نیلمانہ(قسط2)۔۔ادریس آزاد

’’ماریہ؟ یہ کیسا نام ہے؟ ایسا نام تو میں پہلی بار سن رہاہوں۔ کیا تم ’پُورماشانی تتلیوں‘‘ کے ساتھ نہیں آئی ہو؟ وہ جو پانچ تتلیاں آج سے کچھ دن پہلے ’’شردھان‘‘ میں وارد ہوئیں، تم انہی میں سے ایک ہو نا بیٹا؟‘‘

’’کچھ دن پہلے؟‘‘ ماریہ نے حیرت سے سوچا۔کچھ دن پہلے کیسے؟ نیلی تتلیوں کو تو آج ہی پروفیسر نے طویل ہائبرنیشن سے جگایاتھا۔ماریہ نے بڈھے گجر کو کوئی جواب نہ دیا۔وہ متلاشی نگاہوں سے باقی نیلی تتلیوں کو ڈھونڈنے لگی۔جلد ہی اُسے نزدیکی پھولوں پر پریشانی کے عالم میں بیٹھی اپنی ہم نسل تتلیاں دکھائی دیں۔ ماریہ نے دور سے دیکھا کہ نیلے رنگ کی سمیارگس تتلیاں ماریہ کو ہی تکے جارہی تھیں۔ وہ آپس میں باتیں بھی کررہی تھیں۔ معاً بزرک بڈھےگجر نے دوبارہ کہا،

tripako tours pakistan

’’کیا بات ہے بیٹا؟ تم کیوں رو رہی ہو؟ تمہاری فیملی تمہارے سامنے ہے۔ تمہارے پھول تمہارے پاس ہیں۔ تم ایک خوبصورت لڑکی ہو۔ اور کیا چاہیے؟ سب کچھ تو ہے۔ کچھ تو بتاؤ! آخرتم کیوں رورہی ہو؟‘‘

فیملی کا ذکر سنتے ہی ماریہ اور زور سے رونے لگی۔ اسے اپنے بابا یاد آگئے۔اس نے سب کچھ بھلا کر دور ہال کی کھڑکیوں کی جانب دیکھنا چاہا لیکن ہال اُسے خود سے بہت دور ، بہت ہی دور محسوس ہورہاتھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ اپنے گھرسے کوسوں دور آگئی ہے۔ حالانکہ وہ جانتی تھی کہ وہ اپنے ہی باغیچے میں ہے۔ اب اُسے احساس ہورہا تھا کہ تتلیوں کا زمان و مکاں کس طرح کا ہوتاہے۔ باغیچے کی ہرچیز اُسے بہت بڑی بڑی لگ رہی تھی۔ ہوا کے ساتھ ہلتے ہوئے پتے اُسے سلو موشن میں ہلتے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔اسے دُور سے اپنے گھر کی چھت آسمان کو چھُوتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔باغیچے کے سارے درخت پرانی دنیا کے بوسیدہ دیوہیکل پیڑ معلوم ہوتے تھے۔ جیسے یہ بڈھے پیڑ صدیوں سے یہاں کھڑے ہوں۔

********

’’مورسینا! تم اپنی چھوٹی بہن کو اپنے ساتھ لے جاؤ! تم سب اب ایک فیملی ہو۔ یہ کب تک یہاں بیٹھی رہے گی۔ دن گزرنے والا ہے۔ اِسے ابھی آرام کی ضرورت ہے۔ یہ تمہاری بہن ہے۔ یہ اگر یونہی یہاں بیٹھی رہی تو اسے کتنےغنڈے، بدمعاش اور موالی نقصان پہنچا سکتے ہیں ‘‘

’’دن گزرنے والا ہے؟‘‘ یہ دوسری بات تھی جس پر ماریہ غیرمعمولی طورپر چونکی۔ وہ جانتی تھی کہ ابھی تو دوپہر بھی نہیں ہوئے۔ توپھر بڈھاگجر ایسے کیوں کہہ رہاتھا کہ دن گزرنے والا ہے؟ لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور سوچتی جس نیلی تتلی کو بڈھے گجر نے مورسینا کہہ کر پکاراتھا۔ وہ اُڑتی ہوئی ماریہ کے پاس آئی اور ساتھ والے پھول پر بیٹھتے ہی کہنے لگی،

’’نیلمانہ! کیا ہوا؟ کوئی بھوت دیکھ لیا ہے کیا؟ اتنا چیخ اور چلّا کیوں رہی ہو؟ دیکھوتو! سب لوگ کس طرح دیکھ رہے ہیں۔ ہم لوگ یہاں شردھان میں نئے نئے آئے ہیں۔ اس لیے بھی سب کی نظریں ہمہ وقت ہم پر ہوتی ہیں۔تمہاری وجہ سے یونہی تماشا بن گیا۔ ہوش میں آؤ نیلم!‘‘

ماریہ نیلی تتلی کی بات سن کر سٹپٹاگئی۔کون نیلمانہ؟ کیسا بھوت؟ اسے نہ جانے کیوں غصہ آگیا۔ اس نے نیلی تتلی کو قدرے مالیخولیائی لہجے میں جواب دیا،

’’میں ماریہ ہوں۔ میں تتلی نہیں ہوں۔ میں انسان ہوں۔میں نہیں جانتی کسی شردھان وردھان کو؟ یہ ہمارا باغیچہ ہے۔ میرا اور میرے بابا کا۔میں تم سب کی مالک ہوں۔ میں نے اور میرے بابا نے پیدا کیا ہے تم لوگوں کو‘‘

وہ بہت غصے میں تھی۔ چیخ چیخ کر بات کررہی تھی۔ آس پاس کی تتلیوں میں مزید تماشا بنتا دیکھا تو مورسینا نے اپنا لہجہ بہت نرم کرلیا اور بڑے پیار سے ماریہ کو سمجھانے لگی،

’’دیکھونیلمانہ! تم میری بہن ہو۔ ہم لوگ پورماشانی کی طویل نیند سے جاگے ہیں۔ مطلب، ہم آج سے اسّی ہزار دن پہلے پیدا ہوئے تھے۔ پھر ہم سوگئے تھے۔ بزرگ موروان بابا کا خیال ہے کہ تمہاری ذہنی حالت پورماشانی کی طویل نیند کی وجہ سے ایسی ہے۔تم جانتی ہو؟ ہمیں یہاں بہت وقار سے رہنا چاہیے کیونکہ پورماشانی کی نیند نے ہمیں شردھان کا سب سے قدیم شہری بنادیاہے۔ان لوگوں میں سے کوئی بھی اتنی بڑی عمر کا نہیں۔ ’’موروان بابا‘‘ بھی ہم سے بہت چھوٹے ہیں‘‘

’’اسّی ہزار دن؟ یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ تم سمیارگس نسل کی تتلیاں ہو۔ میں تمہیں جانتی ہوں۔ میرے بابا نے تمہیں صرف نوماہ کے لیے ہائبرنیٹ کیاتھا۔ میں بڈھے گجر کو بھی جانتی ہوں۔یہ موروان بابا نہیں ہیں۔ یہ نِمف نسل کے عمررسیدہ تتلے ہیں‘‘

ماریہ کی بات سن کر بڈھے گجر سمیت آس پاس موجود سب تتلیاں دنگ رہ گئیں۔ یہ لڑکی کیسی باتیں کررہی تھی؟ موروان بابا کی پیشانی پر پریشانی کی لکیریں نمودار ہوئیں۔

ماریہ سچ مچ ہوش میں نہیں رہی تھی۔ اس پرحیرت کے پہاڑ ٹوٹتے چلے جارہے تھے۔ تو کیا تتلیوں کی دنیا میں اُس کا نام ’’ نیلمانہ‘‘ تھا؟ ابھی وہ مورسینا کی باتوں پر غور کررہی تھی کہ باقی سمیارگس تتلیاں بھی ماریہ کے نزدیک آکر بیٹھ گئیں۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنی ہم نسل تتلیوں کو تکے جارہی تھی۔اُسے احساس ہورہاتھا کہ تتلیوں کا ایک پورا جہان ہے۔ اُن کا وقت الگ ہے۔ ان کے نام الگ ہیں۔ ان کی زبانیں الگ الگ ہیں۔ وہ خاموش تھی لیکن اس کا دماغ تیزی کے ساتھ چل رہاتھا۔

معاً اُس کی نظر سامنے ڈاہلیا کے ایک اور پودے پر پڑی۔ اسے لگا جیسے پتوں کے پیچھے سےاسے کوئی جھانک رہاتھا۔ اس نے چونک کر اُس طرف دیکھا تو تمام نیلی تتلیوں نے بھی سرگھما کر ماریہ کی نظروں کا تعاقب کیا۔ لیکن انہیں وہاں کوئی نظر نہ آیا۔ مورسینا نے ایک مرتبہ پھر ماریہ کو سمجھانا چاہا،

’’نیلمانہ! تم یہاں کب تک بیٹھی رہوگی؟ آؤگھر چلیں! آج کا دن ختم ہونے والا ہے۔ اتنا زیادہ جاگنا صحت کے لیے ٹھیک نہیں۔صبح ہوتے ہی ہم پھولوں پر پروازکریں گے۔ اپنے اپنے ساتھی تلاش کرینگے۔ گانے گائینگے۔ کھیل کھیلیں گے۔ ابھی تو ہمارا وقت شروع ہوا ہے۔ اب تک تو ہم سب سورہے تھے۔ تم اب ہوش میں آؤ۔ کیا تمہیں کچھ بھی یاد نہیں؟ کیا تمہیں ہمارے سونے سے پہلے کا وقت بھی یاد نہیں؟ کیا تم ہم سب کو بھول چکی ہو؟ کیا تمہیں’’ شاؤزان‘‘بھی بھول گیاہے؟ پورماشانی ہونے سے پہلے تم دونوں میں کتنا پیار تھا؟ شاؤزان سے تو تمہاری حالت دیکھی نہیں جارہی۔ دیکھوتو! وہ کتنا اداس ہے۔ دیکھوتو! وہ تمہارے لیے رورہاہے؟‘‘

ماریہ نے گھوم کر دیکھا۔ سامنے والے پھول پر ایک نوجوان نیلا تتلا اُداس بیٹھا ماریہ کی جانب دکھ بھری نظروں سے دیکھ رہاتھا۔جب سے یہ لوگ بیدار ہوئے تھے نیلمانہ کا رویّہ اس کے ساتھ اُکھڑا اُکھڑا سا تھا ۔آج ہی نیلمانہ اور شاؤزان کے درمیان کسی بات پر لڑائی بھی ہوئی تھی۔ آج صبح کا آغاز ہوتے ہی نیلمانہ نے شاؤزان کو بری طرح ڈانٹ دیا تھا۔ شاؤزان بیچارہ ابھی تک یہی سمجھ رہا تھا کہ نیلمانہ اس سے ناراض ہے۔ اس لیے وہ اس کے نزدیک آنے سے کترارہاتھا۔

ماریہ نے شاؤزان کی جانب دیکھا تو جیسے اُسے کچھ یاد آنے لگا۔ اسے ایسا لگنے لگا جیسے وہ یہاں ایک تتلی بن کر پہلے بھی رہتی رہی ہے۔ اسے اپنی تتلیوں والی یاداشت واپس آتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔اس کے دماغ میں کسی فلم کے فلیش بیک کی طرح بہت سے مناظر گھومنے لگے۔ہاں وہ پہلے ایک بھی تتلی ہوا کرتی تھی۔اُس کا نام واقعی نیلمانہ تھا۔اسے مورسینا کا چہرہ بھی اب یاد آنےلگا۔ مورسینا ان سب میں بڑی تھی۔ وہ سب کا خیال رکھتی تھی۔ یہ لوگ آج سے ستائیس دن پہلے بیدار ہوکر یہاں آئے تھے۔یہ تتلیوں کے ستائیس دن تھے۔اسے یاد آنے لگا کہ شاؤزان اسے پسند کرتاتھا۔ وہ ڈاہلیا کے گلابی پھولوں پر مل کر منڈلایا کرتے۔ وہ کھیلتے کھیلتے کتنی دور نکل جایا کرتے تھے۔ جب بھی شاؤزان اسے کہتا کہ نیلمانہ! کیاتم مجھ سے پیار کرتی ہو‘‘ تو وہ شرارت سے جواب دیتی، ’’بالکل بھی نہیں‘‘۔ اب اُسے آہستہ آہستہ سب باتیں یاد آنے لگیں۔اس نے اپنے پاس بیٹھی مورسینا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس کا نام ہولے سے دہرایا،

’’مورسینا!‘‘

مورسینا نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اور پھر جیسے وہ سمجھ گئی کہ نیلمانہ کی یاداشت واپس آرہی ہے۔ مورسینا کے چہرے پر خوشی کا شگوفہ سا پھوٹا۔ اس نے پرجوش انداز میں اپنی ساتھی تتلیوں کو بتایا،

’’ارے دیکھوتو! نیلمانہ ٹھیک ہورہی ہے۔ دیکھو تو! اس نے میرا نام پکارا۔ وہ سب کو پہچاننے لگی ہے‘‘

مورسینا بہت خوش ہورہی تھی۔ اس نے اپنے دائیں پَر سے نیلمانہ کو چھوا اور ہنستے ہوئے کہنے لگی،

’’بس کروبی بی! چلو! اب جِن کھیلنا بند کرو! نئے دن کا آغازہوتے ہی تم بالکل ٹھیک ہوجاؤگی۔ مجھے پورا یقین ہے‘‘

یہ کہہ کر مورسینا نے اُڑنے کے لیے پرتولے ۔مورسینا کو دیکھ کر باقی نیلی تتلیاں بھی اُڑنے کے لیے تیار ہوگئیں۔ اب سب ماریہ کی طرف دیکھ رہی تھیں کہ وہ اُڑے تو سب اُڑیں۔ آخر ماریہ نے پہلی بار اپنے پر پھیلائے۔ اسے اُڑنے سے ڈر لگ رہا تھا۔ وہ کبھی اُڑی ہی نہ تھی۔ لیکن ساتھ ہی اس کی یاداشت میں کچھ ایسے مناظر بھی گڈ مڈ ہورہے تھے جب وہ اُڑا کرتی تھی۔اس نے ایک بار اپنے پرپھڑپھڑائے اور گرتے گرتے بچی۔ لیکن اتنی سی حرکت سے ہی اس کے پیر پھول کی پتی سے پھسل گئے اور وہ اتنے اونچے پھول سے نیچے گرنے لگی۔ابھی وہ فضا میں ہی تھی کہ اس کے پرخود بخود کھُل گئے۔اس نے اپنی تمام تر توانائی مجتمع کی اور اُڑنے لگی۔

اب وہ اُڑ رہی تھی۔ یہ ایک انوکھا تجربہ تھا۔بہت ہی انوکھا۔ ہوا میں بلند ہوتے ہی اسے سب کچھ بھول گیا۔ سارے غم۔ سب پریشانیاں ایک ساتھ نہ جانے کہاں چلی گئیں۔اسے اپنے دل میں ہلکی سی خوشی محسوس ہوئی۔وہ سرگھما گھما کر سارے باغیچے کو دیکھنے لگی۔ ماریہ اُڑرہی تھی۔وہ پھولوں کے اوپر منڈلا رہی تھی۔ اس کے خاندان کی سمیارگس تتلیاں اس کے آس پاس اڑ رہی تھیں۔ سب خوشی سے نہال تھے کہ ان سب کی لاڈلی نیلمانہ ٹھیک ہوگئی تھی۔ اچانک ماریہ کو محسوس ہوا کہ اس کے پہلو میں کوئی لڑکا ہے۔ ہاں! یہ شاؤزان تھا۔ شاؤزان ماریہ کے پہلو بہ پہلو اُڑرہاتھا۔وہ کبھی مسکرا کر ماریہ کی طرف دیکھتا اور کبھی خوشی سے قلابازیاں کھانے لگتا۔اب یہ لوگ اپنے ٹھکانے کی طرف جارہے تھے۔

********

نئے صبح کے آغاز پرماریہ کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو قدرے ہلکا پھلکا محسوس کیا۔یہ اٹھائیسواں دن تھا۔اسے اب سب کچھ یاد آچکاتھا۔ سب کچھ یاد آجانے کی وجہ سے اس کے کافی سارے خوف دور ہوگئے تھے۔ اسے یاد آیا کہ وہ فی الحقیقت کبھی انسان رہی ہی نہیں تھی ۔ وہ دراصل ایک تتلی ہی پیدا ہوئی تھی۔اسے یاد آیا کہ اسی ہزار دن قبل جب وہ اسی دنیا میں پرواز کیا کرتی تھی تو اس کی ساری سہیلیاں اسے نیلمانہ کہہ کر ہی پکارتی تھیں۔لیکن پھر یہ ماریہ نامی لڑکی کی یاداشت اس کے دماغ میں کیوں گھُس گئی؟اب اس کے ذہن میں دویاداشتیں تھیں۔ ایک ماریہ کی اور دوسری نیلمانہ کی۔ کبھی اُسے لگتا کہ وہ ماریہ ہے جو انسان تھی اور کسی وجہ سے تتلی بن گئی اور کبھی اسے لگتا کہ وہ شروع سے ہی ایک تتلی تھی اور پورماشانی کی طویل نیند میں چلنے والے کسی خواب کی گونج ابھی تک اس کے دماغ میں موجود تھی۔لیکن یہ کیسی گونج تھی۔ یہ تو ایک مکمل یادتھی۔ اُسے یاد تھا کہ وہ پروفیسر سارنگ کی بیٹی تھی۔ اسے یاد تھا کہ وہ مائیکروبیالوجی میں پی ایچ ڈی کررہی تھی۔ اُسے یاد تھا کہ اُسے ایک لڑکا پسند کرتاتھا جس کا نام راہیل تھا اور جو انگلش لٹریچر کا طالب علم تھا۔ اسے سب کچھ یاد تھا۔ وہ کبھی دُور ہزاروں ’’فرسانگی‘‘ کے فاصلے پر موجود عمارت کی کھڑکیوں کے پاس جانے کا سوچتی۔

اب وہ پھر اُڑرہی تھی۔ نیلمانہ کو یوں گلابی پھولوں پر پرواز کرتے دیکھا تو شاؤزان سے رہا نہ گیا۔ وہ بھی اپنے گہرے نیلے پر پھڑپھڑاتا مورسینا کے ساتھ آمِلا۔ شاؤزان نے آتے ہی کہا،

’’نیا دن مبارک ہو۔یہ سال کتنا روشن ہےنا؟‘‘

ماریہ ہنس دی۔ اب اسے سب معلوم تھا۔ یہ لوگ انسانوں کے ایک دن کو اپنے لیے ایک سال سمجھتے تھے۔ ماریہ نے شاؤزان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،

’’شاؤ! تمہیں پتہ ہے؟ ہمارا ایک سال کسی اور کے لیے فقط ایک دن کے برابر بھی ہوسکتاہے؟‘‘

’’کیا؟‘‘

’’ہاں! ہمارے تین سو دنوں کا ایک سال ہوتاہے نا؟

اُس نے شاؤزان سے سوال کیا،

’’ہاں‘‘

’’ تمہیں پتہ ہے ؟ ہمارےنوہزار دِنوں سے انسانوں کا ایک مہینہ بنتاہے۔ہمارے اسّی ہزار دنوں سے انسانوں کے نومہینے بنتے ہیں‘‘

’’انسانوں کے؟ انسان کون ہیں۔ وہ کہاں ہوتے ہیں؟‘‘

شاؤزان کو کچھ سمجھ نہ آرہا تھا کہ نیلمانہ کیا کہہ رہی ہے۔ اس نے الجھے ہوئے لہجے میں نیلمانہ سے پوچھا تو وہ ہنسنے لگی۔وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ نیلمانہ ابھی تک پوری طرح صحتیاب نہیں ہوئی۔ لیکن ماریہ تھی کہ بولتی چلی جارہی تھی۔شاؤزان کے پوچھنے پر ماریہ نے کہا،

’’انسان بھی ایک زندہ مخلوق ہیں۔وہ ہم سے بہت بڑے ہیں۔ہم ہوا میں اُڑسکتے ہیں لیکن وہ زمین پر چلتے ہیں‘‘

ماریہ کو یاد آیا کہ ہاں، سچ مچ وہ لوگ انسانوں کو نہیں جانتے تھے۔ اُسے یاد آیا کہ ایک تتلی کے طور پر وہ انسانوں کودرختوں جیسا ہی سمجھتی تھی جن پر نہ کوئی پھول اُگتے تھے اور نہ ہی پتے۔ جن کی شاخوں سے خوشبُو کی بجائے بدبُو آتی تھی۔ماریہ کو یاد آیا کہ چلنے والی نسل کے چھوٹے درخت بڑے درختوں سے زیادہ خطرناک ہوتے تھے۔ چھوٹے درخت تتلیوں کے پیچھے بھاگتے اور اُنہیں پکڑ کرجان سے ماردیتے تھے‘‘

معاً ایک خیال کے تحت ماریہ نے شاؤزان سے پوچھا،

’’شاؤ! ایڈونچر کا موڈ ہے؟‘‘

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *