اس سے پہلے کہ مر جائیں۔۔ انعام رانا

ایک شادی میں شریک تھا اور بہت سے شناسا چہرے موجود تھے۔ میں ایک سائیڈ پہ بٹ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ بٹ اپنا یار ہے بچپن کا پیار ہے۔ ہم چوبیس سال سے دوست ہیں، کالج اکٹھا، لا ء کالج اکٹھا، گلاسگو یونیورسٹی اکٹھی، پھر وہ لوٹ آیا اور اب لاہور کا ایک قابل و مشہور وکیل ہے۔ دوستی مگر آج بھی چوبیس سال قبل کے خلوص اور تمام تر جگتوں، گالیوں اور پھکڑبازیوں کے مقام پہ ہے۔ دوسروں کے سامنے بٹ صاحب ،رانا صاحب۔۔ اور اکیلے میں گالی دئیے بنا بات نہ  کرنا ایک کامیاب دوستی کی نشانیوں میں سے ہے۔

شادیاں یاروں  کچھ بور سی ہوتی ہیں۔ لڑکی لڑکا تو چلو اپنی خواہشات کی آسودگی اور آنے والی زندگی کے اندیشوں کی بے چینی میں مبتلا “ایکسائٹڈ” ہوں، قریبی گھر والوں کی بھی کچھ سمجھ آتی ہے، البتہ باقی سب بس ایک حاضری ہی ہوتے ہیں۔ وہ وہاں موجود ہوتے ہیں کیونکہ ان کو ہونا چاہیے، لیا نیوتا واپس دینا ہوتا ہے، سماجی تعلق نبھانا ہوتا ہے یا پھر نئے اور بڑے تعلق بنانے کا لالچ ہوتا ہے۔

tripako tours pakistan

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ان مجبوری میں بیٹھے لوگوں کی خاطر لڑکا لڑکی کی زندگی کس کٹھنائی سے گزرتی ہے۔ شادی لیٹ ہو جاتی ہے، بے بہا پیسہ لگتا ہے اور وہ سنہری دن جو تمام عمر کی خوشگوار یادوں کا امام بننا چاہیے، شادی پہ ہوئے خرچے سے  ہونے  والی پریشانی میں گزر جاتے ہیں۔

خیر تو اک شادی تھی اور میں اور بٹ بہترین سوٹ پہنے سرگوشیوں میں پھکڑ پن کر رہے تھے کہ کھانا کھل گیا۔ وطن عزیز میں “روٹی کھل گئی جے” یا “کھانا کھا لیں” سے زیادہ رومانٹک جملہ شاید ہی کوئی ہو۔ یقین نہ  آئے تو کسی کیفے ،کسی باغ کے گوشے میں ایک دوسرے میں محو جوڑے کے اردگرد آواز لگائیے، روٹی کھل گئی اے، اگر “فرسٹ ری ایکشن” کے طور پر ہی، دو لمحوں کو ہی، اک دوجے کے مقامات بھول کر روٹی کا مقام تلاش کرنے کی کوشش نہ  کریں تو کہیے گا۔ تو اب جو روٹی کھل گئی جے کی آواز آئی تو سارا پنڈال اس کام کو لپکا کہ جس  کیلئے سلامی دی تھی۔ لپکا تو خاکسار بھی اور دو پلیٹوں میں خوراک ڈالی اور ایک میز پہ پہنچائی، کچھ دیر بعد وہاں دو کولڈ ڈرنکس لے کر گیا، پھر سویٹ ڈِش اور چائے۔ بٹ نے کھاتے کھاتے کچھ دیر تو صبر کیا لیکن جب کھاتے کھاتے میں تیسری بار اٹھا کہ گاجر کا حلوہ پیش کروں تو بٹ نے کلائی پکڑ لی۔ “او ویٹر، کھانا کھا ایہہ ساڈا ویاہ نہیں، ہم بھی مہمان ہی آئے ہیں”۔ میں بس مسکرا کر اتنا کہہ سکا، وہ اس ٹیبل پہ میرے والد کے دو دوست بیٹھے ہیں۔ بٹ جو میری رگوں سے بھی واقف ہے، اس نے کلائی ڈھیلی چھوڑ دی۔

صاحبو! مجھے اپنے باپ سے عشق تھا۔ ایسا جیسا کوئی مِیرا اپنے کرشن سے کرتی ہے۔ میں اسے خاموش چپ چاپ چھپ چھپ کر دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔ سال میں تین چار بار جب وہ چومتے تھے تو میں ویسے ہی کِھل جاتا تھا جیسے پیاسا صحرا بارش سے۔ میں کئی بار رات کو سوتے ہوئے باپ کو کافی  دیر غور سے دیکھتا تھا کہ اتنی دیر سے سائیڈ نہیں بدلی، کیا سانس اوپر نیچے ہو رہی ہے؟ میں نے زندگی انکے طے کردہ اصولوں پہ گزارنے کی پوری کوشش کی، نوجوانی کی کئی راہوں پہ فقط اسی لیے نہ  بہک پایا کہ میرے باپ کو بُرا لگے گا، اتنا عشق کیا کہ اسکی میت کے ساتھ ہی خود کو بھی شاید دفن کر دیا۔ مگر میں کبھی ان کو بتا ہی نہ  پایا کہ میں ان سے کتنا عشق کرتا ہوں۔ باپ بیٹے کی اک روایتی جھجک دیوار بنی رہی۔ کئی جگہ جب مجھے ان کو چومنا چاہیے تھا، ان سے باتیں کرنی  چاہیے تھیں، ان کو آئی لو یو ابو کہنا چاہیے تھا، میں نہ  کہہ پایا۔۔۔ نہ  انھوں نے اتنا فرینک کیا تھا اور نہ  ہی مجھ سے ہمت ہو پائی۔ میرا بہت دل کرتا تھا کہ میں انکے آگے پیچھے بھاگوں،انکی گاڑی کا دروازہ کھول کر کھڑا ہو جاؤں، وہ بیٹھے ہوں اور ویٹر بن کر انکے سامنے ہر شئے پیش کروں مگر کچھ بھی نہ   کر پایا۔ ہمیشہ یہ سوچتا تھا کہ ان کو یہ نہ  لگے کہ میں “ٹی سی” کر رہا ہوں، میرا سبھاؤ “نیچرل” نہیں لگے گا) اور پھر وہ مر گئے۔ مر کیا گئے صاحب ۔۔مار گئے۔

آج مجھے شک بھی پڑ جائے کہ کوئی میرے والد کا دوست ہے تو میں بچھ جاتا ہوں۔ میرے والد کے وہ قریبی دوست جو انکے بعد بھی ہمارے سر پہ چھاؤں کا بادل بن گئے، میں انکا کمی بن کر انکے آگے کھڑا ہوتا ہوں، انکے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتا ہوں، انکے ہاتھ چومتا ہوں، جب پاکستان آؤں ان میں سے کسی نہ  کسی کیلئے کوئی تحفہ لاتا ہوں۔ کیونکہ میں ان میں اپنا باپ دھونڈتا ہوں، شاید اپنے باپ کے چاؤ  لاڈ پورے کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ وہ سب بہت عزیز اور باپ کی مانند قابل احترام و محبت ہیں، مگر باپ نہیں ہیں۔ بھگوان ہیں مگر مِیرا کے کرشن نہیں ہیں۔

ذرا دیکھیے، شاید ابھی خدا کا فضل آپ کے گھر میں موجود ہو۔ آپ کا بوڑھا باپ یا ماں یا دونوں زندہ ہوں۔ اللہ ان کو حیاتی دے مگر اک دن وہ چلے جائیں گے۔ فیصلہ آپ کیجیے کہ تمام جھجھک، مزاج کی سختی، فضول باتوں کی ناراضی دور کر کے ان سے جی بھر کر محبت کرنی ہے، ان سے عبادت سمجھ کر عشق اور اس کا اظہار کرنا ہے، یا پھر میری مانند تمام عمر ان کے دوستوں میں ان کو تلاش کر کے اپنے پچھتاؤوں کو سکون دینے کی کوشش لاحاصل۔

Avatar