تین سیریز تین سبق(دوسری قسط)۔۔محمد اقبال دیوان

اس  میں دیگر ثانوی موضوعات کے علاوہ ویب سیریز رس بھری، اس کیم 1992 اور منی سیریز کوئین گیمبٹ پر بات ہوگی۔سو دھیرج ا ور دھیان کی درخواست ہے۔ایڈیٹر ان چیف

۔۔۔
آئیں پہلے بھارت کی ویب سیریز رس بھری کی بات کرتے ہیں۔
ایسے ہی تھوڑی۔۔ہمارا اسٹارٹ بھی فاسٹ بالر شعیب اختر اور عمران خان جیسا لمبا ہوتا ہے۔ گیند پھینکنے کے لیے جب وہ بالر اینڈ سے تماشائیوں کے اسٹینڈ کی طرف بڑھتے تھے تو لگتا تھا  سٹڈیم کیا شہر ہی چھوڑ جائیں گے اور پھر کبھی لوٹ کے نہ آئیں گے۔

tripako tours pakistan

آپ کے مزاج میں شتابی ہے۔جام گھٹکانے،پیار کرنے،کتاب پڑھنے، مضمون لکھنے کا مزہ   لمبے  سٹارٹ میں آتا ہے۔آہستہ آہستہ۔۔ ہم جب کبھی  سکول کے دنوں میں مضمون لکھتے تھے،موضوع کوئی
بھی ہو دو پیراگراف لازما ً  اس انجان، اَن دیکھے ممتحن کی تعریف میں ضرور لکھتے تھے۔آج تک کسی نے پتھر دل ایگزامنر نے کم نمبر نہیں دیے۔اس سے Essay میں کم از کم تین سو الفاظ کی شرط بھی پوری ہوجاتی۔ورنہ ہمارا اپنا مواد تو دو سو الفاظ تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ دیتا تھا۔

شعیب اختر
rashhari-759
rashbhari_
shanu madam
prasoon-joshi-rasbhari-
tumhein jo mein ne dekha

پہلے ایک ٹیزر۔۔
رس بھری کی شانو میڈم، یعنی سوارا بھاسکر غرباء اور مساکین کی سشمیتا سین ہے۔ وہی سشمیتا سین جس نے ، سن 2004 کی بلاک بسٹر ” میں ہوں نا“کی کیمسٹری کی استاد مس چاندنی کے کردار میں بہت ظلم ڈھایا تھا۔ فی الحال یہاں صبر کریں اور سوارا بھاسکر کا جو اصل مسئلہ ہے اس پر بات کریں۔میرٹھ کے  سکول کی انگلش کی استانی شانو میڈم کی ایک alter ego (انت رنگ متر) بھی ہے یعنی رس بھری۔
اس وجود ثانی کو سمجھے بغیر مزہ نہیں ٓئے گا۔
alter ego کو آسان نفسیاتی انداز میں ثانوی وجود سمجھ لیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق یہ وجود آباد تو فرد مذکور میں ہی ہوتا ہے مگر لازم نہیں کہ وہ اس کے نارمل سیلف جیسا ہی ہو۔ وہ مکمل  طور پر ایک ایسی ہستی ہوسکتا ہے جس سے   فرد مذکور نے کوئی بہت گہرا اثر قبول کررکھا ہے۔اس لیے جب اسے یہ جون بدلنی ہوتی ہے تو مشکل پیش نہیں آتی۔ آپ نے کئی لڑکیوں کو دیکھا ہوگا مرد بن کر اُنہی کہ انداز میں بولتی ہیں۔ ہم نے تین ہٹی کراچی والے سید نور علی شاہ بابا کے مزار پر دو ایسی خواتین کو سنا تھا  ، جن میں ایک   جانوروں بلی کتے کے انداز میں بولتی تھیں  اور دوسری کو انگریزی بولنے کا بہت شوق تھا یہ الگ بات ہے کہ اس کی انگریزی بھی حسن نواز پسر نواز شریف کی طرح زیادہ تر آں آں پر مبنی تھی۔

oliver sack

یوں تو اچھے خاصے نارمل انسان میں بھی یہalter ego ہوتی ہے۔وہ اسے دھتکار کے باتھ روم کے آئینے تک محدود رکھتے ہیں۔ہمارے دوست افضل رضوی کی بلڈنگ کولمبس پلازہ میں ایک ایسی لڑکی تھی جو خود کو بچوں سے باجی ایشوریا کہلاتی تھی۔ویسے ہی سستے کپڑے پہنتی۔ بچے پیچھے لگ کر  ایشوریا باجی کہتے تو دفتر سے لوٹتے ہوئے ان میں ٹافیاں بانٹتی تھی۔ہم اور افضل رضوی دونوں اسے سمجھاتے تھے کہ وہ یہ سب نہ کرے تب بھی ہمیں اچھی لگتی ہے۔ پگلوٹ ایشوریا رائے کوئی انسان تھوڑی ہے۔ وہ تو ایک پراڈکٹ ہے۔اس کو  سکرین تک لانے میں جانے کتنوں کی جان جاتی ہے۔
اب اگر آپ کے ذہن میں Bipolar disorder جیسا بھیانک خیال آرہا ہے تو اس میں آپ کا قصور نہیں۔خود ماہرین نفسیات کے لیے بھی یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ ان دونوں نفسیاتی کیفیات میں کوئی واضح خط امتیاز کھینچ سکیں۔بائی پولر میں موڈز کا ایک پول سے دوسرے انتہائی پول تک ہلکورے لینا عام ہوتا ہے جب کہ کچھ ایسے لمحات ہوتے ہیں جب کہ Alter Ego والے معاملے میں فرد مذکور ایک مانوس نئی شخصیت کا غیر ارادی طور پر مکمل روپ دھار لیتا ہے جو اس کے دائرہ شعور و اختیار سے بہت پرے ہوتی ہے۔

kitab man
الرجل الذي حسب زوجته قبعة

رس بھری کا یہ حوالہ فلم کو سمجھنے کے لیے لازم ہے جیسا عزیز حامد مدنی نے کہا
نافہء آہو تتار، زخم نمود کا شکار
دشت سے زندگی کی رو ایک مثال لے گئی

پہلا مصرعہ بہت مشکل ہے۔ آپ کو وائلڈ لائف، چیرو ہرن، تبت،کشمیر، مشک جانے کیا کیا کھوجنا پڑے۔ اردو شاعری میں کم مصرعے اتنے Composite ہوتے ہیں۔جتنا یہ باکمال مصرعہ ہے۔
کوئی کتاب، فلم، گیت یا فوٹو ہمارے جیسے نوآموز کے لیے ایک مکتب کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ بور ہونے سے زیادہ تعلم کا مقام ہے۔

دماغی امراض کے ایک بڑے ماہر ہوتے تھے Oliver Sacks, بہت مشہور، نیویارک میڈیکل یونی ورسٹی میں پروفیسر تھے۔بیاسی برس کی عمر میں ایک غیر معمولی بصری کینسر سے اس وقت انتقال ہوا جب وہ ان کے جگر میں اُتر گیا۔اس عمل کو metastasis کہتے ہیں۔ کینسر ظاہر تو ایک عضو میں ہوتا ہے مگر خون سے ہوتا ہوا کسی دوسرے حصے میں شدت سے حملہ آور ہوتا ہے۔انہوں نے اپنی وفات سے پہلے اپنی بیماری اور ایام آخر کے بارے میں کہا تھا کہ مجھے “اپنی زندگی ایک ایسا میدان لگتی ہے جس میں بہت سی عمارات ایک دوسرے سے جڑی ہوں۔مجھ پر بستر ِ مرگ میں فن تحریر، موسیقی، سیاحت، دوستیوں اور محبت کے نئے بھید بھاؤ آشکار ہوئے۔”

ہم تو اپنے ابنارمل لوگوں کو یا تو پاگل کہہ کر زنجیروں سے باندھ دیتے ہیں یا جن اور جادو کے زیر اثر مان کر عاملوں کے حوالے کردیتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے اس میں ایک ایسے میدان میں کام کیا جو موسیقی سے جڑا تھا۔ ان کی ملاقات اس سلسلے میں ایک ایسی مریضہ سے ہوئی جسے amusia نامی ذہنی عارضہ تھا ۔اسے بہترین قسم  کی موسیقی ایسی لگتی تھی جیسے برتن کچن کے فرش پر پٹخے جارہے ہوں۔ڈاکٹر صاحب نے ایک کمال کی کتاب لکھی
The Man Who Mistook His Wife for A Hat
اس کا عربی میں بھی ترجمہ ہوا
الرجل الذی حسب زوجتہ قبعۃ۔(قبعۃ عربی میں ٹوپی یا ہیٹ کو کہتے ہیں)
اس کے ایک مضمون میں موسیقی کے ایک پروفیسر کو ایک ایسی بیماری ہوتی ہے جسے Visual Agnosiaکہتے ہیں۔ پروفیسر جب گھر سے نکلتے تھے تو وہ اپنی بیگم کو اپنا ہیٹ سمجھ کر سر پر رکھنے کی کوشش کرتے۔ اس حرکت کا انہیں کوئی پچھتاوا نہ ہوتا۔ اس لیے کہ وہ ہیئت کے شعور سے ایک خاص ہستی کے معاملے میں محروم ہوچکے تھے۔

summer of 42
mandi

آپ کو ذہنی امراض کے مریضوں کے حوالے سے ایک نرم و نازک بات سمجھاتے ہیں۔
یہ فہم پیدا ہوگیا تو آ پ کے ان کے بارے میں رویہ جھنجلاہٹ اور تاسف سے نکل کر ہمدردی اور برتاؤ میں نرمی کا باعث بن جائے گا۔فرض کریں اللہ نہ کرے کسی انسان کی ٹانگ یا ہاتھ  ضائع ہوجائے تو وہ فرد اس نقصان کا ادراک بھی کرسکتا ہے اور اس کا متبادل انتظام بھی۔اس شخص کی بپتا اور بے چارگی کا آپ کیا کریں گے جوخود ہی ذہنی طور پرگم ہوجائے تو اسے اس گمشد گی کا کیسے علم ہوگا۔ذہن کے کسی فنکشن کا معدوم یا غائب ہونا بالکل ایسا ہی ہے۔مریض کو اس نقصان کا ادراک ہرگز نہیں ہوتا۔

اس Detour کی معافی۔یہی رس بھری کا اصل مسئلہ ہے۔شانو میڈیم کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کب ایک معزز باوقار استانی کا چولا اتار کر مزے سے اپنے گھر کے محفوظ گوشے میں مردوں سے جسمانی اختلاط کی شوقین رس بھری بن جاتی ہیں۔اسی سے سب قصے کہانیاں اور غلط فہمی جنم لیتی ہے۔

ہوتا یوں ہے کہ میرٹھ کے ایک کو ایجوکیشن  سکول کا طالب علم نند انگریزی کی اپنی استانی پر مرمٹتا ہے۔ شانو میڈیم کے بطور رس بھری کے  جب جنسی تعلق کی خاطر دستیابی کے چرچے ہونے لگتے ہیں تو وہ بھی بطور ایک مضبوط امیدوار اپنی کاروائیاں ڈالنے میں مصروف ہوجاتا ہے۔
یہ کوئی ایسا انہونا تعلق نہیں۔امریکہ میں Herman “Hermie” Raucher کی یاداشتوں پر مبنی ایک کتاب پر سن1971 میں ایک فلم بنی تھی Summer of ’42۔جس میں جینیفر او نیل ہیروئین تھی۔یہ ایک ایسے فوجی کی بیوی کی داستان تھی جو دوسری جنگ عظیم میں اپنی جواں سال بیوی کوپیچھے چھوڑ گیا ہوتا ہے۔وہاں ایک جواں سال لڑکا بھی اپنی موسم گرما کی تعطیلات گزارنے آیا ہوتا ہے۔ان دونوں کے روابط ایک جنسی تعلق میں اس وقت ڈھل جاتے ہیں جب سپاہی کی موت کی خبر آتی ہے اور اس کی دل جوئی کے لیے یہ نوجوان اس کا واحد سہارا بن جاتا ہے۔

writer Shantanu Shrivatava’s

اسی طرح سن 1955 میں اردو کے نامور ادبی رسالے نقوش کے شمارہ نمبر 53-54 میں ک ایک نسبتا ً گم نام مگر بہت کمال کے افسانہ نگار آغا بابر جن کی کہانی آنندی پر بھارت کی لاجواب آرٹ فلم منڈی بنی ان کا ایک افسانہ ”باجی ولایت“چھپا تھا۔ کیا چست و چالاک افسانہ ہے۔ وہ بھی بلوغت کی ان ہی ریشہ دوانیوں پر مبنی ہے جسے انگریزی میں Coming of Age کہتے ہیں۔

آئیں رس بھری کے بارے میں مزید گفتگو کریں۔
میرٹھ کی اس آبادی کی سب عورتوں کے جن کے بچے شانو میڈم کے  سکول میں پڑھتے ہیں۔ان کے دل میں یہ خوف بیٹھ جاتا ہے کہ اگلی باری ہمارا میاں اس کا بستر آباد کرنے پہنچ جائے گا۔اس فتنے کے سبب اور میاں کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے کے چکر میں ان کی زندگی کا وہ ہی مقصد بن جاتا ہے جو ہمارے وزیر اعظم کا ہے کہ ان کی سہاگ کی دولت لوٹنے والی حسین چڑیل کو پکڑنا ہے اور اسے آنسو سے رلانا ہے۔سو یہ لوئر مڈل کلاس کی بیگمات کسی نہ کسی مرد اور رس بھری یعنی شانو میڈم کو رنگے ہاتھ  پکڑنے کے چکر میں ہر وقت شہزاد اکبر بنی رہتی ہیں۔نت نئے حربے اپناتی ہیں اور سرکار کی طرح دھول چاٹتی رہتی ہیں۔

فلم کی کہانی کا بنیادی لے آؤٹ ریل کی پٹڑی والا ہے۔اسے آگے سفر بھی ریل کی مانند کرنا چاہیے تھا۔دو شخصیات پر مبنی ایک شانو میڈیم کی کہانی بن کر چھکا چھک۔ کہانی شروع کرکے لگتا ہے اسکرپٹ رائٹر شن تانو شری واستو جی ہمت چھوڑ گئے۔ان کے قدم اس وقت ڈگمگائے گئے جب انہیں لگا کہ اگر رس بھری کی متبادل جز وقتی جنسی شخصیت اور male fantasy والے پہلو پر
پر زیادہ دھیان دیا اور اس پہلو کو مزید اجاگر کیا تو فلم عام ہندوستانی ناظر کے احتیاط و اجتناب سے آؤٹ ہوجائے گی۔اس خوف کے پیش نظر انہوں نے اس میں بیگمات کے لمبے لمبے سین ٹھوک دیے۔جن کا خیال ہے کہ رس بھری ان کے میاں کو گھٹکاجائے گی۔ یہی نہیں لڑکے لڑکیوں کی نوک جھونک پر کافی وقت صَرف کیا جو دل چسپ تو ہے پر Relevant نہیں ،اسی وجہ سے فلم اپنی نیت میں اعلی ترین ہے مگر اپنے ٹریمنٹ میں شدید پھوہڑ پن کا شکار ہوگئی ہے۔

ایسا لگتا ہے یہ آٹھ ایپی سوڈ کی سیریزہر طرح کی سواری بن گئی ہے۔جو مرتے پڑتے مگر دل چسپ انداز میں آخری قسط میں اپنی منزل پر کسی کو کوئی وضاحت دیے بغیر پہنچ جاتی ہے۔اس کی منزل مقصود پر آمد کی خبر اس وقت ملتی ہے جب اس کے میاں کے ساتھ ایک طویل مکالمے میں نند کو علم ہوتاہے کہ وہ شانو میڈیم کا ایک اور وجود بھی ہے رس بھری اور وہ خود شانو میڈم کے نہیں ایک Split Personality کے یعنی چھلاوے جیسی رس بھری چکر میں ہے۔ جو اسے دیگر اہل رسائی کی طرح مل تو جاتی ہے مگر وہ تا دیر یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ معاملہ شانو میڈیم کے ساتھ سیٹ ہوا ہے۔

vivek-hariharan-singer
nand and priyanka

 

swara-bhaskar-anti-caa-protest-mob-violence

فلم کی ہیروئین سوارا بھاسکر کا خیال ہے کہ ایک گھٹن زدہ معاشرے کی منافقت   اور ایک پدری تعصب سے لتھڑی سوسائٹی میں عورت کی جنسی زندگی ایک بنیادی خوف کی علامت اس فلم کی تہہ میں مچلتے ہوئے جذبات ہیں۔وہ یہ بھی مانتی ہیں کہ بلوغت کے مسائل میں تنہا بھٹکنے والے نوجوانوں کے جذبات کو پہلی دفعہ منظر عام پر لایا گیا۔

بھارت کی مین سٹریم سینما اور سیریز والی فلم کو پسند کرنے والے جو مہنگی موسیقی، ناچتی گاتی منیش ملہوترا کے ملبوسات میں لپٹی کثیر معاوضے والی ہیروئین پرتگال رومانیہ فرانس اور سوئزرلینڈ کے مناظر کے چکر میں الجھے رہتے ہیں اس کو ایک طرف پٹخ کر ایک ایسی فلم جو میرٹھ کے قصبے میں شروع ہوکر وہیں ختم ہوگئی ہے۔ بجٹ کی مجبوریاں دیکھیں تو سوارا بھاسکر بے چاری کا تو میک اپ بھی اس کے بھائی برج بھاسکر نے کیا ہے۔ میں ہوں نا میں تمہیں جو میں نے دیکھا والے گانے میں سشمیتا نے جتنی چولی بلاؤز والی ننگی پونگی ساڑھیاں پہنی ہیں تو رس بھری بے چاری نے ایک گھاگرا چولی اور نوتن میناکماری جیسے میک اپ میں اپنی سلگتی جوانی سے کئی مرد بھگتا دیے۔

فلم کے ڈائیلاگ بھی شن تانو شری واستو جی کے ہیں اور اس میں نوجوانی کے بے پروائی، بے ہودگی اور بے باکی کے مزے ایسے ہیں کہ جو آپ اپنی شریف جوانی کو کھرچ،کرید کر تلاش کرسکتے ہیں۔ اس کے وہ مکالمے بہت پُرلطف ہیں جو نند (ایوشمان سکسینہ) اس کے دوست بھلے(اکشے بچو) اور وپل (اکشے سوری) کے درمیان ہورہے ہوتے ہیں۔اس بیچ میں جب پراینکا (رشمی اگڈے کر)بھی کلام و طعام کے اس اہتمام میں کودتی ہے تو سائبر کیفے ڈیٹ سے اسکول بوائز کی بیئر گھٹکانے کے لیے پانی کی اونچی ٹنکی کے من پسند ہائیڈ آؤٹس کا اندازہ ہوتا ہے۔یہاں واستو جی نے جوانی کے تقاضے اور جذبات کی بہت بہترین جانکاری دکھائی ہے۔

سوارا بھاسکر جو ذہنی طور پر بہت بلند پایہ اور اپنے احساسات کے اظہار اور دہلی کے طلبا مظاہرے شاہین باغ تنازعے میں اپنی شرکت کے باعث بہت باہمت خاتون مانی جاتی ہیں۔ کرون سے قبل دہلی میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں جو مودی مخالف مظاہرے ہوئے تھے ان میں شرکت کی وجہ سے سرکار اور اس کے حامی کارپوریشنز کے پالے ہوئے مین اسٹریم میڈیا نے اس سیریز کو کچھ اچھا نہیں جانا مانا۔اسے کچلنے کی کوشش کی۔
اسی سیاسی کشمکش میں سنسر بورڈ کے چئیرمین پرسون جوشی بھی کھل کر بولے ان کو اس ویب سیریز سے یہ شکایت رہی کہ اس میں بچوں کی جنسی بیداری کو خاصے غیر ذمہ دارانہ انداز میں تمسخر اور مزاح کے پتلے لبادے میں اچھالا گیا ہے۔پرسون جوشی کا یہ اعتراض درست نہیں۔نوجوان لڑکے لڑکیاں ایسے ہی ہوتے ہیں۔انہیں ایک بچی کے رقص پر بھی بہت اعتراض تھا۔

سچ پوچھیں تو سیریز اچھی ہے۔بھارت میں جو ہر سال ہزاروں فلمیں بنتی ہیں اس کے حساب سے ایمزون پرائم جیسے ادارے نے اسے بلاوجہ نہیں چلایا۔ اس میں دل چسپی کا عنصر آخر تک قائم رہا۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ سوارا بھاسکر چونکہ سرکار کے بائیں جانب ہے اور اس کی بے باکی کی قیمت اس فلم سے طرح طرح سے وصول کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
فلم کا ٹائٹل سانگ بہت کمال کا ہے اس کی شاعری، موسیقی اور سنیماٹو گرافی یعنی ایک خیال کو فلم کے جامے میں بطور فوٹوگرافی اور بصری انداز میں سمیٹنا ہی اس فلم کی خوبصورتی ہے

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تین سیریز تین سبق(دوسری قسط)۔۔محمد اقبال دیوان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *