ماہر کون؟ (27)۔۔وہاراامباکر

ہم، عام لوگ، کیسے طے کریں کہ ماہر کون ہے۔ اس پر ہمیں ایک دلچسپ گائیڈلائن ایلون گولڈمین سے ملتی ہے۔ گولڈمین کا نکتہ نظر اس بارے میں روایتی نکتہ نظر سے کچھ ہٹ کر ہے۔ “ہم پہلے یہ طے کرتے ہیں کہ جو بات کر رہا ہے، وہ کون ہے۔ ایسا کرنا درست طریقہ ہے۔ کیونکہ کسی معاملے پر میں اگر شواہد کا خود تنقیدی جائزہ نہیں لے سکتا تب مجھے اس بارے میں ماہر کی رائے پر بھروسہ کرنا پڑے گا اور میرے لئے یہ اہم معیار ہو گا”۔
گولڈمین اس بارے میں پانچ نکات دیتے ہیں۔
۱۔ دلائل کا جائزہ جو ماہر کے ہوں اور اس کے مخالف کے ہوں
۲۔ دوسرے ماہرین کا ان پر اتفاق
۳۔ کسی آزادانہ ذریعے سے مہارت کی تصدیق
۴۔ ماہر کے ذاتی تعصبات کا علم
۵۔ ماہر کا سابقہ ریکارڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان میں سے پہلے معیار کا ہم کسی حد تک اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اور اگر کسی کے دلائل بے تکے ہیں تو کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔ ایک سیاستدان زیادہ سے زیادہ پبلک پالیسی جانتا ہے اور اس کی مہارت اس میں ہوتی ہے کہ وہ ہمیں قائل کر لے کہ وہ اپنے مخالف سے بہتر طریقے سے امورِ حکومت چلانے کا اہل ہے۔ لیکن عام لوگ خارجہ امور، معیشت، قانون وغیرہ کے بارے میں اتنی واقفیت نہیں رکھتے کہ اس کی رائے پرکھ سکیں۔ دوسرا یہ کہ لفاظی کا فن اس کی کمزوریاں چھپا لیتا ہے۔ اچھا سیاستدان (خواہ جتنا بھی دعویٰ کر لے) معیشت کے بارے میں ہم سے زیادہ بہتر نہیں جانتا۔ اور اچھا سیاستدان مختلف سامعین کے آگے مختلف قسم کی باتیں کرتا ہے۔ اچھا خطیب اصل دنیا سے کٹے پروفیسر سے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے لوگوں کو قائل کر سکتا ہے۔
پہلا نکتہ کسی حد تک راہنمائی کر سکتا ہے لیکن کئی جگہوں پر نہیں۔

دوسرا نکتہ ماہرین کے اتفاق کا بتاتا ہے۔ اگر کئی مکینک بتا رہے ہیں کہ گاڑی کا کاربوریٹر خراب ہے تو امکان ہے کہ خراب ہو گا۔ ماہرین کا اتفاق غلط چیز پر بھی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ تاریخ میں ایسی مثالیں ہیں جیسا کہ گلیلیو درست تھے اور باقی اطالوی آسٹرونومر غلط تھے۔ وقت نے انہیں درست ثابت کر دیا۔ لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔

tripako tours pakistan

تیسرا نکتہ آزادانہ شواہد کا ہے۔ مثلاً، اگر کسی کے پاس اچھی یونیورسٹی کی ڈگری ہے تو امکان ہے کہ اسے اس شعبے کے بارے میں کچھ پتا ہو گا۔ ایسا لازمی نہیں۔ ہمیں کئی اچھی یونیورسٹیوں کے ڈاکٹر بھی ملتے ہیں جن کی انفارمیشن غلط ہوتی ہے۔

چوتھے میں وہ ماہر کے تعصبات کا ذکر کرتے ہیں۔ اور یہاں پر توازن کی ضرورت ہے۔ ہم کسی کے جائز نکتہ نظر کو متعصب صرف اس وجہ سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہمیں پسند نہیں۔ صرف یہ کہ ہمیں اس بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب اس کے تعصبات ہمارے جیسے ہوں۔

پانچویں میں سابقہ ریکارڈ کا ہے۔ اگر ایک مکینک کامیابی سے نقائص کی شناخت اور مرمت کرتا رہا ہے تو مسئلے کے معاملے میں اس کی رائے کا وزن زیادہ ہے۔ (اگرچہ لازم نہیں کہ وہ درست ہو)۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کینسر پر تحقیق میں کامیابی کا ریکارڈ کسی کی معیشت کے بارے اچھی رائے کی گارنٹی ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ یہ اس کی ذہانت کا بتائے گا۔ ذہانت اور مہارت الگ ہیں۔
گولڈمین کے یہ پانچ نکات راہنمائی کر سکتے ہیں۔ لیکن فول پروف نہیں۔ اور ہمارا مقصد بھی دستیاب شواہد کے مطابق بہترین رائے تک پہنچنی کی کوشش ہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا مقابلہ ہم دو متضاد آراء پر کروا لیتے ہیں۔ ایک طرف براون یونیورسٹی کے بائیولوجسٹ کینیتھ ملر ہیں جبکہ دوسری طرف لیہائی کے بائیوکیمسٹ مائیکل بیہے۔ دونوں کی ایولیوشنری بائیولوجی کے بارے میں آراء متضاد ہیں۔ کس پر اعتبار کیا جائے۔ چونکہ ہم ماہر نہیں تو اس پر راہنمائی لینے کیلئے گولڈمین کا پیمانہ استعمال کرتے ہیں۔

پہلا راؤنڈ: دلائل کا جائزہ
میری اپنی رائے اس بارے میں متعصب ہے اس لئے ہم اس کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ دونوں اس موضوع پر کتابیں لکھ چکے ہیں اور دونوں اس بارے میں 2005 میں عدالت میں پیش ہوئے جس میں استدعا کی گئی تھی کہ انٹلیجنٹ ڈیزائن کو نصاب میں پڑھایا جائے۔ یہاں پر جج کنزرویٹو تھے۔ انہوں نے دلائل کا جائزہ لیتے ہوئے کینتھ ملر کے حق میں رائے دے دی۔ سکور ملر کے حق میں 1-0 ہو گیا۔

دوسرا راؤنڈ: دوسرے ماہرین کی رائے
اگرچہ بیہے کو اپنے حق میں چند بائیولوجسٹ مل سکتے ہیں لیکن پروفیشنل بائیولوجسٹ میں سے بہت بھاری اکثریت کری ایشنزم کو رد کرتی ہے۔ اگرچہ یہ کافی نہیں لیکن سکور مل کے حق میں 2-0 ہے۔

تیسرا راؤنڈ؛ آزادانہ رائے سے مہارت کی تصدیق
یہاں برابر کا مقابلہ ہے۔ ملر اور بیہے دونوں پی ایچ ڈی ہیں۔ دونوں سائنسی جرائد میں اپنے اپنے شعبوں (بائیوکیمسٹری اور خلیاتی بائیولوجی) میں پئیر ریویوڈ مضامین شائع کروا چکے ہیں۔ مقابلہ اب 3-1 ہے۔

چوتھا راؤنڈ: تعصبات کیا ہیں؟
یہ دلچسپ ہے۔ سائنس مخالف اور مذہب مخالف ارتقا کو ایسا خیال قرار دیتے ہیں جس کا تعلق مذہب سے ہے۔ اسلئے ہم ان کے مذہبی تعصبات کو دیکھتے ہیں۔ بیہے اور ملر دونوں باعمل کیتھولک کرسچن ہیں۔ یہ کئی بار دہرائے جانے والی منترا کے خلاف جاتا ہے کہ ارتقا کوئی مذہب مخالف ایجنڈا ہے۔ (اگرچہ ایسے سائنسدان ہیں جو بیک وقت کری ایشنزم اور مذہب کے مخالف ہیں۔ لیکن یہ دونوں معاملات الگ ہیں)۔ لیکن یہاں پر مقابلہ برابر رہا اور سکور 4-2 ہے۔

پانچواں راؤنڈ: سابقہ ریکارڈ کیسا ہے؟
یہاں پر میرا خیال ہے کہ ملر جیت جاتے ہیں۔ یہ تو درست ہے کہ بیہے کے کئی بہت اچھے پیپر ہیں لیکن ان میں سے کسی کا تعلق ارتقائی بائیولوجی سے نہیں۔ جبکہ ملر اگرچہ سیل بائیولوجسٹ ہیں لیکن ان کی لکھی کتابیں جنرل اور ایولیوشنری بائیولوجی میں پرھائی جاتی ہیں۔ زیرِ بحث معاملے میں سابقہ ریکارڈ دیکھا جائے تو ملر کو برتری حاصل ہے۔ میچ کا سکور 5-2 رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظاہر ہے کہ اس چھوٹی سی مشق سے ہم نتیجہ یہ نہیں نکالتے کہ ملر یقینی طور پر درست ہیں اور بیہے غلط ہیں۔ نہ ہی اس کو کسی وسیع بحث کو سادہ طریقے سے ریڈیوس کرنے کا طریقہ سمجھنا چاہیے۔ لیکن یہ ایک پیچیدہ معاملے میں، جس کے تکنیکی معاملات کو ہم زیادہ نہ سمجھتے ہوں، ذہن بنانے میں راہنمائی کر سکتا ہے۔ ٹی وی پر جاری کسی مباحثے میں ماہرین کے دعووں پر اس سے راہنمائی لے سکتے ہیں۔ اس سے آپ یہ سمجھ سکیں گے کہ کسی چیز کو قبول یا رد کرنے کے لئے آپ کی اپنی وجوہات کیا ہیں۔
اب تک کچھ واضح ہو چکا ہو گا کہ کچھ لوگوں کو ہم ماہر سمجھ سکتے ہیں۔ ایک معقول حد تک ان کی ماہرانہ رائے پر اعتبار کر سکتے ہیں۔ اور اندازہ کر سکتے ہیں کہ معتبر کون ہے۔ ماہرین غلطیاں کرتے ہیں اور اس کی بھی گارنٹی نہیں کہ بہت سے ماہر ملکر بھی درست ہی کہہ رہے ہوں۔ دستیاب شواہد کے مطابق بہترین خیال ۔۔۔ سائنسی سچائیوں کی یہی نیچر ہے۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *