نذر غالب، نظم آنند- 3

مبر گمان تو ا ورد یقیں شناس کہ دزد

متاع من ز نہاں خانہٗ ازل بر دست

(غالبؔ )

……………………………………………………………………..

کون و فساد و بودنی نابودنی

ہے تو وہ شاعر یقیناً !

ساری اصنافِ سخن املاک میں شامل ہیں اس کی

نظم ، دوہے، ماہیے ، ہائیکو،غزل…اللہ جانے اور کیا کیا!

مختصر مضمون بھی لکھتا ہے اکثر

ایک خوبی اوربھی ہے

اپنے ہمعصروں کی تخلیقات میں، اور

سابقین و مقتدا شعراء کے مضمون و متن میں کچھ

مماثل دیکھ لیتا ہے ، اگر تو

ماورائے غور، فکر و خوض سے بیگانہ ، فوراً بیٹھ جاتا ہے

(سمجھتا ہے)….. کہ یہ ’تحقیق‘ ہے ….’ ریسرچ‘ اصلی!

’نقل‘ ’ چربہ‘ ’ کاربن کاپی‘

’بعینہ‘ ’ ہو بہو‘ ’سرقہ‘ وغیرہ لفظ تو موجود ہی ہیں

ان کے استعمال سے بس آدھ گھنٹے میں ہی

اپنا نا مشخّص’تجزیاتی تبصرہ‘ لکھ کر سمجھتا ہے کہ جیسے

معرکہ سر کر لیا ہو!

نا سپاس و ناستودہ یہ ’مدّبر‘

ایسے دستور العمل کوکب بھلا پہچانتا ہے

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *