار یہ گر گئی تو یہ مستحکم ہے لیکن اب اس میں سمٹری نہیں۔ لیکن اس کے گرنے کے پیچھے کارفرما قوانین ابھی تک سمٹرک ہی ہیں۔ یعنی ان میں کسی خاص سمت کی ترجیح نہیں تھی۔ قوانین صرف امکان کی سپیس کا بتاتے ہیں۔
اصل دنیا میں کئی ممکنات میں سے ایک کی realization ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمٹری ٹوٹنے کا یہ میکانزم فطرت میں ذرات کی سمٹری بھی توڑ سکتا ہے۔ جب گیج پرنسپل کی سمٹری ٹوٹتی ہے تو پھر نیچر کی فورسز جنم لیتی ہیں جن کی خاصیتیں مختلف ہوتی ہیں۔ ان کی رینج مختلف ہو سکتی ہے۔ طاقت میں فرق ہو سکتا ہے۔ جب تک سمٹری ٹوٹی نہیں تھی، تمام فورسز کی رینج لامحدود تھی لیکن بعد میں نیوکلئیر فورسز میں یہ محدود ہو گئی۔
یہ اصول بیسویں صدی کی فزکس کی اہم ترین تصوراتی دریافت تھا۔ کیونکہ یہ گیج پرنسپل کے ساتھ ملکر بظاہر الگ لگنے والی فنڈامینٹل فورسز کی یکجائی کر سکتا تھا۔
ان دو اصولوں کو ملانے کی ایجاد 1962 میں فرانسوئی انگلرٹ اور رابرٹ براوٹ نے برسلز میں کی۔ اور چند ہی ماہ بعد آزادانہ طور پر پیٹر ہگز نے ایڈنبرا یونیورسٹی میں۔ اس کو ہگز فینامینا کا نام ملا۔ ان تینوں نے دکھایا کہ سمٹری کے ٹوٹنے کے اس خیال کے نتیجے میں پیشگوئی ایک خاص فیلڈ کی ہے جو ہگز فیلڈ کہلایا اور اس کی تجرباتی تصدیق ایک پارٹیکل سے کی جا سکتی ہے۔ یہ پارٹیکل ہگز بوزون ہے۔ (ہگز بوزون سٹینڈرڈ ماڈل کا آخری پارٹیکل تھا جس کی موجودگی کی تجرباتی تصدیق ہوئی)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سٹینڈرڈ ماڈل کے تکمیل کے راستے پر اس سے اگلی بہت بڑی دریافت پاکستانی سائنسدان عبدالسلام اور وائن برگ کی تھی۔ یہ دو فورسز کی یکجائی کا کام تھا لیکن اس سے زیادہ اہم یہ تھا کہ ان کے کام نے پہلی ایسی پیشگوئی کی جس سے سٹینڈرڈ ماڈل کے دونوں بنیادی اصولوں کی تجرباتی تصدیق کئے جانا ممکن ہوا۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *