جہانِ اسلام کے فراموش شدہ موضوعات(9)۔۔نذر حافی

دنیا میں مجموعی طور پر تین طرح کے قائدین ہوتے ہیں، ایک دوسروں کو اپنا غلام بنانے کی سعی کرنے والے، دوسرے غلاموں کو غلامی پر رضامند رکھنے کی جدوجہد کرنے والے اور تیسرے غلاموں کو آزادی دلانے کی کوشش کرنے والے۔ ایک مسلمان کیلئے کسی طرح سے بھی یہ روا نہیں کہ وہ اپنے ارادے اور اختیار کے ساتھ کفار کی غلامی اختیار کر لے۔ برصغیر میں قائداعظم محمد علی جناح اور آنجہانی مہاتما گاندھی کے نظریات میں بنیادی طور پر یہی اختلاف تھا۔ نظریاتی طور پر یہ دونوں شخصیات ایک دوسرے کی ضد اور برعکس تھیں۔ ایک کے نزدیک اسلام ایک جامع نظامِ حیات، مسلمان ایک قوم اور بطورِ قوم آزاد رہنے کا حق رکھتے تھے جبکہ دوسرے کے نزدیک ہندوستانی ایک قوم تھے اور مسلمانوں نے ہندی غلبے میں ہندووں کے ساتھ ساز باز کرکے زندگی گزارنی تھی۔

پاکستان کا فلسفہ وجودی یہی تھا کہ مسلمان کسی بھی طور پر کفار کے غلام نہ رہیں اور اپنے لئے ایک الگ مملکت تشکیل دیں۔ جو مناطق پاکستان میں شامل ہوگئے، انہوں نے ایک بہت ہی عظیم مقصد کو پا لیا اور کفّار کی غلامی سے آزاد ہوگئے، لیکن جو مناطق کسی بھی وجہ سے پاکستان میں شامل نہ ہوسکے، وہ آزادی کی نعمت سے محروم رہ گئے۔ ان محروم مناطق میں سے ایک اہم منطقہ کشمیر کا ہے۔ کشمیر کو ایرانِ صغیر بھی کہا جاتا ہے۔ لہذا یہاں پر ہم یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب ایران کو مزید اسلامی بنانے کی ضرورت نہیں رہی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ملک اسلام کے راستے پر چل پڑا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کیلئے پاکستان کے وجود میں آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب پاکستان میں سو فیصد اسلامی نظام نافذ ہوگیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمان آزادی کے ساتھ اسلام کی شاہراہ پر آگئے ہیں، اب اس ملک کو اسلامی تعلیمات کے مطابق رشد اور ترقی دینا یہ اہلیانِ پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

tripako tours pakistan

ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستانی قیادت نے سنگین غلطیاں کی ہیں، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح کو بھی مسٹر گاندھی کی طرح ہی سمجھا جائے۔ دنیا میں جتنی بھی نظریاتی قیادتیں گزری ہیں، اُن کے بعد انحرافات نے جنم لیا ہے۔ آپ تاریخ کا مطالعہ کرکے دیکھیں، خود پیغمبرِ اسلامﷺ کے بعد ملوکیت کا دور دورہ ہوگیا تھا۔ آج تک عرب دنیا میں اسلام کے نام پر ملوکیت قائم ہے۔ پیغمبرِ اسلام کے بعد نظامِ اسلامی میں یہ جو اتنا بڑا انحراف آیا، اس انحراف کو بنیاد بنا کر نبی اکرمﷺ کے نظریات کی انفرادیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جہانِ اسلام پر ملوکیت کے چھا جانے کے باوجود پیغمبرِ اسلامﷺ کے نظریات آج بھی عالمِ بشریت کیلئے نجات اور سعادت کا باعث ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح نے مسلمانوں کے ایک قوم ہونے اور مسلمانوں کو کفار کی غلامی سے نجات دلانے کا جو نظریہ دیا ہے، یہ نظریہ دراصل قرآن و سنت کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ گذشتہ تہتر سالوں میں پاکستانی تھنک ٹینکس سے بہت غلطیاں ہوئیں، خصوصاً معاشی مسائل کے حل کیلئے افغانستان کی جنگ میں کودنا، پاکستان میں مجاہدین کے نام پر دہشت گردوں کی سرپرستی کرنا اور ٹارگٹ کلرز و خودکش بمبار تیار کرکے قتل و غارت کے ذریعے مخالفین کو راستے سے ہٹانا، ان امور نے جہاں پوری دنیا میں پاکستان کی ساکھ کو خراب کیا ہے، وہیں کشمیر کے مسلمانوں کے درمیان بھی پاکستان سے عشق اور لگاو میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مساجد و امام بارگاہوں میں قتل و غارت، کافر کافر کے نعروں، اہم شخصیات پر حملوں اور امنِ عامہ کے مسائل نے عام کشمیری مسلمان کو پاکستان سے سخت مایوس کیا ہے۔

دوسری طرف اس صورتحال سے ہندوستان نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ جب ہم اپنے ہی لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ میں مصروف تھے، اولیائے کرام کے مزارات اور امام بارگاہوں میں دھماکے کروا رہے تھے، ہزارہ کی ٹارگٹ کلنگ کو رواج دے رہے تھے اور ساتھ ساتھ اپنی گندگی کو قالین کے نیچے چھپا رہے تھے تو اُس وقت ہندوستانی میڈیا اور تجزیہ کار ٹھوس شواہد کے ساتھ لوگوں کو یہ بتا رہے تھے کہ طالبان اور القاعدہ کس نے بنائے؟ داعش کے ترکیبی عناصر کیا ہیں؟ لشکر جھنگوی اور سپاہِ صحابہ کے سرپرست کون ہیں؟۔۔۔ ایک طرف ہم آنکھیں بند کرکے اپنے کاموں میں لگے رہے، ہم اپنے طور پر اپنی اقتصاد سنوارتے رہے، ڈالر اور ریّال سمیٹ کر اپنی معیشت کو مضبوط بناتے رہے جبکہ دوسری طرف ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے اذہان میں یہ نکات ڈالتا رہا کہ محمد علی جناح کا نظریہ غلط تھا، گاندھی نے بالکل درست کہا تھا، اگر مسلمان ایک قوم ہوتے تو پاکستان میں یوں ایک دوسرے کے گلے نہ کاٹتے۔

ہندوستانی میڈیا نے اس پر ڈرامے اور فلمیں بنائیں، ڈاکومنٹریز نشر ہوتی رہیں، تجزیہ نگار لوگوں کو اطلاعات اور معلومات فراہم کرتے رہے جبکہ ہم نے جذباتی ترانوں اور یومِ کشمیر و یکجہتی کشمیر کی چھٹی منا کر کشمیر کو حاصل کرنے کی ٹھانے رکھی۔
ویسے تو ہمارے ہاں خوشامد اور چاپلوسی کا ہی دور دورہ ہے۔ البتہ ہمیں یہ جان لینا چاہیئے کہ مسئلہ کشمیر کسی چاپلوسی یا خوشامد سے حل ہونے والا نہیں ہے۔ پاکستان کے اعلیٰ حکام اور اداروں کو چاہیئے کہ وہ سنجیدگی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کا سروے کروائیں، یہ جائزہ لیں کہ دہشت گردی کی انڈسٹری سے پاکستان نے دنیا میں اور خصوصاً جموں و کشمیر کے اندر کیا پایا ہے اور کیا کھویا ہے؟ ہمیں پروفیشنل بنیادوں پر یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آج کے کشمیری نوجوان ہندوستان کی پالیسیوں اور میڈیا سے کس قدر متاثر ہوچکے ہیں؟

راقم الحروف کے تجزیے کے مطابق یہ دور مقبوضہ جموں و کشمیر میں نظریاتی بحران کا دور ہے۔ اس وقت لوگوں کے درمیان محمد علی جناح اور مہاتما گاندھی کا فرق مٹایا جا رہا ہے بلکہ مہاتما گاندھی کو ترجیح دیئے جانے پر کام ہو رہا ہے۔ ہمارے اربابِ فکر و دانش اور ملکی سلامتی کے ضامن اداروں کو یہ محاسبہ کرنا چاہیئے کہ ہم نے آج تک مقبوضہ کشمیر میں دینِ اسلام کے نظریہ آزادی اور قائداعظم محمد علی جناح کے نظریات کی ترویج و اشاعت کیلئے کیا کچھ کیا ہے؟ قصّہ مختصر یہ ہے کہ جب ہم پاکستان میں برادر کُشی میں مصروف تھے، اس وقت ہندوستان ہائبرڈ وار کے ذریعے جموں و کشمیر کو فتح کر رہا تھا۔ آج جموں اور کارگل والے اپنے آپ کو تحریکِ آزادی کشمیر سے جدا رکھنے کو ہی دانشمندی کہتے ہیں، آج جو لوگ مقبوضہ کشمیر میں مقاومت کر رہے ہیں، اب وہ پاکستان سے الحاق کے مسئلے پر تقسیم در تقسیم ہوچکے ہیں۔

کشمیر میں یہ نظریاتی کشمکش کا وقت ہے، پاکستانی اداروں کو اس وقت کشمیر میں قائداعظم کے نظریات کے احیاء اور نظریہ پاکستان کی ترویج و اشاعت کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ماضی غلطیوں کو اب بھی تسلیم نہ کیا اور اپنی برادر کُشی پر مبنی پالیسیوں کو ترک نہ کیا تو تحریکِ پاکستان اور تحریکِ آزادی کشمیر کے شہداء سے بری طرح شرمندہ ہونگے۔ کشمیری شہداء سے اظہارِ وفاداری کیلئے سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم اور صدائے کشمیر فورم نے 4 جنوری 2021ء کو ایران کے شہر قم المقدس میں ایک انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس منعقد کروائی، کانفرنس کا مقصد کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرنا تھا۔ کانفرنس سے آنلائن خطاب پاکستان سے مرکزی امیر جماعت اہل حرم مفتی گلزار احمد نعیمی نے کیا، انہوں وحدتِ اسلامی، اسلام میں آزادی کی اہمیت اور کشمیریوں کی جدجہدِ آزادی کے حوالے سے انتہائی جامع اور جاندار گفتگو کی۔
جاری ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *