تین سیریز تین سبق(تیسری قسط)۔۔محمد اقبال دیوان

زیر مطالعہ مضمون چاراقساط پر مشتمل ہے۔

پچھلی قسط میں  ویب سیریز رس بھری پر بات ہوئی تھی،  اس قسط میں   نیٹ فلکس کی منی سیریز  دی کوئینز گیمبٹ پر بات ہوگی۔۔ایڈیٹر ان چیف

tripako tours pakistan

ہم نے چونکہ ترتیب کے اعتبار سے دی کوئین گیمبٹ پہلے دیکھی لہذا اس کی بات پہلے۔

سن            1980     سے             سن  1990 تک ہم ایک مفت کی جنگ میں الجھے رہے

یہ سویت  -افغان جنگ تھی۔ لکڑی کے بکسوں میں اس قدر ڈالر آتا تھا کہ کسٹم کے چپراسی بھی  ایک آدھ گڈی  اپنے پاس رکھ کر  نہال ہوجاتے تھے ۔یہ کچھ ایسا مشکل کام نہیں۔نیٹو کے اسلحہ کے کنٹینرز  بھی  تو  آخر کراچی  پورٹ سے        ہی  کھسکائے گئے  تھے۔

-the-queens-gambit-exlarge
WalterTevis
world champion
vishali of india
Aleksandra Kosteniuk

 سرکش غیر ملکی جذباتی نوجوان جنگجوؤں جن سے ہمارے دوست ممالک   بشمول  اسرائیل، کو ہر وقت شورش کا سامنا رہتا   تھا  وہ اپنے مقامی جنگجو ہماری سرزمین پر ہانک کر تمام سہولتیں  فراہم کرتے تھے۔انہیں حکم تھا کہ پشتو سیکھیں اور بولیں، ڈاڑھی رکھ کر شلوار قمیص پہنیں۔  شادی کے لیے مقامی بیگم خرید نے کی رقم  متعلقہ سرکار کے خزانے سے دی جائے گی۔ جن دنوں ہم یہ کام راہ ِ حق کے شہیدوں، وفا کی تصویروں سے کلاشنکوف ، اسٹنگر میزائل اور  آئی ای ڈیز کے ذریعے کروارہے تھے   تو دور کہیں ایک امریکی مصنفWalterTevisجو اوہایو یونی ورسٹی میں انگریزی  ادب کے استاد تھے، پول، شطرنج،شراب اورجوئے کے رسیا تھے ، ایک ناول کے ذریعے امریکہ کی شطرنج میں روس پر برتری ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ان کی لکھائی کمال کی ہوتی تھی۔ایک طویل عرصے سے دنیائے شطرنج پر روسی  کھلاڑیوں کی حکمرانی رہی ہے۔ان کے آخری  ورلڈچیمپئن  ولادیمر کرامنک تھے جنہیں بھارت کے وشواآنند نے ہرایا۔چلتے چلتے یہ بھی بتادیں کہ مردوں میں اس وقت ورلڈ   چیمپئن ناروے کے  مگینس کارلسن ہیں اور خواتین میں چین کی جو وین جن۔درمیان میں آپ کو بھارت کی وشالی کا نام بھی دکھائی دیتا ہے جو ورلڈ  چیمپئن  تو نہیں مگر ان بڑے کھلاڑیوں میں شمار ہوتی ہیں جنہیں  دنیا گرینڈ ماسٹر کہتی ہے ۔ یہ ٹائٹل تمام عمر کے لیے عطا کیا جاتا ہے۔

انہی نامور کھلاڑیوں میں روس کیAleksandra Kosteniuk  کا شمار بھی ہوتا ہے جو  ورلڈ  چیمپئن  بھی رہی ہیں ۔ ان کے ساتھ بازی جماتے وقت  ان کے حسنِ  دل فریب کی وجہ سے یہ

بڑی  الجھن  ہوتی ہے کہ ان کی چال  پر نظر رکھیں کہ اپنا چلن  سنبھالیں۔

والٹر ٹیوس جن کا  خود اپنے بارے میں کہنا تھا کہ وہ دوسرے درجے کے امریکن لکھاری ہیں۔ یہ  محض ایک کسر نفسی کا بیانیہ ہے ورنہ ان  کی لکھائی اس کمال کی ہوتی تھی  کہ مشہور کنیڈین ادیب و شاعر مائیکل اونداچی(Ondaatje)کا کہنا تھا کہ    گیمبٹ کوئین  کی  لکھاوٹ   اتنی عمدہ ہے کہ وہ اسے ہر سال  دو سال بعد دوبارہ اس لیے پڑھتے ہیں کہ اس سے ان کی تحریر میں پختگی آتی ہے۔

ایلن اسکاٹ جنہوں نے اس سیریز کا  سکرپٹ لکھا وہ کہتے  ہیں کہ والٹر ٹیوس بیسویں صدی کے بہترین امریکی مصنف ہیں۔

ہم نے کتاب تو نہیں پڑھی مگردی کوئینز گیمبٹ کا  پلاٹ، واقعات اور ماحول چارلس ڈکنس کی کہانیوں جیسا  ہے۔

ایک واقعے سے دوسرا واقعہ جڑا ہوا، شکستہ خاندان ،یتیم بچی،منشیات کی عادی ماں،یتیم خانے کا ماحول۔حوصلہ مند ہیرو  ہیروئن کو پامردی سے حالات کا مقابلہ کرکے انہیں شکست دیتا ہے۔

ہمارا اپنا مشاہدہ یہ ہے  کہ فلم کی ہیروئن بیتھ ہارمون اور ٹیوس کی زندگی میں بربڑی مماثلت ہے۔مصنف ٹیوس  کے والدین بھی دور ایک شہر کے کسی یتیم خانے میں اسے چھوڑ کر چلے گئے ۔ٹیوس کو بھی چیس کھیلنے کا بہت شوق تھا گو وہ بیتھ ہیرمن کے لیول کے کھلاڑی نہ تھے۔ان کو جوڑوں کی شدید تکلیف کے باعث ایسی درد کی روک تھام والے Phenobarbitalکیپسول سات برس کی عمر سے دیے جاتے تھے جن سے ان کا دماغ درد سے سُن ہوکر کہیں اور فوکس کررہا ہوتا تھا۔ یہ بات آپ فلم کے دوران بھی ہیروئن کے حوالے سے نوٹ کریں گے۔ یتیم خانے کی ان سب بچیوں کو بھی وٹامن سپلیمنٹ کے نام سے  ایسے سکون آور کیپسول دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں احتجاج و اشتعال بہت قابو میں رہتا ہے۔

gary kasporov

مصنف ٹویس  کی تین کتابیں فلم کے روپ  میں ڈھل چکی تھیں

  • “The Man Who Fell to Earth
  • The Hustler
  • The Color of Money,”
anya
anya
anya-taylor-joy-exlarge
final win

سیریز اس لئے بہت بڑا phenomenonثابت ہوئی کہ لوگوں کے پاس تسلی سے کرونا کے ایام وبا میں گھر بیٹھ کر سیریز دیکھنے کا اور چیس سیکھنے کا وقت تھا۔ سیریز میں چونکہ شطرنج کی اعلیٰ  لیول کی چالوں بالخصوص کرکٹ کی طرح،  اوپننگز کا بہت رول تھا لہذا گرینڈ ماسٹر بروس پینڈ و ل فنی اور دنیا کے عظیم  چیمپئن  گیری کیسپورو جن کا تعلق تو روس سے تھا مگر وہ ترک وطن کرکے نیویارک آگئے ان دونوں کو بطور مشیر خاص رکھا گیا تھا۔ گیری کیسپورو کا کہنا تھا کہ  ناول کے حساب سے چونکہ مصنف محض ایک شوقیہ لیول کے عام سطح سے ذرا بلند درجے کے کھلاڑی تھے لہذا ان کو ان  اوپننگ کو عالمی معیار کے مقابلے کی مووز بنانے کے لیے   خاصی محنت کرنی پڑی۔اس محنت میں اس وقت اور بھی اضافہ اور پروفیشنل مہارت کو شامل کرنا پڑا جب انہیں یہ احساس ہوا کہ بیتھ ہیرمن دراصل  امریکہ کے واحد ورلڈ  چیمپئن   بابی فشر کا ایک طرح سے زنانہ خاکہ ہے۔بابی فشر ان کے ہیرو تھے۔

جب فشر کا سن 2008 میں انتقال ہوا تو ان کے وفات نامے میں نیویارک ٹائمز نے لکھا تھا کہ ان کا شطرنج کھیلنے کا اندازvolatile(کافور صفت) ڈرامائی ذہانت بھرا اور بے حد پیچیدہ تھا۔کم و بیش ایسا ہی  اہتمام  بیتھ کے کردار میں دکھائی دیتا ہے۔ 

فلم کی اصل ہیروئن اداکارہ آئینہ تمثالAnya Taylor-Joy ہے۔ان کے لباس اور بدن کی نمود سے بیتھ کے  کردار کی عمر کے مختلف ادوار کا بہت ہی نفیس اظہار ہوتا ہے۔ وہ سیریز میں اپنے رول کے بارے میں اس  حد تک سنجیدہ تھیں کہ     چیس بورڈ پر ہر چال کی جھلک        چہرے کے تاثرات سے عیاں ہو   تی رہتی ہے ۔کیمرہ کہیں بھی ہاتھ کی جنبش کو نظر انداز نہیں کرتا   ۔جب وہ بہت      سرعت اور ایک تفاخر سے سامنے والے کھلاڑی کا مہرہ پیٹ کر اسے  ایک طرف پھینک کر کلاک کا بٹن دبادیتی ہے ۔وہ وہیں فوکس کررہا ہوتا ہے ،اس  رول کے لیے ہیروئن کا انتخاب بہت سجیلا اور لاجواب ہے۔

انایا ٹیلر کی پیشہ ورانہ خوبیوں میں یہ بات شامل ہے کہ ان کا ہر کریکٹر ان کی فلم میں مکمل طور پر ان پر طاری لگتا ہے۔ گویا کردار کا جن ان کے وجود کے اندر سے ظاہر ہوتا ہے۔ان کے لباس اور بدن کی نمود سے بیتھ کے  کردار کی عمر کے مختلف ادوار کا بہت ہی نفیس اظہار ہوتا ہے۔ وہ سیریز میں اپنے رول کے بارے میں اس  حد تک سنجیدہ تھیں کہAndré Courrègesنامی فیشن ڈیزائنر جنہیں چیک کے ڈیزائن والے ملبوسات پسند  ہیں ان کو منتخب کیا۔ انہوں نے صرف  اتنی سی بات پر اکتفا نہیں  کیا   بلکہ جزئیات کو اس حد تک نبھایا کہ  شطرنج کے ان کے عالمی مقابلے والے دن ان کے مہروں کا رنگ سفید ہوتا ہے اس لیے ان کا لباس بھی کامل سفید رنگ کا تھا۔

ہم نے آپ کو بتایا تھا نا کہ ٹی وی سیریل  اپنے لکھاری کے زور پر چلتی ہے ۔پی ٹی وی کے سیریل اندھیرا اُجالا(یونس جاوید)ایک محبت سو افسانے(اشفاق احمد) انکل عرفی(حسینہ معین) اور وارث امجد اسلام امجد کو ذہن میں لا کر ہمارا نقطہ سوچیں۔باقی معاملات اس میں ثانوی اہمیت اختیار کرجاتے ہیں جس میں واحد نقب کسی  اداکار کی کریکٹر کی بہت عمدہ پورٹریل ہوتی ہے ۔ہیروئن معمولی تعلیم یافتہ اور نسبتاً ایک محروم پس منظر سے ابھری ہے لہذا اس میں سارا زور چہرے پر ظاہر ہونے والے تاثرات کے اتار چڑھاؤ   کا ہے۔ ہیرمن بیتھ کی دنیا ، دماغی ہے ۔وہ تاریک کمروں کی چھت پر بھی شطرنج کی بساط بچھا کر Blind Chessکھیل رہی ہوتی ہے۔شطرنج کی دنیا چونکہ بہت منطقی دنیا ہے لہذا اس کا دوسرا مظاہرہ کہیں کہیں اس کی ریاضی میں مہارت  سے بھی ہوتا ہے جس میں منطق کا بہت زور ہوتا ہے۔

heath ledger
Elliot_Page
Carolingiani-106907 euros

صوفی کہتے ہیں انسانوں کی اکثریت دنیائے شکم میں بستی ہے۔ان سے بلند دنیائے دماغ میں رہنے والے ہوتے ہیں اور ان سے بھی اعلیٰ  اہلِ  قلوب۔کسی فلم کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ٹرینڈ سیٹر بن جائے ۔ اس حوالے سے کوئینز گیمبٹ بہت ہی لاجواب ثابت ہوئی کہ ایک بہت بڑی غلطی کے بارے میں کسی کی توجہ نہیں گئی، کہ  فلم کا عرصہ سن ساٹھ کا امریکہ ہے مگر بہت کم لوگ اس امر سے واقف ہیں کہ شطرنج کے عالمی مقابلوں میں سن اسّی تک خواتین  کو شرکت کی اجازت نہ تھی۔یہی وجہ کہ سیریز میں دکھائے گئے  شطرنج کے مقابلوں  میں  بیتھ کے علاوہ کوئی خاتون کھلاڑی دکھائی نہیں دیتی۔

ایک امریکی اداکار اور مصنف و ہدایات کار ہیتھ لیجر نے  سن 2008 میں فلم پر کا کام شروع کردیا تھا ۔وہ بہت پائے کے شطرنج کے کھلاڑی تھے۔وہ ٹیوس کے ناول کوئینز گیمبٹ پر بنائی جانے والی اس فلم میں خود  کو بطور ہیرو اور اداکارہ ایلیٹ پیج کو ہیروئن کاسٹ کرنا چاہتے تھے۔زندگی نے وفا نہ کی مگر ان کے ساتھ جو Allan Shiach نامی ایک اسکرین رائٹر تھے انہوں نے اس کا اسکرپٹ سنبھال کر رکھا اور اپنے دوست اسکاٹ فرینک کے ساتھ اس سیریز کو بنایا یہ الگ بات ہے کہ وہ فلم کے ٹائیٹل پر اپنے قلمی نام ایلن اسکاٹ کے ساتھ نمودار  ہوئے۔

سات ایپی سوڈز  کی اس سیریز کے ٹرینڈ سیٹر ہونے کی بات کریں تو ساڑھے چھ کروڑ گھروں میں اسے دیکھا گیا اور 94 ممالک میں  63  ایسے تھے جہاں یہ نمبر ون کے درجے پر براجمان رہی۔سیریز یوں بھی بہت کمال ہے کہ twitch.tvنامی ایک گیم چینل پر لوگ لائیو ٹورنامنٹس میں شرکت کرتے ہیں۔ گوگل پر چیس کے بارے میں کھوج میں دو سو گنا اضافہ ہوا  اس سیریز کے منظر عام پر آنے کے بعد چیس ڈاٹ کام نامی سائٹ کی ممبر شپ میں ہر ماہ دس لاکھ کا اضافہ رجسٹر کیا گیا۔گولیاتھ گیمز جو کھیلوں کا سامان بناتی ہے اس کے مطابق چیس بورڈز کی فروخت میں گیارہ سو گنا اضافہ دیکھا گیا۔ خود خواتین کھلاٹیوں  کی تعداد میں بھی اس سیریز سے پہلے کی نسبت دس فیصد اضافہ ہوا یہی نہیں ایک خاتون نے جن کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی ایسی خاص جائیداد نہیں انہوں نے عسکری مہروں پر مشتمل Carolingi XIV chess set خریدا ہے ۔ یہ پاکستان کے حساب سے کوئی سوا دوکروڑ روپے کا نسخہ ہے۔ ۔ یہ الگ بات کہ وہ جن مولانا صاحب اور سندھ کے خوبرو نوجوان کے ساتھ بازی لگانا چاہتی ہیں وہ ان کے چچا سمیت پہلے ہی طے شدہ عسکری مہرے ہیں۔یہ بات ہم نے مذاقاً  لکھی ہے۔ورنہ خریدار خاتون تو در حقیقت امریکہ میں رہتی ہیں۔پاکستان کی  طاقت ور پینڈو اشرافیہ کے ہاں یہ ذوق گاڑیوں اور چپل جوتوں تک محدود  ہے جب کہ شطرنج میں دماغ کا بہت استعمال ہوتا ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *