نئی ابھرتی ہوئی جنگی حکمت عملی ! سائبر وار۔Cyber War ..جعفر بھٹی

اب دنیا جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ایک نئی جنگی حکمت عملی سے متعارف ہورہی ہےاور دنیا کے مختلف ممالک کی اٹیمی استعداد بڑھنے کی وجہ سے شائد اب Atomic War عملی طور ممکن ہی نہ ہو۔
اب دنیا کے مختلف ممالک سائبر سیکورٹی کی صلاحیتوں کے بڑھانے کی دوڑ میں شامل ہوگے ہیں کیونکہ ۔نئی جنگیں نہ روایتی ہونگی اور نہ ہی اٹامک بلکہ سائبر وار ہونگی۔ وہ انڑنیٹ پر لڑی جائیں گی۔
یو ایس اے الیکشن کے دوران روس کے ہیکرز کی بازگشت ہر ایک نے سنی۔ آج ایک اور خبار بھی کی زینت بنی کہ ” امریکی حکومت نے اپنی عوام کو خبردار کیا ہے کہ ہیکرز توانائی اور صنعتی کمپنیوں پر حملے کرسکتے ہیں، یہ عوامی انفراسٹرکچر اور پاور انڈسٹری کو درپیش سائبر حملوں کے خطرات کا حالیہ مظہر ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے جمعہ کو رات گئے جاری کی گئی ایک ای میل میں خبردار کیا ہے کہ جوہری، توانائی، ایوی ایشن، پانی اور حساس انڈسٹریز کے ساتھ ساتھ حکومتی اداروں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے”
ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی اس حوالے سے کافی تیاری کر چکے ہیں گزشتہ سال یوکے نے ا پنی کاروباری Asserts کو محفوظ بنانے کے لیے کئ ارب پونڈ بجٹ مختص کیے۔ اسرائیل تو اپنے سکولز میں بھی سائبر سیکورٹی کے مضامین پڑھا رہا ہے
انڈیا نے تو پہلے بھی سائبر سیکورٹی پر خصوصی فوکس کیا ہوا ہے اسکی کئی یونیورسٹیز سائبر سیکورٹیز میں ڈگری افر کر رہی ہیں اور کئی سائبر سیکورٹی کے ادارے موجود ہیں
کچھ عرصہ پہلے جب پاکستانی ہیکرز کے ایک گروپ نے انڈیا کے انتہائی دس اہم اداروں کی websites کمپروماز کر لیں ۔جن میں
National Aeronautics،
Army Institute of Management and Technology،
Defence Institute of Advanced Technology،
Army Institute of Management,
the Board of، Research in Nuclear Sciences.
شامل ہیں تب انڈین حکومت نے ڈیفنس سائبر ایجنسی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو ملک کے اندر موجود دیگر نیشنل سائبر سیکورٹی اداروں کے ساتھ ملکر کام کرے گئ۔ اور تقریبا ایک ہزار سائبر سیکورٹی ایکسپرٹ ارمی ،نیوی اور انڈین ائیر فورس میں شامل کیے جائیں گے۔
تاکہ بدلتی ہوئی نئی جنگی حمکت عملی کے تحت اپ اپنے اداروں کی حفاظت کر سکیں۔
سعودی عرب اور دوئبی بھی سائبر سیکورٹی پر خصوصی توجہ دے رہیں ۔پاکستان میں اس حوالہ سے صورت حال قابل اطمینان نہیں ہے ملک میں 100 سے زائد یونیورسٹیز ہیں لیکن کوئی بھی یونی سائبر سیکورٹی میں بیچلر اور ماسٹر ڈگری افر نہیں کر رہی ۔اگرچہ کچھ پرائیوٹ ادارے Hacking کے کورسسز کروا رہے ہیں جسکی وجہ سے ملک میں اعلی صلاحیتوں کے ہیکرز موجود ہیں۔
ہمیں معلوم نہیں کہ وطن عزیز کا کوئی سائبر وار یونٹ ہے بھی یا نہیں جو وطن عزیز کے مختلف اداروں اور Assertsکی سائبر Attck سے حفاظت کر سکے۔
پاکستانی حکومت کو چاہیے سائبر سیکورٹی پر خصوصی توجہ دے تاکہ ملک کے مختلف اداورں اور Assests

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply