مڈل ایسٹ نئی جنگ کی دہلیز پہ۔۔اسلم اعوان

امریکہ میں اقتدار کی منتقلی کے ساتھ ہی عالمی پالیسیوں میں غیر معمولی تبدیلیوں کی گونج نے مڈل السٹ کو نئے مسائل کی دہلیز پہ لا کھڑا کیا،سابق صدر ٹرمپ کی مشرق وسطی پالیسی کو ریورس کرنے کی حکمت عملی نہ صرف نئی جنگ کے اسباب مہیا کرے گی بلکہ اس سے امریکہ کے داخلی سیاسی تضادات بھی دوچند ہو سکتے ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تحریک مواخذہ کی ناکامی اسی اندرونی تقسیم پہ پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش محسوس ہوتی ہے،سابق صدر کے مواخذہ کی جسارت سے پسپائی پر تبصر کے نپے تلے الفاظ میں صدر جو بائیڈن کی بے بسی عیاں تھی،انہیں اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرنے کے لئے جمہوریت کی نازکتوں کے نقاب ابہام کو استعمال کرنا پڑا تاہم سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ”امریکہ کو عظیم بنانے کی تحریک تو ابھی شروع ہو ئی ہے“ ۔

اس سے واضح ہو گیا کہ خود امریکہ کے اندر تیزی سے بڑھتا ہوا نسلی تفاوت اور گروہی کشمکش جمہوری توازن کے لئے سنجیدہ خطرہ بن چکی ہے،اس لئے صدر جوبائیڈن کی زیادہ توجہ اگرچہ امریکہ کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی،سماجی اور نسلی تفریق کو روکنے پہ مرتکز رہے گی لیکن وہ اپنی عالمی بالادستی کو بحال رکھنے کی خاطر مڈل ایسٹ کے تنازعات کو سنبھالنے کی کوشش بھی ضرورکریں گے جو اپنی شدت کے لحاظ سے تیسری عالمی جنگ کا محرک بن سکتے ہیں،صدر ٹرمپ کے عہد حکمرانی کے دوران خطہ میں اسرائیل کی بالادستی قائم کرنے کی خاطر مڈل السٹ میں جس نوع کے تنازعات کو بڑھایا گیا،ان میں ایران سے جوہری معاہدہ کا استرداد اور یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کے قیام کے علاوہ یمن میں ابھرنے والا انسانی المیہ سب سے نمایاں نظر آتے ہیں۔بائیڈن انتظامیہ نے اگر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کی تجدید اور یمن کی خانہ جنگی کی تحدید کے ذریعے تنازعات میں توازن لانے کی خاطر اسرائیل کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کی تو اسرائیلی مقتدرہ ایرانی جوہری تنصیبات پہ حملہ کر کے جنگ کے دائروں کو یوروپ تک پھیلا سکتی ہے،اسرائیلی وزیراخارجہ نے کہا ہے کہ ہم ایران کو زیادہ وقت نہیں دینا چاہتے کہ وہ جوہری تجربہ کر کے خطہ میں نئی ایٹمی قوت کے طور پہ ابھرے۔

tripako tours pakistan

ادھر بائیڈن انتظامیہ بھی اپنے قریبی اتحادی اسرائیل کے مڈل السٹ میں بڑھتے ہوئے تسلط کو ایسی غیر محدود جنگ کے خطرہ کے طور پہ دیکھ رہی ہے جو بلآخر بحیرہ روم کے مغربی کنارے پہ آباد یورپ کے دروازے پہ دستک دینے والی ہے،گویا مشکل یہ آن پڑی ہے کہ اب اسرائیل کے مڈل السٹ پہ تسلط کو بڑھانے یا محدود کرنے میں کوئی خاص فرق باقی نہیں رہا،یعنی دونوں صورتوں میں جنگ کے امکان کو روکنا مشکل ہو گیا۔تاہم امریکی اپنی قومی سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر مڈل ایسٹ بحران کو بتدریج ریگولیٹ کرنا چاہتے ہیں،جوبائیڈن اسی مقصد کے حصول کے لئے اپنی ٹیم کی اجتماعی دانش کو آزمانے میں سرگرداں ہیں۔

امر واقعہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے پیشرو بارک اوباما نے عہدہ سنبھالتے ہی وزیراعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے انکی پذیرائی کی لیکن نئے منتخب صدر جوبائیڈن،جنہوں نے عنان اقتدار سنبھالتے ہی چین ، میکسیکو ، برطانیہ ، ہندوستان ، فرانس ، جرمنی ، جاپان ، جنوبی کوریا اور روس سمیت متعدد غیر ملکی سربراہوں سے ٹیلیفونک بات چیت کے ذریعے سفارتی رابطوں کی تجدید کی، نے ابھی تک اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو نظر انداز رکھا،جسے اسرائیل کی توہین کے متراداف سمجھا گیا۔تاہم وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن 20 جنوری کو اقتدار سنبھالنے کے بعد غیر ملکی رہنماؤں کو فون کے پہلے مرحلہ میں اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو شامل کرنے میں ناکام رہا ۔امریکی صدر اور دیرینہ خدمات سرانجام دینے والے اسرائیلی رہنما کے مابین براہ راست رابطے کی کمی نے اسرائیل اور مشرق وسطی کے تجزیہ کاروں کے مابین یہ قیاس آرائیاں تیز کردیں کہ نیتن یاہو کے بائیڈن کے پیشرو ،سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات کے بارے میں نئی انتظامیہ اپنی ناراضگی کا اشارہ دے رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے معمول کی بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ ”صدر جو بائیڈن وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کے منتظر ہیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جلد رابطہ ہوگا تاہم میرے پاس کوئی خاص وقت یا متعین تاریخ موجود نہیں۔”یہ پوچھے جانے پر کہ کیا دعوت میں تاخیر کا مقصد اسرائیلی رہنما کی بے عزتی کرنا تھا ؟ جین ساکی نے جواب دیا “جان بوجھ کے تفریق کرنا مقصود نہیں تھا۔صدر ٹرمپ کی مڈل ایسٹ پالیسی میں اگرچہ نیتن یاھو اہم ترین رفیق کار رہا لیکن خواہش کے باوجود وہ جو بائیڈن کے پالیسی فریم ورک میں اپنے لئے مناسب جگہ نہیں پا سکے۔

عام خیال یہی ہے کہ نیتن یاھو حالیہ انتخابات میں سابق صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کونبھانے کی کوشش میں اپنی قومی پالیسیوں کو ریاستہائے متحدہ سے ہم آہنگ رکھنے کے امکان کو نقصان پہنچا بیٹھے۔ہر چند کہ جو بائیڈن بھی طویل عرصے تک واشنگٹن میں اسرائیل کے سچے دوست شمار کئے جاتے تھے لیکن نیتن یاہو سے ان کی براہ راست کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔چنانچہ ان حالات میں ایران کے ساتھ اُس جوہری معاہدہ کی تجدید نیتن یاہو کے ضبط کو آزمانے کی جسارت ہو گی،جس سے ٹرمپ نے دستبرداری اختیار کی تھی۔ٹرمپ کی جانب سے یروشلم میں امریکی سفارت خانہ کا قیام اور دو ریاستی فارمولہ سے انحراف نے فلسطینیوں کو واشنگٹن سے مایوس کر دیا تھا۔

اب جیسا کہ جو بائیڈن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کے علاوہ مقبوضہ زمین پر اسرائیلی آباد کاری کی مخالفت کریں گے،اس میں جیسے مظلوم فلسطنیوں کے لئے امید کی کرن نظر آئی،اسی طرح اسرائیل کے لئے ایک منفی پیغام بھی پنہاں تھا۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جین ساکی نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کے رہنما ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے کسی ٹیلی فونک کال کی منصوبہ بندی اس لئے نہیں کی گئی کہ جس پالیسی کا ہم جائزہ لے رہے ہےں اس کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ جن پالیسیوں پہ نظرثانی ہو رہی ہے اس میں اسرائیل کی نسبت امریکی پالیسی کا معاملہ سرفہرست ہو گا۔

صحافیوں نے ان سے 2018 میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشوگی کے قتل کی بابت بائیڈن انتظامیہ کی طرف سعودی عرب پر پابندیاں عائد کئے جانے بارے سوال بھی پوچھے۔

بہرحال،ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کی تجدید کا عندیہ دینے کے بعد جمعہ کے روز امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے سولہ فروری تک یمن کی حوثی تحریک کے بعض اراکین کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کا عندیہ بھی دیا،حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ حوثیوں پہ مزید پابندیوں لگانے کے لئے پُرجوش تھی اور اقوام متحدہ کی طرف سے انتباہ کے باوجود سابق صدر ٹرمپ نے آخری ایام میں کئی حوثی اراکین کو عالمی دہشتگرد تنظیم (ایس ڈی جی ٹی) اور غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (ایف ٹی او) سے منسلک کرکے یمن پہ بڑے پیمانے پہ پابندیاں لگانے کی راہ ہموار بنائی۔تاہم نئے امریکی صدر جوبائیڈن نہایت سرعت کے ساتھ مڈل السٹ بارے امریکی پالیسی کو متوازن بنانے میں سرگرداں ہیں،جس کا محور بظاہر ایک انسانیت سوز بحران کی شدت کو کم کر کے یمن کو خوفناک خانہ جنگی کے آشوب سے نکلنے کے لئے سفارتی ذرائع کو بروکار لانا ہے۔لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ یمن کے امن سلامتی اور استحکام کو خطرات سے بچانے کی خاطر تین حوثی رہنماؤں عبدالمالک الحوثی، عبد الخالق بدر الحوثی اور عبداللہ یحیی الحکیم اب بھی امریکی پابندیوں کے زیر اثر رہیں گے اور انہوں نے متنبہ کیا کہ واشنگٹن،حوثی تحریک کی سرگرمیوں پر نظر رکھے گا ،خاص طور پر بحر احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل اٹیک کے ذمہ داران کو دیکھ رہے ہیں۔بلیکین نے کہا “ہم انصار اللہ اور اس کے رہنماؤں کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی جاری رکھیں گے“۔

Advertisements
merkit.pk

لیکن غیر جانبدار ذرائع،اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ کی دہشت گردی کی آڑ میں حوثیوں پر عائد کردہ پابندیاں خوراک کی فراہمی کا ایسا گلا گھونٹ سکتی ہیں جس سے بڑے پیمانے کا قحط ابھر سکتا ہے۔اقوام متحدہ نے یمن کی خانہ جنگی کو ایسا انسانیت سوز بحران قرار دیا جہاں 80 فیصد لوگوں کو ناقابل بیان اذیتیں برداشت کرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔بلیکین نے کہا،انصار اللہ کے اُن مہلک اقدامات سے صرف نظر نہیں کر سکتے،جنہوں نے عالمی سطح پہ تسلیم شدہ ایک جائز حکومت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا بلکہ انصار اللہ کے اقدامات اور مداخلت ہی اس تنازعہ کو زیادہ سنگین اور انسانی نقصانات کو بڑھاوا دے رہی ہے۔”یمن سے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلی کے ایک حصے کے طور پر جو بائیڈن نے گذشتہ ہفتے سعودیہ کے زیرقیادت اتحاد کی طرف سے جارحانہ کارروائیوں کو محدود کرنے کے لئے امریکی مدد روکنے کا اعلان بھی کیا تھا۔انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لئے بات چیت کے لئے اقوام متحدہ کی زیرقیادت سفارتی کوششوں کی حوصلہ افزائی کے لئے تجربہ کار امریکی سفارت کار ٹموتھی لینڈرنگ کو یمن کے لئے خصوصی ایلچی نامزد کیا، لینڈرنگ نے جمعرات کو ریاض میں یمن کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدر اور اس کے وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کر کے معاملات کو سلجھانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا کیا ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply