ہمارا مادھو ہم سے بچھڑ گیا۔۔احمد سہیل

زاہد ڈار۔۔ جن کو ہم ” مادھو” کہتے تھے اردو نظم نگاروں میں ایک توانا،منفرد حسیت اور مزاج کے شاعر ہیں۔
زاہد  ڈار کی ولادت 1936 میں مشرقی پنجاب کے شہر لدھیانہ میں ہوئی، جب وہ چھٹی جماعت میں پڑھتے تھے اس وقت ہندوستان کا بٹوارہ ہوا ۔ ان کا کنبہ نقل مکانی کرکے لاہورمیں بس گیا ۔ جہاں اسلامیہ ہائی سکول سے 1952 میں انہوں نے میٹرک پاس کیا اور اسی برس گورنمنٹ کالج میں داخلہ لے لیا۔ انہوں نے انیس ناگی اور دیگر دوستوں کے ساتھ ادب پر بات چیت کرنے کے لیے دو برس تک کالج جانا جاری رکھا لیکن انٹر میڈیٹ کا امتحان نہیں دیا۔ انہوں نے معاشیات کا مضمون چنا تھا لیکن کتاب کا پہلا صفحہ کھولتے ہی انہیں یہ نہایت بیزار کُن محسوس ہوئی اور انہوں نے اسے بند کر دیا۔ معاشیات کی وجہ سے ہی وہ امتحان میں شریک نہ ہوئے۔ اتفاقی اور دلچسپ بات یہ تھی کہ ان کے بڑے بھائی حامد ڈار ان دنوں اسی کالج میں اقتصادیات کے استاد تھے ۔ وہ ایک ہردلعزیز استاد تھے۔ اور شاید انیس ناگی کے ہم جماعت بھی تھے۔

مستقل مزاج زاہد ڈار عمر کے سولہویں برس میں ہی اس حقیقت سے آشنا ہو چکے تھے کہ ان کا رحجان کسی کام کاج کی جانب نہیں ۔ وہ زندگی میں صرف ادب پڑھنا چاہتے تھے۔ وہ دو برس تک اپنے دوستوں کے ساتھ گورنمنٹ کالج جاتے رہے۔ اس کے بعد ان کے دوستوں نے کالج چھوڑا توانہوں نے بھی وہاں جانا ترک کر دیا۔

tripako tours pakistan

ان کی شعری تصنیف ‘ محبت اور مایوسی کی نظمیں ” اس بات کا ثبوت ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ زاہد ڈار پاکستان میں اردو نظم نگاری میں جدیدیت کا اختتام زاہد ڈار پر ہی ہوتا ہے۔ ان کو ” ڈائری‘ لکھنے کا بھی شوق رہا ہے۔ مگر گزشتہ25/ 30 سال سے رسائل و جرائد میں کم ہی نظر آئے۔ ان کا زیادہ تر وقت لاہور کے پاک ٹی ہاؤس میں گزرتا تھا۔ یا انتظار حسین کے جیل روڈ والے گھر میں پائے جاتے تھے۔ وہ عموماً   پاک ٹی ہاؤس میں دوستوں سے باتیں کرتے یا کتاب پڑھتے دیکھے جاتے تھے۔

اگر زاہد ڈار پاک ٹی ہاؤس کی یادوں پر کوئی کتاب لکھیں  تو وہ معتبر ہی نہیں بلکہ سچی اور تاریخی دستاویز ثابت ہو گی۔ مگر ان کو یہ کتاب لکھنے پر کون آمادہ کرے گا ! 1990 میں زاہد  ڈار سے میری آخری ملاقات لاہور میں کشور ناہید کےگھر پر ہوئی تھی جب وہ صدیقہ بیگم مرحومہ اور میرے ساتھ عشائیے پر مدعو تھے۔ یہ تصویر کشور ناہید کے گھر میں ہی کھینچی گئی ۔

میں جب بھی کراچی سے لاہور جاتا تھا تو ریلوے اسٹیشن سے نکل کر سیدھا پاک ٹی ۔ہاؤس پہنچتا کیونکہ مجھے معلوم ہوتا تھا کہ کوئی ملے نہ ملے زاہد ڈار ٹی ہاؤس میں ضرور موجود ہوں گے۔ جیسے ہی پاک ٹی ہاؤس پہنچتا بڑی گرم جوشی سے ملتے اور چائے اور بسکٹ منگواتے۔ مشترکہ دوستوں اور نئے لکھنے والوں کو میرے آنے کی اطلاع  پہنچاتے   ۔ پھر شہر میں گھماتے اور ادبی اور علمی موضوعات پر باتیں کرتے اور شام کو واپس آکر ٹی ہاؤس میں ادیبوں و شعرا سے ملاقات کرواتے تھے۔

میں نے زاہد ڈار کی زبان سے کبھی کسی کے خلاف کوئی بات  نہیں سنی  ۔ ہمیشہ اچھی کتابوں اور عالمی ادب پر بات کرتے تھے۔ میں جب کبھی لاہور جاتا  ،تو جدید ادب پر ان سے خوب باتیں  ہوتی تھیں ۔ میں نے جو کتابیں پڑھی ہوتیں ، ان کے متعلق آگاہ کرتا اور انھوں نے جو کتابیں  پڑھی  ہوتی تھیں  اُن  کے متعلق بتاتے ۔ کامیو، کافکا، سال بیلو، سینٹ جان پرس، خورخے بوہس، جارج تراکل ،نامن میلر، ایریکا ژونگ، کورنیل ویسٹ ، میراجی ۔ مجید امجد ، لانگسٹن ہیوز سبط حسن، لطیفی، انیس ناگی، نفیس خلیلی اور حمورابی پر میری ان سے بحث رہتی تھی۔

حسنیں جمال نے اپنے مضمون “زاہد ڈار: میرا سب سے بوڑھا دوست” میں بڑی اچھی بات لکھی ہے جو زاہد ڈار کی فطرت کا بہترین احاطہ کرتی ہے۔
“‘یار مجھے لڑکیوں کے نام بھول جاتے ہیں، میں نے کاغذ پہ لکھ کر رکھے ہوئے تھے، وہ گم ہو گیا، آپ کو اس لڑکی کا نام پتہ ہے یہ جو سامنے بیٹھی ہوئی ہے؟ اور وہ کہاں ہوتی ہے آج کل، کیا تھا اس کا نام، جو کہتی تھی اسے مجھ سے محبت ہے؟۔

ایسے انسان کا تصور کریں جسے زندگی میں کوئی کام نہ ہو، نہ اسے نوکری کرنی ہو، نہ کاروبار، نہ اس نے شادی کی ہو نہ ارادہ ہو، بس ایک کام ہو اور وہ کرتا جائے، کرتا جائے کرتا جائے یہاں تک کہ وہ 80 برس کا ہو جائے۔ اور وہ کام کتاب پڑھنا ہو۔

جب کبھی کتابوں سے جی بھر جائے تو جا کر دوستوں میں جا بیٹھے اور جو وہاں سے اُکتائے تو واپس کتابوں میں جا گھسے۔ فرصت اتنی کہ کم و بیش ایک صدی ایسے ہی گزار دے اور مصروف ایسا کہ اس تمام عرصے میں دو باریک سی کتابیں شاعری کی آئیں، لیکن پھر اس بندے کی آنکھیں پڑھنے سے بھی انکاری ہو جائیں۔

کمال کیریکٹر تھے۔ موت ڈار صاحب کو بھول چکی تھی۔ وہ اگر بیس سال پہلے مر جاتے تو اس وقت کئی بڑے نام ان کی یاد میں تحریروں کے انبار کھڑے کر دیتے۔ ڈار صاحب اب فوت ہوئے ہیں جب نوحہ گر ہی کوئی نہیں بچا۔ انتظار حسین ہوتے تو وہ اکیلے کافی تھے۔”

زاہد ڈار میکانی حضروی طرز معاشرت سے فرار حاصل کرنا چاہتے تھے۔ کہتے تھے یہ شہر مجھے ” اعصابی تناؤ” میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

ان کی شناخت موٹا چشمہ، چوڑی مہری کا پاجامہ، قمیض اور کوٹ ہوتا تھا۔ زاہد ڈار مہمان نواز، دوست نواز،وہ سنتے زیادہ اور بولتے کم ہیں۔کھانے پینے اور لباس میں سادگی اوران کا مزاج نرم ہے۔ سنا ہے وہ میرا جی (محمدثنا اللہ ڈار) کے دور کے رشتے دار بھی ہیں۔ زاہد بھائی آپ کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ میری کتابوں کا  سچا   عاشق اور محب  ہم سے جدا ہوگیا۔۔زندگی کا نوحہ اور کرب کو لفظوں  میں لفظوں میں منتقل کرنے والا زاہد ڈار ۔۔میں آپ کو کہاں تلاش کروں۔ لاہور کی گلیاں  اب اداس لگتی ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk