عجلت پسند(قسط3)۔۔۔محمد اقبال دیوان

 ایڈیٹر نوٹ: کہروڑ پکا کی نیلماں یاد ہے نا۔۔۔ویسے ہی نیم فکشن نیم حقائق پر مبنی ہمارے مشفق و محترم اقبال دیوان کی ایک اور طویل کہانی حاضر ِ خدمت ہے۔کچھ کہانیاں میلے میں آنے والے طفل بے قرار و متجسس کی مانند ہوتی ہیں،ہر جگہ ضد کرکے رُک جاتی ہیں۔اس کہانی کی تکمیل میں تین برس لگے اور تب تک ٹیپو جی ریٹائر ہوچکے تھے۔بی نو نے اپنا ڈھابہ اور کسٹم کیٹرنگ کا کام جمالیا تھا۔ ٹوانہ جی اور ظہیر کی کمپنی Over-Haul کا کاروبار بہت مزے سے چل پڑا تھا۔

دوسری قسط کا آخری حصہ
تحقیق و تفتیش کا دائرہ وسیع ہوا تو یہ حْقیقت بھی آشکار ہوئی کہ عشق اور شادی دونوں میں ناخوش رہنے کے وافر مواقع ہیں۔میاں کا مزاج اگر پرتشدد نہیں۔ اسے اپنی کمزوریوں کا شعور اور احساس ہے تو شادی کو نبھاؤ۔ اسے گھر کے دروازے پر بے ضرر ٹاٹ کا پردہ بنا کر لٹکا لو۔چینوں جاپانیوں نے اس میں اب نت نئے روپ نکال لیے ہیں۔ بہت سجل،نرم و نازک،من بھاؤنے، ہوادار۔ان کا مقصد مگر صرف اوٹ کرنا ہے۔اس سے آنے جانے والوں کے لیے آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنا مقصود نہیں ہوتا

tripako tours pakistan

تیسری قسط کا آغاز

بینو کو لگا کہ رفتہ رفتہ ظہیر بھی ایسا ہی میاں ثابت ہو سکتا ہے جو زندگی کی موٹر وے پر ڈرائیونگ لائسنس کا سا تحفظ فراہم کرے۔ یہ پاس ہوگا تو ٹریفک پولیس کی چالان کرنے کی ہمت نہ ہوگی۔ ہر عورت کو ایسا میاں درکار ہوتا ہے جو مالی طور پر بل گیٹس اور ولید بن طلال نہ سہی مگر ایسا خسیس بھی نہ ہو کہ ریزگاری کا حساب مانگتا پھرے۔ بی نو نے حساب لگایا کہ یہ بندوبست میسر ہوگا تو وہ اپنے لیے خود ہی من چاہا Space آسانی سے نکال لے گی۔

آپ نے سوچا کہ بینو میں اتنا جلدی اتنا بڑا بدلاؤ کیسے آیا؟۔جب خلاف توقع کوئی بڑی بات بہت چھوٹے انداز میں وقوع پذیر ہوجائے تو انسان میں تبدیلی آنے لگتی ہے۔ لوگ تین وجوہات کی بنیاد پر بدلتے ہیں۔

مارلن منرو
ڈیانا
شہزادی امیراہ پرنس چارلس اور ملکہ برطانیہ کیساتھ
جیکولین کینیڈی
انجلینا جولی،بریڈ پٹ/ریکھا
ڈیانا اور کینگسٹں محل
ایتھوپین عورت
افریقن عورت اور مٹی کے گھر

پہلا سبب یہ ہوتا ہے کہ یکایک یا رفتہ رفتہ انہوں نے بہت کچھ سیکھ لیا ہوتا ہے۔

دوسرا یہ کہ ان پر کوئی ایسا دکھ آزار یا ذوق و ذائقہ شخصیت پر مسلط ہوجاتا ہے،جس سے انہیں اپنے بچاؤ یا لطف کے نئے حوالے ڈھونڈنے پڑتے ہیں

یا تیسرا یہ کہ وہ یکسانیت سے اُکتا چکے ہوتے ہیں۔۔

بی نو پر اتفاقاً یہ تینوں وجوہات کا اطلاق ہوتا تھا۔

وہ اس راز سے بخوبی آشنا تھی کہ قید خانے انسان کے اپنے بنائے ہوئے ہیں۔ بہت سی رکاوٹیں بھی خود ساختہ ہوتی ہیں ۔اسی طرح بہت سے ایسے بھی زندان خانے اور پنجرے ہوتے ہیں جن کا حقیقت میں کہیں وجود نہیں ہوتا۔آپ کو کب، کہاں، کیوں اور کس مقصد کے لیے قید کررکھا ہے یہ شعور آجائے تو مقید وجود کی طرف آزادی کی منزل خود ہی دوڑی چلی آتی ہے۔

بی نو کا مطالعہ، یاداشت، تجزیہ اورCritical Thinkingکی صلاحیت بہت بھرپور تھی۔ ۔

عظیم سائنس دان و مصور لیونارڈو ڈا ونچی کہا کرتے تھے کہ ہر شے کا تعلق ہر شے سے بن ہی جاتا ہے۔جب ازدواجی حوالوں سے اپنی درماندگی کا سوچا تو اسے مارلن منرو، سعودی پرنسس امیرہ ال طویل طلال  ،جیکولین کینیڈی، شہزادی ڈائنا،انجلینا جولی،ریکھا اور کانسٹبل اللہ جوایا کی بھانجی اور اپنی ملازمہ ناجیہ جسے اس کے میاں نے پہلی زچگی کے دوسرے ہفتے گھر سے نکال دیا تھا۔اسے ان سب ہی کے دکھ یکساں لگے۔

بی نو نے سوچا زندگی میں بھی کن کھلے تضادات کی ٹوکری ہے۔سب کے زمانے اور ادوار مختلف ہیں، ان سب عورتوں کے مرد ان جانثار اور ماحول بھی مختلف ہیں۔ مال و منال، شہرت و دلبری کے حوالوں کا تال میل نہ ہوتے ہوئے بھی ایک بات مشترک ہے کہ ان سب کی ناآسودگی یکساں ہے۔اسے لگا کہ دنیا میں مرد کے حوالے سے کوئی شادی شدہ عورت خوش نہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ہر عورت اپنے اپنے حساب سے بے نیل و مرام ہے۔اب عورت کے خوش ہونے کا فیصلہ اس کا اپنا بھی ہوسکتا ہے۔شہزادی ڈیانا اپنے کینگ سنٹن پیلس میں ناخوش تھی اور یہ مالی اور ایتھوپیا کی عورتیں اپنے مٹی کے گھروندوں اور کوئلے پر کافی بناتے ہوئے بھی خوش دکھائی دیتی ہیں۔بتیل عربی میں اس کنواری عورت کو کہتے ہیں جو لاتعلق رہتی ہو۔بتیل کھجور کے اس پودے کو بھی کہا جاتا ہے جو دوسری جگہ سے لاکر کہیں اور لگادیا جائے۔سو بی نو بی بی یہ جان کر بی بی بتیل ہوتے ہوئے بھی لاتعلق نہ رہیں۔

خود آگاہی کی اس موج سر مست نے، اس میں اعتماد،خود مختاری، سمجھوتے اور چالاکی کے وہ طلسماتی باب وا کردیے جو اس کے نہاں خانہ وجود میں موجود تو تھے مگر دور کہیں ان پر احتیاط تربیت، کلچر، نسوانیت کے زنگ زدہ تالے پڑے تھے۔ان تک پہنچنے والی راہداریاں بھی طویل تھیں دروازوں پر دبیز پردے بھی پڑے تھے۔ظہیر دفتر ہوتے تو وہ تنہا گھر پر ہوتی تھی۔ الم غلم بہت کچھ دیکھ،پڑھ ڈالا۔لیپ ٹاپ نے انٹرنیٹ نے اس کو بہت باخبر، ٹرینڈز آشنا اور  با شعور   بنایا۔تین ماہ بعد اسے ملتان میں گھر کے قریب ہی ایک سرکاری  سکول میں ڈی آئی جی ٹوانہ صاحب نے استانی جی لگوادیا۔اس سے وقت اچھا گزرنے لگا۔

برساتی جنگل
جان یمان
اینگن ایل طین دوزیاتان

اس مطالعے اور تنہائی کا پہلا نتیجہ تو یہ نکلا کہ اس نے اندر ہی اندر ایک اور بی نو کو تراش لیا۔ اس بی نو کو اس کیalter egoکہہ لیں۔اسے ہندی میں انت رنگ متر کہتے ہیں۔اس وجود ثانی کو سمجھے بغیر مزہ نہیں آئے گا۔

alter ego کو آسان نفسیاتی انداز میں ثانوی وجود سمجھ لیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق یہ وجود آباد تو فرد مذکور میں ہی ہوتا ہے مگر لازم نہیں کہ وہ اس کے نارمل سیلف جیسا ہی ہو۔ وہ مکمل پر طور پر ایک ایسی ہستی ہوسکتا ہے جس سے فرد مذکور  نے کوئی بہت گہرا اثر قبول کررکھا ہے۔اسی وجہ سے جب اسے دوسری اختیاری  جون بدلنی ہوتی ہے تو مشکل پیش نہیں آتی۔ آپ نے کئی لڑکیوں کو دیکھا ہوگا جب انہیں دورہ پڑتا ہے تو وہ مرد جن کا روپ اور توانائی جمع کرکے کر انہی کے انداز میں بولتی اور حملہ آور ہوتی ہیں۔ہمزاد میں غیر جسمانی غیر مرئی حوالہ غالب رہتا ہے۔اس لیے اسے انگریزی میں Âlter -Ego پکاریں تو مناسب ہوگا۔

ایک ایسا متوازی مخفی وجود۔۔ جس کی ذات کے اس برساتی جنگل (Rain-Forest)میں جہاں درختوں کے گہرے سبز پتوں کے ہریالے نمناک، خنک سائے تھے۔ ایسے تو وہاں دن میں بھی با آسانی کچھ کھوجنا آسان نہ ہوتا لیکن محبت اور توجہ کی ٹارچ لے کر کوئی کھوج لگاتا تو ایسا نہ تھا کہ یہ مخفی بی نو دکھائی نہ دیتی۔

دنیا کی مضبوط ترین رسی,پازمہ روپ

جس پہلی سرچ پارٹی کو بی نو اپنی نسوانی آب و تاب سے دستیاب ہوئی وہ ٹیپو تھے۔وہ بی نو کی زندگی کے خوابیدہ دالان میں ڈی آئی جی صاحب اور ظہیر کے توسط سے پچھلی دیوار پھاند کر داخل ہوئے۔
کسی لمحہ ء وحشت ِ وصال میں انہوں نے بی-نو کو بتایا کہ ان کا اصلی نام فہدخان ہے۔ وہ ایک طاقتور خفیہ ادارے سے وابستہ ہیں۔خفیہ اداروں سے جڑے پینتیس برس کے افراد کا اصلی نام تو ان کی خالائیں اور بیگمات بھی استعمال نہیں کرتیں چہ جائیکہ  غیر متعلقہ افراد۔پنڈی میں سب انہیں فیصل اور یہاں ملتان میں ٹیپو کہتے تھے۔ہم ان کے ادارے پر بات نہیں کریں گے اور ان کا نام بھی ملتان والا ہی استعمال کریں گے۔۔

ٹیپو مضبوط بدن، ہینڈ سم،خوش مزاج،خوش گفتار،ذہین،بااثر و رسوخ بھی تھے۔بالکل ویسے ہی مرد جیسے بی نو کو پسند تھے۔ترکی اداکار جان یمان جیسے ،جن کا نام Can Yaman لکھا جاتا ہے۔ یہ ارطغرل والے اینگن ایل طین دوزیاتان (Engin Altan Düzyatan) سے بہت پہلے کی بات ہے۔یاد ہے نا بی نو کو کیسے مرد پسند تھے۔matador de toros (killer of bulls). قسم کے۔سانڈ کے دل میں تلوار گھونپنے والے۔matador ہسپانوی زبان میں قاتل اور toros سانڈ کو کہتے ہیں۔
بی نو کو پتہ چلا کہ وہ پختون ہیں۔ کہاں کے اور کس قبیلے کے ہیں یہ نہ اس نے پوچھا نہ انہوں نے کبھی بتایا۔بی-نو نے جلد ہی بھانپ لیا تھا کہ ان کی جانب سے توجہ ہمیشہ مکمل، احساس تحفظ اور اظہار لگاوٹ بھرپور ہوتا ہے مگر اپنے  بارے میں گفتگو سے کامل پرہیز کرتے ہیں۔وہی بات بتاتے جو ان کے تعلق میں   معاون اور سہولت رساں ہو۔اس ادائے گریزاں اور سلوکِ اجتناب کو انہوں نے بارہ لچھوں کیPlasma Ropeسے یہ انکشاف کرکے باندھ دیا کہ وہ اپنے خفیہ ادارے کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے میں مصروف ایک خاص یونٹ کے سربراہ ہیں۔ان کے بارے میں یا ان سے وابستہ افراد کے بارے میں دہشت گردوں کے ہاتھ معمولی سی اطلاع کا پہنچنا بھی  ان کے لیے بھی اور ان کے قریبی افراد کے لیے بھی بہت اغوا، قتل، بلیک میلنگ جیسے خطرے کی بات ہے۔سو مکمل رازداری میں ہی سلامتی ہے۔

بی نو کو لگا کہ یہ احتیاط اور بچاؤ ان کے اپنے لیے کم اور اس کے تحفظ کے لیے زیادہ ہے۔یہ سن کر اس نے انہیں بھرپور انداز میں چومتے ہوئے یہ کہا تھا۔سب کا کوئی نہ کوئی ہے، میرے صرف آپ ہیں۔ میری کسی نادانی یا بد احتیاطی سے آپ کی چھوٹی انگلی کے ناخن کو بھی کچھ ہو تو میں ساری عمر اپنے آپ کو معاف نہیں کرپاؤں گی۔یہ سن کر ٹیپو جی نے اس کے سارے بوسے اور ہم آغوشیاں وحشت کے بینک ریٹ پر سود کے ساتھ لوٹا دیے۔

جیمز بانڈ
پیٹر فاک،رئیل سپائے ٹو،سمائیلی پیپلز ،الیک گینس /دائیں سے بائیں

مزید ایک قدرے دلچسپ و بے ضرر سی تفصیل جو انہوں نے ظاہر کی اور یہ بی نو کو اہم لگی،وہ یہ تھی کہ طالب علم فہد خان کیEspionage جاسوسی میں دل چسپی کے رجحان کی پرورش کالج کے دنوں سے ہوئی۔جاسوسی ناولوں کا ایک بڑا ذخیرہ اس کے والد گھر اٹھالائے تھے۔ کمشنر صاحب کی کوٹھی میں اس پر گرد جمع ہورہی تھی۔نئے تعینات ہونے والے کمشنرکے احکامات کی تعمیل میں غیر متعلقہ سامان کو ٹھکانے لگا کر کوٹھی کو رنگ روغن کرانے  کا ذمہ فہد کے تحصیلدار والد کا تھا۔ فہد ان دنوں گورنمنٹ کالج سیدو شریف میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔والد کاحکم تھا کہ انگریزی بہتر بناؤ۔ فضول وقت مت ضائع کرو۔کتابوں سے انگریزی بہتر ہوتی ہے۔ نا ولوں کے کردار اور ان سے سیکھے گئے اسباق فہد کے دماغ کا، وکی پیڈیا بن گئے۔اسی وجہ سے ان کی خفیہ ادارے میں آمد ہوئی کیوں کہ ان کے انتخاب کی سفارش کرنے والے بریگیڈئیر صاحب نے بھی Frederick Forsyth کا ناولThe Day of the Jackal دو کے پہاڑے کی طرح یاد کررکھا تھا۔بی نو سے ملاقات میں ان کا نام ٹیپو ظاہر کیا گیا۔

ٹیپو شروع سے ہی تنہائی پسند تھے۔ شخصیت میں طاقت کا شعور تو تھا مگر اسے بلا وجہ جتلانے سے گریز کا قرینہ، پیشہ ورانہ تقاضوں اور مطالعے نے پیدا کردیا تھا۔یوں شخصیت بہت جان لیوا تھی۔لباس اور وضع قطع پر بہت توجہ دیتے تھے۔برانڈڈ کپڑے، جیکٹ، کوٹ، پتلون۔جنگل کے گمنام درختوں جیسی مہک کے woody aroma perfumes جو وصال کے کئی دن تک بی نو کے دماغ اور یادوں میں اودھم مچاتے رہتے تھے مردانہ وجاہت اور تمکنت کا ایک دلربا پیکر ۔ مصوری کے پرانے اطالوی شہ پاروں میں اگر آپ نے سیدنا عیسی علیہ سلام کی شبیہ دیکھی ہو تو بالکل ویسا رُخِ  پُر نور تھا۔اثر انگیز اور مقناطیسی شخصیت کے حامل۔

ٹیڈی بئیر

یہ روپ سروپ جاسوسی کے بالکل برخلاف تھا۔اس طرح کے اداروں میں Drop – Dead ہینڈسم جیمز بانڈ اور اس کی تصویر مجسم شان کونری اور ڈینئل کریگ۔ پیرس برانسن جیسے اداکار دنیا کے ناکام ترین جاسوس مانے جاتے۔انہیں شناخت کرنا آسان ہوتا ہے۔ جاسوس تو آنکھ کے کاجل اور شربت میں برف کی ٹھنڈک بن کے رہنے والا ایجنٹ ہوتا ہے۔سمائیلی پیپلز میں سر الیک گینس جیسا، ستر کی دہائی کی مشہور سیریز کولمبو کے پیٹر فاک جیسا۔ماحول میں رل مل کے رہنے والاٹیپو تو برسوں یاد رہنے والا وجود تھا۔

وہ ملتان میں سی ٹی پی (Counter- Terrorism Pursuit)ٹیم کے انچارج تھے یعنی انسداد دہشت گردی۔ ان کے ذمے ملک بھر میں پھیلے ہوئے القاعدہ کے عرب کارندوں اور بھارت سے جڑے پنجابی طالبان کے نیٹ ورک پر نگاہ رکھنا اور اس کا قلع قمع کرنا تھا۔

ٹیپو ڈی آئی جی محمود ٹوانہ صاحب سے رابطہ کرتے اور خاموشی سے ان دہشت گردوں کو گرفتار کرکے پنجاب بھر میں پھیلے کسی تحقیقاتی مرکز کے سیف ہاؤس میں بھجوادیا جاتا۔ ٹوانہ صاحب کے دفتر میں آوک جاوک میں ان کا رابطہ ظہیر سے ہوا۔

میاں کے ساتھ بی-نو کا برتاؤ وہی دلہنوں والا رہا۔ رات ویسے ہی بن ٹھن کر بستر میں آتی۔ لگ لپٹ کر سوتی۔یہ سوچ کر کہ انسان نے آگ جلانا بھی پتھروں کو رگڑ رگڑ کر سیکھا۔وہ بھی ایک چقماق ہے۔ممکن ہے سرکنڈے آگ پکڑلیں۔ظہیر کو اس ادائے دلبرانہ پر شروع میں تعجب ہوتا تھا۔وہ پوچھتا کہ بی نو ایسا کیوں کرتی ہے تو جواب ملتا کہ امریکہ میں اب بھی چالیس فیصد لڑکیاں
Stuffed Animalsکے ساتھ سوتی ہیں۔ تم بھی میرے ٹیڈی بیئر ہو۔ تم بھی مجھے نرمcuddlyاور تحفظ کے احساس سے بھرپور لگتے ہو۔ اس دل موہ لینے  والی وضاحت کا نتیجہ یہ نکلا  کہ ظہیر کے اسٹینڈرڈ رویے میں ازدواجی تسلط بے وقتی شہوت کی جگہ برادرنہ شفقت اور پر اعتماد رفاقت کا عنصر شامل ہوگیا۔

اس کی اور ٹوانہ صاحب کی ملتان پوسٹنگ کو بمشکل آٹھ ماہ ہوئے تھے کہ ظہیر کو پہلا صدمہ ہوا۔ ان ہی دنوں دہشت گردی میں ملوث کسی مذہبی جماعت کا ایک اہم سہولت رساں پکڑاگیا۔اس کی رہائی میں رکاوٹ کا سارا وزن ٹوانہ صاحب کے شانہء ناتواں پر ڈال دیا گیا۔اسی وجہ سے ڈی آئی جی ٹوانہ صاحب کی کسی بڑے صاحب سے ناراضگی ہوگئی۔ان کا شمار مقامی سیاست کے ہیوی ویٹ افراد میں ہوتا تھا۔فوجی حکومت نے سویلین سیٹ اپ کا گھاگھرا چولی پہن کر ٹھمکنے کا جو اہتمام کیا تھا اس نظریہ ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیائے سیاست کے اس ماہ منیر کی شمولیت اور سیاسی تعاون ایک ناگزیر حقیقت تھی۔وہ دہشت گرد کو چھڑوانے پر بضد تھے۔وہ رہائی پاتا تو ان کی طاقت اور دھاک دونوں میں اضافہ ہوتا۔یوں یہ معاملہ دہشت گردی سے زیادہ خالصتاً سیاسی تناظر میں دیکھا گیا۔رہائی پر مصر جو صاحب جس سیاسی جماعت سے تعلق دار تھے اُسے چھوڑ کر آنے کے لیے ان کی فوجی بڑوں سے بات چیت چل رہی تھی لہذا ان کی ہر جگہ شنوائی ہورہی تھی۔ دونوں طرف سے پنجہ آزمائی نے زور پکڑا تو ٹوانہ صاحب کمزور پڑگئے۔

طاقت کی اس پنجہ آزمائی میں وہ اپنی شکست پر رنجور تھے مگرٹیپو نے اپنے بڑوں سے بات کرکے ٹوانہ صاحب کو بہت خاموشی سے لاہور میں ڈی آئی جی ریسرچ میں لگوادیا۔یہ کوئی ایسی بری پوسٹنگ نہ تھی۔ٹو ر ٹہکا یوں بھی ٹوانہ صاحب کے مزاج کا حصہ نہ تھا۔

Advertisements
merkit.pk

ٹوانہ صاحب کی جگہ جو نئے ڈی آئی جی صاحب تعینات ہوکر آئے وہ کچھ اور مزاج کے تھے۔ پنجاب پولیس کے رنگ میں رچے بسے ۔ ان کے دماغ میں جانے کیا آئی کہ انہوں نے ہر سطح پر اپنی نئی بساط بچھائی۔۔ان کے اپنے پسندیدہ عملے کی تعداد معقول تھی۔انہوں نے کچھ کہنے سنے بغیر ظہیر کو لاہور ہیڈآفس سرنڈر کردیا۔لاہور میں رہائش کا مسئلہ تھا۔وہ کسی دوست کے ساتھ رہتا تھا۔
جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply