دھرتی جائے کیوں پرائے۔۔ذیشان نور خلجی

اللہ جانے اس کا اصل نام کیا ہے لیکن میں اسے اچھو چوہڑھے کے نام سے ہی جانتا ہوں۔ بلکہ سمجھتا ہوں کہ یہ اس قابل ہے بھی نہیں کہ اس کا اصل نام جانا جائے یا اسے عزت سے مخاطب کیا جائے۔ دراصل یہ ایک گٹر صاف کرنے والا بھنگی ہے اور مستزاد یہ کہ اقلیتی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔

صاحبو ! میں صبح نماز فجر کے لئے اٹھوں یا نہ اٹھوں لیکن اچھو چوہڑھا ہر روز موذن کے نغمۂ تکبیر کہنے سے پہلے ہی اٹھ کھڑا ہوتا ہے اپنا ہتھیار یعنی ڈنڈے میں پرویا ہوا جھاڑو اٹھاتا ہے اور ہماری گلی کا رخ کرتا ہے۔ یہ گلی میں جھاڑو لگاتا ہے وہاں پانی کا چھڑکاؤ کرتا ہے اور پھر نالیوں کا گند اپنی ہتھ ریڑھی میں ڈال کر یہ جا وہ جا۔ دراصل یہ اپنا فرض منہ اندھیرے ہی ادا کر کے چلتا بنتا ہے شاید اس لئے کہ جب باؤ لوگ صبح کو اٹھیں تو انہیں صاف ستھرا محلہ دیکھنے کو ملے۔

tripako tours pakistan

جناب من ! سچ کہوں تو ایسی سیوا و خدمت کے باوجود میرے لئے یہ ایک قابل تحقیر کردار ہی ہے اور پھر میری نفرت یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ عمر رسیدہ اچھو چوہڑھے کا ایک بیٹا بھی ہے جس کا نام شعمون بھٹی ہے۔ یہ ایک پڑھا لکھا نوجوان ہے جو کہ مقامی بلدیہ میں کلرکی کرتا ہے۔ کام تو اس کا بابو لوگوں والا ہے لیکن میرے لئے یہ بھی چوہڑھے کی اولاد چوہڑھا ہی ہے۔

 

آج سے کچھ عرصہ قبل میرے خیالات بھی دوسرے بہت سے پاکستانیوں کی طرح ایسے ہی تھے۔ میں ایسے لوگوں کو معاشرے کا داغ اور نیچ خیال کیا کرتا تھا۔ اور پھر میرے یہ زریں خیالات صرف بھنگیوں اور چوہڑھوں تک ہی محدود نہ تھے بلکہ میں ان کی ساری کمیونٹی کو ہی ایک لڑی میں پرو دیا کرتا تھا۔ لیکن پھر میرے مسیحی دوست اعظم معراج صاحب نے مجھے اپنی کتاب “دھرتی جائے، کیوں پرائے” تحفے میں پیش کی اور اسے پڑھنے کے بعد آج میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والے یہ مٹھی بھر لوگ بھی ہمارے معاشرے کا سرمایہ ہیں۔ مجھے اب اندازہ ہوتا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ان لوگوں نے ہمارے وطن اور ہمارے معاشرے کے لئے کیا کیا خدمات انجام دیں۔ یہ لوگ جس جس شعبے میں گئے باوجود ہم جیسوں کی حقارت کے، ان لوگوں نے اپنا لوہا منوایا اور اس پاک وطن کا اور دھرتی کا نام روشن کیا اور ثابت کیا کہ یہ بھی اسی مٹی کے سپوت ہیں۔

اعظم معراج  صاحب کی اس کتاب میں صرف اپنی کمیونٹی کے عظیم لوگوں کا تذکرہ ہی نہیں ملتا بلکہ کوئی بھی درد دل رکھنے والا انسان “دھرتی جائے کیوں پرائے” کے مطالعہ کے بعد یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کمیونٹی کے جو لوگ صفائی ستھرائی کے پیشے سے وابستہ ہیں اور معاشرے میں مفید شہری کا کردار ادا کر رہے ہیں جب ہم انہیں چوہڑھا اور بھنگی کہہ کر آگے گزر جاتے ہیں تو وہ کس کرب کا شکار ہوتے ہیں۔

جناب من ! سچی بات کہوں تو یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور اگر یہ بات مجھے گلٹ نہ کر رہی ہوتی تو میں کبھی اس بارے میں کالم نہ لکھتا۔ ذرا دیر کو سوچیے، آخر ایک صفائی کرنے والا ہمارے لئے قابل نفرت کیوں ہیں؟ اگر قابل نفرت نہیں ہے تو پھر بھی ہمارا رویہ اس کے ساتھ تضحیک آمیز کیوں ہو جاتا ہے؟ اگر یہ لوگ نہ ہوں تو ہم ایسے نام نہاد صاف ستھرے لوگ کیا واقعی صاف ستھرے رہ سکیں گے؟ چلیے، ہم فرض کر لیتے ہیں کہ گٹر صاف کرنے والے یہ لوگ واقعی گندے ہیں کیوں کہ مدتوں سینچی گئیں کراہتیں ایک پل میں ختم نہیں ہوا کرتیں لیکن اس چوہڑھے کا بیٹا جو کہ ایک بابو کی سیٹ پر براجمان ہے اور ہمارے کاغذوں میں ایک اچھا عہدہ سنبھالے ہوئے ہے آخر اس کے لئے بھی ہمارا رویہ اتنا تضحیک آمیز کیوں ہے؟ اور پھر اس کی باقی کمیونٹی بھی آخر کیوں ہمارے گھٹیا رویے کا شکار ہے؟

دوستو ! سچ تو یہ ہے کہ شعمون بھٹی تو ایک طرف رہا خود اچھو چوہڑھا بھی ہمارے معاشرے میں ایک توانا کردار ادا کر رہا ہے بلکہ میں تو یہاں تک ماننے لگا ہوں کہ سوسائٹی میں ایک اعلیٰ درجے پر فائز جناب عزت مآب صاحب اور دوسری طرف اس چوہڑھے بھنگی میں کوئی خاص فرق نہیں ہے کیوں کہ دونوں ہی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ سو ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ سے اس متعلق سوچنا ہو گا اور اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہو گی۔

اور آخر میں عرض کرتا چلوں کچھ لوگ جو کہ کانگریسی علماء کے اندھے مقلد ہیں وہ ایک تُرپ کا پتا کھیلتے ہیں کہ اگر آپ کے بابا جی یعنی حضرت قائداعظم نے پاکستان کے قیام کے لئے علماء کی مخالفت کی تھی اور مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کا نعرۂ مستانہ بلند کیا تھا تو پھر پاکستان بننے کے بعد انہوں نے یہ کیوں کہا تھا کہ اب سب مذاہب کے ماننے والے صرف اور صرف پاکستانی ہیں۔ یعنی وطن کے حصول کے لئے اسلام کا نعرہ اور قیام کے بعد کھوتا گھوڑا ایک۔ گو میں سمجھتا ہوں کہ تاریخ سے واقفیت رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ جانتا ہے کہ درحقیقت اپنے آپ میں یہ کوئی سوال ہے ہی نہیں بلکہ صرف ایک ٹِچکر ہے آسان الفاظ میں اسے شغل میلہ کہہ لیں۔ لیکن پھر بھی جن مہاشوں کے ذہن میں ایسے اوٹ پٹانگ سوالات جنم لیتے ہیں ان کے لئے بھی محترم اعظم معراج کی کتاب بہت مفید ثابت ہو گی۔

خیر دوستو ! ہمارے کالم نے جو انڈہ دیا ہے اس میں سے درج ذیل چوزے نکلے ہیں۔
ہمیں اقلیتوں سے متعلق اپنے رویوں میں سدھار لانا ہوگا۔
صفائی ستھرائی کے پیشہ سے وابستہ افراد کو عزت و اکرام سے نوازنا ہوگا۔
اور ہاں، اس موضوع پر مزید پڑھنے کے لئے آپ مذکورہ کتاب کا سہارا لے سکتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *