عورتوں کی ہم جنس پرستی اور اسلامی ادب۔راشد یوسفزئی/آخری قسط

مفسرینِ قرآن نے حضرت یوسف ؑ کے واقعات کی  تفسیر میں ”عزیزِ مصر“ کی  شخصیت کے تعین کے حوالے سے مختلف روایات نقل کی ہیں۔مابعد کے علماء تفسیر کے مطابق بائبل کے Potiphar ہی عزیز مصر ہے۔ عطفیر(درست عربی لفظ شاید ”قطفیر“ہو) کو طبری، زمخشری، بیضاوی نے اپنی  تفاسیر اور ثعالبی نے قصص الانبیاء میں انسانیت کے تین دانا ترین اشخاص ”افرس الناس“ میں سے ایک لکھا ہے۔(باقی دو حضرت شعیبؑ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ)۔ انہی علماء تفیسر نے مزید لکھا ہے کہ قطفیر کی  موت کے بعد جب زلیخا کا نکاح حضرت یوسفؑ سے ہوا تو وہ باکرہ(Virgin ) تھی ۔ علماء تفسیر  حضرت زلیخا کے بکارت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کافی مخمصے کے شکار ہوۓ ہیں۔

امام کسائی نے  ”قصص الانبیاء“ میں لکھا ہے کہ عزیز مصر زیادہ شرابی (عناٌب) ہونے کی بناء پر ”قوتِ باہ“ سے محروم ہوچکے تھے۔ طبری نے مختلف روایات کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ اس روایت پہ کیا ہے کہ ”عزیز مصر ہم جنس پرست تھے“!آخر ایسی بحث کی حاجت کیاتھی؟۔۔۔ تفاسیر کی بات آگئی  راقم کو قاضی ثناء اللہ پانی پتی کی تفسیرِ مظہری بہت پسند ہے۔ قاضیؒ نے اپنے پیر مرزا مظہر جان جاناں سے عقیدت کی  بناء پر اپنی  تفسیر کانام بھی ”تفسیرِمظہری “ رکھا۔ مرزا مظہر جان جاناںؒ ایک لڑکے پر عاشق تھے جن کا نام عبدالحئ تاباں تھا۔ عاشق و معشوق دونوں اردو کے شعراء بھی تھے۔ مولانا محمد حسین آزاد نے ”آب حیات“ میں دونوں کا ذکر جدِ اجداد ابواب میں کیا ہے۔ امام ابن حزم الظاہری نے اپنی  شعری تصنیف ”طوق الحمامہ“ اور یاقوت نے ”معجم الادباء“ میں معتبر روایت نقل کی ہے کہ قرطبہ کے امام النحو و اللغت احمد بن کلیبؒ ایک لڑکے کے عشق کے درد سے فوت ہوگئے تھے۔ یاقوت نے الروحاء کی  ایک کتاب فروش سعد کا واقعہ نقل کیا ہے جس نے عیسی نامی ایک مسیحی لڑکے کے عشق میں اپنے املاک کو آگ لگائی اور صحرا کا راستہ لیا۔ حافظ سخاوی نے ”الضوء لامع“ میں اور سیوطی نے ”تدریب الراوی“ میں ابن خلدون کو عادی لونڈہ باز لکھا ہے۔

امیرالمومنین امین الرشید دیوانگی کی  حد تک ہم جنس پرست تھے۔ مسعودی نے ”مروج الذہب“ میں اس کے واقعات میں لکھا ہے کہ اس کی ماں ام جعفر اس کے ذوق کی  تسکین کے لیے  مجبوراً  مردنما لونڈیاں ڈھونڈتی تھی اور ان کو مردوں کے لباس پہنا کے امیرالمومنین بیٹے کی  خلوت میں بھیجتی تھی۔ اپنے غلام کوثر سے اس کا جنسی تعلق گندی حد تک مریضانہ تھا۔ انہی عباسی خلفاء کے محلات نے ”مرد نما لڑکیوں“ کے فیشن کو جنم دیا اور ”غلامیات“ ادب کی ایک باقاعدہ صنف بن گئی۔ ”تاریخ ادب العرب“ اور ”المعجم الوسیط“ کے مصنف استاد احمد حسن الزیات نے ہم جنسی ذوق کی تسکین کے لیے  مردنما لڑکیوں کے فیشن پر اپنے تحقیقی مقالے ”المرءة الغلامیة فی الاسلام“ میں لکھا ہے کہ دارالسلام بغداد میں لواطت کا  فیشن یہاں تک پہنچ چکا تھا کہ لڑکیاں مجبورا ً لڑکوں کے روپ میں اپنے آپ کو پیش کرتی تھیں ۔۔۔۔شاید اس لیے امام احمد بن حنبل رح کےمطابق بے ریش لڑکے،مرد کے ساتھ ایک راستے میں جانا جائز نہیں۔

امیر المومنین المعتصم علانیہ ہم جنس پرست تھے۔ افریقہ  کے امیر ابراہیم بن اغلب ثانی نے ساٹھ لڑکے ہم جنسی ذوق کے لیے رکھے تھے جبکہ قرطبہ کے اموی خلیفہ عبدالرحمن الثالث نے لیون کے ایک عیسائی  لڑکے کو جنسی فعل سے انکار پہ قید اور بعد میں قتل کیا۔ یہی لڑکا عیسائی ادبیات میں Saint Pelagiusیا پیلایو ولی بن گیا۔ اگر ابن حوقل کی پیشہ ورلڑکوں،موجرون۔۔۔ والی بات درست ہے تو بچہ بازی کے چکلوں کے بانی صرف مسلمان عرب ہیں۔

جاحظ نے جس ہم جنسی ادبی صنف کی بنیاد ”مفاخرہ“ میں رکھی اس نے آگے باقاعدہ شکل اختیار کی۔ لڑکوں سے جنسی تسکین کے نادر طریقےاور نوخیزوں کو دام ہوس میں لانے کی تکنیکس پر لطیف رسائل لکھے گئے جن کی تفصیل المنجد نے اپنی  کتاب ”الحیات الجنسیہ فی العرب“ میں دی ہے۔ جنسیات پر عربی اسلامی لٹریچر پڑھنے کے بعد موجودہ یورپی Pornographic اداکار پارسا نظر آتےہیں۔ جاحظ کے تتبع میں لکھےگئےہم جنسی ادباء میں چند ناموں میں سے  میں صرف سنجیدہ مصنفین کا ذکر کرتاہوں۔”الوساطہ بین الزنات واللطاء“ مشہور شاعر متنبی کے ہمعصر اور عضدالدولہ کے کاتب اور شاعر ابن ہندو کی تصنیف ہے۔ شارح بخاری، علامہ بدرالدین عینی الحنفی نے ”کتاب الحکایات“ لکھ کر حدیث و فقہ کے ساتھ اس رنگین میدان میں بھی نام پیدا کیا۔ اس موضوع پر ممتاز ترین تصنیف علامہ التفاشی کی ” نزہت الالباب فی مالایوجد فی الکتاب“ ہے۔ جبکہ صدیق حسن خان کی ”نشوت السکران“ بھی کسی سے کم نہیں۔

عورتوں کے ہم جنسی تعلق کا ادبی دنیا میں آغاز یونان کے جزیره لیسبوس کی شاعرہ سیفو سے ہوتا ہے۔ اس لیے زنانہ ہم جنس پرستی کو  Lesbianismکہا جاتاہے۔ عربی میں اسے  ”سحاق“ کہاجاتاہے۔یہ انگریزی کے Carpet munchersاور Pansy تو آج کل کے الفاظ ہیں۔ عربوں نے یہ میدان صدیاں قبل سر کیا تھا۔ سحاقات حلال ہیں یا حرام ایک متنازع مسئلہ ہے۔ ایک حدیث کتب حدیث میں ذکر ہے” سحاق النساء زنا بین ھن“ جس سے اس کے حرام ہونے کا ثبوت ملتاہے۔ جاہلیت میں بھی زنانہ ہم جنسی تعلق غیر معروف نہ تھا۔کتاب الاغانی میں ایک نعمان بن المنذر کی بیٹی ہند کے ایک دوسری عورت سے ہم جنسی تعلق کا ذکر ہے۔ المنجد کےبقول زرقاء الیمامہ عربی ادب کی  روایات میں پہلی ہم جنس پرست عورت تھی۔

مشہورترین عربی کتاب ”الفہرست“ کے مصنف ابن الندیم نے سحاقات و مساحقہ پر دلچسپ و رنگین کتاب ”کتاب الہند وبنت النعمان“ میں بارہ ابواب پر مشتمل بارہ واقعات لکھے ہیں۔ سحاقی ادب یہاں تک ترقی کرگیا  کہ ابوالعنبس السیمری نے اس صنف میں سینکڑوں صفحات پر مشتمل ”کتاب السحاقات“ لکھی۔ صلاح الدین ایوبی نے ابن عساکر کے شاگرد امام ابوالحسن علی بن محمد بن علی بن جمال بن سعدالدین المالکی الاندلسی کو بیت المقدس کا امام مقرر کیا تو فراغت پاکرامام القدس نے بیت المقدس میں بیٹھ کر ”حدائق الغناء فی اخبارالنساء“ نامی کتاب تصنیف کی جن کے زنانہ ہم جنس پرستی کے لطیف واقعات بیان کرنے کی نہ مجھ میں جرات ہے نہ میری اردو میں اتنی طاقت۔(مندرجہ بالاروایات میں راقم کی راۓشامل نہیں)

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *