سکون و اضطراب کا ملاپ۔۔اسلم اعوان

خطہ منحنی کی طرح چلتی اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک بظاہر مہمل سے موقف کی افسردہ کن تکرار اور ایک خاص قسم کے سیاسی جمود کے مابین معلق نظر آتی ہے،اگر اِسی قوت رفتار کے ساتھ ان کی جدوجہد کا دورانیہ چند ماہ مزید طویل ہوا تو وقت کے تناظر میں یہ رومانوی تحریک بھی اپنی کشش کھو دے گی۔جولائی دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف مولانا فضل الرحمن نے جب اپوزیشن جماعتوں کو اسمبلیوں کا بائیکاٹ کر کے نئے سیاسی بندوبست کو مفلوج بنانے کی تجویز پیش کی تو دونوں بڑی جماعتوں نے ان کا مشورہ مسترد کر کے پارلیمنٹ کے اندر سیاسی جنگ لڑنے کا عندیہ دیا تھا لیکن پچھلے ڈھائی سالوں میں اسمبلیوں میں بیٹھی اپوزیشن جماعتوں کا کردار روایتی مخالفت سے ایک سنٹی میٹر آگے نہیں بڑھ سکا،جس سے پی ٹی آئی گورنمنٹ کو قدم جمانے کی مہلت مل گئی،ظاہر ہے پارلیمنٹ میں بیٹھ کے کوئی جماعت سیاسی اصلاحات متعارف کرانے کی کوشش تو کر سکتی ہے لیکن وہاں سے انقلاب برپا کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ابتداءمیں شاید پی پی پی کو اس نئے بندوبست کو چلانا اور نواز لیگ جیسی انتخابی حریف جماعت کو اقتدار سے دور رکھنا مقصود ہو گا اور اب بھی تمام تر تحفظات کے باوجود پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت اِسی جدلیات کو ایک،ڈیڑھ سال مزید آگے کھینچ کے سنہ 2023 کے عام انتخابات کے قریب پہنچانے میں ہی اپنا سیاسی مفاد ڈھونڈتی ہے،اسی لئے وہ اپوزیشن کی ہمنوائی کے باوجود اسٹبلشمنٹ سے ناتا توڑنے کی تیار نہیں،غالب گمان یہی ہے کہ اگلے انتخابی مرحلہ میں مسٹر آصف علی زرداری مفاہمت کے آرٹ کو بروکار لا کر بلاول بھٹو زرداری کو وزارت اعظمیٰ  کے منصب تک پہنچانے کی آرزو لئے بیٹھے ہوں لیکن موجودہ بندوبست اگر پانچ سال کی معینہ مدت پوری کرنے میں کامیاب ہو گیا تو مقتدر قوتیں پیپلزپارٹی کی بجائے دوسری بار بھی پی ٹی آئی کو منصب اقتدار پہ جلواگر دیکھنا پسند کریں گی۔پیپلزپارٹی کا مخمصہ یہ بھی ہے کہ جب نواز لیگ کا مزاحمتی بیانیہ تیزی سے عوامی مقبولیت حاصل کرنے لگا تو آصف زرداری کو بھی بامر مجبوری پاور پالیٹیکس کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کے مزاحمتی سیاست کی بُھول بَھلیوں کی طرف رجوع کرنا پڑا،بدقسمتی سے عوامی مقبولیت کا اعزاز جو کبھی پیپلزپارٹی کی طرہ امتیاز ہوا کرتا تھا اب اِن کے لئے ناگوار بوجھ بن کے رہ گیا ہے۔البتہ جے یو آئی وہ واحد جماعت تھی جو الیکشن میں دھاندلی کے بیانیہ کو لیکر پارلیمنٹ کی بجائے عوام کے پاس جانے کی جسارت کر بیٹھی،مولانا فضل الرحمن نے تنہا تحریک چلانے کا مشکل راستہ چُن کے اپنی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا جُوا کھیلا،25 اکتوبر دوہزار انیس کے دن انہوں نے کراچی سے آزادی مارچ شروع کر کے تیرہ نومبر تک کم و بیش اٹھارہ دن اسلام آباد میں دھرنا دیئے رکھا جسے مقتدرہ نے نہایت مہارت کے ساتھ تحلیل کر کے مولانا صاحب کو خالی ہاتھ واپس پلٹنے پہ مجبور کر دیا،یہی وہ مرحلہ تھا جس نے پی ٹی آئی گورنمنٹ کو ایسا اعتماد عطا کیا جسے متزلزل کرنا دشوار ہوتا گیا،اگر اُس وقت مولانا فضل الرحمن ڈی چوک کی طرف پیشقدمی کرکے چند دن مزید وہیں ٹھہر جاتے تو معاملات پہ حکومت کی گرفت قائم نہ رہتی،بیشک،اس تصادم میں جے یو آئی کو اقتدار نہ ملتا لیکن ووٹ کو عزت دلانے کے نصب العین کا حصول ممکن ہو سکتا تھا لیکن ہمیشہ کی طرح اسی نازک مرحلہ پہ بھی مقتدرہ نے ہماری سیاست کے روایتی کرداروں،چوہدری برادارن،کے ذریعے مولانا فضل الرحمن کو رام کر کے صورت حال کو مینیج کر لیا تھا۔مولانا فضل الرحمن کی اسی فاتحانہ پسپائی نے جے یو آئی سمیت پارلیمنٹ کی بالادستی کی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔یہ تو مولانا صاحب کی غیر معمولی قوت برداشت کا اعجاز اور سیاسی مہارت کا کرشمہ تھا جس نے قومی سیاست میں جے یو آئی کی باعزت واپسی کی راہ ہموار بنائی،وگرنہ آزادی مارچ اور دھرنا کی ناکامی اس فعال مذہبی جماعت کو تاریخ کے دھندلکوں میں گم کر سکتی تھی۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جس اپوزیشن نے آزادی مارچ کے دوران مولانا فضل الرحمن کو تنہا چھوڑا تھا انہی پیش پا افتادہ سیاسی جماعتوں نے انہیں میدان سیاست میں دوبارہ کھڑا ہونے میں بھرپور مدد دی، خاص کر سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اور اس کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنی مزاحمتی جدجہد میں مولانا فضل الرحمن کو ہمنوا بنا کے قومی سیاست کے اس توانا کردار کو ضائع ہونے سے بچا لیا۔چنانچہ مولانا فضل الرحمن کی پیشوائی میں ستمبر 2020 میں پی ڈی ایم کے قیام نے اپوزیشن کو ایک بار پھر صف آراءہونے کا موقع  دیکر حکومت کے لئے نئے چیلنجز پیدا کر دیئے لیکن اب حکومت کے خلاف فیصلہ کن معرکہ میں غیر ضروری تاخیر اپوزیشن جماعتوں کو بے یقینی کے اندھیروں میں دھکیل سکتی ہے۔سینٹ انتخابات کے بعد گورنمنٹ نے اگر سال 2021/22 کے بجٹ کو کچھ متوازن بنا لیا تو عمران خان مزید مضبوط ہو جائیں گے،بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اِس سال گرتی ہوئی قومی معیشت کو سنبھالنے کی کوشش ضرورکرے گی،اگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ کے علاوہ کسی حد تک مہنگائی پہ قابو پا لیا گیا تو حالات بدل بھی سکتے ہیں۔اس ساری جمع تفریق کے باوجود قومی سیاست کے مجروح وجود پہ بے یقینی کے سائے منڈلاتے رہیں گے،قومی قیادت سیاسی و معاشی اصلاحات کے علاوہ وسیع تر قومی مقاصد کے حصول کی خاطر کوئی واضح نصب العین پیش نہیں کر سکی،اجتماعی ناکامیوں اور سیاسی خرابیوں کا استحصال کر کے جذباتی رجحانات میں اضطراب پیدا کرنے سے اصلاح احوال تو نہیں ہو سکتی البتہ قوم کو فرضی حقائق کے جال میں پھنسانے کے اسباب ضرور پیدا ہوں گے ۔افسوس کہ ہمیں اپنی مشکلات پہ قابو پانے کے لئے جس مربوط زاویہ نگاہ کی ضرورت تھی،اس کے آثار ابھی پیدا نہیں ہوئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فی الوقت ہماری قومی سیاست میں ایسے پختہ کار اور منجھے ہوئے سیاستدان زندہ ہیں جو حصول اقتدار کی بجائے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پہ مبنی قومی بیانیہ تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔لیکن بظاہر یہی لگتا ہے کہ کسی صحت مند تبدیلی کی دیر پا اساس تلاش کرنے کی برعکس متحدہ اپوزیشن سینٹ الیکشن کے بعد حکومت کو گرانے کی حتمی کوشش کر کے عدم استحکام کو دو چند کر دے گی،یہاں پہلے بھی سیاسی تنازعات کی جڑیں کافی گہری تھیں لیکن طاقت کے مراکز کے خلاف اٹھنے والی رواں تحریک سیاسی تنازعات کو زیادہ سنگین بنا کے مملکت کی چولیں ہلا ڈالے گی،اس نامطلوب تصادم کو ٹالنے کے لئے اصولی طور پہ تمام اسٹیک ہولڈرز کا تقسیم اختیارات کے آئینی فارمولہ کے مطابق اپنے اپنے دائروں میں سمٹنا لازمی تھا لیکن رضاکارانہ طور پہ ایسا بندوبست ممکن نظر نہیں آتا،اس مقصد کے حصول کی خاطر جس نوع کی پُرامن مگر موثر عوامی تحریک اور سیاسی تدّبر کی ضرورت تھی وہ بھی معدوم ہے۔خطہ میں تیزی سے بدلتی صورت حال کے پیش نظر ہماری ریاست کو مربوط قومی بیانیہ کی اشد ضرورت تھی لیکن قومی لیڈرشپ تنازعات کی دھار کو زیادہ تیز کر کے اندرونی اور بیرونی تنازعات کو بڑھانے جا رہی ہے۔اگرچہ ملک بھر میں مجموعی طور پہ دہشتگردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی لیکن کئی علاقوں میں بدامنی پھر سر اٹھانے لگی ہے،خیبر پختون خوا کے ضم شدہ اضلاع میں پچھلے چند ماہ میں سیکورٹی فورسیسز پہ حملے بڑھے ہیں۔سنہ دوہزار تیرہ اور سنہ دو ہزار اٹھارہ میں اقتدار کی ہموار منتقلی کی وجہ سے کسی حد تک انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ تنوّع میں توازن پیدا ہوا لیکن کامل مذہبی،سیاسی اور سماجی رواداری کے حصول کی منزل ابھی دور تھی۔تنگ نظری،تشدد اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کو روکنے کے لئے ریاست کو محض متحرک ردعمل دینے کی بجائے قومی اتفاق رائے سے انسداد دہشت گردی کی جس جامع پالیسی بنانے کی ضرورت تھی اس کی تکوین ممکن نظر نہیں آتی۔گورننس میں اصلاحات کے لئے جس قسم کی سیاسی ہم آہنگی درکار تھی وہ دن بدن بعید سے بعید تر ہوتی جا رہی ہے۔بلاشبہ،انصاف اور سروسیسز فراہم کرنے والے سرکاری اداروں کی طرف سے عام لوگوں کی شکایات کے ازالہ میں تاخیر اور تنازعات کو نمٹانے کے قابل اعتماد طریقوں کا فقدان ہی کئی گروہوں کو تشدد کو جائز متبادل کے طور پر اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔معاشی اصلاحات کے لئے بھی سیاسی اور سماجی نظم و ضبط اولین شرط تھی،سیاسی عدم استحکام کی بدولت ہی ملک کو بڑھتے ہوئے قرضوں کے بحران اور معاشی محاذ پر تجارتی عدم توازن کا سامنا ہے۔ بھارت اور افغانستان جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پائے جانے والے کلیدی تنازعات،جو وقتا فوقتا تشدد کا سبب بن کے علاقائی اور بین الاقوامی امن کو خطرہ بنتے ہیں،کو سلجھانے کی پیش رفت سست روی کا شکار رہی بلکہ جوش و جذبہ پہ مبنی دوستی کی بلند چوٹیوں اور عدوات کی گہرائیوں سے قطع نظر عالمی سطح پہ ابھرتی ہوئی نئی طاقتوں کے مابین جاری پیکار کے درمیان کوئی آزادانہ اور متوازن خارجہ پالیسی کی تشکیل بھی التباسات کی دھند میں ہچکولے کھا رہی ہے ۔کیا ہم سماجی دھارے کو ہموار بنانے کے لئے فن و ثقافت کی آبیاری،سیاسی مکالمہ اور تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کے علاوہ قیام امن کے لئے معاشرے کو عدل و مساوات کے اصولوں پہ استوار کرنے کے طریقوں کو فروغ دینے کی ذمہ داریوں کو فراموش تو نہیں کر بیٹھے ہیں۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *