انس سرور کی تاریخی کامیابی۔۔طاہر انعام شیخ

(اسکاٹ لینڈ کی ڈائری)اسکاٹ لینڈ کے عوام کی اکثریت بائیں بازو کے رجحانات رکھتی ہے۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی، لیبر پارٹی، گرین پارٹی اور خاصی حد تک لبرل ڈیمو کریٹ بھی اسی طرز فکر کی غمازی کرتی ہیں۔ان ہی لوگوں نے1997ء میں چوہدری محمد سرور کو برطانوی پارلیمنٹ کا پہلا پاکستان نژاد اور مسلم ممبر پارلیمنٹ منتخب کرکے ایک تاریخ رقم کی تھی اور اب23سال کے بعد اگلی نسل نے چوہدری سرور جو اب گورنر پنجاب کے عہدے پر کام کررہے ہیں ان کے بیٹے انس سرور کو اسکاٹش لیبر پارٹی کا پہلا پاکستان نژاد سربراہ مقرر کرکے تاریخ کو ایک دفعہ پھر دہرایا ہے۔انس سرور نہ صرف یوکے بلکہ پوری دنیا میں پہلے پاکستان نژاد شخص ہیں جو پاکستان سے باہر بیرونی دنیا میں کسی بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ بنے ہیں۔جمہوری ممالک میں کسی بڑی سیاسی پارٹی کا سربراہ بننا اس ملک کی حکومت کے سربراہ بننے کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔ برطانیہ، اسکاٹش پارلیمنٹ اور ویسٹ منسٹر کی پارلیمنٹ میں اور کونسلوں میںکسی وقت لیبر پارٹی اس کا طوطی بولتا تھا مگر اب اسکاٹ لینڈ میں نہایت کمزور حالت میں ہے۔اسکاٹش پارلیمنٹ میں یہ حکمران جماعت سے دوسرے اور اب تیسرے نمبر پر آچکی ہے۔ ایک تازہ ترین سروے کے مطابق2021ء کے الیکشن کی پیشن گوئی کے مطابق اسکاٹش نیشنل پارٹی کو

موجودہ63کے مقابلے میں72، کنزرویٹو کو30کے مقابلے میں26، لیبر کو23کے مقابلے میں17گرین کو5کے مقابلے میں9اور لبرل ڈیمو کریٹ کو5کے مقابلے میں5نشستیں مل گئیں تو ایسے وقت میں انس سرور کے لیے اسکاٹش لیبر پارٹی کا سربراہ بننا پھولوں کی سیج نہیں بلکہ انتہائی کٹھن فریضہ ہے۔ انس سرور کو ہی پارٹی میں ایک ایسا فرد سمجھا جارہا تھا جوکہ اس کو دلدل سے نکال کر دوبارہ نئی زندگی دے سکتے ہیں۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم گورڈن برائون کی نگاہ انتخاب بھی انس سرور پر پڑی، وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان، محنتی اور اب خاصی حد تک تجربہ کار ہیں، لیبر اس وقت صرف عوام میں ہی غیر مقبول نہیں بلکہ آپس میں بھی دائیں اور بائیں بازوں کے گروپنگ کا شکار ہے۔ انس سرور جو پارٹی کے اعتدال پسند گروپ سے تعلق رکھتے ہیںان کا پہلا ٹارگٹ تو پارٹی کو فوری طور پر متحد کرنا ہوگا اور پھر ایک نئے جذبے کے ساتھ اس پارٹی کو الیکشن مہم میں لے جانا ہوگا لیکن مشکل یہ ہے کہ انس سرور کے پاس وقت بہت کم ہے۔ صرف10ہفتوں کے بعد اسکاٹش پارلیمنٹ کے الیکشن ہورہے ہیں اور ان کو10مہینوں کا کام10ہفتوں میں کرنا ہوگا، ایک بڑا مسئلہ جو مئی کے الیکشن میں اہم کردار ادا کرے گا، وہ اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے نئے ریفرنڈم کا ہے۔لیبر پارٹی کے سربراہ کے انتخابی مہم میں خود پارٹی کے اندر دو رائے پائی گئیں، انس سرور جوکہ اسکاٹ لینڈ کے برطانیہ کے ساتھ اتحاد کے زبردست حامی ہیں اور2014ء کے ریفرنڈم میں بھی انہوں نے یوکے کو متحد رکھنے کے لیے مہم میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک خصوصی بس میں طوفانی دورہ کیا۔ان کا موقف ہے کہ اس وقت ہماری بحث کا مرکز آزادی کا دوسرا ریفرنڈم نہیں بلکہ اس سے زیادہ ضروری امور ہونے چاہئیں جن میں کورونا کو کنٹرول کرنا معیشت کو سنبھالنا، ایجوکیشن، نیشنل ہیلتھ سروس، معاشرے سے ناانصافیوں، نسل پرستی اور تعصب کا خاتمہ شامل ہیں ۔اس کے مقابلے میں مونیکا لینن جو بائیں بازو کے گروپ کی نمائندہ تھی۔ان کا موقف تھا کہ وہ بھی اسکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کے خلاف ہیں، لیکن اگر6مئی کے الیکشن میں آزادی پسند پارٹیاں اکثریت حاصل کرلیتی ہیں تو لیبر پارٹی کو بھی آزادی کے نئے ریفرنڈم کا مطالبہ تسلیم کرلینا چاہیے، پہلے ہی لیبر پارٹی کے بے شمار ممبرز اسے چھوڑ کر اسکاٹش نیشنل پارٹی میں جاچکے ہیں۔

tripako tours pakistan

ویسٹ منسٹر میں اگر لیبر پارٹی کی حکومت ہوتی تو شاید آزادی کی تحریک اتنا زیادہ زور نہ پکڑتی مگر وہاں بورس جانسن کی حکومت ہے جسے اسکاٹ لینڈ کے عوام کی اکثریت سخت ناپسند کرتی تھی، انس سرور کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج نہ صرف لیبر پارٹی کے مزید افراد کو اسکاٹش نیشنل پارٹی کی طرف جانے سےروکنا ہے بلکہ ایسے افراد کو بھی واپس لانا ہے جوکہ اسے چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ لیبر پارٹی کے ممبران اس وقت انس سروس سے کسی معجزے کی توقع کررہے ہیں اور انس سرور یقیناً یہ کام کرنے کے اہل ہیں۔ آئندہ الیکشن میں اگر ایک طرف آزادی کی سخت مخالفت کنزرویٹو پارٹی ہے تو دوسری طرف آزادی کے خلاف کسی بات پر بھی سمجھوتہ نہ کرنے والی اسکاٹش نیشنل پارٹی ہے۔ ایسے میں انس سرور اسکاٹ لینڈ کے لیے ایک درمیانی راستہ|Devo Maxیعنی زیادہ سے زیادہ خودمختاری کے پروگرام او نعرے کے ساتھ سامنے آئیں گےجس میں ویسٹ منسٹر کی پارلیمنٹ سے زیادہ سے زیادہ اختیارات اسکاٹش پارلیمنٹ کو منتقل کیے جائیں گےان میں ٹیکس، قرضے لینے اور ایمپلائمنٹ لاء کے بڑے معاملات بھی شامل ہوں گے۔ ایسی صورت میں اسکاٹش عوام آزادی اور برطانیہ کے ساتھ بدستور اپنے دونوں فوائد حاصل کرسکیں گے، اپنی نئی پالیسیوں کی کامیابی کے ساتھ اگر انس سرورپارٹی کو اسکاٹش پارلیمنٹ میں تیسرے سے دوسرے نمبر پر لے آتے ہیں تو یہ ان کی ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی اور پھر امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ پانچ سال کے بعد وہ پارٹی کی قیادت کرتے ہوئے اس مقام تک لے جائیں گے کہ وہ الیکشن میں اکیلے یا مخلوط حکومت بنانے کے قابل ہوسکیں اور یوں اسکاٹ لینڈ کی حکومت کے سربراہ بن کر پھر ایک بار نئی تاریخ بنائیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *