دو قطبی شخصیت۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہمارا روز کا معمول تھا، سونے سے پہلے
باتیں کرنے اور جھگڑنے کا
گلے شکوے کہ جن میں اگلی پچھلی
ساری باتیں یاد کر کے روتے دھوتے تھے
کبھی ہنستے بھی تھے تو صرف کچھ لمحے
ذرا سی دیر میں ویسا ہی جھگڑا، او ر وہی طعنے
وہی سر پیٹنا، آنسو بہانا، چیخنا ، رونا
یونہی روتے ہوئے خوابوں کے دوزخ میں
بھٹکنا اور سو جانا

گذشتہ شب بھی کچھ ایسی ہی حالت تھی
مگر سونے سے پہلے وہ بہت ہی تلملایا تھا
کہا تھا ۔۔۔میں چلا جاؤں گا ، لیکن تم
فقط آدھے ہی رہ جاؤگے، اک ٹوٹے کھلونے سے
مجھے غیض و غضب نے جیسے پاگل کر دیا تھا ۔۔۔
دفع ہو جاؤ ! مرا تم سے کوئی رشتہ نہیں باقی

tripako tours pakistan

میں خوابوں کے دہکتے دوزخوں سے صبح نکلا ہوں
تو وہ غائب ہے، پچھلی رات سے ۔۔۔ مجھ کو
اکیلا چھوڑ کر، جانے کہاں انجان راہوں پر
بھٹکتا پھر رہا ہوگا
کروں کیا میں؟ کہاں ڈھونڈوں؟

مرے گھر کے مکینو، رشتہ دارو، اے گلی والو
مجھے یوں رسیوں میں باندھ کر
ذہنی مریضوں کے شفا خانے میں مت بھیجو
کہ میں پاگل نہیں ہوں ۔۔۔ چیختا، سر پیٹتا تو ہوں
مگر میں چیخ کر اس کو بلاتا ہوں
جو میرا آدھا حصّہ ہے
جو میرا دوسرا ’میَں‘ ہے
(2005 عیسوی)

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *