عجلت پسند(قسط2)۔۔۔محمد اقبال دیوان

 ایڈیٹر نوٹ: کہروڑ پکا کی نیلماں یاد ہے نا۔۔۔ویسے ہی نیم فکشن نیم حقائق پر مبنی ہمارے مشفق و محترم اقبال دیوان کی ایک اور طویل کہانی حاضر ِ خدمت ہے۔کچھ کہانیاں میلے میں آنے والے طفل بے قرار و متجسس کی مانند ہوتی ہیں،ہر جگہ ضد کرکے رُک جاتی ہیں۔اس کہانی کی تکمیل میں تین برس لگے اور تب تک ٹیپو جی ریٹائر ہوچکے تھے۔بی نو نے اپنا ڈھابہ اور کسٹم کیٹرنگ کا کام جمالیا تھا۔ ٹوانہ جی اور ظہیر کی کمپنی Over-Haul کا کاروبار بہت مزے سے چل پڑا تھا۔

گزشتہ قسط کا ٓخری حصہ
پاکستان میں سیاست دانوں،جرنیلوں، اور تھانے داروں کی کرپشن اور نااہلی پر تبرہ بھیجتے ہیں۔اللہ سبحانہ کو،تواب الرحیم مان کر سب نے ڈاڑھیان رکھ لیں ہیں۔ دوران ملازمت جو مال کمایا ہے وہ بیگمات کے کولہوں کی چربی اور ہوا کی خصوصیات (Properties)کی طرح ہے۔وزن بھی رکھتا ہے۔ جگہ بھی گھیرتا ہے مگر دکھائی نہیں دیتا۔

tripako tours pakistan

بی نو جیسے لوگ

انجلینا جولی

ارے میں بھی کیسی جھلی ہوں اپنے بارے میں تو کچھ بتایا ہی نہیں اور درمیان سے داستان چھیڑ دی۔پلیز ایک بات کا خیال رکھیں میں نے ٹوانہ صاحب، ظہیر، ماہی راج اور ایک اور اہم ہستی جن کا
ذکر آگے آئے گا جو کچھ بھی بتایا ہے وہ اسٹیٹ سیکریٹ تو نہیں مگر اعتماد کا سلسلہ ہے۔یہ نہ ٹوٹے خیال
رکھیے گا۔
۔۔۔۔۔
دوسری قسط

اب میں ذرا پٹڑی بدلوں۔مجھے واحد متکلم (First Person Singular)میں گفتگو کرنا بالکل پسند نہیں۔ آپ اجازت دیں تو میں اپنی یہ داستان بیان کرنے کے لیے صیغہ غائب متکلم(Third Person Singular) استعمال کرلو ں۔

کبھی آزمائیے گا تیسرا وجود یا تیسرا کنارہ بن کر جینے کا اپنا مزہ ہے۔اسی لیے توٹیپو اکثر کہا کرتے تھے تم خود کو کبھی میری آنکھوں سے چھپ کر دیکھو۔
سو صیغہ غائب متکلم یہاں سے شروع۔ ۔پیٹر جاسوس بی نو کے نور نظر، رشک قمر اس کے پہلے اصلی باضابطہ مرد ٹیپو جن کا تعلق ملک کے ایک نام چیں جاسوسی ادارے تھا انہوں نے اسے بانہوں میں برہنہ سمیٹ کر ایک دن بتا یا تھا کہ ہمارے مری والے اسکول میں جاسوس لوگوں کو سکھایا جاتا ہے۔عام بن کر رہو،دشمن کے دماغ سے سوچو اور قاتل بن کر عمل کرو۔

آپ کو ان کے بارے میں بھی بتادیا جائے گا پلیز ڈونٹ رش۔نہیں بی نو Rudeنہیں۔ اس کا خیال ہے وہاڑی کی کلاسی لڑکیاں ایسے ہی بات کرتی ہیں۔ وہ جو بسوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے کہ ساڈے پیچھے آئیں سوچ کے۔وہ کہیں ان کے ڈی این کے بار کوڈ میں بھی چھپا ہوتا ہے۔سچی بات یہ ہے کہ اسے ہلدی اور جلدی دونوں سے چڑ ہے۔ اسی ہلدی کی وجہ سے اس نے سجاوٹ بناوٹ کے ایام مہندی مایوں پر ابٹن نہیں لگایا تھا۔اپنے منگیتر ظہیر کو بتا بھی دیا کہ ہلدی شادی کے پیکج میں شامل نہیں۔کہنے لگا کہ پولیس کی پرانی گاڑیوں کا نیلام As and where it is basis یعنی” جہاں ہیں جیسی ہیں ” کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ کوئی اور موقع  ہوتا تو وہ اس مثال کے دینے پر اس کی لتاڑ لے لیتی مگر وہ کیا ہے۔ ٹیپو نے اسے بہت بعد میں یہ گُر سکھایا کہ You catch somewhere, You drop somewhere(کبھی پالیا کبھی کھودیا۔۔اچھا لٹریری ترجمہ ہے نا)

اس نے اپنے پینڈو بلما کے سینس آف ہیومر پر تبرہ پڑھ لیا۔آئیں میں آپ کو اپنی یعنی بی نو کی کہانی صیغہ غائب متکلم میں سناؤں۔

بی نو کی زندگی میں اٹھارواں برس بھوکمپ کا سال ثابت ہوا۔ ارے آپ کو نہیں پتہ بھوکمپ کیا ہوتا تو سن لیں ہندی میں بھوکمپ، بھونچال یا زلزلے کو کہتے ہیں۔
ا ن دنوں وہ اگر ٹھیک سے میک اپ کرلیتی تو اس کا حسنِ رہزن،تخریب کار دکھائی دیتا تھا، شد آتنک وادی۔بیت اللہ محسود کے گروپ والا۔کسی دن وہ یوں ہی منہ  دھو کر، چھوٹی موٹی کریم اور لپ اسٹک لگا کر ٹھیک سے بال بھی بنالیتی تو یہی حسن رہزن، غضب ناک جلوؤں کی فراوانی کی وجہ سے ہنگامہ پرور دکھائی دیتا۔ایسا کہ اسے امن و امان کے تحفظ کی خاطر عوامی مفاد کے قانون ایم۔پی۔ او کی دفعہ سولہ کے تحت حراست میں لیا جاسکتا تھا۔

قد اوسط سے ذرا نکلتا ہوا۔ رنگت گہیوں کی موسم بہار کی دھوپ میں چمکتی سنہری سانولی بالیوں جیسی،آنکھیں بولتی ہوئیں  جن سے گفتگو کے شوق میں اکثر لوگ چپ دریا میں ڈوب جاتے تھے۔ انجلینا جولی جیسے Pillow-Lips وہ بھی بغیر بوٹوکس کے، مانو کسی پیر سر مست کا تکیہ ہیں جہاں دم گھٹکوں کا اپنا مزہ ہوگا۔ ایسے لب ہائے لعلیں جن پر خوش نصیب عاشق کی سانسیں دم توڑ دیں۔ بدن کی تراش ایسی کہ قیمتی شراب بلور کی صراحی میں اتر کر منہ  چڑاتی ہو۔ اپنے حسن سے بھی خود آگاہ نہ تھی۔اس وجہ سے اور بھی ہلاکت آمیز لگتی تھی۔لباس کے معاملے میں ذرا بے پرواہ تھی مگر گفتگو کا شعور پختہ اور لبھاؤ بھرا تھا۔ اس پر کھیر میں زعفران کا مزہ ایسا کہ ناصر کاظمی،احمد فراز، جون ایلیا اور پروین شاکر کو تو جانوگھول کر پی رکھاتھا۔مطالعے کی شوقین۔اردو کا کونسا رسالہ، ڈائجسٹ،ادیب تھا جسے اس نے نہیں پڑھا تھا۔انگریزی اس کا میدان نہ تھی۔ اس کمزوری کا احساس دلاؤ تو مسکراکر کہتی ”ہم وہاڑی ملتان کی لڑکیاں، اداکارہ میرا اور عربوں کی طرح کم انگریزی سے بھی کام چلا لیتی ہیں“۔

بی نو کے والد اور والدہ دونوں ہی وہاڑی۔ملتان۔ شعبہء درس و تدریس سے وابستہ تھے۔ اس لیے اس نے تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی۔اٹھارواں سال اس کے لیے بھونچال کا سال ثابت ہوا۔ عجب اتفاق تھا کہ جس دن اس کا شناختی کارڈ بنا، عین اسی دن اس کا بی اے کا نتیجہ بھی آیا اور اسی دن اس کے ماموں،ممانی اپنے بیٹے ظہیر کا رشتہ بھی لے کر پہنچ گئے۔

بی نوکے ایک بڑے بھائی کی شادی ممانی کی سب سے چھوٹی بہن سے ہوئی تھی۔یوں ظہیر سب سے طاقت ور امیدوار ثابت ہوا تھا۔ رشتے کے معاملے میں بھائی کی جانب سے دباؤ کا بھی سوچا جاسکتا ہے۔۔بھائی نیوی میں تھا اور سیکانڈمنٹ پر سعودی عرب میں پوسٹنگ تھی۔

بی نو کی والدہ کے اپنے بھائی بھابھی سے ہمیشہ سے خوش گوار تعلقات تھے۔بھائی بہن میں پیار اور لحاظ بھی بہت تھا۔ ظہیر کی دونوں بہنیں اپنے گھر کی ہوچکی تھیں۔ دونوں کی شادی دو عدد خالہ زاد بھائیوں سے ہوئی تھی۔ رہتی بھی دور بارسلونا اور سڈنی میں تھیں۔ ۔سو بی نو کو سسرال کی جانب سے یک گونہ مانوس سی،طمانیت بھری یقین دہانی میسر تھی۔

ظہیر کے رشتے پربی نو کے والدین کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔بس اتنی شرط رکھی کہ بیٹی انہیں چھوڑ کر نہیں جائے گی۔ یہاں میکے میں ہی رہے گی۔سری لنکا اور چیچنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ روز روز کی آوک جاوک اور تکا فضیحتی سے بچنے کے لیے ارمانوں سے پالا لڑکا ہی رخصت کردیتے ہیں۔ظہیر کے والدین یوں بھی کون سے پاکستان میں رہتے تھے۔ ان کی دنیا بیٹیاں اور نواسے نواسیاں تھے
لہذا انہیں اس پر یوں بھی اعتراض نہ ہوا کہ بیٹے ظہیر کی تعیناتی پنجاب میں تھی سو اس کے لیے یہ گھرHome-Baseتھا۔

خاندان برادری کے چکر میں وہاڑی میں بی نو کے لیے رشتوں کی کوئی خاص چوائس بھی نہ تھی۔ظہیر سے نہ ہوتی تو سلیمان،جمیل اور شیراز بھی اس کے کزن ہی تھے جن کے رشتے پائپ لائن میں تھے۔ اسے وہ بھی ایسے کچھ خاص پسند نہ تھے۔سلیمان کی ساہیوال میں موبائیل فون کی چھوٹی سی دکان تھی،جمیل رینالہ کے  سکول میں پڑھاتا تھا۔شیرازایک چھوٹے سے پرائیوٹ ہسپتال میں شفٹ انچارج تھا۔

والدین کو لگا کہ بی نو ظہیر کے ساتھ خوش رہے گی۔ وہ باقی سب کے مقابلے میں پڑھالکھا ہے۔مزاجاً بھی بہت شائستہ ہے۔نوکری بھی بہت اچھی ہے۔ملتان جہاں آج کل وہ ڈی ا ٓئی جی صاحب کا پی اے اور بی نو کے والدین کے گھر واقع وہاڑی کا زیادہ فاصلہ بھی نہیں فوراً ہاں ہوگئی۔ بی نو نے ظہیر کو کئی دفعہ دیکھا تھا۔ سنجیدہ مزاج، کم سخن ظہیر کو اس نے اس کے بارے میں کبھی کسی خاص لگاوٹ سے سوچا نہ تھا۔اپنی ہی ذات کے دھندلکوں میں گم، دیوار پر لگی تصویروں جیسا۔ڈرائنگ روم میں کسی کونے کے لیمپ اسٹینڈ جیسا۔چھت پر لٹکنے والے فانوس جیسی چھاجانے والی ہستی نہ تھا۔وہ خود شوخ اور چلبلی جوانی کے معاملے میں اسپین کے مست سانڈ جیسی زور آور تھی۔ چاہتی تھی کہ کوئیmatador de toros (killer of bulls). قسم کا مرد ہو۔ سرخ چادر لہرائے، تھکائے اور پیار کی تلوار گھپ سے دل میں گھونپ دے۔

اس کی تمنا تھی کہ اسے پہلے کوئی پیار کرے، کوئی چل، کوئی تھرل ہو۔ اس ہنگامہ آرائی میں شور مچے کہ یہ شادی نہیں ہوسکتی۔ خاندان میں کچھ مارا ماری دھیں پٹاس ہو۔ ایسے میں بالآخر گیت سنگیت کی چھنا چھن پر برقی قمقموں سے سجی وہ شام بھی آجائے جب اس کا دیساں دا راجہ اپنے بابل دا پیارا دولہے کے روپ میں سفید گھوڑے پر دوستوں کی فائرنگ کے جلو میں سب دیکھتے رہ جائیں گے۔ لے جاؤں گا اک دن ،قسم کی بارات لے کر آئے۔ رات ہو تو وہ ان بانہوں میں پگھلے جن میں چوری چھپے پگھلنے کے سپنے اس نے جوانی کی پہلی یلغار سے دیکھے تھے۔
یہ تو پہاڑی مقامات پر بوجھل بادلوں کی یقینی برسات جیسی شادی تھی۔

ظہیر کی پولیس ٹریننگ کالج سہالہ میں ٹریننگ مکمل ہورہی تھی۔ملتان پوسٹنگ کا  عندیہ وہاں تعینات کمانڈنٹ صاحب محمود ٹوانہ، اسے دے چکے تھے۔۔ٹوانہ صاحب کو خود بھی اس کورس کے خاتمے سے جڑی یہ خوش خبری مل چکی تھی کہ انہیں تبدیل کرکے ڈی آئی جی ملتان رینج لگایا جارہا ہے۔وزیر اعلیٰ  کی منظوری سی ایس اور آئی جی صاحب کو پہنچادی گئی ہے۔

بی نو کا کزن پولیس افسر ظہیر ذہین، فرض شناس چپ چپ مگر تابعدار قسم کا اے۔ ایس۔ آئی تھا۔دیوار پر لگے آئینے جیسا،بے لفظ اوربے ضرر۔ سفارش پر بھرتی دیگر پولیس افسران کی نسبت کمانڈنٹ صاحب کو وہ اپنے دیگر کورس میٹس کی نسبت زیادہ پسند تھا۔ اس کا شماربمشکل ان پانچ فیصد اے ایس آئیز میں ہوتا تھا جو خالص میرٹ پر چنے گئے تھے۔پاکستان میں کامیاب انسانوں کے ناکام رشتہ دار بہت ہوتے ہیں۔وہ اس کی کامیابی کا خراج مانگتے ہیں۔ سالے بہنوئی،کزنز، بڑے ووٹرز گروپ سبھی کو کسٹم،پولیس، پی آئی اے، محکمہ مال میں رقم توڑنوکریاں درکار ہوتی ہیں۔ان محکموں میں انہیں لوگوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ایسے میں اللہ نہ  کرے کوئی چھوٹے صوبوں والا بڑے عہدے پر پہنچ جائے۔چن چن کر اپنے ہم زبان، ہم قوم، حلقہء انتخاب والے مال سرکار کو حلوائی کی دکان مان کر دادا کی فاتحہ پڑھنے کے لیے ان نکموں،سرکاری ڈاکوؤں کو بھرتی کرے گا۔

ٹوانہ صاحب ایس۔ پی کے رینک تک سندھ میں تعینات رہے تھے۔ ترقی کا پروانہ جاری ہوا تو وہاں سے ڈی آئی جی کے پھول کاندھے پر لگا کر سہالہ۔روالپنڈی بھیج دیے گئے۔ صوبہء پنجاب میں یہ ان کی پہلی باقاعدہ تعیناتی تھی۔سندھ میں بہت مال کمایا تھا اس کی زمین اور ایک فیکٹری باپ کے اور بہن کے نام سے پنجاب میں خرید لی۔فیکٹری کا مالک سری لنکا میں کوئی گارمنٹس فیکٹری ڈا ل رہا تھا۔ والد صاحب وہاں منیجر تھے۔سو کاغذات کی گڑ بڑ کی نیب کو سن گن نہ ملی۔
ملتان تعیناتی کے فوراً بعد وہ سب سے پہلے  اپنا دفتر ٹھیک رکھنا چاہتے تھے۔ظہیر اے ایس آئی یوں ان کے معیار پر پورا اترتا تھا۔ وہ مقامی بھی تھا اور ، فطرتاً راز داں وفا شعار، خاموش طبع،حساب کتاب سے جینے والا ماتحت تھا۔کمپیوٹر بھی بہت اچھی طرح چلا سکتا تھا۔

دوران تربیت ہی ظہیر کو ساتھیوں اور خرانٹ انسٹرکٹرز کی بول چال سے انداز ہوگیا کہ وہ اپنی افتاد طبع کی وجہ سے تھانے اور سیکورٹی کی ڈیوٹی کے لیے موزوں نہیں۔وہ اپنے بڑے افسروں کے دفاتر سے اگر وہ بطور پی اے یا سیکرٹری کے جڑا رہا تو اس کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ جب تک پاکستان میں رہے ٹوانہ صاحب نے لک آفٹر بھی خوب کیا۔ ملتان میں تو جغادری ایس ایچ او تک اس کی عزت کرتے تھے۔خالی ہاتھ  ملنے نہ آتے تھے۔کانسٹبل سے انسپکٹر کے عہدوں پر براجمان پولیس افسر جانتے تھے کہ پیر، رنڈی اور افسر کے پاس خالی ہاتھ جانے سے نہ من کی سیوا ہوتی ہے نہ تن کی۔ ۔

ظہیر اور بی نو کی شادی بلا تردد ہوگئی۔ٹوانہ صاحب بھی خاص طور پر ملتان سے وہاڑی شرکت کے لیے آئے تھے۔
سہاگ رات گو بے حجاب تھی مگر وہ کچھ نہیں ہوا جس کا اسے ہنسی ٹھٹول میں رشتہ دار خواتین اور آزمودہ کار سہیلیوں کی جانب سے بتایا گیا تھا۔خود بھی تھکی ہوئی تھی۔رات اہم تھی۔ جسم لباس وغیرہ کی قید سے آزاد ہوا اور مردانہ ہل چل سے بے نیاز، نیم برادرانہ،آغوش دوستانہ کا سامنا ہوا تو اس نے جان لیا کہ اب یہ سب معمول زندگی کا روٹین ہوگا۔ بقول احمد فراز شاخ بازو پر زلف کاسایہ یوں ہی ہر رات رویا کرے گا۔

بی نو نے اس ایک رات کی مایوسی کو شال دوشالہ بنا کر خود پر اوڑھنے کی بجائے میلے کپڑوں کی لانڈری میں بھیجی جانے والی حسرتوں کی گٹھڑی بناکر وجود احساس کے اسٹور روم میں چھپا دیا۔ظہیر کو سینے پر لٹا کر خود بھی سوگئی۔

معاملہ پہلی رات سے کئی اور راتوں تک جاپھیلا۔بی نو کو لگا کہ اس شادی میں جسمانی ناآسودگی کے علاوہ دید شنید کی محرومیوں کی بھی گہری دھند چھائی ہوئی ہے۔ ظہیر کم سخن،بے سک سا مرد ہے۔غصہ انتقام، منفی جذبات، تشدد، طعنے نام کو نہیں، عمدہ ولایتی صابن کے جھاگ جیسا۔اس سے آنکھیں بھی نہیں جلتیں۔اسے عورت سے بات کرنا اور اُسے نگاہوں سے برتنا نہیں تو کیا بلکہ مرد عورت کے حوالے سے کسی طور لپٹانے چومنے میں بھی کوئی دل چسپی نہیں۔

وال سٹریٹ سٹاک ایکسچینج
گرین بالکونی بمبو کرٹنز
جاپانی بمبو کرٹنز
بمبو ڈور

وہ اکثر ظہیر سے مذاق کرتی کہ سائیں میڈا جب کچھ نہیں کرنا تھا تو کزن تو میں پہلے بھی تھی اتنا پیار مروت،ایک آدھ بھاکر (سندھی میں ہم آغوشی) دو چار چومیاں،ایک آدھ چونڈی،کولہوں پر دو تین تھاپے کزنز کے درمیان  گناہ کبیرہ تو کیا صغیرہ میں بھی نہیں شمار ہوتے۔ ایسے طعنے سن کرظہیر بے بسی سے مسکرادیتا تھا۔

ذہین لڑکی تھی۔انیس برس کی لڑکی کے لیے محرومی کا یہ زہر بہت ہلاکت خیز ہوسکتا تھا مگر اس نے اسی زہر میں تریاق ڈھونڈا۔ اس نے کہیں پڑھا تھا کہ انسان محض ایک دماغ ہے۔ پاکستان میں بدن کے چیف آف آ رمی اسٹاف جیسا۔ہمارے جسم کے ہر عضو اور عمل کا ایک ہی کام ہے کہ دماغ یعنی کمانڈر کا حکم چلتا رہے۔ یوں ہم سب اپنے دماغ کی فیکٹری کے غلام ہیں۔بہتر ہوگا کہ دل کی ہمہ وقت پاسبان عقل رہے۔وہ اسے تنہا جب ہی چھوڑے گی جب اسے وہ تمام ذائقے دستیاب ہوں گے جو ظہیر کی رفاقت میں نہیں مل پاتے۔طبیعات کی اصطلاح میں ایسی برق رفتار شعوری مسافت کا موازنہ Quantum Leap سے کیا جاسکتا ہے۔جانو کسی لمحہء فہم و ادراک میں صدیوں کی مسافت ساعتوں میں طے ہوجائے۔

بی نو نے اس محرومی پر شور مچانے اور دامن اٹھا کر اپنا پیٹ کھول کر سب کو دکھانے کی بجائے، خوش مزاجی اور رازداری کا اہتمام کیا۔ماں کو تو اشارتاً بتادیا کہ بستر کے موجودہ حالات بہت امید افزا نہیں۔بستر کی مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان ہے۔ سمجھو کہ رات کی تاریکی میں رشتوں کے بھیانک تصادم کی وجہ سیکس کی وال اسٹریٹ کریش کر گئی ہے۔ظہیر انسان بہت اچھا ہے مگر مرد ماٹھا (پنجابی۔ کمزور) اور لجلجاہے ۔اس کو علاج کی طرف رغبت دلاؤں گی۔ ملتان،جہانیاں، پاک پتن میں دور دور سے لوگ منتیں مانگنے آتے ہیں۔ اولاد لے کر جاتے ہیں اللہ مسبب الاسباب ہے
۔ والدہ کو مطمئن کرکے خبر خلیدی دوستوں اور دیگر کزنز کو یہ کہہ کر ٹالا کہ ظہیر کے کیئریر میں ترقی کے دو بڑے مراحل عنقریب آنے کو ہیں ایک یو این او کی بوسنیا والی پوسٹنگ کا انتظار ہے۔ سات سال بعد بینو کی پچیس برس والی سالگرہ کا کیک بیٹا پیٹ میں کھائے گا۔ان تسلیوں کو جھوٹ کی گفٹ پیکنگ میں باندھ ایک طرف رکھ خود کھوج لگانے نکلی کہ شادی میں لطف و کرم کے سوتے کہاں سے کیوں کر پھوٹتے ہیں۔۔

خاندان والیوں میں اکثر کی منجی(چارپائی) کے نیچے ڈانگ (لاٹھی) گھمائی،سہیلیوں کے ازدواجی موسم کاجائزہ لیا تو ایک تلخ حقیقت کا ادراک ہوا۔ نتائج کی اوسط کے حساب سے کوئی شادی پرفیکٹ نہیں کہی جاسکتی۔ہر جگہ کسی نہ کسی خامی اور بے لطفی کے آسیب منڈلاتے ہیں۔وہ سہاگنیں جو تقریبات میں بہت لہک مہک رہی ہوتی ہیں،وہ بھی اس دکھاوے اور جلوے کے لیے طمانچے مار مارکے اپنے گال لال کرتی ہیں۔

تحقیق و تفتیش کا دائرہ وسیع ہوا تو یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ عشق اور شادی دونوں میں ناخوش رہنے کے وافر مواقع ہیں۔میاں کا مزاج اگر پُرتشدد نہیں، اسے اپنی کمزوریوں کا شعور اور احساس ہے تو شادی کو نبھاؤ۔ اسے گھر کے دروازے پر بے ضرر ٹاٹ کا پردہ بنا کر لٹکا لو۔چینوں جاپانیوں نے اس میں اب نت نئے روپ نکال لیے ہیں۔ بہت سجل،نرم و نازک،من بھاؤنے، ہوادار۔ان  کا مقصد مگر صرف اوٹ کرنا ہے۔اس سے آنے جانے والوں کے لیے آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنا مقصود نہیں ہوتا۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”عجلت پسند(قسط2)۔۔۔محمد اقبال دیوان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *