عجلت پسند(قسط4)۔۔۔محمد اقبال دیوان

 ایڈیٹر نوٹ: کہروڑ پکا کی نیلماں یاد ہے نا۔۔۔ویسے ہی نیم فکشن نیم حقائق پر مبنی ہمارے مشفق و محترم اقبال دیوان کی ایک اور طویل کہانی حاضر ِ خدمت ہے۔کچھ کہانیاں میلے میں آنے والے طفل بے قرار و متجسس کی مانند ہوتی ہیں،ہر جگہ ضد کرکے رُک جاتی ہیں۔اس کہانی کی تکمیل میں تین برس لگے اور تب تک ٹیپو جی ریٹائر ہوچکے تھے۔بی نو نے اپنا ڈھابہ اور کسٹم کیٹرنگ کا کام جمالیا تھا۔ ٹوانہ جی اور ظہیر کی کمپنی Over-Haul کا کاروبار بہت مزے سے چل پڑا تھا۔

تیسری قسط کا آخری حصہ
اپنی شکست پر وہ رنجور تھے مگرٹیپو نے پنے بڑوں سے بات کرکے ٹوانہ صاحب کو بہت خاموشی سے لاہور میں ڈی آئی جی ریسرچ میں لگوادیا۔یہ کوئی ایسی بری پوسٹنگ نہ تھی۔ٹو ر ٹہکا یوں بھی ٹوانہ صاحب کے مزاج کا حصہ نہ تھا۔ ٹوانہ صاحب کی جگہ جو نئے ڈی آئی جی صاحب تعینات ہوکر آئے وہ کچھ اور مزاج کے تھے پنجاب پولیس کے رنگ میں رچے بسے ۔ ان کے دماغ میں جانے کیا آئی کہ انہوں نے ہر سطح پر اپنی نئی بساط بچھائی۔۔ان کے اپنے پسندیدہ عملے کی تعداد معقول تھی انہوں نے کچھ کہنے سنے بغیر ظہیر کو ہیڈ کوارٹر سرنڈر کردیا۔لاہور میں رہائش کا مسئلہ
تھا۔وہ کسی دوست کے ساتھ رہتا تھا۔

tripako tours pakistan

چوتھی قسط کا ا ٓغاز
ٹوانہ جی نے اسے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے اپنے معتمدخاص ظہیر کو تین ماہ کی چھٹی دلا دی۔اتنی ریت مروت پولیس اور ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسران میں تھی کہ وہ سرکاری گاڑیاں وغیر ہ ملازمت کے بعد بھی اپنے پاس رکھ لیتے تھے۔نائب قاصد اردلیوں اور پی اے کا بھی معاملہ ایسا ہی تھا۔رکھیلوں کو البتہ وہ پرانی پوسٹنگز پر نئے آنے والوں کے لیے چھوڑ دیا کرتے تھے۔
ظہیر لاہور آیا تو ٹوانہ جی نے غیر سرکاری طور پر اپنے دفتر کے کچھ معاملات اسے سونپ دیے۔گھر جو سرکاری طور پر الاٹ ہوا تھا اس کی تزئین میں بیگم صاحبہ کا ہاتھ بٹانے اور سودے سلف اور شعبہء   مہمانداری بھی اسی کے ذمے لگادیا۔

ملتان میں اہل طاقت و اقتدار کے معاملات سیٹ ہوگئے۔ چیف منسٹر صاحب کو لگا کہ وہاں کے طاقتور سیاست دان ٹوانہ صاحب کے باب میں پرانی تلخی کو بھلا چکے ہیں تو انہوں نے تین ماہ بعد ایک مال بناؤرئیل اسٹیٹ ڈویلپر کی مرضی سے ٹوانہ صاحب کے کراچی کے ایک دوست کی سفارش پر ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر لگا دیا۔ ریسرچ یوں بھی ان کا میدان نہ تھا۔و ہ بھی جیسے حکم نامہ جاری ہونے کے لیے بے تاب تھے۔

ایک ماہ بعد ظہیر کو بھی انہوں نے اپنے پاس ہی پوسٹ کروالیا۔وہ رہتا بھی انہی  کے گھر کے آؤٹ ہاؤس میں تھا۔لاہور میں آکر ظہیر کو لگا کہ ٹوانہ صاحب ملتان جیسے نہیں رہے۔ صرف ان کا دکھاوا بہت مذہبی ہوگیا ہے ۔شام کو شراب بھی باقاعدگی سے پیتے ہیں۔ ہر شب کچھ خواتین اور دوستوں کی بھی آوک جاوک رہتی ہے۔ناچ گانا بھی ہوتا ہے۔مفت کی شراب سے ظہیر نے بھی گاہے بہ گاہے گھونٹ بھرنا شروع کردیے یہ سوچ کر کچھ تو جرات مردانگی کا احساس ہو۔

پولیس لائن کا یہ بنگلہ احاطے کے اندر مگر کارنر کا اور سڑک کنارے تھا۔ اصل میں ابتداء  میں یہ دفتر ہوتا تھا مگر پھر افسروں نے دفتر سامنے میدان کے اس طرف پریڈ گراؤنڈ اور گیراجز کے ساتھ بنالیا اور اسے رہائش گاہ میں بدل لیا۔اس کا مرکزی دروازہ پولیس لائن کے احاطہ میں کھلتا تھا مگر سہولت کے پیش نظر ایک چھوٹا گیٹ لب سڑک نکال دیا گیا تھا۔ سرکاری کوارٹر میدان میں مخالف سمت پر تھے۔ ظہیر چھوٹا دروازہ کھول دیتا تو سیڑھیوں سے چڑھ کر خاتون اوپر کی منزل میں پہنچ جاتی۔ کئی دفعہ ان نیک بیبیوں کو رکشہ میں لانے لے جانے کا ذمہ اس کا ہوتا، جس کی ٹوانہ صاحب کو شکایت بھی کی گئی کہ ان کا ماتحت Womaniser ہے بلکہ ایک حاسد نے جو پرانے ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر کے زمانے میں بہت مال بناتا تھا۔تصویری ثبوت کے ساتھ یہ اطلاع بی-نو تک بھی کورئیر سروس تک پہنچائی۔لفافہ کسی ٹیوب ویل مرمت کرنے والی کمپنی کا تھا۔ پتہ بھی انہی  کا درج تھا۔

ظہیر کے ساتھ خواتین کی تصاویر دیکھ کر وہ بہت محظوظ ہوئی۔ظہیر کو اس نے چھیڑا بھی کہ وہاں لاہور میں  کو نسی گولیاں ملتی ہیں کہ جن کو کھا کر اتنے مرد بن گئے ہو۔کبھی گھر کی حلال مرغی بھی حرام کی دال سمجھ کر چکھ لو۔اس نے تریا چلتر کے حساب سے رونا دھونا بھی کیا کہ اس کے نصیب پھوٹ گئے۔لگتا ہے جیسی پیدا ہوئی ویسی مرے گی۔مردوں کو گالیاں دے کر جو خاندان برادری کی غیرت اور شوہر کی امانت جان کر بچا یا وہ ویسے کے ویسا قبر کی مٹی کے سپرد ہوجائے گا۔ہائے مجھ جنم جلی کے پھوٹے بھاگ۔ اس نے اس رانڈ رونے میں اپنے ان تین کزنز یعنی سلیمان،شیراز اور جمیل کے نام بھی لیے جو اس کے یعنی خاندان کی سب سے دلفریب حسینہ سے شادی کو مررہے تھے۔ یہ سب ہی اب صاحب ِ اولاد تھے۔

ظہیر کو جلانے کے لیے بینو نے بتایا کہ شیراز نے تو دیپال پور کی کسی بڑی عمر ڈاکٹرنی سبین وٹو کو پھنسا کر دوسری شادی کرکے اپنا میٹرنٹی ہوم کھول لیا ہے۔وہاں اسقاط حمل کے کیسز کرکے بہت مال بنارہاہے۔خود کے نام کے ساتھ   ڈاکٹر بھی لکھنے لگا ہے۔تین مہینے رہ کر چین سے ڈگری لے آیا تھا۔ ہستپال میں شیراز اور چین کے شہر کے نام کے علاوہ  ڈگری پر سب ہی کچھ چینی زبان میں لکھا تھا۔ جو کہ  ریسپشن کی میز کے اوپر لگی تھی۔کلینک کا نام بھی سبین زچہ بچہ مرکز برائے ولادت و بہبودِ  اطفال تھا۔ساری رات یہ جھوٹ فریب کی کھلواڑ ہوتی رہی اور ظہیر اپنے اس دفتری ساتھی کی کمینگی کے باعث بیوی کے سامنے اپنی مردانہ کم مائیگی اور ایک ناکردہ گناہ کے باعث تھوڑا تھوڑا شرمندہ  ہوتا رہا۔

بات کو گھمانے اور ٹالنے کے لیے ظہیر نے انکشاف کیا کہ ٹوانہ صاحب مال و منال کے چکر میں بھی بہت بری طرح پھنس گئے ہیں۔دفتروں میں ایسی سرگوشیاں عام ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ ٹوانہ صاحب ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر لگ کر کچھ زیادہ ہی قلعہ بند ہوگئے ہیں۔ان کا دفتر میں وقت کم اور چیف منسٹر ہاؤس میں زیادہ گزرتا ہے۔یہاں اسے دفتر کی بجائے پٹرول سپلائی کا کام دے دیا تھا۔ہیڈکوارٹر میں وہ پولیس کی گاڑیوں کی تیل کی پرچیوں کاحساب کتاب سنبھالتا تھا۔ہر ماہ ٹوانہ صاحب اسے بھی دست ِ خاص سے پچاس ہزار روپے دے دیا کرتے تھے۔ اتنی ہی رقم وہ اپنے طور پر بھی اس کھاتے سے کاڑھ لیا کرتا تھا ان کا اپناخود کا کیا حساب تھا وہ ٹھیکیداروں کے اور ان کے درمیان تھا۔

پانڈا ڈپلومیسی
وہاڑی

ظہیر کو حیرت اس بات کی تھی کہ لاہور میں ٹوانہ صاحب نے اسے سرکاری گھر الاٹ کرکے نہیں دیا۔یہ ان کے لیے چٹکی بجانے کا کھیل تھا۔اسے اپنے پاس بنگلے پر ہی رکھا۔ان کے رویوں میں اسے ایک عارضی پن اور بے ہودہ عجلت دکھائی دیتی تھی۔کیوں اور کس لیے وہ اس کے لیے اندازہ سر دست کرنا مشکل تھا۔وہ فوکسڈ بہت تھے مگر بہت کچھ جو غیر متعلق تھا وہ ا ن کے دائرہ نگاہ سے پرے تھا۔

ان کے شوق اپنی  جگہ۔۔بنگلہ کشادہ اور اچھا تھا مگر ظہیر کا دل نہ چاہا کہ وہ بی نو کو یہاں لا کر رکھے۔ ٹوانہ صاحب عورتوں کے معاملے میں بدنظر اور بے اعتبارے تھے۔ وہ ان کی دل جوئی کے لیے جن خواتین کی ترسیل کا کام کرتا تھا ان کے بارے میں انہیں   علم تھا کہ سرکاری محکموں کی ملازم پیشہ خواتین سے لے کردیگر شعبہء ہائے زندگی سے جڑی اور خوش شکل گھریلو عورتیں سبھی شامل تھیں۔۔

یہاں لاہور میں اسے پہلے ہی ڈی آئی جی صاحب کا پنٹر سمجھاجاتا تھا۔بی نو بنگلے میں آن کر رہتی تو اس سے چہ مگوئیوں کا سلسلہ دراز ہونے کا خطرہ تھا۔بی نو کی جوانی کا اسے پتہ تھا کہ ایسی ہے کہ ذرا سی لفٹ کرادے تو چین کے نر پانڈے بھی حکومت چین کی لیز پالیسی کے خلاف افزائش نسل کی خاطر بغاوت پر اتر آئیں (یاد رہے کہ دنیا بھر میں پانڈہ جو چین کا جانور ہے بین الاقوامی چڑیا گھر وں کو دس لاکھ ڈالر سالانہ لیز پر دیا جاتا ہے۔دوران لیز پیدا ہونے والے بچے بھی چینی حکومت کی ملکیت ہوتے ہیں)۔

ظہیر کے لاہور تبادلہ ہوجانے کے بعد چند دن بی-نو کے والد اس کے ساتھ ملتان رہے اور بعد میں وہ اسے لے کر واپس وہاڑی آگئے۔ایک آدھ ماہ کی سکول سے چھٹی کوئی ایسا مسئلہ نہ تھا۔ہیڈ مسٹریس پر اتنی دھاک تو بی-نو کی بھی تھی۔اس دوران ظہیر نے ٹوانہ صاحب پر دوہرا دباؤ ڈالے رکھا کہ یا تو وہ اسے واپس ملتان ٹرانسفر کردیں یا لاہور میں اسے یہاں کوئی سرکاری کوارٹر لے دیں ورنہ سب سے آسان تو یہ ہوگا کہ بی-نو کو ملتان سے وہاڑی تبدیل کرادیں۔

وہاڑی ریلوے سٹیشن

ٹوانہ صاحب سے وہ یہ تینوں مطالبا ت تواتر سے کرتا رہتا ،جس کا جواب ان کی جانب سے صرف یہ ہوتا کہ اتنا بڑا بنگلہ تمہارے حوالے ہے۔بیگم صاحب یہاں لاہور میں ہوں تو اکثر اوپر کی منزل میں رہتی ہوتی ہیں ورنہ یہ گھر خالی ہوتا ہے۔ میں خود رات گئے گھر آتا ہوں۔بیگم آج کل اپنے امی ابو کے پاس مردان زیادہ ہوتی ہیں تم اپنی بیوی کو اپنے پاس آؤٹ ہاؤس میں بلا کر رکھو یا یہاں نچلی منزل کے کسی کمرے میں۔ بیگم صاحبہ کی لاہورسے اس غیر حاضری کے بارے میں ظہیر نے ادھر اُدھر سے کچھ افواہیں سن رکھی تھیں کہ بیگم صاحبہ کا اپنے علاقے کے کسی نوجوان ایس پی سے افئیر چل رہا ہے وہ زیادہ تر مردان اوراسلام آباد میں اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔اس کے دھیان میں یہ بات آئی کہ ٹوانہ صاحب نے خاموشی سے شاید یہ سوچ لیا ہے کہ ان سے طلاق کے ذریعے چھٹکارا لے لیں۔ لڑائی جھگڑے سے بہتر ہے کہ وہ ایک نئی دنیا بسائیں۔ایک بیٹا تھا،سو فیصلہ باعث آزار تو تھا پر ایسا کچھ مشکل نہ تھا۔

ایک رات جب ان کی من پسند خاتون نے آنے میں دیر اور شراب نے اثر دکھانے میں جلدی کردی تو باتوں باتوں میں ٹوانہ صاحب نے قدرے راز داری سے بتایا کہ ہمارے بڑے پلان ہیں۔
We must run away from here fast and quick, you, your wife, and me.

بی نو جیسا ملبوس،بی نو جیسے لوگ
ریڈار
شمالی روشنیاں
ناروے شمالی روشنیاں
بُل فائٹر
بُل رِنگ

ٹیکن

یہاں کیا رہنا۔یہ بھی کوئی ملک ہے۔نہ بجلی، نہ پانی، نہ قانون کی حکمرانی۔میں ایک چکر چلا رہا ہوں۔ ہم دونوں کینیڈا چلے جائیں۔ ابھی اس پر کسی سے بات نہ کرنا۔باہر خالی ہاتھ  نہیں جانا۔اپنا بزنس کریں گے۔میری تمہاری فیملی سب کینیڈ ا شفٹ ہوجائیں گے۔ تمہاری بیگم کے والدین کو بھی بلالیں گے مگر فوراً نہیں۔کینیڈا کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے حاضر غائب سابق فوجی نیم فوجی مہاجر سندھی پٹھان پنجابی جانے کن کن افسروں کے نام لے ڈالے جو اب کینیڈا میں لوٹی ہوئی دولت سمیت آباد ہوگئے تھے۔بتارہے تھے کہ کینیڈا ویلفیئر اسٹیٹ ہے۔نوکری نہ ہو تو بے روزگاری الاؤنس،مفت سرکار ی علاج، بچوں کا سکول سب ہی کچھ مفت۔ فوج سول سروس، کیا مُلا کیا پانڈے،سب ہیں کینیڈا کی مٹی کے بھانڈے۔

ظہیر کو اس انکشاف کے بعد پتہ چل گیا کہ ڈی ا ٓئی جی صاحب اس کی اس تجویز کو کیوں بد دلی سے رَد کردیتے ہیں۔ ظہیر کو ایک دن اس وقت بڑی خوش گوار حیرت ہوئی جب انہوں
نے بی نو کے ملتان سے وہاڑی تبادلے کے لیے اسے خود ٹیپو صاحب سے رابطے کا کہا۔ذہین انسان تھا۔۔بھانپ گیاکہ جو حلیہ اور Low-Key انداز ٹوانہ جی نے لاہور آن کر اپنایا ہے۔ سو معاملہ کچھ زیادہ ہی گھمبیر ہے۔ظہیر کی ہچکچاہٹ دیکھ کر ٹوانہ جی نے البتہ اتنا ضرور کیا کہ میجر ٹیپو کو فون کردیا کہ وہ ظہیر سے مل لیں اس کا کوئی مسئلہ ہے۔ان کی مدددرکار ہے۔
خفیہ لوگوں کے فون بھی اکثرunknown numberوالے اور بے اعتبارے ہوتے ہیں۔

ٹیپو جی سے مسلسل ہفتہ بھر رابطہ نہ ہونے سے وہ مایوس ہوگیا تھا۔ بینو سے ملنے ایک لانگ ویک اینڈ کی وجہ سے وہ جمعہ کی شام سے وہاڑی آیا ہوا تھا۔ پیر کی بھی چھٹی تھی۔منگل کی صبح ظہیر کو لاہور واپس لوٹنا تھا۔ اتوار کی رات سامنے محلے میں ڈاہوں کے ہاں بینو کی  سکول کی دوست ضویا کی مہندی تھی۔دلہن سے بی نو کی اچھی گپ شپ تھی۔دونوں کو گھر کے ڈرائیور اور کسی بزرگ خاتون کے ساتھ ملتان آنے جانے کی اجازت تھی۔

میاں بیوی دونوں وہاں گئے تھے۔ناچ گانے کا آغاز ہی ہوا تھا کہ کسی بچے نے بی نو کو آن کر بتایا کہ ابو واپس بلارہے ہیں کوئی ٹیپو صاحب گھر آئے ہیں۔دو تین گاڑیاں ہیں۔پنڈال کے باہر ظہیر بھائی آپ کے منتظر ہیں ۔۔ظہیر کو چونکہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کارروائیوں کا علم تھا۔ ملتان میں تو وہی سارا خفیہ ریکارڈ سنبھالتا تھا۔اسے اس بے وقتی آمد اور انداز پر کوئی حیرت نہ ہوئی۔

ظہیر کا اصرار تھا کہ ٹیپو جیسے بڑے لوگ آئے ہیں مل لیں ۔وہ زیادہ دیر بیٹھیں گے بھی نہیں۔ تقریب تو تا دیر جاری رہے گی۔ ان کے جاتے ہی واپس آجائیں گے۔ بینو کا دل تو نہ چاہا۔ وہ اتنی تیاری سے شرکت کے لیے آئی تھی۔جب سے ظہیر کی لاہور میں آمدنی میں اضافہ ہوا تھا بینو کا ہاتھ  بھی کھل گیا تھا انٹرنیٹ اور سونی ٹی وی اور اسٹار پلس کے ڈراموں سے ڈریس دیکھ کر کاپی کرنا مشکل نہ تھا۔ملتا ن میں درزی کاریگر اچھے تھے۔فون پر ڈیزائن دیکھ کر ویسا کا  ویسا جوڑا کم قیمت میں مرضی کے رنگ اور مٹیریل سے تیار کردیتے تھے۔۔لاہور جاتی تو لازما ً کسی نہ کسی بوتیک کے چکر ضرور لگاتی تھی۔آج رات اس نے زعفرانی پیلے کی ساٹن کی کرتی۔گلے اور آستین پر ایمبرائیڈری اور جارجٹ کا سبز شرارا سوٹ اور ویسا ہی ایمبرائیڈری والا دوپٹہ ڈال رکھا تھا۔

شادی کی تقریبات میں عورتوں کو سب سے کم سردی لگتی ہے سو آج رات بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ جس وقت وہ تقریب میں شرکت کے لیے مردوں کی طرف سے ہوکر عورتوں کے پنڈال میں جارہی تھی تب بھی اس نے نوٹ کیا کہ ہندوستان فضائیہ کے لڑاکا طیارے اس وقت اگر وہاڑی کی فضاؤں میں منڈلا رہے ہوتے تو انہیں اس وقت اتنے ریڈار نہ گھور رہے ہوتے جتنے بی نو کو پنڈال میں داخلے کے وقت مردوں کی نگاہوں نے دشمن کے لڑاکا طیارے سمجھ کر اپنے اسکرین پر گھیر رکھا تھا۔ عورتیں خوش ہوتی ہیں جب انہیں سلیقے سے تکا تاڑا جائے۔وہ ان خواتین میں تھی جسے مردوں کا ہوس اور طلب کی رنگین عینک لگا کر دیکھنا اچھا لگتا تھا۔ کہا کرتی تھی کہ اس کاکی تاڑ عمل کا مطلب ہے آپ دیکھنے والوں کو بہت اچھے لگے ہیں ۔بینک کبھی بھی گھور کے ہجے کر کر کے اپنے نام کابورڈ پڑھنے والوں کا تھوڑی برا مانتے ہیں ۔اس کا ارادہ تھا کہ وہ ان مشتاقان دید و وصال کے جلوہء عام کے لیے دو تین دفعہ بہانے بہانے مردانے کی طرف آئے گی ۔ ظہیر سے چلتے وقت اس نے مراثنوں کو نیگ میں نوٹ دینے کے لیے بیس روپے کے نوٹوں کی ایک گڈی رکھوائی تھی۔پرس اسی لیے وہ لے کر نہیں آئی تھی۔

دونوں میاں بیوی واپسی پر اپنے گھر میں جب داخل ہوئے تو ٹیپو اس کے ابو سے گپ شپ میں مصروف تھے۔ دونوں کی نگاہ ایک دوسرے پر پڑی تو بینو کو لگا کہ کسی جنگی طیارہ نے اچانک صوتی حدود توڑی ہیں۔ایک زور دار دھماکہSonic- Boomاس کے وجود میں ہوا ہے۔جس سے احتیاط، اجتناب اور دوریوں کے تمام پرندے خوف کے مارے اڑ کر اِدھر اُدھر پروازیں کرگئے ہیں۔ ٹیپو جی کو بھی لگا کہ انہوں نے عجائبات خدا شمار میں ہونے والے شمالی روشنیاں (Northern Lights)Tromso, Norwayکی بجائے وہاڑی میں دیکھ لی ہیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ یہ ایک وجود نسواں تھا جس کا ہر عضو بدن سخن سرا تھا۔ایک ایسا بت مغرور جس نے ابھی لذت عاشقی و معشوقی نہیں چکھی تھی۔مانو پردہء ٗ خلوت میں مقیم ایک لیلےٰ مطلوب و مہجور اس کے سامنے تھی۔
ٹیپو بتانے لگے یہاں کسی آپریشن کے سلسلے میں آئے تھے۔ٹیمیں اپنے کام میں مصروف ہیں کہہ رہے تھے ٹوانہ صاحب کا تین دفعہ فون آچکا ہے کہ مسز ظہیر کا کام لازماً ہونا چاہیے۔ ظہیر میاں کی لیڈی وائف کی ا یک ماہ کی چھٹی ختم ہورہی تھی۔اسے ڈیوٹی کے لیے رپورٹ کرنا تھا۔معاملہ یہ تھا کہ بی نو کو وہاڑی میں ٹرانسفر کرانا تھا۔ظہیر کی یہ بھی مرضی تھی کہ بی نو کی چھٹی کی معیاد میں اضافہ ہوجائے۔بی نو کو خو د کو یوں لیڈی وائف پکارا جانا بہت منفرد اور اچھا لگا۔

رات سردی کی تھی۔ پوچھنے پر کافی کی فرمائش ہوئی۔لہذا بی نو خود ہی کافی بنا کر لائی۔تب پہلی دفعہ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔بی نو کو لگا کہ جس بل فائٹر کے وہ سپنے دیکھتی تھی یہ وہی
ہے۔ویسا ہی سجیلا، پھرتیلا، خوش لباس، محتاط،پر اعتماد،نظریں نیچی رکھتا تھا مگر قدموں کی حرکت پر نگاہ۔کافی بمشکل ختم ہوئی تھی کہ فون بج گیا۔ وہ کھڑا ہوگیا۔اس نے انگریزی میں اعلان کیا کہ پندرہ منٹ۔مجھے پہنچ لینے دو۔

ظہیر بجھ سا گیا کہ بات ہی نہیں ہوئی۔بی نو کا مسئلہ جوں کا توں ہی رہا۔حل نہیں ہوا۔ دروازے پر گاڑی میں بیٹھتے وقت ٹیپو جی نے کہا وہ پرسوں منگل کی صبح لاہور جار ہے ہیں۔ظہیر، بھابھی، امی، ابو سب ساتھ چلیں۔بڑی جیپ ہے۔شام کو وہاڑی واپسی ہے۔ وہاں لاہور میں بھی ایک دوست کا بنگلہ گاڑی ان کے پاس رہے گا۔ٹوانہ کو وہ کہہ دے گا کہ ظہیر کو فیملی کے ساتھ مزارات پر جانا تھا۔دوران سفر بات ہوگی۔چلتے وقت اس نے البتہ اتنا ضرور کہا کہ اتنی اچھی کافی تو سارے جنوبی پنجاب میں نہیں ملتی کیا یہ آخری کپ ہے۔جس پر بی نو کے ابو نے کہا وہاڑی میں اب یہ ان کا گھر ہے۔جیسا ظہیر ویسے وہ۔بینو کا لگا کہ اس ایک جملے کا مطلب ہے ٹیپو جی کو اس کے ابو نے اس گھر میں آمد کاMultiple Entry Visaدے دیا۔ٹیپو چلے گئے تو وہ واپس ڈاہوں کے ہاں مہندی میں لوٹ گئے۔مشتاقان دید و ہوس ویسے ہی کاکی تاڑ بنے ہوئے تھے مگر بی نو کو اب یوں لگا کہ وہ ایک ایسی قیمتی پینٹنگ ہے جس کے نیچے آرٹ گیلری والوں نے نمائش کے افتتاح سے قبل ہی Already Sold کا اسٹکر لگا دیا ہے۔ بی نو کا بس چلتا تو وہ نمائش میں تصویر کی جگہ یا کسی مقابلہ حسن جیتنے پر خود ایک ایسا Sash پہن کر آجاتی۔جس پر ساری دنیا کو جتانے کے لیے کھلا اور واضح طور پر درج ہوتاTAKEN۔دلہن ضویا اس کی اسکول کی پرانی دوست تھی۔اس نے بی نو کا پہناوا، میک اپ دیکھ کر مذاق بھی کیا کہ لگتا ہے آج رات تے ساڈے گوانڈی (پنجابی پڑوسی)ظہیر بھائی جان نے پھٹے چک دینے نے (پنجاب میں ان دنوں جب سکھوں کے جتھے گوریلا جنگ کے دوران انگریزوں پر حملہ کرتے تھے۔ایسے میں وہ نہروں پر لکڑی کے ان تختوں جنہیں پھٹے کہتے ہیں کے عارضی پل بناتے تھے۔حملوں سے واپسی پر وہ یہ پل توڑ دیتے تھے۔ پنجابی میں پھٹے چکنا وہیں سے آیا۔

اس نے بھی شرارت سے جواب دیا کہ بھائی جان آج پیور سلک کے جوڑے پر ٹھنڈی استری کا پروگرام ہے۔عورتوں کوذومعنی گفتگو میں بہت ملکہ حاصل ہوتا ہے۔وہ جو پہلے سیشن کی بے قراری و دکھاوا تھا وہ بھی یک گونہ اطمینان بھری یقین دہانی میں بدل گیا۔نہ تو اس نے مردوں کی طرف پنڈال کے پھیرے لگائے  نہ  مراثنوں کو نیگ دی۔جب وہ کمرے میں کپڑے بدل رہی تھی کرتا سینے کے سامنے لہرا کر  آئینے میں دیکھ دیکھ کر گارہی تھی

ع ،میرا جلوہ جس نے دیکھا وہ میرا ہوگیا

میں ہوگئی کسی کی کوئی میرا ہوگیا

ظہیر نے کمرے میں داخل ہوتے وقت پوچھا کہ اچھا اتنی بڑی واردات ہوئی اور ہم کو پتہ بھی نہ چلا۔جس پر کُرتا بیڈ پر پھینک کر اپنے بے باک، مدور سینے سمیت وہ ظہیر سے لپٹ، گلے میں بانہیں ڈال کر گنگنانے لگی
میڈاسانول مٹھڑا، شام سلونا
من موہن جانان وی توں۔۔۔۔

میرے جانو تم کہاں جانو کہ محبت نغموں، دعاؤں اور کہانیوں میں گھر بناتی ہے۔بی نو کا یہ اہتمام کہیں اور ہوتا تو پرانی دوست ضویا ڈاہا کی پھٹے چک دینے والی بات سچی نکلتی مگر ظہیر کے ساتھ یہ معاملہ محض جھلستے سلگتے بے آب و گیا صحرا پر برسات کا ایک بے فیض چھڑکاؤ ثابت ہوا۔۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *