• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • فرانز کافکا : وجودی، لایعنی کیفیتوں اور خوابوں کی تھکاوٹ کا فکشن نگار(دوسرا،آخری حصّہ )۔۔احمد سہیل

فرانز کافکا : وجودی، لایعنی کیفیتوں اور خوابوں کی تھکاوٹ کا فکشن نگار(دوسرا،آخری حصّہ )۔۔احمد سہیل

کونراڈ آڈیناؤر فاؤنڈیشن کے شعبہء ادب کے انچارج ا ور جرمن زبان و ادب کے ماہر مشائیل براؤن کے خیال میں کافکا کی تحریروں میں وہ اضطراب نظر آتا ہے، جو اُس دور میں نت نئی ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں موجزن تھا۔ شہر پھیل رہے تھے، ریل اور کار کی طرح کے ذرائع آمد و رفت سامنے آ رہے تھے، نئے پیداواری طریقے متعارف ہو رہے تھے اور ریاستی ڈھانچے مستحکم تر ہوتے جا رہے تھے۔ یہ سب کچھ لوگوں کے لیے نیا بھی تھا اور پریشانی کا باعث بھی۔ براؤن کے مطابق آج کا انسان بھی اسی اضطراب کا شکار ہے اور یہی وجہ ہے کہ کافکا کو ایک ایسا پیش بین ادیب مانا جاتا ہے، جسے 1900ء کے لگ بھگ معلوم تھا کہ بیس ویں صدی کے وسط تک یا اُس کے بعد کیا کچھ ہونے والا ہے۔ کیسے ایک انسان کو ہر جانب سے کنٹرول کیا جائے گا اور جبر کا نشانہ بنایا جائے گا۔ براؤن کے مطابق کافکا کی کہانی ’اِن دی پینل کالونی‘ آج کے دور کے گوانتانامو حراستی کیمپ کی ہو بہو منظر کشی کرتی معلوم ہوتی ہے۔

کافکا نے اپنی کہانیوں اور ناولز میں معاشرے میں فرد کی کشمکش اور داخلی تصادم کی المناک تصویر پیش کی ہے۔جو ان کے  ناولز”مقدمہ”(The Trial)۔۔ ” قلعہ” (The Castle) اور “امریکا”(Amerika) اور ان کی مختصر کہانیوں ” سزا یافتاؤں کی بستی”(Penal Colony)، “بھوکا فنکار”(The Hunger Artist)، ” دہقانی ڈاکڑ” (country Doctor), ” بھٹی جھوکنےوالا‘ (Stoker). ” قلب ماہیت” (Metamorphosis). ” فیصلہ” (Judgement) میں شدت سے محسوس کی جاسکتی ہے۔

tripako tours pakistan

آج کی جدید دنیا میں انسان بے حیثیت ہے۔ کم از کم ایک فرد کے طور پر اُس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ آج کل اہمیت اس بات کی ہے کہ پورا معاشرہ اجتماعی طور پر آگے بڑھے۔ یہ رجحان بیسویں صدی میں کمیونزم اور جرمنی کی نیشنل سوشلزم کی شکل میں سامنے آیا تھا۔ تاہم آج کل کی جمہوری طور پر منظم ریاستوں میں بھی انسان کا وہ احساسِ بے بسی ختم نہیں ہو سکا ہے، جس کا ذکر کافکا نے کیا تھا۔

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ مرگ انبو {ہالوکاسٹ} کے اذیّت ناک تحربے کو کافکا نے اپنی تخلیقات میں پیش کیا ہے جو مزاج واقعہ، منطق یا کئی اسباب پر منحصر ہیں،جو ان کی ناول ” مقدمہ” ان کی زندگی کا ناقابل یقین سفر کی ابتدا ہے۔ جس میں معادرے کے اہم کرداروں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ جو ان کے اعصابی تناو اور ان کے ذین کی کشیدگی کا تجربہ ہے۔ یہ ان کی تجریروں کا اثاثہ بھی ہے۔ جس میں فکر کی تخلیقیت کے بحران کی فطانت موجود ہے۔ جس کی اپنی ایک دلچسپ منطق ہے۔ کافکا نے لکھا، “خدا نہیں چاہتا کہ مجہے لکھنا ہے۔ . لیکن مجہے اپنے اوپر کوئی اختیار نہیں ہے ” ۔
محمد عاصم بٹ نے اردو فکش پر کافکا کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔ ” اردو میں اس کی اولین کوششیں ہمیں نیر مسعود کے تراجم کی صورت میں ملتی ہیں جو ستر کی دہائی میں پہلی بار انڈیا میں شائع ہوئے۔ غالباً یہی وقت ہوگا جب اردو میں کافکا کے اثرات نے راہ پائی۔ سب سے زیادہ اثرات اردو میں اگر کسی ادیب کی تحریروں میں تلاش کیے جا سکتے ہیں تو وہ خود نیر مسعود ہی ہیں۔ انھوں نے کافکا سے خوابناک منظرنامے کو مستعار لیا۔ انھوں نے خوابوں کی تھکاوٹ اور مایوسی سے مملو کردار تخلیق کیے جو ایک مخصوص منظرنامے کو تشکیل دیتے ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں کی منظرنگاری میں خوابوں کی دھند بھری، اور ان کہانیوں کے واقعات کو غیر یقینی پن کی حیرتوں کے رنگوں سے مزین کیا۔ لیکن دونوں لکھنے والوں کے ہاں بنیادی موضوع اور وژن کا واضح فرق ہے۔

کافکا کا موضوع اور اسلوب اردو کے لیے خاصا اجنبی ہے۔ انتظار حسین موضوع کے اعتبار سے کافکا سے کہیں زیادہ متاثر معلوم ہوتے ہیں۔ گو انتظار حسین کے ہاں موضوع کی وسعت اور گہرائی کافکائی انسان کی صورت حال جیسی گھمبیر ہرگز نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے انسان کی باطنی تبدیلی کو اس کے ظاہر میں ہوتا ہوا آخری آدمی، کایاکلپ اور دیگر افسانوں میں دکھایاہے۔اس کے باوجود ہم انتظار حسین کو کافکا سے متاثر قرار نہیں دے سکتے۔ ان پر داستانوں کے اثرات البتہ کہیں زیادہ تھے اور انھوں نے ملفوظات ، انجیل اور ہندی دیومالا کے اسالیب کو اردو افسانے میں برتنے کے غیر معمولی تجربات کیے۔ سریندر پرکاش کی جادوئی فضا اور منظرنامے میں کافکائی اثرات کی رمق ملتی ہے۔ علامتی تحریک ہی کے ایک سربرآورہ لکھاری انور سجاد بھی ہمیں کافکا کے اسلوب کے چمن سے خوشہ چینی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔”{ اردو ادب پر کافکا کے اثرات ،’تجزیات’، 20 مارچ, 2018 }

فرانز کافکا کا ناول ’’دی ٹرائل‘‘ ایک منفرد پلاٹ اور مختلف طرزِ تحریر کے باعث ہر جگہ مقبول ہے۔ اس ناول پر تین فلمیں بن چکی ہیں۔ اسے 1914ء کے آس پاس کے برسوں میں یورپ میں ہونے والی معاشرتی انتشار کا عکاس قرار دیا جا سکتا ہے۔ ’’دی ٹرائل‘‘ ناول کو یاسر جواد نے اسے ” مقدمہ” کے نام سے کیا ہے۔

ایک عرصے سے اردو کے ادبی جرائد میں کافکا کے حوالے سے تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں۔ کئی اردو کے فکشن نگاروں نے کافکائی تحریروں سے متاثر ہوکر فکشن لکھا۔ مگر وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکے۔ کچھ دن قبل محمد عاصم بٹ نے کافکا کی ” قلب ماہیت” کا بہترین  اردو ترجمہ کیا تھا۔۔
“در خاتمہ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلا شبہ کافکا ایک بہت بڑے اور اچھے ناول نگار تھے ، اور بہت سارے علما ادبی ناقدین اور تجزیہ نگاروں نےان کے تخلیقی عمل کو20 ویں صدی کے عالمی ادب میں ایک اہم کارنامہ خیال کرتے ہیں۔ اس کے ناول خوف ناک خوابوں کی طرح ہیں۔ وہ حقیقت پسندی کو واہموں {fantasy} کے ساتھ ضم کرتے ہیں وہ گردش میں رہنے والی حکومت کے خلاف تنہا کھڑے ہونے والے  ہیرودکھائی دیتے ہیں۔

ان کے ناول وجودی{Existential} تسلیم کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ داخلی زندگی ، فرد کے موضوعی تجربے پر زور دیتے ہیں۔ ان کی کہانیاں اس زمانے میں انتہائی جدید جانی جاتی تھیں ،جاتی ہیں۔۔ کیونکہ وہ ملحد ہیں اور زندگی کے  لایعنیت یا مضحکہ خیز پہلو پر غور کرتی ہیں۔
چونکہ اس کے ناول فکری سطح پربہت عمیق ہیں جس کو ” عمودی ناول” بھی کہا جاتا ہے۔ ، انھیں اکثر ایک فلسفی کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے شاذ و نادر ہی فلسفہ یا فلسفی کا اپنی تحریروں میں حوالہ دیا ہو۔

کافکا کی معروف تحریریں یہ ہیں :

Kafka was a great novelist — and many scholars regard him as a major contributor to 20th-century world literature. His novels are like bad dreams — they merge realism with fantasy, e.g. a hero alone against a bumbling government.
His novels are celebrated as Existential because they emphasize the inner life, the subjective experience of the individual. His stories are also celebrated as ultra-modern because they are Atheist and consider the absurd side of life.
Because his novels are so deep, he is often referred to as a philosopher. But he rarely referred to philosophy or philosophers.
595 / 5000
Translation results
•Country Doctor, the (1919)
•Penal Colony: Stories and Short Pieces, the (1948)
•Basic Kafka, the (1979)
•Sons, the (1989)
•Transformation and Other Stories, the (1992)
•Metamorphosis and Other Stories, the (2003)
Anthologies:
•Book of Fantasy, the (1940)
•Great German Short Novels and Stories (1952)
•German Stories and Tales (1954)
•Great German Short Stories (1960)
•Great Modern European Short Stories (1967)
•Seven Expressionist Plays (1968)
•Story-Makers, the (1970)
•Imperial Messages (1976)
•Twelve German Novellas (1977)
•Fiction of the Absurd (1980)
•Short Shorts (1982)
•Black Water (1983)
•German Literary Fairy Tales (1983)
•Magical Realist Fiction (1984)
•World of the Short Story, the (1986)
•Little Book of Horrors, the (1992)
•Strange Dreams (1993)
•Road To Science Fiction Volume 6: Around the World (1998)
•Nightshade: 20th Century Ghost Stories (1999)
•Dedalus Book of Austrian Fantasy 1890-2000, the (2003)
•Great German Short Stories (2003)
•Kafkaesque: Stories Inspired by Franz Kafka (2011)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Novels:
•Trial, the (1925)
•Castle, the (1926)
•Amerika (1927)
Short Stories:
•Judgment, the (1913)
•Trees, the (1913)
•Unhappiness (1913)
•Wish to Be a Red Indian, the (1913)
•Street Window, the (1913)
•Reflections for Gentlemen-jockeys (1913)
•Rejection (1913)
•Clothes (1913)
•On the Tram (1913)
•Passers-by (1913)
•Before the Law (1916)
•Old Manuscript, a (1917)
•Jackals and Arabs (1917)
•Dream, a (1917)
•In the Penal Colony (1919)
•Imperial Message, a (1919)
•Cares of a Family Man, the (1919)
•Hunger Artist, a (1922)
•Josephine the Singer, or The Mouse Folk (1924)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Novellas:
•{Metamorphosis, the (1915)
* کتابیات اور ماخذات*

Anderson, Mark, ed. Reading Kafka: Prague, Politics, and the Fin de Siecle. New York: Schocken Books, 1989.
Bloom, Harold, ed. Franz Kafka. New York: Chelsea House, 2005.
Gray, Richard T., Ruth V. Gross, Rolf J. Goebel, and Clayton Koelb. A Franz Kafka Encyclopedia. Westport, Conn.: Greenwood Press, 2005.
Gray, Ronald. Franz Kafka.New York: Cambridge University Press, 1973.
Hayman, Ronald. K: A Biography of Kafka. New ed. London: Phoenix, 2001.
Karl, Frederick. Franz Kafka: Representative Man— Prague, Germans, Jews, and the Crisis of Modernism. New York: Ticknor & Fields, 1991.
Pawel, Ernst. The Nightmare of Reason: A Life of Franz Kafka. New York: Farrar, Straus and Giroux, 1984.
Preese, Julian, ed. Cambridge Companion to Kafka. New York: Cambridge University Press, 2002.
Robertson, Ritchie. Kafka: Judaism, Politics, and Literature. Oxford, England: Clarendon Press, 1985

Avatar