دال دلیہ۔۔صائمہ عثمان

ہم میں سے کون ہے جس نے زندگی میں کبھی دال دلیہ چکھا یا کھایا نہ ہو۔ اکٹھے بولے اور سمجھے جانے والے ان دونوں بہن بھائیوں میں اس وقت پھوٹ پڑجاتی ہے جب انھیں پکایا یا کھایا جاتا ہے۔ نہ یہ اکٹھے پکتے، نہ کھائے جاتے ہیں۔

کسی زمانے میں دونوں کا معاشی مقام بھی ایک سا ہوتا تھا ۔ غریب روکھی سوکھی کے ساتھ دال دلیہ پر گزارا اور شکر پڑھ کے سو جاتا اور نیند میں بھی مٹھاس پاتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ، ترقی کرتے کرتے دال، دلیے کو پیچھے چھوڑ کر گوشت کی قطار میں آن کھڑی ہوئی۔ کسی کو اگر اپنی اوقات بڑھانا سیکھنی ہو تو دال سے سبق حاصل کرے۔

tripako tours pakistan

دلیہ ہمارے ہاں مریض کی خوراک سمجھی جاتی ہے۔ دلیہ کھا کر مریض بھی اتنا ہی چاق و چوبند ہوجاتا ہے جتنا کہ چارجر پاکر موبائل فون۔

دلیے کو کھانے کے لیے  گلانا نہیں پڑتا، ہاں دال اگر نہ گلے، تو گلے سے نیچے نہیں اُترتی۔ خیر! اتنا نخرہ تو دال میں شروع سے ہی تھا۔ اپنی دال گلانے کے لیے  لوگ کیا کچھ نہیں کرتے۔ جن کی دال نہ گل رہی ہو، انہیں چاہیے اپنی دال بدلیں۔ نہیں تو آمیزے کی کوشش کر دیکھیں۔ ہو سکتا ہے ایک دال گلنے میں دوسری کی مدد کر دے۔ جبھی تو کسی کو آج تک حلیم سے کوئی شکوہ نہیں ہوا۔ جو مشہور ہی اپنی حلاوت کے لیے ہے۔ سو جہاں دال نہ گلے، وہاں حلیم ضرور ٹرائی کریں۔ کامیابی کے کافی امکان ہیں۔

دال حالات کے تحت پیسی بھی بہت جاتی ہے۔ پسی دال کے پکوان بنتے ہیں جنہیں نیچے بیٹھ کے کھائیں تو بہتر ہے۔ اونچائی پہ جا کے اکثر پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ انہی پکوانوں میں شامل پکوڑوں سے کڑی بنائی جاتی ہے۔ کڑی ہمیشہ زیادہ بنائیں تاکہ فریز کر کے رکھ لیں۔ جہاں دال نہ گلے اور اونچی دکان کا پکوان پھیکا ملے، آپ اپنی باسی کڑی میں ابال لا کر اسے تازہ کر لیں۔ کسی کو کانوں کان خبر ہوتی ہے ۔۔۔ تو ہوتی رہے۔ بلکہ پڑوسیوں سے روٹیاں منگوا کر انہیں آٹے دال کا بھاؤ دوبارہ یاد کروائیں۔

دال واحد ڈش ہے جو پلیٹ کے علاوہ جوتیوں میں بھی بٹتی ہے۔ جانے یہ کیسا رواج ہے پر آج بھی لڑائی بھڑائی کے مواقع پر جوتیوں میں دال ہی بانٹ کر اظہار ہوتا ہے، مجال ہے جو کوئی سبزی یہ ذمہ داری سنبھالنے کو تیار ہو۔

خواتین میں مونگ کی دال خاصی مقبول ہے جسے سینے پہ دلنے کے لیے  بالخصوص استعمال کیا جاتا ہے۔ سینے پہ مونگ دلنے کے لیے پہلے خود جلنے کا اہتمام کریں۔ خود نہ جل پارہے ہوں تو کسی بی جمالو سے ہی تیلی لگوا لیں۔ نہ نہ بہت انگاروں پہ بھی لوٹنے پوٹنے کی ضرورت نہیں۔ بس جلن کی کیفیت رکھیں ورنہ سینہ اور دال الگ الگ رہتے ہیں اور دال دَل کے نہیں دیتی۔

دالوں میں مسور کی دال کا بھی اپنا ہی الگ نخرہ ہے۔ جو اسے نہیں کھاتے یہ بھی انکے منہ لگنا پسند نہیں کرتی۔ اور اِترا کے اگلے کو اس کی اوقات اور منہ فوراً  یاد دلاتی ہے۔۔۔ ہائے ہائے یہ منہ اور مسور کی دال!

جاتے جاتے دال میں کالے کا بھی ذکر کرتی چلوں۔ دال میں کبھی کوئی  گورا نہیں پایا گیا جب بھی ملا دال میں کالا ملا۔ ہائی کلاس فیملی والی دال میں کالا کم کم ہوتا ہے۔ دال میں سے کنکر پتھر چننا بھی اتنا ہی اہم کام ہے جتنا کہ لڑکی کیلئے   اچھا بَر چننا۔ جو لوگ دال نہیں کھاتے انھیں دلیے کا بھی شوق نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ گوشت خور ہوتے ہیں اور ساری زندگی قصائی  کے ہاتھوں خوار ہوتے رہتے ہیں۔ کہیں آپ بھی ان میں سے ایک تو نہیں؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *