عو رت

عورت
عو رت جو محبت کا استعا رہ ہے۔۔ عورت جو ند ائے محبت ہے۔۔
جب کو ئی عو رت گھر سے نکلتی ہے وہ اکیلی نہیں ہو تی گھر والوں کا فخر،بھا ئی کا غرور،شو ہر کا مان، با پ کی آن،بہن کی آس،دو ستو ں کی امید لے کر چلتی ہے۔گھر سے قدم با ہر نکالتے ہی وہ د نیا کو فتح کر نے کے خو اب د یکھتی ہے۔مگر اس کے حو صلے اس وقت کر چی کر چی ہو جا تے ہیں۔جب وہ با ہر کی د نیا کی حقیقت سے روشنا س ہو تی ہے۔۔۔
میں ایسی ہی ایک لڑکی ہو ں جو اپنے گھر سے اینکر بننے کا خواب لیکر نکلی تھی جو…..
مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب میں نے ایک سال پہلے چھو ٹے سے ٹی وی چینل سے اپنی صحافتی زندگی کا آ غا ز کیا۔۔میراپہلا تجر بہ کا فی تلخ رہا کیونکہ میرا واسطہ شر وع میں اچھے لو گو ں سے نہیں پڑا اسی دوران مجھے پتہ چلا کہ صحافت میں کس طرح بلیک میلنگ ہوتی ہے کیونکہ میرے ساتھی بلیک میلنگ کرتے تھے- جو مجھے بہت برا لگتا تھا- لیکن میں نے ہمت نہیں ہا ری کیو نکہ صحافت کے شعبے میں میں کام کرنے کا مجھے جنو ن تھا اور مجھے یقین تھا کہ میری ،محنت اور لگن ایک دن مجھے بہت آ گے لے کے جا ئے گی۔اسی ادارے سے وابستگی کے دوران میرا دل بلیک میلنگ کے کاموں سے دل بھر گیا اور پھر جلدی سے میں نے وہ ادارہ چھوڑتے ہوئے ایک دوسرے ادارے میں اپلائی کیا-
جہا ں پر حا لا ت اور واقعا ت سابقہ تجر بے سے بہتر نکلے۔مجھے احساس ہوا کہ میں اس شعبے میں کام کرسکتی ہوں اور پھر وقت نے میرے اس اندازے کو درست بھی ثابت کردیا-کسی حد تک شعبہ صحافت میں کام سیکھ جانے کے بعد میں نے اپنے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوششیں شروع کردی کیونکہ میرا خواب اینکربننا تھا جس کیلئے میں کئی سالوں سے کوششیں کرتی آرہی تھی-اور سب دوستوں کو کہہ دیا تھا کہ اگر کہیں پر اینکرشپ کی کوئی جاب نکل آئے تو مجھے بتا دینا اور پھر ایک دن میرا جنون و شوق رنگ لے آیا- کیونکہ ایک بہت بڑی شخصیت نے مجھ سے رابطہ کیا اورکہا کہ آپ اگلے اتوار کو آجائیں-
یہ الفاظ سننے کے بعد میں جیسے ہواؤں میں اڑنے لگی کیونکہ میرا خواب تھا سکرین پر نظر آنا ، اور کسی بڑی شخصیت کا رابطہ کرکے مجھے میرے خواب کیلئے سپورٹ کرنامیں نے اپنے لئے غیبی امداد جانا- اس خبر کی اطلاع میں نے اپنے دوستوں کو بھی کردی-اور پھر یوں ہوا کہ میں دن رات اپنے آپ کو سکرین پر دیکھتی- خواب تو خواب ہوتے ہیں کبھی کبھار دن میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں اس لئے میں کرسی پر بیٹھے بیٹھے خواب دیکھنے لگتی اور اپنے آپ کو ایک نامور اینکرکے طور پر سکرین پر دیکھتی- یہ خواب مجھے دن رات نظر آتا-پورا ایک ہفتہ میں نے اسی خواب میں گزارا – یہ وہ کیفیت تھی جس کا اظہار شائد ہی میں کرسکوں- انٹرویو کیلئے جانے سے قبل میں نے خصوصی طور پر لباس بنوا لیا کہ میں کسی طور بہتر نظر آؤں- عام دنوں میں ایک کاہل سی لڑکی ہوں یعنی جس وقت مجھے کپڑے چاہیے میں اسی وقت استری کرتی تھی لیکن اس انٹرویو کیلئے میں نے ایک دن پہلے اپنا لباس ، میچنگ جوتے تیار کرلئے کہ عین وقت پر مجھے پریشانی نہ اٹھانی پڑے –
جن دوستوں کو میرے بڑے شہر میں بڑے چینل پر انٹرویو کا پتہ چلا تھا انہوں نے میری بہت ہمت بڑھائی اور کہا کہ آپ میں صلاحیتیں بہت ہیں اور انشاء اللہ آپ اینکربن جائینگی کچھ دوستوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بڑے شہر میں جانے کے بعد ہمیں بھول نہ جانا – ہمیں یاد رکھنا – ان کی باتیں میرے لئے ہمت افزاء بھی تھی اور میں اپنے آپ کو بڑی اینکر بنتے ہوئے محسوس کررہی تھی-
بڑے شہر میں انٹرویو کیلئے جاتے ہوئے میں نے اپنے کچھ کولیگ کو بتا دیا تھا کہ میں آرہی ہوں اس لئے میرے ساتھ مدد کیجیے گا-بڑے شہر میں رہنے والے میرے کولیگ نے مجھے حوصلہ بھی دیا اور کہا کہ کل آجاؤ پھرسب کچھ ٹھیک ہو جائیگا اور انہی سوچوں میں گم میں اپنی بستر پر لیٹ گئی – میرے ذہن میں تھا کہ اینکر بننے کے بعد میں اپنے ساتھیوں کو نہیں بھولوگی ساتھ ہی ساتھ اپنے امی کو جنہیں میں بہت پیار کرتی ہوں کو اپنے ساتھ لیکر آؤنگی -ان کی خدمت کرونگی کیونکہ انہوں نے مجھے بہت مشکل سے پڑھایا تھا اور میں ان کی خدمت کرنا چاہتی تھی -بڑے شہر میں گھر والوں کو شفٹ کرونگی اور پھر میرے وہ دوست ، رشتہ دار بھی کتنے خوش ہونگے جب وہ مجھے بڑی سکرین پر دیکھیں گے ۔میں بہت خو ش تھی کہ کب صبح ہو گی اور کب میں اسلام آبا د پہنچو ں گی۔۔بس انہی سو چو ں میں گم نہ جا نے کب میر ی آنکھ لگی پتہ بھی نہ چلا۔۔
اگلے دن میں جلدی سے اٹھ گئی اور پھر اسلام آباد کی طرف روانہ ہوگئیں۔اللہ اللہ کر کے گا ڑی نے منزل کی طر ف اپنا سفر شروع کیا۔۔جیسے سفر شروع ہو ا میں نے اپنا سر گا ڑی کی سیٹ سے لگا یا اور آنکھیں بند کر لی اور آگے مستقبل کے با رے میں سو چنے لگی۔۔کہ اسلام آبا د میں نو کری مل جا نے کے بعد میںیہ بھی کر وں گی وہ بھی کروں گی۔۔انہی سو چو ں میں گم اورکسی ا پنے کے با رے میں سو چتے نہ جا نے کب یہ سفر ختم ہو ا کچھ پتہ ہی نہ چلا۔۔اسلا م آبا د آڈے پر میرا دوست جو کہ بیچا رہ پچھلے ایک گھنٹے سے انتطا ر میں سو کھ ر ہا تھا جیسے ہی میر ی اس پر نظر پڑی اور اس نے بھی مجھے دیکھا تو جو سب سے پہلا کا م اس نے کیا ہا تھ اوپر کی طر ف کر کے دعا ما نگی اور پہلا جملہ کہ شکر ہے آپ کے جہا ز نے لینڈ کیا اتنی دیر میں تو بند ہ کرا چی سے پہنچ آئے۔۔پھر اسے سلام دعا کا آغا ز کیا اور میر ے آنے کا مقصد پوچھا کہ اب کہا ں جا نا ہے۔۔میں نے کہا پہلے کچھ کھا پی لیا جا ئے کیو نکہ مجھے بھو ک لگ ر ہی تھی سو ہم لو گو ں نے جنا ح سپر ما ر کیٹ کا ر خ کیا جہا ں ہم نے اپنے با قی دو دوستو ں کو بھی بلا لیا۔۔جنا ح سپرمیں ہا ٹ چلی ر یسٹو ر نٹ میں پیٹ پو جھا کے بعد اپنے دس ستوں کو اپنے آنے کا مد عا بیا ن کیا۔۔سب نے دعا دی اور سب کے مشتر کہ مشورے کے بعد میں نے ان سینئر صحافی کو جنہوں نے مجھے فون کیا تھا کو اسی جگہ آنے کا کہا جہا ں اس وقت ہم سب مو جو د تھے۔۔پہلے تو فو ن پر سینئر صحافی نے آ نے کی حا می بھر لی مگر کچھ ہی دیر بعد مجھے ایک انجا ن نمبر سے کا ل مو صو ل ہو ئی اور کہا کہ میں فلا ں با ت کر رہا ہو ں آپ ذرا سا ئیڈ پہ ہو جا ئے آ پ سے با ت کر نی ہے اپنے دوستوں سے معذرت کر تے ہو ئے میں سا ئیڈ پر چلی گئی۔تب میر ے ان معزز سینئر صحافی نے کہا کہ مجھے آپ سے اکیلے میں ملنا ہے۔کو ئی با ت نہیں ابھی اگر آپ دو ستوں کے سا تھ ہیں تو ہم بعد میں مل لیں گے اور اگر آج نہ ہو تو پھر اگلے اتوار کو مل لیں گے۔۔وہ مجھے میرے دو ستوں کے سا منے نہیں ملنا چا ہتے تھے اکیلے میں ملنے کے خواہشمند تھے -میں کچھ دیر تو اس با ت کا میں جو اب ہی نہیں دے سکی پھر اپنے با خواستہ حواس اور لہجے کی سختی کو قا بوکر تے ہو ئے میں کہا کہ سوری سر ! میں آپ سے اکیلے میں نہیں مل سکتی ہا ں اگر آ پ مجھے آفس کا ایڈریس دے تو میں آ جا ؤ ں گی ۔۔میری یہ با ت سن کر وہ سینئر صحافی بہت زور کے ہنسے پہلے تو مجھے سمجھ نہ آئی کہ پتہ نہیں میں نے ایسا کیا کہ د یا جو ان صا حب کی ہنسی ہی نہیں بند ہو ری ہے۔۔پھر مجھے میر ے سوال کا جو اب مل گیا وہ کہنے لگے بی بی اگر آج اکیلے مل نہیں سکتی تو کل آ گے کیسے جا ؤ ں گی اور اگر مل لو تو فا ئد ہ تمھا را ہی ہے نو کر ی بھی پکی سمجھو پھر آگے تمہا ری مر ضی ۔
ان صاحب کے اس جو اب کے بعد میں نے جہنم میں جاؤ کہہ کر فو ن بند کر دیا۔۔اور اپنے کھو لتے د ما غ پر قا بو پا کر کتنی دیر سو چتی رہی کہ یہ ہو ا کیا ہے۔۔دور بیٹھے اپنے دو ستو ں کو دیکھ ر ہی تھی کہ اب ان کو کیا جواب دوں گی کہ کیا ہو ا ہے۔۔کیو نکہ کہ میں کچھ دیر پہلے ہی ان لوگوں سے بہت لڑ چکی تھی کہ ہر انسا ن غلط نہیں ہو تا ہے اچھے لو گ بھی اسی دنیا کا حصہ ہیں جبکہ وہ کہتے تھے کہ اد ھر سب ایک جیسے ہیں بس فر ق صر ف اتنا ہے کہ کچھ نے چہر وں کو نقا ب سے ڈھک ر کھا ہے۔۔وہ ٹھیک تھے ۔۔مجھے ایسا لگ ر ہا تھا کہ میرے جسم سے جا ن گئی ہے۔
۔آج پہلی د فعہ میں یہ بھو ل گئی کہ میں کھڑ ی کہا ں ہو ں کیونکہ میر ی آنکھو ں میں آنسو تھے حالانکہ میں کمزور لڑ کی نہیں ہو ں مگر پھر بھی میں بے آ واز رو ر ہی تھی۔۔اچھے دوستوں کا زندگی میں ہو نابہت ضروری ہے کیو نکہ ان کو آ پ کو کچھ بتا نے کی ضرورت نہیں پڑتی یہ خو د ہی سب کچھ جان لیتے ہیں آپ کی آنکھو ں سے سو میرے سا تھ بھی یہی ہو ا کچھ نہ پو چھا کسی نے بس پکڑ کر بٹھایا اور پا نی پلا نے کے بعد سب ہنس پڑے میں بھی کیو نکہ کہ میں جا نتی تھی کہ وہ منہ سے نہ بھی کہتے مگر میں غلط ثا بت ہو چکی تھی۔۔سو سب نے کہا مٹی ڈالو Chill کرو۔اس کے بعد میں نے ان سب کے ساتھ ملکر ایسے لو گو ں کو دو چا گا لیوں سے نو ازہ اور گپ شپ میں مصروف ہو گئے۔
۔میں ان سب کے سا تھ ملکر ہنس ر ہی تھی گپ لگا ر ہی تھی مگر اندر سے میں ٹوٹ ر ہی تھی رو ر ہی تھی اپنی تذ لیل کے لیے نہیں ایک عورت کے لیے ۔۔میں کسی پر اپنی کیفیت ظا ہر نہیں کر نا چا ہتی تھی۔۔تو حا لا ت کا تقا ضہ یہی تھا کہ میں ان کے ساتھ مصر وف ر ہو ں میں نے یہی کیا ۔۔دو گھنٹے ہنستے کھیلتے ،کھا نے پینے کے بعد میں نے کہا مجھے وا پس جا نا ہے تو سب کے کھلے چہر ے مرجھا گئے کیا نکہ آ ج سب نے میری و جہ سے اپنے پروگرام کینسل کیے تھے اور سوچا تھا کہ آ ج رات دیر تک سب سا تھ ہو ں گے پرو گرام تو میرا بھی یہی تھا مگر اب میں اندر سے خا لی تھی اگر ان کے ساتھ بھی ہو تی تو ایک وقت آتا کہ میں ٹو ٹ جا تی اور رونا شر وع کر دیتی اور یہ میں نہیں چا ہتی تھی کہ میں کسی کے سا منے خو اہ وہ میر ے دو ست ہی کیو ں نہ ہوں کمز ور پڑ وں۔۔سو بھلا ئی اس میں تھی کہ وا پس آ جا تی۔۔سب نے بجھے دل کے ساتھ مجھے آڈے پہ چھو ڑہ گا ڑی کا ٹکٹ لیکر کر مجھے گا ڑی کی فر نٹ سیٹ پر بیٹھا کر وہ لو گ اس وقت تک کھڑے ر ہے جب تک کہ گا ڑی چل نہ پڑی۔۔
پرنم آنکھوں کے سا تھ میں نے اپنے ہا تھ ہلا یا اور ایک ٹھنڈی سا نس لیکر بھا ری ہو تے سر کو سیٹ کے ساتھ ٹکا دیا۔۔ اور پھر نہ چا ہتے ہو ئے بھی آنسو آنکھو ں کی با ڑ تو ڑ کر با ہر نکل آئے۔۔مجھے دکھ ان خو ابوں کے ٹو ٹ جا نے کا نہیں تھا جو بڑے شہر میں آتے ہوئے میں دیکھ رہی تھی بلکہ آ ج پہلی با زندگی میں مجھے عو رت ہو نے کا دکھ تھا میں نے سو چا کا ش میں عورت نہ ہوتی تو آ ج میر ی ا تنی تذ لیل نہ ہو تی۔۔آج مجھے احسا س ہوا کہ جب لو گ عو رت کے با رے میں گند ی با تیں کر تے ہیں تو کتنی تکلیف ہو تی ہے۔۔مجھے اپنی توہین محسوس ہورہی تھی ۔۔مجھے لگتا ہے اب میں دو با رہ سر اٹھا کے جی ہی نہیں سکو ں گی ۔۔میرا قصو ر کیا تھا یہی کہ میں ایک عورت ہو ں یا یہ کہ میں نے مر دوں کی اس دنیا میں کچھ خواب د یکھ لیے تھے اور ان کو پو را کر نا چا ہتی تھی اس لیے مجھے اتنا ذلیل کیا گیا میرے احساس کو کچلا گیا میر ی انا کو ، کہ مجھے اپنی زندگی سے نفر ت ہو گئی ۔کیا مر دو ں کے اس معا شر ے میں عو رت کو جینے کا کو ئی حق نہیں۔۔کیا یہ مر د لو گ اتنے ظا لم ہیں کہ عو رت اپنی مر ضی سے سا نس بھی نہیں لے سکتی۔۔کیا عو رت ہو نے کا مطلب یہی ہے کہ ہر مرد ہمیں ہو س بھری نظر وں سے د یکھے ۔ہما رے مذہب نے تو مرد و عورت کے برابر کے حقوق دئیے ہیں۔اسلام میں تو عورت کو بہت عز ت دی ہے تو کیا یہ ہے وہ عز ت؟؟
لیکن اپنے چھوٹے شہر میں آنے کے بعد میں اللہ کے سامنے کھڑی ہوگئی اور میں اس رب کے سامنے گڑگڑائی اور میں نے اپنے دل کی ساری باتیں ، گلے شکوے کئے اور پھر میرے دل کو سکون آگیا اور میری ہمت پھر بندہ گئی اسی ک ساتھ میں نے ایک با ت ٹھا ن لی کہ میں ان گندے مر دوں کی گند ی سو چ سے ہا ر نہیں ما نو ں گی میں اپنے خواب سچ کر کے د کھا ؤں گی اپنے بل بو تے پہ اللہ کے سہا رے پر وہ ہے نہ جس نے مجھے ابھی تک ان گندے لو گو ں سے بچا کے رکھا وہ آ گے بھی میر ی حفا ظت کر ے گا۔۔ انشاء اللہ- مجھے امید ہے کہ
کل ایک نیا دن نکلے گا نئی صبح ہو گی نئے حو صلو ں اور امنگو ں کے ساتھ ایک با ر پھر مر دوں کے اس سفا ک معا شر ے میں عو رت کے حقو ق کی جنگ ہو گی کبھی تو کا میا بی ملی گی کبھی تو عو رت عز ت سے سر اٹھا کے جےئے گی ۔۔میں نے بھی ٹھا ن لی ہے میں ہمت نہیں ہا رو ں گی اور میرا اللہ میرا سا تھ دے گا -آج مجھے ایک اور با ت ٹھیک سے سمجھ آ گئی تھی کہ ہر انسا ن کی عز ت اللہ کے ہا تھ میں ہے اور اگر وہ نہ چا ہے تو کو ئی کسی کو رسوا نہیں کر سکتا۔۔اور پتہ ہے ہما ری زندگی میں بہت سا رے اچھے لو گ ہو تے ہیں
بڑے شہر کے سفر نیزندگی جینے کا ایک نیا ڈھنگ سیکھا دیا مجھے۔۔یہ سفر تو ہمیشہ یا د ہے گا۔۔اگا ہی کا ادرا ک ہو گیا۔۔اب زند گی جینے کا مزہ آئے گا۔۔
میں لو گو ں سے ملا قا ت کے لمحے یا د ر کھتی ہو ں۔۔میں با تیں بھو ل جا تی ہوں لہجے یا د ر کھتی ہوں۔۔

ٓٓ

Avatar
عاصمہ روشن
ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والی عاصمہ روشن نے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹر کی ڈگری کیساتھ ساتھ اردو میں بھی ماسٹر کیا ہے اور ابھی ایم فل کی طالبہ ہے -پڑھنے اورلکھنے کی کوشش بچپن سے ہیں- غیر سرکاری اداروں کیساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہیں اور اس وقت شعبہ صحافت سے وابستہ ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”عو رت

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *