خیر و شر۔۔شاہد محمود

ازل سے خیر و شر کے معاملات چل رہے ہیں ۔۔۔۔ حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حوا علیہ السلام کا شیطان لعین کے مکر و فریب سے بچھائے گئے جال کی وجہ سے فردوس بریں سے زمین پر آنا ۔۔۔ ہابیل کا قابیل کے ہاتھوں قتل ۔۔۔ جس میں نفس و شیطان کی کاریگری صاف نظر آتی ہے ۔۔۔ وقت گزرتا گیا ۔۔۔ ابلیس لعین نے قیامت تک مہلت “اللہ کریم سے مانگ” کر لی ہے اور ہم بھی اس لعین ابلیس مردود کے مکر و فریب و بچھائے گئے جال اور اس کی طرف سے پیدا کئے گئے وسوسوں اور اپنے نفس کے شر سے بچنے کے لئے “پیارے اللہ کریم سے ہی دعا، مدد اور راہنمائی مانگ سکتے ہیں”۔ اللہ کریم ہی ہمیں شیطان مردود اور ہمارے اپنے نفس کے شر سے ہمیں بچا سکتا ہے۔ اللہ کریم کی رحمت میں داخل ہونے کے لئے رحمت اللعالمین ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی ہی ایک واحد دروازہ ہے اسی لئے ہمارے رحمٰن و رحیم پیارے اللہ کریم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ ﷲِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ.
’’فی الحقیقت تمہارے لیے رسول ﷲ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونۂِ (حیات) ہے۔‘‘
(الاحزاب، 33: 21)
اور ہمارے پیارے رحمٰن و رحیم اللہ کریم نے ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابوالقاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس کو قرآن کریم میں یوں ارشاد فرمایا:
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ.
’’اور بے شک آپ ﷺ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)۔‘‘
(القلم، 66: 4)
ہمارے پیارے اللہ کریم کے پیارے حبیب اور ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابوالقاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعثت کا مقصد ہی اخلاق کی تکمیل قرار دیتے ہوئے فرمایا:
بعثت الیکم لاتمم مکارم الاخلاق.
’’میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ شریفانہ اخلاق کی تکمیل کروں۔‘‘
(الموطا کتاب حسن الخلق، ص: 756)
اور جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ام المومنین سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابوالقاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو ام المومنین سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے الٹا ان پر سوال کر دیا کیا تم نے کبھی قرآن نہیں پڑھا جو مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھتے ہو۔
پیارے اللہ کریم نے قرآن مجید میں انسانیت کی فلاح و کامیابی کے لئے جو عمدہ اخلاق بتائے ہیں وہ سب کے سب اخلاق ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابوالقاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس میں بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں حتیٰ کہ ہمارے پیارے رحمٰن و رحیم اللہ کریم نے جو اخلاقی صفات اپنے لیے بیان فرمائیں قرآن میں کئی جگہوں پر ہمارے رحمٰن و رحیم پیارے اللہ کریم نے انہیں الفاظ اور اسماء و صفات کو اپنے پیارے حبیب اور ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابوالقاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بھی قرآن مجید میں بیان فرمایا جیسے؛
لَقَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ.
’’بے شک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تشریف لائے۔ تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لیے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزومند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لیے نہایت (ہی) شفیق بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔‘‘
(التوبة، 9: 126)
درج بالا آیت مبارکہ میں ہمارے رحمٰن و رحیم اللہ کریم نے روف اور رحیم جو کہ اللہ کریم کے اپنے اسماء الحسنیٰ میں سے ہیں اپنے پیارے حبیب اور ہمارے پیارے آقا کریم رحمت اللعالمین خاتم النبیین شفیع المذنبین سردار الانبیاء ابوالقاسم سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بھی یہی الفاظ بیان فرما کر آپ ﷺ کے اخلاق و صفات کی عظمت پر مہر ثبت کردی کہ اب ﷺ کی ذات مبارکہ ہی کائنات میں کل انسانیت کے اخلاق و کردار کی اصلاح اور رہنمائی کے لیے اول و آخر و کامل نمونہ ہے۔ ہمارے پیارے رحمٰن و رحیم اللہ کریم نے سورہ آل عمران آیت 31 میں ارشاد فرمایا:
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ ﷲُ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْط وَﷲُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.
’’(اے حبیب ﷺ!) آپ فرما دیں: اگر تم ﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب ﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لیے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور ﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
(آل عمران، 3: 31)
اس لئے اب اگر کوئی اپنے نفس اور شیطان مردود کے شر سے بچنا چاہتا ہے تو اس کا اول و آخر راستہ رحمت اللعالمین ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے پیارے رحمٰن و رحیم اللہ کریم کی حفاظت، عافیت، رحمت اور محبت کے حصار میں آنا ہو گا اور “مکمل” آنا ہو گا۔ ہمارے پیارے رحمٰن و رحیم اللہ کریم نے قرآن مجید میں سورہ بقرہ میں فرمایا؛
يَاايُّهَا الَّذِيْنَ أَمَنُوْا اُدْخُلُوْ فِى اَلْسِّلْمِ كَآفَّةَ
اے ایمان والو اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔
(بقرہ ، 208)
اسی لئے حضرت سلطان باہو رح فرما گئے؛
جو دم غافل سو دم کافرمُرشد ایہہ پڑھایا ہُو
سُنایا سُخن گیئاں کھُل اکھیں چِت مولا وَل لایا ہُو
کیتی جان حوالے رب دےایسا عشق کمایا ہُو
مَرن تھیں اگے مر گئےباہُو تاں مطلب نوں پایا ہُو
اس سب کچھ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہمیں اپنا آپ، اپنے بچے اور نسلیں بچانی و سنوارنی ہیں تو ہمیں “اپنی انفرادی ذات’ سے آغاز کرنا ہو گا۔ اپنے آپ کو اپنے پیارے آقا کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ میں ڈھال کر اپنے اہل خانہ، بچوں اور دوسروں کے لئے عملی نمونہ بننا ہو گا اور پھر اپنی رعیت یعنی جہاں تک ہمارا اثر و رسوخ ہے وہاں تک اس عملی پیغام کو محبت، شفقت، خلوص اور لگن سے پھیلانا ہو گا۔ اسی طرح دیئے سے دیا جلے گا اور ہمارے گناہوں کا عتاب ٹلے گا کہ اب صرف واعظ و نصیحت کا وقت گزر گیا۔ اب عملی طور پر ابھی و اسی لمحے سے اپنی زندگیوں کو “رحمت اللعالمین ﷺ ” کے اسوہ حسنہ و اخلاق یعنی قرآن کے مطابق ڈھالنا ہو گا ۔۔۔۔
اقبال رح نے کہا تھا؛
تُو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئنہ ساز میں
اور
نہ کہیں جہاں 8میں اماں مِلی، جو اماں مِلی تو کہاں مِلی
مرے جُرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں
اور
شاہ دین ہمایوں کہ گئے کہ؛
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *