سٹرنگ تھیوری (9)۔۔وہاراامباکر

کوانٹم فزکس رئیلیٹی کے ادارک کو چیلنج کرتی ہے۔ اور اس کا اہم اور پریشان کن نکتہ ویو فنکشن کولیپس کا ہے۔ مثلاً، کوانٹم تجربات میں کسی ذرے کی پوزیشن اس وقت تک طے ہی نہیں ہوتی جب تک اس کی پیمائش نہ کی جائے۔
ریاضی اور تجربات کے درست ہونے کے باوجود یہ مظہر وضاحت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہاں ہو کیا رہا ہے؟ ویو فنکشن خود کیا ہے۔ نیلز بوہر اور ورنر ہائزنبرگ نے کوپن ہیگن میں اس کی تعبیر کی جو کوپن ہیگن انٹرپریٹیشن کہلاتی ہے۔ بوہر فلسفے میں اس وقت کے مقبول مکتبہ فکر سے متاثر تھے جس کو پوزیٹوزم کہا جاتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ سائنس کو صرف ان معاملات تک رہنا چاہیے جس کا مشاہدہ یا پیمائش کی جا سکے۔ بوہر کا ماننا تھا کہ تجربات کے نتائج قبول کر لیے جائیں اور ریاضی تک محدود رہا جائے۔ان کا موقف “خاموش رہ کر کیلکولیشن کرو” کا تھا۔ لیکن کیا ویو فنکشن کولیپس یعنی مشاہدہ کئے جانے پر حقیقت کا نمودار ہونا محض ریاضی نہیں بلکہ کسی گہری سطح پر فزیکل مظہر ہے؟ فزکس میں کم لوگ اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ البرٹ آئن سٹائن کو بھی یہ انٹرپریٹیشن بالکل پسند نہیں آئی تھی اور وہ اپنے کیرئیر کا بڑا حصہ اس کی مخالفت میں نئی تعبیر تلاش کرتے رہے۔
ایک اور مقبول تعبیر (ٹیگمارک اس کے حامی ہیں) کہتی ہے کہ ہر واقعہ جو پیش آ سکتا ہے، پیش آتا ہے۔ ہمیں لامتناہی میں سے رئیلیٹی کی ایک شاخ کی رسائی ہے۔
ایک اور آئیڈیا سٹرنگ تھیوری کا ہے (برائن گرین کی کتاب ایلیگنٹ یونیورس اس کے بارے میں ہے)۔ سٹرنگ تھیوری ایک متبادل تعبیر نہیں بلکہ ایک مزید بنیادی تھیوری ہے جو اصولی طور پر فنڈامنٹل فزکس کی فنڈامنٹل تھیوری بن سکتی ہے۔ اور یہاں پر ہم پراپر سائنس سے مزید دور چلے جاتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں کام کرنے والے بہترین سائنسدان ہیں لیکن یہ پھر بھی اس علاقے میں ہے جو کئی لوگوں کی نظر میں سائنس کا علاقہ نہیں۔ تو پھر یہ کوشش کر کیوں رہے ہیں؟
جدید فزکس کی بنیاد دو تھیوریوں پر ہے۔ کوانٹم مکینکس اور جنرل ریلیٹیویٹی۔ دونوں اپنے اپنے علاقے میں ٹھیک کام کرتی ہیں۔ ایک مائیکروسکوپک دنیا پر اور ایک فلکیاتی اجسام پر۔ دونوں اکٹھی کام نہیں کرتیں۔ اور یہ ہمیں بتاتا ہے کہ کم از کم ایک یا پھر غالباً دونوں میں کوئی بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اور اس وجہ سے کسی تھیوری آف ایوری تھنگ کی تلاش جاری ہے جو سب کچھ اکٹھا کر دے۔ (اگرچہ، جیسے ہم پہلے دیکھ چکے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر بالفرض یہ مل بھی جائے تو تمام سائنسز فزکس کی مدد سے سمجھی جا سکیں گی)۔
اور یہاں پر سٹرنگ تھیوری آتی ہے۔ (سٹرنگ تھیوری خود دراصل تھیوریوں کی آپس میں تعلق رکھنے والی ایک بڑی فیملی ہے جن کی تفصیلات میں فرق ہیں)۔ اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ہر شے سٹرنگز سے بنی ہے جو مختلف پارٹیکل یا ویو کی شکل لیتی ہیں جس کا انحصار اس پر ہے کہ سٹرنگ مرتعش کیسے ہیں۔ اور اس کے کچھ عجیب نتائج ہیں۔ ان میں سے ایک ہے کہ کائنات کی گیارہ ڈائمنشن ہیں۔ دوسرا یہ کہ اگر درست ہے تو پھر ایک باربط کوانٹم گریویٹی بھی نکل آئے گی۔
سٹرنگ تھیوری خوبصورت آئیڈیا ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ کائنات صرف ایک قسم کی شے سے بنی ہے۔ جس کی فارم میں بہت ورائٹی ہے، جس کا انحصار اس کی وائبریشن فریکونسی پر ہے۔ یہ اتنا خوبصورت اور شاندار آئیڈیا ہے کہ اسے ٹھیک ہونا ہی چاہیے۔ لیکن خوبصورت ہونا کافی نہیں۔ یہ سوال ہمیں نیچر سے کرنا پڑتے ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ یہاں پر مسئلہ ہے۔ کوئی ایسی پیشگوئی نہیں جس کی بنیاد پر اس کے پرکھے جانے کا امکان ہو۔ جس سے معلوم ہو سکے کہ اس کے اپنے مختلف ویری ایشن میں سے کونسا درست ہے۔ یا کیا یہ خیال بھی درست سمت میں ہے بھی یا نہیں۔ کوئی تجربہ ڈیزائن نہیں کیا جا سکا۔ اگر سائنس کی تعریف یہ ہے کہ یہ نیچر سے کی گئی انکوائری ہے جس کی بنیاد ہائپوتھیسس کو ایمپریکل طریقے سے ٹیسٹ کئے جانے پر ہے تو سٹرنگ تھیوری سائنس نہیں۔
اور یہ فزکس میں حساس موضوع ہے۔ اور سٹرنگ تھیورسٹ فالسیفائی کئے جانے کے خیال کو پسند نہیں کرتے۔
اس بحث میں ایک طرف جارج ایلیس ہیں جو کہتے ہیں کہ “مجھے خطرہ ہے کہ اس کے بغیر سائنس، نیو ایج سوچ یا سائنس فکشن میں تفریق کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ہوسن فلڈر کا کہنا ہے، “بغیر ایویڈنس کے سائنس نہیں”۔ جبکہ دوسری طرف کاسمولوجسٹ شان کیرول جو کہتے ہیں کہ “فالسیفائی کرنے والی پولیس یہ تقاضا نہیں کر سکتی کہ پہلے سے بتا دیا جائے کہ کس قسم کی تھیوری دنیا کی وضاحت کرے گی۔ یہ آئیڈیا چند غیرتربیت یافتہ سائنسدانوں نے پکڑ لیا ہے”۔ لیونارڈ سسکنڈ کہتے ہیں، “پوپرازی” سائنس کے بارے میں انتہائی ناقص اور قدیم نکتہ نظر ہے”۔
تو پھر سٹرنگ تھیوری کہاں آتی ہے؟ شاید بہتر یہ ہو کہ ہم اسے کہیں کہ یہ فلسفانہ تفتیش ہے جس کی ریاضی rigorous اور باربط ہے اور یہ ایمپریکل سائنس سے informed ہے۔ اور ایسا کہنا تضحیک نہیں (تاوقیکہ آپ سائنس کے ریاضی یا فلسفہ سے کوئی اعلیٰ یا برتر علم ہونے کے گمان میں نہیں)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی تھیوری کا محض منطقی اور ریاضیاتی طور پر باربط ہونا کافی نہیں جب تک ایمپریکل شواہد نہ پائے جائیں۔ مثال کے طور پر، ہائیڈروجن اور آکسیجن کا ملاپ پانی سے مختلف خاصیت بھی رکھ سکتا تھا لیکن جب قوانینِ فطرت طے ہو گئے تو پانی کی خاصیت بھی۔ خواہ منطقی طور پر دوسری خاصیتیں ممکن ہوں لیکن یہ اصل نہیں ہو سکیں۔
سٹرنگ تھیوری اور ملٹی ورس میں یقینی طور پر منطقی ممکنات ہیں۔ جس کا ہمیں علم نہیں، وہ یہ کہ کیا ایمپریکل طور پر یہ اصل ہیں یا نہیں۔ اور یہ فرق سائنس کو منطق، ریاضی اور فلسفے سے جدا کرتا ہے۔ اس وقت ان تصورات نے وہ لکیر عبور نہیں کی کہ یہ سائنس کہلائیں۔ تا ہم اس کا یہ مطلب بالکل نہیں کہ یہ سوڈوسائنس ہیں۔
کیا یہ کبھی سائنس کی ڈومین میں آ جائے گی؟ ممکن ہے لیکن لازم نہیں۔ “چونکہ ہم متجسس ہیں” کا یہ مطلب صرف یہ ہے کہ ہم تلاش نہیں چھوڑیں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سوال کا جواب مل بھی سکے گا۔ فطرت ہمیں جواب دینے یا اپنا ہر راز آشکار کر دینے کی پابند نہیں ہے۔
اور یہ ہم پر انکوائری کی تفریق کی مختلف قسم کی لکیروں کے بارے میں واضح کرتا ہے کہ یہ صرف سائنس اور سوڈوسائنس کی ہی نہیں۔
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply