جہانِ اسلام کے فراموش شدہ موضوعات(10)۔۔نذر حافی

4 جنوری 2021ء کو ایران کے شہر قم المقدس میں ایک انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس منعقد ہوئی، کانفرنس کا مقصد کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرنا تھا۔ کانفرنس سے آنلائن خطاب پاکستان سے مرکزی امیر جماعت اہل حرم مفتی گلزار احمد نعیمی صاحب نے کیا۔ اس موقع پر مفتی صاحب نے انتہائی مدلل انداز میں اسلام کی آفاقیت کو بیان کیا۔ اُن کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام ایک کامل دین ہے اور مسلمان جسدِ واحد کی مانند ایک قوم ہیں۔ اگر دنیا کے کسی بھی خطے میں مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو اس کا درد سارے مسلمانوں کو محسوس کرنا چاہیئے۔ فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کی مدد و نصرت کیلئے عرب و عجم سے صدائیں بلند ہونی چاہیئے۔ اگر کشمیر میں ہونے والے ظلم سے ہم بے تاب نہیں ہوتے تو ہمیں اپنے ایمان اور مسلمان ہونے پر شک کرنا چاہیئے۔

اگر ہم توجہ فرمائیں تو محترم مفتی گلزار احمد نعیمی صاحب نے اپنے خطاب میں ہمیں نظریہ پاکستان کی ہی یاد دہانی کرائی ہے۔ اُمت مسلمہ کے ایک ملت ہونے کا یہی وہ نظریہ ہے، جس کی بنیاد پر مسلمانوں نے پاکستان کو حاصل کیا تھا اور اسی نظریئے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کشمیر کے مسلمان آج تک قربانیاں دیتے آرہے ہیں۔ کشمیر کے مسلمانوں کا یہی مطالبہ ہے کہ وہ بحیثیت مسلمان ایک قوم ہیں اور بحیثیت مسلمان قوم انہیں ہندوستان کی غلامی قبول نہیں۔ جس غلامی سے نجات کیلئے پاکستان بنایا گیا تھا، کشمیری بھی اسی غلامی سے نجات کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

tripako tours pakistan

مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کا نظریہ کوئی جذباتی یا غیر سنجیدہ نظریہ نہیں ہے۔ اس نظریئے کے پیچھے قرآن و سنت کی تعلیمات کا سمندر موجزن ہے۔ نظریہ پاکستان یا دو قومی نظریئے کے تینوں اہم رہنماء (سر سید احمد خان، علامہ اقبال اور قائداعظم) پہلے پہل امت مسلمہ کے بجائے ہندوستان کی متحدہ قومیت کے ہی علمبردار تھے۔ انہوں نے بڑی فراخدلی کے ساتھ ہندووں اور مسلمانوں کو اکٹھا رکھنے کی کوشش کی۔ سر سید تو ہندووں اور مسلمانوں کو ایک خوبصورت دلہن کی دو آنکھیں قرار دیتے تھے، علامہ اقبال کا کہنا تھا کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا اور قائد اعظم محمد علی جناح تو کانگرس کے عملی رہنما تھے اور انہیں ہندو مسلم اتحاد کا سفیر بھی کہا جاتا تھا۔ ان تینوں شخصیات نے کئی برس تک ہندو مسلم اتحاد کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔

یہ صرف باتیں کرنے کے بجائے عملی اقدام کرنے والے لوگ تھے۔ ان کی ساری جدوجہد کو ہندو اکابرین اور برہمن سماج نے ان کے منہ پر دے مارا۔ آج بھی لوگ مسٹر گاندھی اور نہرو کو ایک سیکولر اور وسیع القلب رہنماء کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ایسے افراد شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر مسٹر گاندھی اور نہرو سیکولر اور وسیع القلب ہوتے تو علامہ اقبال اور قائداعظم جیسی شخصیات ان سے اپنا راستہ جدا نہ کرتیں۔ نہ ہی تو وہ لوگ سیکولر تھے اور نہ ہی ان کا بنایا ہوا ہندوستان سیکولر ہے۔ ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر میں آج بھی مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

بعض احباب کہتے ہیں کہ مہاتما گاندھی صاحب نے کہا تھا کہ میں نے انقلاب کا درس حضرت امام حسین  سے سیکھا ہے۔ ایسے احباب کو معروف ہندو دانش مند مسٹر چانکیہ کی تصنیفات اور ارتھ شاستر کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔ مسٹر گاندھی ایک پڑھے لکھے اور تجزیہ و تحلیل کرنے والے انسان تھے۔ ان کی شخصیت میں ارتھ شاستر کا پرتو نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ وہ ماہر سیاستدانوں کی طرح ہی ماحول اور حالات کے مطابق بیانات دیتے تھے۔ ماہر سیاستدان اسی طرح کیا کرتے ہیں، وہ عیسائیوں میں حضرت عیسیٰؑ، یہودیوں میں حضرت موسیٰ ؑ اور سکھوں میں بابا گورونانک سے سیکھنے کی بات ہی کرتے ہیں۔ انسان کس کا پیروکار ہے اور اس نے کس سے سیکھا ہے، اس پر اس کا عمل ہی بہترین گواہ ہوتا ہے۔

اگر امام حسینؑ سے سیکھنے کی بات ہے تو پھر ہر منصف مزاج انسان کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ کیا آنجہانی گاندھی کی فکر اور تحریک قرآن و سنت اور امام حسینؑ کی تعلیمات کے مطابق تھی یا قائداعظم محمد علی جناح کا راستہ قرآن و سنت اور امام حسینؑ کے مطابق تھا۔ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ہندوستان نے تو ساری دنیا میں اپنے ہیروز کو دانش مند اور مفکر کے طور پر متعارف کروایا ہے۔ لیکن ہم صرف کشمیر میں بھی قائداعظم محمد علی جناح کے نظریات کو متعارف نہیں کروا سکے۔ کشمیر کے حوالے سے ہماری اکثریت کو زیادہ سے زیادہ صرف اتنا پتہ ہے کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ یہ اکثریت تو یہ بھی نہیں جانتی کہ قائداعظم نے یہ جملہ کب اور کس سے کہا تھا۔

Advertisements
merkit.pk

اس ایک جملے کے خلاف بھی ہندوستان نے کشمیر میں بڑے پیمانے پر ذہن سازی کی ہے۔ دوسری طرف ہمارے ہاں کشمیر کے حوالے سے قائداعظم کے نظریات اور خدمات کو متروک کر دیا گیا ہے۔ لوگ نہیں جانتے کہ کشمیر کے حوالے سے قائداعظم کیا سوچتے، کیا کہتے اور کیا چاہتے تھے!؟ عوام النّاس کو اب نہیں معلوم کہ قائداعظم نے کشمیر کے حوالے سے کوئی فعالیت بھی کی تھی یا نہیں؟ المختصر یہ کہ قائداعظم کے نظریات کے حوالے سے ہم نے ایسی سنگین غفلت کا ارتکاب کیا ہے کہ جس کا خمیازہ آج بھی سارے پاکستانی اور کشمیری بھگت رہے ہیں اور آئندہ بھی بھگتیں گے۔
جاری ہے۔۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply