سرپھروں کی تلاش(اختصاریہ)۔۔جاوید حسین آفریدی

تاریخ ایسے سرپھروں کو یاد رکھتی ہے، کیونکہ یہ لوگ نئی راہیں، نئی کھوج اور نئے عزم کے پیکر ہوتے ہیں۔

دو دن سے میں  کشمکش کا شکار  تھا کہ آخر کیا فائدہ ہوا ایسی خودکشی نما شوق کا کہ جس میں زندگی سے ہاتھ دھونا پڑ جائے، میں یہ بھی سوچتا رہا کہ کوہ پیمائی کو کھیل کہا جائے یا آرٹ کہنا درست ہوگا، یا اگر ان دونوں میں یہ شامل نہیں تو پھر ایک بے کار مشعلہ ہی کہا جا سکتا ہے، ایسا مشغلہ جیسے کوئی گہرے دریا میں چھلانگ لگا کر دوسری سمت جانے کی ٹھان لے، پھر وہ اگر دریا کی موجوں کا شکار نہ ہوا تو ضرور دوسری جانب نکل جائے گا ورنہ تو دریا کی  بے رحم موجوں کیساتھ ہی بہہ جائے گا۔

tripako tours pakistan

مگر ایسا کچھ تو ہے جس کی بدولت دنیا کے ٹرینڈ، کلچر اور رہن سہن بدلتے ہیں، لوگ دنیا کے ایک فیز سے نکل کر دوسرے فیز میں داخل ہو جاتے ہیں، قدرتی مسائل پر اس قدر کمزور انسانی دماغ قابو پا جاتے ہیں، یہ سب کیونکر ممکن ہوتا ہے؟ کیونکہ اس کے پیچھے ایک جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور وہ جذبہ ہے کچھ انوکھا کرنے کی  کھوج، کچھ خطرات پر مبنی ادھورے کام، کچھ تسخیر کرنے کی ایک الگ کوشش جو آج تک کسی نے سرانجام نہ دی  ہو، ایسے لوگ ایسی کوششوں میں اگر زندہ واپس لوٹ آتے ہیں تو ملک و قوم یا کُل انسانیت کے محسن قرار پاتے ہیں اور اگر فنا ہو جائیں تو تاریخ میں امر ہو جاتے ہیں۔

آج اگر محمد علی سدپارہ جیسے سرپھروں کے اس اشتیاق کو تنقید کی زد میں فراموش کر دیا جائے تو کل کو کوئی خطرے پر مبنی کھوج میں پڑنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔

میں تعریفی ٹرینڈ سے متاثر ہو کر یہ تحریر نہیں لکھ رہا، بس دل کہہ رہا ہے کہ محمد علی سدپارہ جیسے لوگ بہت خاص ہوتے ہیں اور خاص لوگ عموماً کم ہوا کرتے ہیں۔