دنیا کا مستقبل جنگوں سے معلق ہے؟۔۔اسلم اعوان

صدر جوبائیڈن نے یمن میں سعودی قیادت میں جاری فوجی مہم کے لئے امریکی حمایت روک کے ایران اور سعودیہ کے مابین چھ سال سے جاری اس پراکسی جنگ کے خاتمہ کے لئے ماہر سفارتکارٹموتھی لینڈرنگ کو یمن کے لئے خصوصی مندوب نامزد کر کے جنگ کے خاتمہ کی کوشش تیز کر دی،واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے دورے کے موقع پر انہوں نے کہا،اس جنگ کو ختم ہونا ہے، اِسی مقصد کے پیش نظر یمن جنگ میں اسلحہ کی فروخت سمیت تمام جارحانہ کارروائیوں کے لئے امریکی امداد روک دی ہے۔تاہم صدر جوبائیڈن نے یہ بھی کہا،چونکہ سعودی عرب سمیت یو اے ای کو میزائل حملوں کے خطرات درپیش ہیں،اس لئے سعودیہ کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کے لئے مدد جاری رکھیں گے۔سعودی عرب نے ملکی سلامتی کے لئے امریکی صدرکے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوبائیڈن کی تقریر اتحادیوں کے ساتھ مل کے کام کرنے کے امریکی عزم کا اعادہ تھی۔

سعودی عرب کے زیرقیادت فوجی اتحاد نے سنہ 2015 میں یمن میں فوجی مہم شروع کی جس کے ذریعے ایران کے حمایت یافتہ حوثی مزاحمت کاروں کے خلاف لڑنے والی سرکاری فوج کی پشت پناہی کی گئی لیکن اس پراکسی جنگ کے مہلک اثرات نے یمنی عوام کے علاوہ سعودی سلطنت اور خطہ میں پھیلے ایرانی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔اقوام متحدہ نے جنگ کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے یمن کی 80 فی صد سے زاید آبادی کے قحط کا شکار بن جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے،آج جب معاشی بحران،افراط زر اور وبائی مرض کی وجہ سے یمن کا بحران بدترین مرحلہ میں داخل ہوا تو امریکی حکام مذاکرات کی بحالی کے ذریعے جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

tripako tours pakistan

کچھ دن قبل تک مغربی تجزیہ کار امریکی مقتدرہ کے اصل عزائم کی پردہ پوشی کے لئے یہی کہتے رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس توقع پہ دباو بڑھانے کی خاطر یمن پر زیادہ سے زیادہ پابندیاں عائد کرنے کی مہم چلا رہی ہے کہ تہران کو جوہری پروگراموں روکنے کےلئے بات چیت پر مجبور کیا جاسکے اورچند ایک یہ بھی کہتے رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے داماد جیرڈ کشنرکے پیش نظر مڈل ایسٹ پالیسی کی بجائے اولین ترجیح سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ قریبی تعلقات نبھانا تھی،جس سے یمن میں شہری ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے سے انسانی بحران گہرا ہوتاگیا،اس لئے اب ریپبلکن اور ڈیموکریٹ قانون سازوں نے ریاض کے لئے امریکی فوجی امداد بند کرنے کے مطالبات اٹھائے۔بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے جمعرات کے روزکہا کہ یمن میں سعودی فوجی کارروائیوں کے لئے امریکی حمایت کے خاتمہ کا اطلاق القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے خلاف جاری جنگ پہ نہیں ہو گا۔اسی دن امریکی ترجمان اسٹیفن ڈوجرک نے بیان دیا کہ فوجی سرگرمیوں کے لئے ہتھیاروں کی فراہمی میں کمی کے اقدام کا خیرمقدم کیا جائے گا،اس سے نہ صرف مذاکرات کو زیادہ جگہ ملے گی بلکہ یمنی عوام کو امید بھی دی جائے گی۔

اس وقت مشرق وسطہ کے حکمرانوں کے سامنے یہ سوال اہم ہو گا کہ امریکہ پہ بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟پچھلے دس سالوں میں جس تیزی کے ساتھ امریکی مقتدرہ نے اپنی چالیں بدلیں اُسی نے مڈل السٹ سمیت پوری دنیا میں تشدد کے رجحان کو بڑھاوا دیا، بلاشبہ اس عہد جدید کے تنازعات نہایت پیچیدہ اورجنگوں کے نتائج زیادہ ہولناک ثابت ہوئے کیونکہ ان میں بنیادی طور پر انسانی جانوں کی قیمت پہ معاشی اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کی خاطر کئی نسلوں کے مستقبل کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا گیا۔اس لئے تیسری دنیا کی اقوام کو داخلی سیاسی تنازعات کو بڑھانے سے قبل اتنا ضرور سوچ لینا چاہیے کہ بیرونی طاقتوں کو مداخلت کا موقعہ نہ ملے،اِسی رجحان کی کلاسیکی مثال مڈل السٹ کی وہ استبدادی ریاستیں ہیں جو کسی طلسماتی سوچ کے زیر اثر نہایت بیباکی کے ساتھ ایک غیرمختتم جنگ میں اتر گئیں اور اپنے تحفظ کے لئے بیرونی طاقتوں کو بُلا کے اس خطہ کو ایسی مہیب تباہی سے دوچار کر دیا جس کا مدوا ممکن نہیں رہا۔

اگر ہم غور سے دیکھیں تو ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ بھی سعودیہ اور ایران کو براہ راست تصادم کی طرف دھکیلنے کی کوشش نظر آتی ہے لیکن خوش قسمتی سے دونوں مملکتیں ایک بے مقصد جنگ کے دہانے سے پیچھے ہٹ گئیں۔مڈل ایسٹ کے امور پہ نظر رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کے مابین براہ راست رابطوں بارے کچھ خبریں موصول ہو رہی تھیں،اسی لئے جنرل قاسم سلیمانی کا قتل کر کے عرب، ایران عداوتوں کی خلیج بڑھانے کی کوشش کی گئی،بیشک،قاسم سلیمانی کے قتل کی صورت میں ایران کے خلاف براہ راست امریکی فوجی کاروائی نے سعودی، ایران فالٹ لائن میں امریکہ کے کردار کے بارے کچھ سازشی نظریات کو زیادہ روشن کر دیا۔ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے وقت وائٹ ہاوس میں داخل ہوئی جب اس خطہ میں تبدیلیوں کا طوفان اُمنڈ رہا تھا،خاص طور پر سعودی عرب میں نئی قیادت اپنی اصابت کا جواز ڈھونڈ رہی تھی، اب بھی وہ اپنی سمت کا تعین کرنے میں مشغول ہے۔ (JCPOA)ایران امریکہ جوہری معاہدے کے بعد خطہ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔

سوال یہ تھا کہ امریکہ، ایران تعلقات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ دوسری طرف وائٹ ہاوس میں یہ احساس پروان چڑھنے لگا تھا کہ سب کچھ گرفت میں آ گیا اور بظاہر یوں لگتا تھا کہ اوباما انتظامیہ آہستہ آہستہ خطہ میں طاقت کاتوازن قائم کر کے مڈل ایسٹ سے فوج نکال لے گی لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ نے ایک مختلف نقطہ نظر اختیار کرتے ہوئے بری و بحری فوج کی تعداد میں اضافہ اور جوہری معاہدہ سے نکل کے ایران پر پابندیوں بڑھا دیں،یعنی ایک ہی جنبش قلم سے تمام تر ارادوں اور مقاصد کے تحت سفارت کاری کا حصول ترک کرکے جنگ کو وسیلہ بنا لیا۔امریکی دانشور کہتے ہیں کہ واشنگٹن کی مخصوص عادات ہیں جسے وہ ترک نہیں کر پائے گا اور نازاں قوم کی سوچ کا محور یہ خیال ہے کہ ہر مسئلے کا ایک ’میڈ اِن امریکہ‘ حل ہے ،دنیا جس کے نفاذ کی ہمہ وقت منتظر رہتی ہے،اس کے بعد وہ اپنی پالیسیسز میں ہر پہلو سے قومی اور نجی مفادات کو ایڈجسٹ کرتے ہیں لیکن اب ان میں متوازن عوامل کے ذریعہ توازن پیدا نہیں کیا جا رہا،چاہے وہ فوجی صنعتی کمپلیکس ہو یا ڈونرز ہی کیوں نہ ہوں۔ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لئے سب سے اہم ڈونر،شیلڈن ایڈیلسن، نامی ایک جوئے بازی کے اڈوں کے مالک کا انتخاب کیا گیا کیونکہ وہ اسرائیلی قیادت کے قریب تھا اور ایران امریکہ جوہری معاہدہ سے باضابطہ طور پر امریکی انخلا کے اعلان سے ایک دن قبل ایڈیلسن کو صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لئے وائٹ ہاؤس مدعو کیا گیا۔

جمہوری حقوق کے دفاعی ادارہ نامی فاؤنڈیشن کے فنڈز سے چلنے والی ہاکش پالیسی انسٹی ٹیوٹ کا کردار بھی نمایاں تھا جس کی قیادت انجیلی بشارت ڈسپنسریلسٹ کمیونٹی کرتی ہے جو اسرائیل کے بہت قریب اور مشرق وسطی کے مستقبل کے نظریہ کے ساتھ گہری وابستگی رکھتی ہے۔مڈل ایسٹ سے تعلق رکھنے والے مختلف اتحادی ممالک مالی وسائل کے ذریعے امریکی پالیسی کی تشکیل پہ اثرانداز ہوتے ہیں۔خاص کر خلیجی ریاستیں جو خریداری کی حکمت عملی اپناتی ہیں، امریکی پالیسی کو کسی خاص رخ میں فکس کرنے کے لئے اسلحہ کی کافی بڑی مقدار کی خریداری کرکے اپنے مفادات کا دفاع کرتی ہیں، یہاں بھی اسٹریٹ لابنگ کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے جو خلیجی ریاستوں کے لئے مخصوص نہیں، عملی طور پر ہر ایک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن کچھ کے پاس دوسروں کے مقابلے میں اس کام لئے وسائل زیادہ ہوتے ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

سب سے اہم بات یہ ہے کہ مڈل ایسٹ میں امریکی فوج کی تعیناتی اب مستقل حقیقت بنتی جا رہی ہے،یہ ایسی سچائی ہے جو اتنی آسانی سے جھٹلائی نہیں جا سکے گی۔یہاں تک کہ کئی مقتدرامریکی صدور نے کئی بار کہا کہ وہ مغربی ایشیاءسے اپنی فوجیں نکالیں گے لیکن آج بھی مڈل السٹ اور نارتھ افریقہ میں 60سے 70ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں،تقریباً اتنے ہی کویت،قطر،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ بحرین میں بھی 5 ویں بحری بیڑے کے ساتھ موجود ہیں۔اسی طرح اب چین کے ساتھ محاذ آرائی بھی دنیا میں امریکہ کے لئے واضح مقصد بنتی جا رہی ہے۔امریکہ کو اب مشرق وسطہ سے توانائی کی فراہمی کی ضرورت نہیں رہی اگر چین یہاں سے توانائی فراہمی کا آخری صارف بن گیا تو چین ان سپلائیوں کو محفوظ بنانے کا اہتمام بھی کرسکتا ہے۔جب ایشیا عالمی مقابلہ کا تھیٹر بنا تو کیا امریکہ مشرق وسطی کی طرح جنوبی ایشیا میں بھی فوجوں کی مستقل تعیناتی کرے گا؟ امریکہ نے فری اینڈ اوپن انڈو پیسیفک کی اصلاح استعمال کی یہ زبان اتفاقی نہیں تھی، جو ہندوستان کے ساتھ اس کے تعلقات کو چین کے مقابلہ میں امریکی عزائم کو ظاہر کرتی ہے اور جاپان ، آسٹریلیا ، امریکہ اور ہندوستان پر مشتمل نام نہاد کوئاڈ ممالک کے مابین باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیتی ہے۔بہرحال، امریکہ کے لئے اسرائیل کو سیاسی طور پر چھوڑنا آسان نہیں تو خلیجی ریاستیں اپنی بقاءکے حوالہ سے امریکی مقتدرہ پہ یقین کیسے کرسکتی ہیں؟ کیا عصری حالات میں جنگی حکمت عملی کی بجائے چین کا علاقائی توازن کا آپشن زیادہ سود مند ثابت نہیں ہورہا؟ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اپنی بے مثال جنگی صلاحیت کے اختتامی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply