سیاسی قوتیں مسائل کے حل پر توجہ دیں۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس المناک سچ کی داستان ہے کہ یہاں سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو کرپٹ، دغا باز، فریبی اور حتیٰ کہ دشمن ملک کا ایجنٹ تک بھی کہتی ہیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو کو میاں نواز شریف صاحب نے سیکیورٹی رسک کہا تھا،جبکہ میاں نواز شریف کو انڈیا نوازا بھی کہا گیا بلکہ ابھی تک کہا جا رہا ہے۔ اسی طرح گذشتہ چند سالوں میں تیزی سے ابھرنے والی سیاسی قوت پی ٹی آئی،کے سربراہ عمران خان کو مولانا فضل الرحمان یہودیوں کا ایجنٹ کہتے ہیں۔مذہبی قوتوں کو بھی دیگر سیاسی جماعتیں آڑے ہاتھوں لیتی ہیں، جبکہ ایم کیو ایم پر لگنے والے الزامات اور ان کی حقیقتیں گاہے گاہے منظر عام پہ آتی رہتی ہیں۔ملک کے تازہ سیاسی حالات میں بھی سیاسی قوتیں یکجان ہونے کے بجائے ایک دوسرے پر الزامات کے ذریعے اپنی سیاست کو زندہ رکھنا چاہتی ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سے پیوستہ روز پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی تبدیلی اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کی ترقی کو جھوٹ قرار دے دیا۔پشاور میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک نااہل وزیراعظم نواز شریف کی وفاقی حکومت نے دھوکا دیا ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ ترقی کسے کہتے ہیں، عوام پریشان ہیں، سینکڑوں مل اور کارخانے بند ہو رہے ہیں لوگ بیروز گار ہیں ،کسان کو ان کی فصل کی قیمت نہیں مل رہی جبکہ لوگ ڈگری لے کر در بدر گھوم رہے ہیں، کوئی روزگار نہیں اور کوئی ایک طبقہ بھی آپ کی ترقی سے خوش نہیں۔انہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف پر ایک مرتبہ پھر الزام لگایا کہ ترقی صرف میاں صاحب کے اثاثوں میں آئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک جانب نواز شریف کی ترقی دھوکا تو دوسری جانب عمران خان کی تبدیلی صرف جھوٹ ہے، انہوں نے مزیدکہا کہ عمران خان صرف انتشار کی سیاست کرتے ہیں اور دوسروں کو گالی دیتے ہیں جبکہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان ملک کے نامور سیاستدانوں کی تذلیل کرکے خوش ہوتے ہیں۔انہوں نے پشاور میں موجود کارکنوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کونسی تبدیلی آئی ہے آپ کے صوبوں میں؟
چونکہ بلاول بھٹو زرداری کا یہ جلسہ پشاور میں تھا اس لیے ان کا براہ راست ہدف عمران خان اور ان کی صوبائی حکومت تھی، بالکل اسی طرح جیسے عمران خان اگر سندھ میں کوئی عوامی جلسہ یا پریس کانفرنس کرتے ہیں تو ان کا براہ راست ہدف پیپلز پارٹی، آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم ہوتی ہے۔یہ طے شدہ اہداف ہیں ہمارے سیاست دانوں کے۔پیپلز پارٹی جب لاہور میں جلسہ کرے گی تو اس کا ان دنوں ہدف نون لیگ،نواز شریف اور ان کے خاندان کے کیسز ہی ہوں گے، جبکہ نون لیگ اگر سندھ میں جلسہ کرے گی تو وہ لازمی تھر کے مسئلے کو ڈسکس کرے گی۔ یوں ہم نتیجہ اخذ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کہ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی سیاسی جماعتوں کا ہدف، سستی شہرت اور دوسروں کی کردار کشی و الزام تراشی ہے۔

اس امر میں کلام نہیں کہ ملک میں بیروزگاری ہے،غربت ہے،تعلیم و صحت کی سہولیات کی کمی ہے،لیکن یہ سارے مسائل کسی ایک صوبے کے نہیں ہیں، بلکہ سندھ سمیت پورے ملک کے مسائل مشترک ہیں۔ کیا سندھ سے بے روزگاری ختم ہو گئی ہے؟کیا وہاں تعلیم اور صحت کی سہولیات کافی ہیں؟نہیں ایسا نہیں ہے، قریب قریب سارے ملک میں ایک جیسے مسائل ہیں۔ملک کو اس وقت ضرورت ہے کہ سیاسی قیادت ذاتی و فروعی اختلافات کو بھلا کر ملک کی خارجہ پالیسی کے خدوخال درست کرے، ضرورت اس امر کی ہے کہ داخلی طور پہ ابھرتے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ سیاسی قیادت ملک میں حقیقی جمہویت کی بقا کے لیے پارٹیوں کے اندر بھی جمہوریت لائے۔

نعرے ساری پارٹیوں کے پاس خوش کن ہیں۔عمران خان تبدیلی کا نعرہ بلند کرتے ہیں تو نون لیگ معاشی ترقی کا،اور پیپلز پارٹی روٹی، کپڑا اور مکان کا۔مگر زمینی حقائق تلخ ہیں اورانھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔پیپلز پارٹی، نون لیگ، پی ٹی آئی، مذہبی سیاسی جماعتیں اور دیگر سٹیک ہولڈرز مل کر ملک کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں۔پارلیمان کو مضبوط سیاست دان ہی کر سکتے ہیں اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب سیاست دان بازاری طرز سیاست کو ختم کر کے ایشوز کی سیاست کریں گے۔ مسائل کے حل کے لیے ٹھوس تجاویز لائیں گے اور ان تجاویز پر نیک نیتی سے عمل در آمدہو گا۔ بصورت دیگر وہی نوے کی دھائی والی الزام تراشیوں کی سیاست ہے اور ہم ہیں دوستو۔۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *