حیرت کدہ ۔سید ثمر احمد/قسط1

ہم دنیا کی معلوم تاریخ کے سب سے حیران کن دور میں جی رہے ہیں۔ آئے روز انسان کی کمندیں حیرانیوں سے پرے پڑ رہی ہیں۔ حقائق منکشف ہورہے ہیں اور ایمانِ بالغیب والے سچے ثابت ہورہے ہیں۔ وہ باتیں جو کبھی خوابوں خیالوں کی تھیں اب سامنے کی ہیں۔ دماغ تاحال انسانی جسم کا سب سے پراسرار اور نہایت کم جانا گیا حصہ ہے۔ سائنس نے دماغ کی تین قوتوں کو حال ہی میں دریافت کیا ہے:

ٹیلی پیتھی:
جو شخص اس قوت کو بیدار کرلیتا ہے وہ با آسانی اپنا پیغام دنیا کے کسی بھی حصے میں کسی دوسرے شخص کو بغیر آلات منتقل کرسکتا ہے۔ افواج میں بھی استعمال کیا گیا۔

ٹیلی کائنیٹک:
اس قوت کو بیدار کرلینے والا انسان اپنی آنکھوں کے اشارے سے دور پڑے میز کرسی غرض ہر چیز کو ادھر سے اُدھر کھسکا سکتا ہے اور سیٹ کرسکتا ہے۔

ٹیلی پورٹیشن:
اس قوت کو کام میں لانے والا چشمِ زدن میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکتا ہے۔

ٹیلی پورٹیشن /جسمِ حقیقی کے ساتھ سفر:

کل ٹیلی پورٹیشن کا تعارف کروادیا گیا۔ یہ حقیقی جسم کے ساتھ بغیر کسی وقت کے ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر/ انتقال ہے۔ Gill Periezجو منیلا، فلپائن کا ایک سپاہی تھا اچانک سونے کے بعد اٹھا تو خود کو 9000 ناٹیکل مائلز دور میکسیکو میں پایا۔ یہ کیسے ہوا وہ نہیں جانتا تھا۔ وہ گارڈ کی یونیفارم میں تھا۔ اس کو گرفتار کرلیا گیا اور انوسٹی گیشن ٹربیونل بنائے گئے۔ جہاں اس حیران پریشان آدمی نے بیانات دیے کہ گورنر ڈون گومز کل رات قتل ہوگئے۔ میں کیسے یہاں پہنچا میں نہیں جانتا۔ اسے پکڑ کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ مہینوں بعد جب پیسیفک سمندر کے جہاز کا ایک مسافر میکسیکو پہنچا تو قتل کی تصدیق ہوگئی۔ یہ واقعہ میکسیکو کے سرکاری کاغذات میں ہنوز حل طلب ہے اور دنیا میں ٹیلی پورٹیشن کی مثال تصور کیا جاتا ہے۔

کوانٹم ٹننلنگ (Quantum tunneling) اب ایک ثابت شدہ سائنس ہے جس کے مطابق ذرات/ انرجی بغیر کسی وقت کے ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کر سکتی ہیں۔ کتنی ہی ڈیوائسز اس کے تحت انسان کی خدمت میں مصروف ہیں۔ جب جدید فزکس نے اس کی تصدیق کردی ہے تو باقی پیچھے شک کیوں رہ جاتا ہے کہ ہمارا جسم جو بالآخر انرجی ہی ہے وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جا سکتا؟

آئن سٹائن نے ایک صدی پہلے E = MC2 میں یہ ثابت کردیا تھا کہ مادہ انرجی میں تبدیل ہوسکتا ہے اور انرجی مادہ میں، مسئلہ صرف یہ تھا کہ انرجی کو عملی طور پہ مادے میں کیسے بدلا جائے، خبر کے مطابق یہ مرحلہ بھی حال ہی میں محدود فاصلے پر طے کر لیا گیا ہے۔ جس دن یہ تجربات کامیاب ہوگئے جو نظر آرہا ہے اس دن انسان چشمِ زدن میں ایک جگہ سے دوسری جگہ شفٹ ہونے کی طاقت حاصل کرلے گا۔ لیکن اگر خدا نے اپنے کچھ خاص لوگوں کو یہ صلاحیت دی ہو تو اس میں حیرانی کیوں؟ ”الا یعلم من خلق” میرے بندے تم جان لو، ہم نہ جان سکیں؟ مَت ماری گئی ہے کیا۔۔۔ ٹیلی پورٹیشن ہی کی ایک مثال وہ بھی ہے جب دربارِ سلیمان میں آصف بن برخیا نے پلک جھپکنے سے پہلے تختِ سبا لا دکھایا تھا۔ خدا کہتا ہے وہ ‘صاحبِ علم’ تھا۔

یا جسمِ مثالی کے ساتھ سفر:Astral Traveling

ایسٹرل ٹریولنگ کا مطلب ہے آپ کا جسم اپنی جگہ موجود رہے لیکن ایک خاص مشق کے بعد آپ اپنے جسم سے نکل جانے کے قابل ہوں۔ اس کی کئی مثالیں دنیا میں موجود ہیں۔ مغرب میں پادری لیڈ بیٹر اکثر کئی کئی ملک اس طریقے پر پھر آیا کرتے تھے۔ ہمارے ایک فیصل آباد میں موجود دوست کئی دفعہ اس کا تجربہ کرچکے ہیں۔

خود راقم کو 2 مرتبہ غیر ارادی طور پہ اس کا تجربہ ہوا۔ اور مجھے یوں دکھائی دینے لگا کہ ایک مخصوص شخص جو کررہا ہے میں اسے دیکھ رہا ہوں، ایسا دو دفعہ مختلف اوقات میں ہوا۔ میں نے جب فون پہ پچھلے 15 منٹ میں کی جانے والی کئی معمولی چیزیں ان کے سامنے رکھیں تو وہ حیران بھی ہوئے، پریشان بھی اور ڈر بھی گئے۔ آخری بات یہ کہی کہ آپ اس وقت کتابوں کی الماری کی طرف پیر کیے لیٹے ہیں، چادر کا تھوڑا سا حصہ آپ پہ ہے اور ابھی آپ نے پردے کی طرف دیکھا ہے،  کہنے لگے اب آپ مجھے ڈرا رہے ہیں۔ اس یقینی تصدیق کے بعد ہم نے سائیکالوجی اور پیرا سائیکالوجی، فزکس اور میٹآ فزکس والوں سے گتھی سلجھانے کے لیے رابطہ کیا تو ان سے پتہ چلا کہ یہ ہوجاتا ہے اور بہت حیران کن نہیں۔

ڈاکٹر کروک فیلڈ نے ایسٹرل ٹریولنگ کے لیبارٹری تجربات کیے۔ ایک لڑکی کو جو جسمِ مثالی کے ساتھ سفر کرتی تھی، سٹریچر پہ لٹا دیا گیا اور اس کے پاس سے ہر طرح کے  آلات ہٹا لیے گئے۔ اس کا ہدف تھا کہ اس نے ایک کوڈ جسے کمرے کے ایک بالائی حصے میں رکھ دیا گیا تھا، بتانا تھا۔۔ اس نے کئی ہندسوں کا وہ کوڈ حیران کن طور پہ صحیح صحیح بتایا اور یوں سائنٹیفکلی ایسٹرل ٹریولنگ ثابت ہوگئی۔ یہ کیسے کی جاسکتی ہے، کیا مشق کی جائے، نیٹ اور یو ٹیوب پر بے پناہ مواد موجود ہے

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں یہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی!

جاری ہے۔۔

سید ثمر احمد
سید ثمر احمد
سید ثمر احمد (کمیونی کولوجسٹ، موٹیوٹر، ٹرینر،مصنف، انرجی ہیلر) syyedsahib321@gmail.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”حیرت کدہ ۔سید ثمر احمد/قسط1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *