عجلت پسند(قسط5)۔۔۔محمد اقبال دیوان

 ایڈیٹر نوٹ: کہروڑ پکا کی نیلماں یاد ہے نا۔۔۔ویسے ہی نیم فکشن نیم حقائق پر مبنی ہمارے مشفق و محترم اقبال دیوان کی ایک اور طویل کہانی حاضر ِ خدمت ہے۔کچھ کہانیاں میلے میں آنے والے طفل بے قرار و متجسس کی مانند ہوتی ہیں،ہر جگہ ضد کرکے رُک جاتی ہیں۔اس کہانی کی تکمیل میں تین برس لگے اور تب تک ٹیپو جی ریٹائر ہوچکے تھے۔بی نو نے اپنا ڈھابہ اور کسٹم کیٹرنگ کا کام جمالیا تھا۔ ٹوانہ جی اور ظہیر کی کمپنی Over-Haul کا کاروبار بہت مزے سے چل پڑا تھا۔

چوتھی  قسط کا آخری حصہ

tripako tours pakistan

میڈاسانول مٹھڑا، شام سلونا
من موہن جانان وی توں۔۔۔۔
میرے جانو تم کہاں جانو کہ محبت نغموں، دعاؤں اور کہانیوں میں گھر بناتی ہے۔بی نو کا یہ اہتمام کہیں اور ہوتا تو پرانی دوست ضویا ڈاہا کی پھٹے چک دینے والی بات سچی نکلتی مگر ظہیر کے ساتھ یہ معاملہ محض سلگتے صحرا پر برسات کا ایک بے فیض چھڑکاؤ ثابت ہوا.

بینو

پانچویں قسط
منگل کی صبح فجر کے کچھ دیر بعد ٹیپو جی ان سب کو لینے آگئے۔بینو نے ان کی کافی بنائی۔اتوار کی شب مہندی والی سجاوٹ تو نہ تھی مگر گہرے نیلے رنگ کے کھلے کرتے،پاجامے اور آسمانی نیلے رنگ کے دوپٹے ایسا لگتا تھا کہ وہاڑی میں انسانی روپ میں قیمتی نیلم کی کوئی کان دریافت ہوئی ہے۔

بینو کی مرضی تھی وہ چست جینز، ٹی شرٹ اور لیدر کی جیکٹ پہنے مگر فجر کی  اذان پر ظہیر نے الماری کے باہر ہینگر پر لٹکا یہ پہناوا، یہ اہتمام دیکھ کر کہا ،گھر کے اندر اور بے تکلف سہیلیوں کی محفل میں ایسا لباس اوکے ہے مگر ٹیپو ایک بہت ہی ذمہ دار حساس سرکاری ادارے کے افسر ہیں۔ان کو لگے گا تم بہت Available سی عورت ہو۔اس حرکت کا وہ غلط مطلب نکالیں گے۔ان کے ساتھ سکیورٹی کے لوگ بھی ہوں گے جو اس وضع قطع کی تشہیر کریں گے۔پلیز یہ شوق پھر کبھی جب ہم لاہور میں دونوں ساتھ ہوں بٹ ناٹ ٹوڈے۔آج خاص طور پر لباس میں وقار، موقع کی موزونیت، عبایا اور سر پر دوپٹہ لازم ہے۔

بینو نے کہا، سائیں میڈا سرکاری اداروں کے بھی جذبات ہوتے ہیں ،یہ تو ہم کو پہلی دفعہ پتہ چلا۔ سرکاری ادارہ تو عوام دوست،ایفی شنٹ اور فیض رساں ہونا چاہیے۔ چلو آپ کی بیوی، آپ کی مرضی میرے قبلہ ،کعبہ، مسجد، مندر۔۔میری، مہندی، کجل ،بیڑہ ،پان ،وی توں۔۔

جوٹ کے تھیلے میں لپیٹی بوتل
جوٹ کے تھیلے میں لپٹی بوتل
ہائناز
ہائناز
رینج رور

فائر ورک راکٹ

چکری فائر ورک

جس وقت کافی کی پیالی    لے کر وہ کچن سے آرہی تھی ،ظہیر عین اس وقت اپنا بیگ اٹھانے کمرے میں گیا ۔پیالی سامنے لاتے وقت بی نو کی نگاہیں ٹیپو سے دوچار ہوئیں تو اس کے نسوانی ادراک نے باخبر کیا کہ یہ ساری رام لیلا اسے اپنا بنانے کے لیے رچائی گئی ہے۔لوئر مڈل کلاس کی لڑکی تو کلبلاتے ارمانوں کی ایک پوٹلی ہوتی ہے۔اس آگاہی نے اس میں مسرت کا ایک نچلے درجے کا طوفان جگایا۔
روانہ ہوئے تو سرکاری گاڑی، پروٹوکول کیا کچھ نہ تھا۔۔ظہیر ٹیپو کے برابر اگلی نشست پر ان کی مہربانیوں کے بوجھ تلے متاثر و ہراساں بیٹھا تھا۔ بینو کے امی ابو پچھلی سیٹ پر اس کے ساتھ ہی بیٹھے تھے وہ خود ٹیپو کی نشست کے پیچھے کھڑکی کے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی۔اسے موقع  مل گیا ،سو گاہے بہ گاہے ٹیپو کو دیکھتی رہی۔کبھی آئینہ عقب نما میں تو کبھی سائیڈ ویو مررمیں۔۔افق پر اجالا پھیل رہا تھا۔اس خورشیدحیات افزا کی اوّلیں کرنیں جب بی نو کے  رخِ  تاباں پر رقصاں ہوئیں تو لگا کہ اس کی زندگی میں رفاقت کا ایک نیا سورج طلوع ہورہا ہے۔

یہ پہلا موقع  تھا جب اس نے جی جان سے کسی مرد کو دیکھا تھا۔ اس دیدہ دلیری میں کئی مرتبہ بی نو کو یوں لگا کہ اس کے وجود کی شب ِ تنہائی میں جذبات کے شریر بچوں کے ایک گروپ نے شب ِ برات کھل کر منانے کی ٹھان لی ہے۔ ہر طرف مختلف شدت کے زوردار، ہلکے دھماکے ہورہے تھے۔ سائیڈ ویو مرر میں جب دونوں کی نگاہ ملتیں  تو یوں لگتا کہ اس کی ناف سے گاہے بگاہے ایک راکٹ پھلجھڑی شوں شوں کر تی زمین پر تیزی سے گھومتی ، بچوں کے دائرے کو خوف سے پرے کرتی ، ست رنگ ستارے بکھیرتی، بلند ہوکر دل و دماغ کے آسمانوں میں گم ہورہی تھی، لطف و کرم کی اس لذت دید، نے بی نو کے مزرع دل میں ہزارہا تخم امید بودیے ، شاید وہ ایک آدھ مرتبہ دھیرے سے مسکرائی بھی۔

ٹیپو کو بھی لگا کہ بینو ایک ایسی ہرنی ہے جس نے شیر کو شکار کیا ہے۔نگاہوں کے اسMost favored Personکے اعلیٰ  سطحی معاہدے کے طے پاتے وقت بینو کے ہونٹوں پر چند مرتبہ اورنگاہوں میں بارہاایسی مسکراہٹ جگمگائی جس کا دباؤ ٹیپو کے لیے سمارٹ فون کے اسکرین کے ٹچ جیسا،پیغام رساں تھا۔ بہت کچھ ادھر اُدھر ہوگیا۔صرف وہ دونوں ہی جان پائے۔امی کے اصرار پر بی نو نے گھر کے دالان میں ہی نکلتے وقت اپنے اوپر عبایا انڈیل لیا تھا۔ٹیپو کو لگا کہ وہ جو اتوار کی رات مہندی سے واپس بلائی گئی قتالہ اس کے حواس پر طاری ہے۔ وہ جو اس وقت پچھلی نشست پر براجمان ہے۔ وہ در اصل قیمتی شراب کی وہ بوتل ہے جسے جوٹ کے تھیلے میں لپیٹ کر کسی شاطر خدمت گزار نے دوسروں کی نگاہ سے محفوظ رکھنے کے لیے بڑے صاحب کی گاڑی میں رکھ دیاہے۔

لاہور وہ کئی د فعہ پہلے بھی آئی تھی مگر اس شان و شوکت سے نہیں۔ امریکی بحری بیڑے کے جہاز جتنی بڑی خوشبو اور ٹھنڈک سے رچی بسی سیاہ جیپ۔اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ بندے کے پاس دولت پلے میں ہو تو خوشیاں بھلے ملیں نہ ملیں تکالیف کی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ آپ کو بے بسی کی حالت میں بھوکے لکڑ بگھوں (ہائناز) کی طرح زندہ بھنبھوڑ کر رکھ دیں۔غم و اندوہ کی گھڑیوں میں رکشے یا منی بس میں روتے روتے آنے جانے میں اور مرسڈیز یا رینج رور میں ٹشو پیپر کا ڈبہ برابر رکھ کر چپ چاپ رونے میں کتنا فرق ہوتا ہوگا۔

لاہور میں بھی جہاں وہ عارضی طور پر ہی سہی کچھ دیر کے لیے قیام پذیر ہوئے وہ کسی کاروباری ہستی کا پرائیویٹ بنگلہ تھا۔ ظہیر نے کہا یہ پنجابی تاجر لوگوں کی مہمانداریاں بہت ہوتی ہیں۔برائی   کی محافل میں دھندہ جنم لیتا ہے اور دھندے کی گود میں برائی پلتی ہے۔کراچی میں ان کے کاروباری شراکت دار تو لاہور میں کتوں کا شو ہو کہ بسنت،یا کوئی پی ایس ایل کا میچ۔۔ جھٹ سے ندیدے ٹکٹ لے کر یہاں آجاتے ہیں، پھر رات کو پارٹیاں مجرے،پنجابی بزنس مین کھلا ڈلا ہے۔کراچی والوں کی طرح سوم نہیں۔ظہیر بن پوچھے بتارہا تھا کہ سیالکوٹ والوں کو اپنے دورے میں کراچی میں ٹی وی ڈرامے کی کوئی اداکارہ یا ماڈل پسند آئے تو کراچی والے منگوانے کی بجائے کہہ دیں گے، اس ڈرامے کی سائیڈ ہیروئن یا نئے گھی یا پراجیکٹ والی ماڈل موجود ہے۔ وہ بھی ایک دم وی آئی پی اسٹف ہے۔ ایک دم شعیب اختر کی یارکر جیسی،سیدھی ٹانگوں میں  آنے والی۔آپ والی فیورٹ کی ماہانہ مجبوریاں ہیں۔ظہیر کو پتہ تھا بی نو کو شعیب اختر کے پہلے اور آخری اوورز بہت پسند تھے۔
بی نو نے پوچھا ”وہ سائیڈ ہیروئن  یا نئی ماڈل کیوں؟“۔”ارے بھئی وہ سستی ہوتی ہے دھندے میں نام بکتا ہے“۔

فی میل بائونسر
باؤنسر

بی نو نے چھیڑا۔”اب سمجھ میں آیا کہ مجھے لاہور کیوں نہیں بلاتے۔ٹوانہ جی کے لیے تم بھی ایک دم وی آئی پی اسٹف ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہوگے۔ان کے بھی کراچی سے بہت مہمان آتے ہوں گے۔ “

عارضی قیام والے تاجروں کے اس بنگلے پر بی نو والے وہاڑی گروپ کی آؤ بھگت اور میزبانی ایسی کہ گویا پرنسس ڈیانا اور  اور اس کے بچے لاہور آئے ہوں۔ وہاڑی سے وہ فجر کے بعد نکلے تھے میجر صاحب کے میزبان نے ناشتے پر کوئی تو کسر چھوڑی ہو۔مالکان خود تو موجود نہ تھے مگر اسٹاف تو واری واری تھا۔ٹیپو تو اپنی کسی میٹنگ میں چلے گئے۔یہ سب شام تک گھومتے رہے۔وہ دو مزارات اور ایک دو بڑے اسٹوروں پر بھی گئے۔کچھ خریداری بھی کی۔

ایک مزار پر   والدہ نے بی نو کو یاد دلایا کہ وہ سہاگ کی سلامتی اور جلد اولاد کی دعا کرے۔ بینو نے ماں کی بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا اور انگریز ی میں دعا کی کہ Allah jee, I adore Tipu jee. Please make it safe and best for both of us.
بی نو کو دعا کے اختتام پر عادتاً منہ  پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنے اس مسخرے پن پر ہنسی آئی تو قریب کھڑی ایک مسٹنڈی سونٹے لہراتی میلی سی عورت نے جو مزار کی باؤنسر (باؤنسر وہ ڈشکرے جو کلب کے باہر اور اندر ہنگامہ کرنے والوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں)بنی ہوئی تھی نے،اس کے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے پنجابی میں کہا ”دھیئے سمجھ تیری دعا قبول ہوگئی“۔بی نو نے پوچھا کہ”وہ کیسے؟“ تو عورت کہنے لگی ”دعا دے اخیر وچ ہنسی دا مطلب ہے ایتھے دا بابا تیرے توں   خوش ہوگیا جے“۔

اس دل خوش کُن یقین دہانی کے لیے بی نو نے پچاس روپے کا نوٹ دیا تو وہ پسر گئی کہ پچاس نہیں سو روپے لے گی۔تینوں تے میں بابے ولوں اینی وڈی خوش خبری دِتی اے۔ماں نے اپنی طرف سے پچاس روپے یہ کہہ کر دیے کہ ”بابے نوں کل فیر یاد دلائیں کہ کم چھیتی (جلدی) ہونا چائیدا اے۔
بی نو نے یہ بات سن کر   اپنی والدہ کو پھر انگریزی میں کہا
Mom, sometimes you are so funny.

جان یمان

مزار کا دالان عبو کرنے کے دوران اس کی امی کو یاد آیا کہ بھائی نے امی کو سعودی عرب سے اپنی مدت ملازمت میں توسیع ہوجائے اس کے لیے دعا کا کہا تھا۔سو وہ ایک مرتبہ پھر مزار کی جالی کی طرف لپکیں۔بابا جی کی اسی افسر مہمانداری کو بی نو کی امی نے دو سو روپے دیے تو اس نے انہیں لائن سے   ہٹ کر اپنے پاس کھڑا کرلیا کہ رج کے دعا مانگیں۔ایک دو خواتین نے اس قطار شکنی پر چیں چیں کی تو وہ عورت انہیں ڈانٹ کر کہنے لگی۔یہ باہر کے مہمان سید لوگ ہیں۔ اولاد کو بُرا بھلا کہا اور بابا جی ناراض ہوگئے تو گھر میں جھاڑو پھر جائے گی۔چپ کر کے کھڑی رہو۔ بابا جی یہاں پر ہی لیٹے ہیں کہیں اٹھ کرشہباز شریف سے ملنے نہیں جارہے۔

وہ ایک کونے میں اطمینان سے اپنی انگریزی کے اس غیر متوقع دورے پر حیرت کرنے لگی, مگر اس نے سوچا اردو میڈیم دعاؤں کے ثمرات بھی اردو میڈیم ہی ہوتے ہیں۔ رکشوں، سوزو کیوں کے پیچھے دعائیہ کلمات جیسے خام اور بے سوادے، تھوڑا ہے تھوڑے کی ضرورت ہے۔یہ سب میری ماں کی دعا۔میرے نصیب میں اے دوست تیرا پیار نہیں قسم کے۔۔یہ سوچ کر وہ  کھلکھلا کر ہنس پڑی۔اس کے ابو کہتے تھے بڑی دعا مانگا کرو۔ ظہیر کے مل جانے کے بعد سرکاری اسکول کی ایک جونئیر استانی کے لیے حساس ادارے کے طاقت ور جان یمان جیسے ٹیپو سے بڑی دعا اور کیا ہوسکتی تھی۔ابو کسی کا قصہ سناتے تھے کہ ایک میراثی کے گھر کے آنگن میں ایک چھوٹا سا تلسی کاپودا تھا۔روز کسی مزار پر دعا مانگ کر آتا کہ یہ پودا سونے  کا ہوجائے۔ایک صبح پودا واقعی گملے سمیت سونے کا ہوگیا۔ ناچتے ہوئے مزار پر پہنچا اور کہنے لگا کہ مرشد آپ بھی کمال ہیں ایک مسلی،مراثی پر اتنا کرم۔ پودا گملے سمیت سونے کا بنادیا۔ اندھے ہوجائیں وہ لوگ جو آپ کی توہین کرتے ہیں اور یہاں آکر چھوٹی چھوٹی دعائیں مانگتے ہیں۔اگلی صبح اٹھا تو خود اندھا ہوگیا تھا۔بینو کو لگا کہ انگریزی میں ہی سہی مگر اس کے جان یمان جن پر وہ دل و جان سے فدا ہوچکی ہے اس کے ٹیپو سلطان اس کے لے بہت بڑی دعا ہیں۔ جس کو ظہیر کی موجودگی میں بے خوف پورآ کیا جاسکتا ہے

زنانہ حصے سے باہر نکلے اس کے والد بریانی زردے کا ایک شاپر پکڑے کھڑے تھے۔ نیازکی یہ تھیلی انہوں نے ظہیر کے سامنے ہی بی نو کی والدہ کو یہ کہہ کر دی کہ کوئی بانٹ رہا تھا۔ ان لوگوں نے یہاں منت مانگی تھی۔ان کے گھر سات سال بعد بیٹا پیدا ہوا ہے۔ وہ یہاں اس پُر مسرت موقعے پر منت کی نیاز تقسیم کرنے آئے تھے۔ نیازمند بتارہے تھے کہ  وہ بھی ہر طرف سے مایوس ہوکر یہاں آئے تھے تب انہیں بھی کسی نے ایسی ہی نیاز کی تھیلی دی تھی۔

نیاز کی بریانی زردے کی تھیلی اس کے والد نے ظہیر کے سامنے ایک آس بھری خفیہ حکمت ِ عملی کے تحت اس لیے بھی دی کہ شاید اس خوراک شفا اور ویاگرا ئے مقدسہ کو کھاکر کہ ظہیر کا سویا ہوا مرد بیدار ہوکر ان کی اس جوان سال، خوش خصال، بیٹی کو جو مذہبی رہنماؤں کو اپنے جان لیوا Curves کے  کھلواڑسے شاہراہ زندگی پر راستہ بھلا دے۔ ان کا برف کے گلیشئر جیسا داماد اسے کھاکربی نو پر بستر میں ٹوٹ پڑے اور وہ سال کے آخر میں نانا بن جائیں۔

اس پر شوخ و سنگ بی نو نے ماں کو کہا ہماری شادی کو تو ابھی دو سال ہی ہوئے ہیں۔میں نے اتنی جلدی ماں نہیں بننا۔ عورت کا فگر خراب ہوجاتا ہے۔ماں نے باپ کو دوڑایا کہ پوچھ کر آئے کہ نیاز مرد نے کھانی ہے کہ عورت نے۔ نیاز تقسیم کرنے والا بہرہ مند و شاد کام مرد تب تک وہاں سے جاچکا تھا۔جس پر بی نو کی والدہ نے ڈانٹا کہ ہر کام ادھورا کرتے ہیں۔ یہ سن کر باپ نے کہا کہ ہمارا کام بغیر منت مانگے ہوگیا تھا۔ مجھے کیا پتہ کہ اس نیاز کو کس نے کھانا ہے۔

ان کی مہمان جیپ کیوں کہ مزار سے دور سڑک پر کھڑی تھی لہذا چلتے چلتے بی نو نے ظہیر کو چھیڑا ،نیازآپ کھائیں گے یا مجھ دکھیاری، برہا کی ماری کا کام بھی بغیرنیاز اگر بتی جلائے بھی ہوجائے گا۔ظہیر کو یہ طنز اچھا نہ لگا مگر پی گیا تو ظہیر سے بی نو نے کہ اس کا ہاتھ دبا کر کہا
You are my baby and I love u janu. Just kidding
جس پر ظہیر نے اسے بہت آہستہ سے ہاتھوں میں ہاتھ  تھام اس کی انگلی کو ہلکے سے مروڑ کر  آہستہ سے کہا
دعا سے بہتر کوئی امید نہیں۔ ۔جو مانگا ہے، وہ جلد سویر ضرور ملے گا۔بینو یہ سن کر ہل گئی۔۔
شام کو جب وہ بنگلے پر واپس پہنچے تو ٹیپو جی کے ساتھ۔بنگلے  کے مالک بھی موجود تھے ٹیپو نے بی نو کی فیملی کا تعارف یہ کہہ کر کرایا کہ ڈی آئی جی محمود ٹوانہ کی پھوپھو صاحبہ اور ان کی فیملی ہے۔کمرے میں جب وہ اپنا سامان ٹھیک کررہے تھے تو بی نو کومحسوس ہوا کہ ظہیر کچھ گم گشتہ سا ہے۔قدرے ہارا ہو بھی خاصا سہما سہما سا۔اس نے بہت سوچا کہ وہاڑی سے لاہور آتے وقت سرکاری جیپ کے آئینوں کے شیش محل میں گستاخ نگاہوں کی انارکلی کے رقصِ  الفت سے کہیں کچھ اشارہ تو نہیں پالیا۔یہ خیال تو اسے دامن گیر نہیں کہ وہ اس سفر میں اپنی منکوحہ کو ٹیپو کے ہاتھوں گنواچکا ہے۔اس نے سوچا واپسی پر وہ کوشش کرے گی کہ وہ دروازے والی  سائیڈ پر پچھلی نشست پر بیٹھے گی۔

شام کو ظہیر کی مرضی تھی کہ وہ سب اس کے بغیر لوٹ جائیں۔ بی نونے ضد کی کہ وہ بھی ساتھ چلے۔اس ضد کا مقصد ظہیر کو  ٹیپو کے بارے میں بن کہے اپنی قربت کا بھرپور احساس دلاکر پیدا شدہ خدشات کو دور کرنا تھا۔ ٹیپو بھی اس کی ضد کا مقصد بھانپ گئے کہنے لگے کل کچھ لوگ لاہورDNA-Profiling کے لیے بھیجنے ہیں۔ پولیس اسکارٹ کی گاڑیاں ساتھ ہوں گی۔ان میں ظہیر بھی ان کے ساتھ واپس آجائے اس کی سکیورٹی کلیئرنس ہے۔بی نو کے دل میں آئی کہ وہ بھی مزاقاً پوچھ لے کہ اس کی بھی سکیورٹی کلیئرنس ہوگئی ہے یا نہیں مگر اسے لگا کہ یہ مذاق بریانی زردے کی نیاز والی حدود سے بہت دور صحرائے اَنا میں ظہیر کی مدافعت کے قافلوں پر براہ راست شب خون مارے گا۔ ظہیر ٹیپو کے سامنے یوں بھی اسے بہتVulnerableاور بے بساط لگتا تھا۔ایک ہارے ہوئے مس میچ کھلاڑی کی باڈی لینگویج والا۔

واپسی پر اس کے ابو سامنے والی نشست پر اور وہ جڑ کر ظہیر کے ساتھ بیٹھ گئی۔کوشش وہی کہ ظہیر کو یہ نہ لگے کہ اس کی پتنگ کٹ گئی ہے۔لمبی ڈھیل سے اب بھی اس بات کو سنبھالا جاسکتا تھا، ہر چند کہ ٹیپو نے اس سفر میں بی نوکے دل میں مزید جگہ گھیر لی۔راستے بھر وہ کبھی ظہیر کی خاموش ٹھنڈی، بے سخن انگلیوں سے کھیلتی رہی تھی تو کبھی اس کے کاندھے پر سر رکھ کر جھوٹ موٹ سوتی رہی۔ کئی دفعہ اس کی قمیص کی آستین اوپر کرکے اس کے کلائی سے کہنی تک کے بال نرم چٹکیوں سے نوچے  بھی۔ظہیر کو وہ کس حد تک اپنی وابستگی میں ٹیپو کو لاتعلق ظاہر کرنے میں کامیاب رہی اس کا اسے فوری طور پر ادراک نہ ہوا۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply