ننگر چنا سندھ کا شعور۔ مشتاق علی شان

6ستمبر کو نصیر آباد سندھ سے جبری طور پر غائب کیا گیاہمارے قلم قبیلے کا انقلابی ساتھی کامریڈ ننگر چنا کسی ناقابلِ فہم وجہ سے اپنی جبری گمشدگی کا دوسرا ماہ کسی نامعلوم مقام پر نامعلوم حالات میں گزار رہا ہے ۔ہم نہیں جانتے کہ اس پر کیا بیتی اور بیت رہی ہے لیکن اس امر کا ہمیں بخوبی ادراک ہے کہ اپنی شعوری ادبی سیاسی وسماجی زندگی میں اس سے کڑا وقت ننگر چنا پر کبھی نہیں آیا ہوگا جب وہ اتنا عرصہ قلم وکتاب سے دور رہنے پر مجبور ہوا ہو۔وہ ایک ایسا انسان ہے جوقلم وکتاب ،پڑھنے لکھنے کے لیے پیدا ہوا ہے ،جو ہر شے سے دستبردار ہو سکتا ہے لیکن قلم وقرطاس سے نہیں۔اس کا اظہار اس نے اپنی جبری گمشدگی سے کچھ دن قبل اس پریس کانفرنس میں بھی کیا تھا جس میں اس نے سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا ۔

ننگر چناکو عمومی طور پر ایک مترجم کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن وہ محض ایک ترجمہ نگار نہیں ہے ۔وہ سندھ کے قومی ،طبقاتی اور جمہوری شعور سے قلب وذہن منور رکھنے والا ممتاز، دانشور،شاعر ،ادیب اور مترجم ہے جو وطن پرستی،ترقی پسندی اور انقلابی بنیادوں پر استوار مزدور ہاری دوستی اور بشر دوستی کا مضبوط حوالہ رکھتا ہے ۔ وہ سندھ کے شعور کا ایک ایسا نمائندہ ہے جس کا کیا ہوا ادبی کام نہ صرف سندھ بلکہ پورے خطے کے زبان وادب کا منفرد رنگ لیے ہوئے ہے ۔وہی منفرد رنگ جس کا تعلق اشرافیہ کی غلاموں گردشوں سے نہیں بلکہ محنت کار عوام کے کھیتوں کھلیانوں،کارخانوں اور کارگاہوں سے لے کران کے دکھوں اور مداوے تک سے ہے ۔ننگرچنا سندھ کا واحد ترجمہ نگار ہے جس نے اردو ، پشتو ، پنجابی اور سرائیکی زبانوں سے عوامی انقلابی شہہ پارے سندھی زبان میں ترجمہ کیے ہیں یا پھر سندھی سے اردو کے قالب میں ڈھالے ہیں۔مجھے کہنے دیجیے کہ سندھ کے ادبی افق پر دور دور تک ایسا کوئی نام نظر نہیں آتا جو ننگر چنا سے اس کا یہ اعزاز چھین سکے۔اپنی جبری گمشدگی سے کچھ عرصہ قبل اس نے بتایا کہ سندھی پشتو لغت کی تیاری کا منصوبہ اس کے اگلے علمی اہدافات میں شامل ہے۔

ترجمہ نگاری اس کا شوق ، اس کا جنون ، اس کاآدرش سب کچھ تو ہے ہی لیکن ہم جس طبقاتی سماج میں رہتے ہیں یہاں محض ادب تخلیق کرنے سے ،اسے عوام تک پہنچانے سے پیٹ کا جہنم نہیں بھرتا سومحنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والا ننگر چنا قلم سے قرطاس پر تراشے گئے پیکروں سے اپنے بچوں کے لیے نوالے بھی بناتا رہا اوراپنے تلخابہء احساس میں ڈوبی روشنائی سے معصوم بچوں کے لیے دودھ بھی کشید کرتا رہا لیکن اس سارے عمل کے دوران اس نے اپنے انقلابی آدرشوں پر کوئی آنچ نہیں آنے دی ۔گوناگوں مالی مشکلات میں اس کی ترجمہ کردہ چوبیس کتابیں اٹھا کر دیکھ لی جائیں اس نے متعدد پیشہ ور مترجمین کی طرح جو ملا اسے ترجمہ کرنے کی نہ تو کبھی حامی بھری اور نہ ہی یہ کبھی اس کے پیشِ نظر رہا کہ کچھ بھی ترجمہ یا لکھ کر چار پیسے کما لیے جائیں۔

کامریڈ ننگر چنا کے کیے ہوئے ادبی کام کی طویل فہرست میں اس کی ترجمہ کردہ چوبیس کتابوں کے علاوہ سندھی زبان میں ان کے لکھے گئے درجنوں افسانو ں سمیت دوناولٹ شامل ہیں جو اشاعت کے منتظر ہیں۔ اسں نے شیخ ایاز کے انقلابی دور سے یادگار تما م سندھی افسانوں کااردو زبان میں ترجمہ کیا ہے جو ’’مسافر مکرانی ‘‘ کے نام سے شایع ہو چکے ہیں۔برصغیر کی تقسیم کے انسانی المیوں کے پس منظر میں لکھے گئے کرشن چندر کے شاندار ناول ’’غدار‘‘ کے سندھی ترجمے کا اعزاز بھی اس نے اپنے نام کیا اور لرنتوف کے معروف روسی ناول کا ترجمہ’’اساں جی زمانے جو سورمو‘‘کے نام سے سندھی زبان میں کیا ہے۔ول ڈیورانٹ کی معرکہ آراء کتاب ’’ہندوستان،تاریخ ،تہذیب ،تمدن اور فلسفے کی داستان‘‘ کا سندھی ترجمہ اگر ننگر چنا کے قلمی محنت کا نتیجہ ہے تو سن زو کی بین الاقومی شہرت یافتہ کتاب’’فنِ حرب‘‘ کا اردو ترجمہ بھی قلم کے اس مزدور کی دین ہے۔ وہ سندھ کی ممتاز انقلابی ،ادبی شخصیت کامریڈ سوبھو گیانچندنی کی سوانح سے لیکر کئی ایک سندھی لکھاریوں کی تحریروں کا اردو ترجمہ کمال ہنر مندی سے کر چکاہے۔

ننگر چنا نے ہمارے پڑوس میں ممتاز انقلابی مساعی پسند ،دانشور اور ادیب کامریڈ نور محمد ترہ کئی کی قیادت میں برپا ہونے والے افغان ثور انقلاب کے دوران تخلیق ہونے والے پشتو زبان کے کئی ایک انقلابی شہہ پاروں کا پشتو زبان سے براہِ راست سندھی زبان میں ترجمہ کیا جن میں ’’بریالے باجوڑے‘‘ سمیت کئی ایک ترقی پسند اور انقلابی ادیبوں کی تخلیقات شامل ہیں ۔ننگر چنا کامریڈ نور محمد ترہ کئی کے پشتو ناول ’’سپین‘‘ اور ’’سنگسار‘‘ کاپشتو زبان سے سندھی زبان میں ترجمہ کرنے کے لیے پرعزم تھا تاکہ اس ان انقلابی ادبی شہہ پاروں سے یہاں کے محنت کار عوام کو روشناس کر سکے۔اپنی جبری گمشدگی سے تین دن قبل اس نے بتایا کہ وہ کامریڈ نور محمد ترہ کئی کا پشتو ناول ’’سنگسار‘‘ پڑھ رہاہے۔کیا ہی شاندار ناول ہے۔پشتو زبان میں سماجی حقیقت نگاری کا ایسا مرقع شاید ہی کسی نے لکھا ہو۔ لیکن افسوس کہ کابل ایڈیشن کے اس ناول کا صفحہ نمبر 14,15اور 18,19خالی ہے۔‘‘میں نے اسے بتایا کہ یہ ناول میرے پاس ہے میں ڈھونڈ کر اس کے غائب صفحات بھیج دیتا ہوں ۔لیکن تیسرے دن معلوم ہوا کے کامریڈ نور محمد ترہ کئی کے ناول کے غائب صفحات کے متلاشی ننگر چنا کو ہی غائب کر دیا گیا ہے۔

ننگر چنا فی الحال ہمارے درمیان موجود نہیں ہے لیکن وہ اپنی گمشدگی کے دوران بھی ہمیں گاہے بگاہے اپنی یاد دلاتا اور اپنا کام دکھاتا رہتا ہے۔ بلوچستان سے ڈاکٹر شاہ محمد مری کے زیرِ ادارت شایع ہونے والے ماہنامہ ’’سنگت‘‘ کے اسی ماہ کے شمارے میں ننگر چنا کے سندھی زبان سے اردو زبان میں ترجمہ کیے گئے دو افسانے شامل ہیں۔ان میں ایک غلام نبی مغل کا افسانہ ’’ ورثے میں     ملنے والی خوشبو ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے جو ایک غریب بچی کی محرومیوں کی کہانی ہے۔ دوسرا آغا رفیق کا ’’نوراں‘‘ کے نام سے لکھے گئے افسانے کا اردو ترجمہ ہے جو ایک جاگیردارکے بیٹے اور اس کے ملازم کے ہاتھوں ایک محنت کش بچی پر گزرنے والی قیامت اور ہمارے سماج کے ا ن خاموش المیوں کا آئینہ ہے جس پر کسی کی نظر نہیں جاتی۔

اسی ہفتے ننگر چنا کا سندھی سے اردو میں ترجمہ کردہ ناول’’ شرم بوٹی‘‘ فکشن ہاؤس لاہور نے شائع کیا ہے ۔برصغیر کی تقسیم سے قبل کے ایام میں سندھ ہاری کمیٹی کی طبقاتی جدوجہد کے پس منظر میں لکھے گئے اس ناول کا خالق کامریڈ گوبند مالھی ہے جن کا شمار نہ صرف ’’سندھی ادبی سنگت‘‘ کے بانیوں میں ہوتا ہے بلکہ انھوں نے سندھ میں کمیونسٹ تحریک کی نشوونما میں اہم کردار ادا کیا اور اسے مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ان کا تعلق کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے تھا اور1944 سے کراچی کے پارٹی جنرل سیکریٹری کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ۔گوبند مالھی سندھ کے ان انقلابی دانشوروں،ادیبوں اور سیاسی مساعی پسندوں میں سے ایک تھے جنھیں تقسیم کے بعد یہاں سے جبری دیس نکالے پر مجبور کیا گیا ۔جنھوں نے کیرت بابانی، اے جے اُتم اور دیگر رفقاء کے ہمراہ ہندوستان میں سندھی زبان کو قومی زبان منوانے کی جدوجہدکی جس کے نتیجے می10اپریل1967کو ہندوستانی آئین میں سندھی زبان کو بطور قومی زبان تسلیم کر لیا گیا۔

گوبند مالھی نے پچاس کی دہائی میں سینکڑوں میل کی دوری سے وادی مہران ، اس کے ہاریوں ، اس کے محنت کار باشندوں ، ان کی طبقاتی جدوجہد کو زبردست خراج تحسین وتائید پیش کرتے ہوئے ’’ شرم بوٹی ‘‘ کی شکل میں یہ ناول لکھاجس کی اشاعت1991میں سندھ میں ممکن ہوئی ۔دوسرے جانب سندھ ہاری کمیٹی، اس کے روحِ رواں کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی جدوجہدسے متاثر رہنے والا،اس کے زیر اثر تخلیق پانے والے ادب سے اپنے فکروفن کی مشعلیں روشن کرنے والا ننگر چنا ہے جس نے سندھی زبان کے اس انقلابی شہہ پارے کا اردو ترجمہ کے ان لوگوں تک اس کی رسائی کو ممکن بنایا ہے جو سندھی زبان نہیں پڑھ سکتے ۔

اس ناول کے اردو ترجمے کے پیش لفظ میں میں نے ننگر چنا کے بارے میں لکھا تھا کہ ’’وہ سندھ کے ہاریوں کی جدوجہد سے متاثر رہے ہیں اور بجا طور پر ان دانشوروں سے اختلاف رکھتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ سندھی تنظیم بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اس سلسلے میں سندھ ہاری کمیٹی کا قیام، اس کی تاریخی جدوجہد اور حاصلات ننگر چنا کے وہ طاقتور دلائل ہیں جنھیں رد نہیں کیا جا سکتا ۔سندھ ہاری کمیٹی جو نہ صرف ہمارے ہاریوں کی طبقاتی جدوجہد بلکہ یہ بجا طور پر سامراج مخالف اور سندھ کے قومی حقوق کے حصول کی بھی جدوجہد تھی جس نے سندھ کی ایکتا پرہونے والے حملوں کے خلاف بھرپور کردار ادا کیا ۔اس کے روحِ رواں کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی مشہور نظم ’’ جیے سندھ ، جیے سندھ ، جامِ محبت پیے سندھ‘‘ آج تک یہاں کی قومی تحریک کا ترانہ ہے ۔مجھے خوشی ہوتی ہے جب یہ امتزاج میں ننگر چنا کے فکروفن، ان کی شخصیت میں نمایاں طور پر دیکھتا ہوں اور شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ ہمیں ایسے بہت سے ننگر چنا چاہیں۔‘‘

ہمیں بہت سے ننگر چنا اس لیے چاہیں کہ اس وقت سندھ سمیت پورے ملک میں جو صورتحال ہے ،مذہبی انتہا پسندی کے انسان کش اظہار سے لے کر دہشت گردی اور نسلی فسطائیت کا جو زہر ہے ننگر چنا جیسے سیاسی ،سماجی اور ادبی کارکن ہی ہیں جن کے پاس اس کا تریاق موجود ہے۔یہی نظریاتی ہتھیارہے جن سے رجعتی قوتوں کو شکست دء جا سکتی ہے۔لیکن ان حالات میں ان کی جبری گمشدگیاں منتخب جمہوری حکومتوں،آئینی اداروں اور عدالتوں پر ایک سوالیہ نشان کے ساتھ ساتھ اس ناعاقبت اندیشی کا بھی پتہ دیتی ہے جس کا منطقی نتیجہ رجعتی اور غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں سماج کو مکمل انارکی میں دھکیل دینے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔طبقاتی اور قومی جبر کے خاتمے اور محنت کش طبقے کودرپیش سماجی، سیاسی اور معاشرتی بحرانوں کے حل کے لیے بلند ہونی والی ترقی پسند ، عوام دوست،جمہور دوست آوازوں کو اس طرح دبانے کی روش کا مطلب سماج پر قبرستان کی سی خاموشی مسلط کرنے کے مترادف ہے۔ یہ پالیسیاں سیاسی وسماجی بحرانات کی شدت میں اضافے کا سبب تھیں اور ہیں اس کے نتیجے میں سماجی ترقی کے لیے درکار بنیادیں کبھی حاصل نہیں کی جاسکتیں۔

ہم کامریڈ ننگر چنا اور دیگر سیاسی،سماجی و ادبی کارکنوں کی بازیابی کے لیے بلند ہونے والی آوازوں میں ایک بار پھر اپنی آواز ملاتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ
ننگر چنا کو بازیاب کرو ، قلم کتاب کو بازیاب کرو ، سندھ کے شعور کو بازیاب کرو
( 22اکتوبرکو ’’سندھی ادبی سنگت ۔ نصیر آباد‘‘کے زیر اہتمام سیمینار بعنوان ’’ننگر چنا بحیثیت قلم کار‘‘میں پڑھا گیا۔ )

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *