تین سیریز تین سبق(پہلی قسط)۔۔محمد اقبال دیوان

زیر مطالعہ مضمون دو اقساط پر مشتمل ہے،جس میں دیگر ثانوی موضوعات کے علاوہ ویب سیریز رس بھری، اس کیم 1992اور منی سیریز کوئین گیمبٹ پر بات ہوگی۔سو دھیرج ا ور دھیان کی درخواست ہے۔ایڈیٹر

جن دنوں کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ میں سیریز کھیل رہی تھی۔ بات صرف سیریز کی ہی ہے تو قوم نے بھی دل پکڑا ہوا تھا اور ہم نے بھی ۔گو ہمارےشکنجہ ء قلب کا سبب اعتراف اور داد ہنر تھا تو قوم کا کھیل سے جڑی مایوسی۔ کرکٹ ٹیم جب نیوزی لینڈ کی دھول چاٹ رہی تھی گرگٹ کے جیسی چپکنے والے تھوک میں لتھڑی لمبیDartingزبان والےدشمن عناصر کپتان کے بارے میں کہہ رہے تھے۔سیدنا کرکٹ کا تو آپ سب سے وجیہہ روپ تھے، لاکھوں دلوں کی دھڑکن،کہا کرتے تھے کہ اللہ نے مجھے سب کچھ دے رکھا ہے
. منڈیلا ملتا ہے،بورس جانسن میرے ساتھ سیلفیاں بناتا ہے،مودی کے سندیسے آتے ہیں ۔ میرے لیے وزیر اعظم بننے میں کیا رکھا ہے۔یہ مجھے چن کر خود پر احسان کریں گے ورنہ میرا شیرو تو مجھے چاہتا ہی ہے۔بن گئے توچینی ،آٹا،محاسبہ،پشاور میٹرو، فوری انصاف، یکساں نظام تعلیم نہ سہی،اس کھیل کے انتظام کو ہی کچھ اچھا بنادیتے ۔ہم نے ان کے فدائین کوسمجھایا بھی کہ کامیابی دلہن بن کر آتی ہے۔

tripako tours pakistan

shero mehar bukhari and ik
jonson and ik
Mandela and ik
Modi and ik
brando in god father
Mohammed Bouazizi
Mohammed Bouazizi
Mohammed Bouazizi
Zine EL Abidine Ben Ali ; Leila Trabelsi
Zine El Abidine wife
hosni mubarak in cage
tunisia arab spring

شرماتی ہوئی اٹھلاتی ہوئی اور ناکامیاں دوسرے شہر سے آئے ہوئے بھوکے ناراض باراتیوں کی صورت میں در آتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے 2018 سے مایوسی ناکامی فریب اور بدنیتی نے پاکستان میں مستقل ڈیرے ڈال لیے ہیں حالانکہ کپتان بہت باصلاحیت انسان ہے۔ اس کے ساتھ اولاد جیسا کوئی Excess Baggage بھی نہیں۔

عرب بدوؤں کا خیال ہے کہ دن برا ہو تو اونٹ پر بیٹھےبندے کو  بھی کُتا   چک مارلیتا ہے۔

چلیں گاڈ فادر والے مارلن برانڈو کی طرح منہ میں ٹشو پیپر کا گولہ رکھ کر بولنے والے کی پاکستان کے سابق وزیر اعظم کے انداز میں ٹکر شکر کھائیں اور سیاست پر مٹی پائیں۔ستر برس تک صرف ببول بوئے تو اب آم کی آس کاہے کو۔

پاکستان میں یہ احساس دیر سے اجاگر ہوا ، ورنہ دنیا تو سن 2010 سے جانتی تھی کہ اب اخبارات اور ریڈیو ٹی وی کا ایک بڑا دشمن میدان میں آگیا ہے ۔ اس کا نام ہے سوشل میڈیا۔ اس میڈیا کی طاقت کے سہارے وہ تحاریک منظم ہوئیں جن کا سب سے پہلا علم بردار تیونس کا محمد بزازی ٹھیلے والا تھا۔ اس بے کس کی آتش سوزی نے تیونس میں صدر زین العابدین کے سن 1987 سے سن 2011 تک کے چودہ سالہ دور اقتدار کو زمین پر دے مارا۔

trump account suspended tweeter
suhail shaheen

نہ صرف یہ بلکہ اس تحریک کی دیکھا دیکھی مصر میں صدر حسنی مبارک جو سن 1975 سے سن 2011 یعنی 36 سال مسند اقتدار سے چمٹے ہوئے تھے انہیں بھی پنجرہ حراست میں پہنچادیا۔جابر سرکار کے اتھل پتھل کرنے کی پشت پر عرب اسپرنگ میں نئے دشمن وہ اکاؤنٹس تھے جو سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی وجہ سےفیس بک اور ٹوئیر کی کوکھ میں پل رہے تھے۔

گروپ دواہم افراد جن کاFoetusو ہ اہم فرد جن کا فرضی نام فی ٹس(اور واٹر منر نامی دو افراد چلا رہے تھے اس نے ایک سائبر تھنک ٹنک کا درجہ حاصل کرلیا۔ صدر زین العبادین کی پہلی بیگم کے بیوٹی پارلر سے اڑائی ہوئی دوسری بیوی اور خاتون اوّل کا کہنا تھا کہ ساری آگ اس گروپ نے لگائی جس کی پشت پناہی ایک جنرل کررہا تھا۔پری چہرہ لیٹی جو بھی کہے کچھ لوگوں کا خیا ل تھا کہ یہ ہیcitizen journalism

اس کا کچھ اثر شام میں بھی ہوا مگر وہاں کھیل بشار الاسد کے علاوہ روس اور ایران کے ہاتھ  میں بھی تھا۔اس تنازعے کا ہتھیاروں اور قدرتی وسائل کی ترسیل کے علاوہ مشرق وسطی میں سعودی اثر کو بھی روک کے رکھنا تھا۔
ٹرمپ کی سن 2016 کے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے ذریعے وہائٹ ہاؤس  میں آمد بہت حد تک فیس بک کے کاندھوں پر سوار ہوکر ممکن ہوئی تھی، ان کے میڈیا سیل کے انچارج بریڈ پارسکیل کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی صدارتی مہم پر کل پچیس کروڑ ڈالر لگے تھے اور اس کا بڑا حصہ فیس بک کے ذریعے آیا تھا ۔ جی ہاں وہی فیس بک، یو ٹیوب اور ٹوئیڑرز جنہوں  نے چھ جنوری کے امریکی کانگریس حملے کے بعد ٹرمپ کا اکاؤنٹ ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کردیا۔ جواز یہ فراہم کیا گیا کہ جو آزادی رائے کا احترام نہ کرے اس کو اظہار رائے کا حق دینا مناسب نہیں لگتا۔اب کھلا تضاد یوں ہے کہ دولت اسلامیہ افغانستان کے سرکاری ترجمان سہیل شاہین کا ٹوئٹر اکاؤنٹ تو سر چڑھ کر بولتا ہے مگر بیچارے ٹرمپ کو اسی پلیٹ فارم پر زبان بندی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

پاکستان میں کئی لوگوں کا خیال ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں چینلز کی بھرمار اظہار رائے کی بے تحاشا آزادی     کی ابتداء  تھی ۔ایسا نہیں ۔ یہ چینلز تو بڑے تجارتی ادارے اپنی معاشی دہشت گردی کا دائرہ کار وسیع کرنے اور حکومت پر اپنی مستقل دھاک بٹھانے کے چکر میں لائے  گئے تھے۔وہ سڑکوں اور اخبارات کے اشتہارات سے بڑھ کر آپ کے گھر میں گھسنا چاہتے تھے۔بوتلوں کے پانی ڈبوں کے دودھ،ٹشو پیپر،بحریہ ٹاؤن نے آپ کے گھر میں گھس کر آپ کی جیب سے پیسہ نکالنا تھا۔
ان چینلز کا مواد ہلکا مگر رسائی دور تک تھی۔

پی ٹی وی کا سنہری دور یاد ہو تو اس کے مقابلے میں ایک کمزور عدالتی اور ریگولیٹری نظام میں انہیں کھل کر کھیلنے کی آزادی مل گئی۔یہ رائے عامہ کے چھابڑی والے تھے۔اتنی خبریں ہوتی نہیں جتنی سناتے ہیں ۔ یہ نہیں بتاتے کہ خبر وہ نہیں جو دکھائی جارہی ہے۔ خبر وہ ہے جو چھپائی جارہی   ہے۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں جہاں ہر شے فروخت کے لیے بازار میں پھینک دی گئی تھی وہاں معمولی فیس کے عوض چینل لائسنس بھی بازار میں یوں دستیاب تھے کہ لبیک ٹی وی کا لائسنس ایک میمن نعت خواں کو کوڑیوں کے بھاؤ مل گیا تھا جس نے اسے بعد میں  ایک اور معتوب ٹی وی کو چار کروڑ میں بیچ دیا، جو دنیا کا نمبر ون چینل بننے کے چکر میں اپنے مالک کو ہی جیل بھجواگیا۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ امریکہ کا ہر بڑا اخبار، میڈیا ہاؤس، پبلشر،ریڈیو اسٹیشن کل چھ بڑی کارپوریشنوں کے پاس ہے۔

پاکستان میں دو چیزیں سن2013میں ایک ساتھ مقبول ہوئیں۔ففتھ جنریشن وار فئیر اور پاپا جونز کا پٹزا۔پاکستانی بے چارے حیران تھے کہ ہم سے کراچی میں بوری بند لاشیں،افتخار چوہدری اور تین چار جی کے موبائل کمپنیوں کے معاملات نہیں سنبھل رہے یہ ففتھ جنریشن وار فئیر والے مسافر کہاں لے چلے ہیں ،ستاروں سے آگے یہ کیسا جہاں ہے۔ رفتار کا مت پوچھیں یہ تب بھی آہستہ تھے ویسے ہی جیسے ہماری چار سالہ نواسی کو جب اس کی دادی نے نیویارک میں آہستہ آہستہ کھانے پرٹوکا تو اس نے تنک کر جواب دیا
I have a slow teeth , be nice.
جنرل مشرف کے  ان چینلوں نے بہت اودھم مچایا۔بدتمیزی کی گفتگو کو ٹاک شوز کا نام دیا گیا۔سنسر شپ تو نامناسب لفظ ہے مگر کوئی ایسا ادارہ نہ تھا جو ان کے پروگراموں کے مواد اور ان کی زبان کی نگرانی کرتا۔اس کے برعکس دنیا میں اظہار رائے اور ترقی فکر کے سب سے بڑے علمبردار معاشرے کا احوال یوں تھا۔امریکہ کا آئین کہنے کو بہت خفیہ طور پر تشکیل پایا۔کسی اجلاس میں یا اس کے بعد پریس والوں کو پھٹکنے نہیں دیا جاتا تھا۔جب یہ ترتیب پاگیا تو اسے پبلک کے سامنے پیش کردیا گیا۔ہر طرف خوب بحث ہوئی۔منظوری کے بعد جب پہلی ترمیم شامل ہوئی تو اس میں اظہار رائے کی آزادی کو مذہب کی آزادی کے برابر مانا گیا۔ ایک طاقتور اور باعلم و باشعور عدالتی نظام نے تین اصطلاحات پر بہت توجہ دی ۔ہتک اور بدنامی۔
یعنیDefamation Libel Slanderکو بہت کھل کر نبھایا گیا ان کوDefamationیعنی ہتک کو آپ ایکBlanket Termسمجھ لیں۔امریکی قانون کسی نجی رائے کو اگر وہ کسی کے لیے باعث ِدل آزاری و رسوائی ہو اور اس کا حقیقت سے تعلق نہ ہو مگر اسے ایک فیکٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہو، ہتک عزت مانتا ہے۔یہ دروغ گوئی اور الزام تراشی اگر زبانی ہو تو Slanderکہلاتی ہے۔ عام طور پر اس کے ارتکاب پر پبلک معافی یا ہرجانے کی صورت میں جان چھوٹ جاتی ہے۔ ذرا گھمبیر معاملہ ہو توLibel۔ ۔ اس کا ارتکاب تحریری طور پر ہوتا ہے۔ اس کے مضمرات بہت ہیں،جرمانے جیل جانے کیا۔ہمارے پیارے کپتان پر انگلش کپتان بوتھم نے الزام لگاۓ تو عدالت میں اس لوزر کا حشر ہوگیا۔ہرجانے میں گھر بک گیا،بیوی چھوڑ گئی

پاکستان کے ایک مشہور چینل  اور ایک سیاسی پارٹی کو اسی حوالے سے برطانیہ میں بہت دشواریوں کا سامنا ہوا۔ہرجانے بھی ہوئے۔یہاں تو آپ نے دیکھ ہی لیا ہے کہ یہ پارٹیاں اور چینل کیسے مادر زاد برہنہ ہوکر سب کے سر پر سِل بٹے سے مسالہ پیستے ہیں۔میڈیا نے خود کو اس تیزی سے نہیں بدلا جس تیزی سے کمیونیکیشن کی دنیا میں تبدیلی آرہی تھی۔

ایک مجبور سی نیم پختہ عمر کی گڑیا جیسی میزبان بٹھا کر، اسے سکھائے ہوئے سوالات اور کٹ کاپی پیسٹ قسم کی خبروں سے ترتیب جوابات سے لوگ جلد اوب گئے۔اینکر مالدار اور پاکستان فکری طور پر غریب ہوگیا۔۔ڈرامے کے  اُفق پر سٹار پلس اور سونی اور ایکتا کپور کا غلبہ رہا۔پاکستان میں عوام نے کیا دیکھنا ہے اس کے معاملات اب بھی بہت حد تک میڈیا ہاؤسز اور چینلز کے زیرِ اثرہےپچھلے دو تین برسوں سے   انٹرنیٹ، ٹورینٹس ،یوٹیوب اور نیٹ فلکس جیسے آسیب گھر میں گھسے ہیں تو معاملات اُلٹ گئے ہیں۔

جلدی سے آپ کو فلم ۔ٹی وی سیریز یا ڈرامہ اور ویب سیریز کا فرق سمجھا کر آگے بڑھ جائیں۔فلم تو ظاہر ہے ایک بڑے بجٹ اور مشہور ناموں کا کھیل ہے جو پہلے سینما اور پھر دوسرے ذرائع کے ذریعے ناظرین اور مداحوں تک پہنچتی رہی۔ٹی وی سیریز نے اس میں بڑا ڈینٹ ڈالا کئی تو گیارہ گیارہ سال تک چلیں۔ خود پی ٹی وی کے سیریز انکل عرفی،جھوک سیال، ایک محبت سو افسانے ، اندھیرا اجالا اور وارث ایسے تھے کہ پاکستان کی شاید ہی کوئی فلم اس کے مقابلے کی کہی جاسکے۔یہ ٹیلی کاسٹ ہوتے تو سڑکیں سنسان ہوجاتی تھیں۔ایک دفعہ ان کو مس کرنے کا مطلب تھا اب آپ کی زندگی سے یہ خارج ہوگیا کیوں کہ نشر مکرر کی گنجائش نہ تھی۔
پی ٹی وی کے بعد جب پرائیوٹ چینلز آئے تو سوچ بھی بدلی۔اتنی خبر نہیں تھی جتنی وہ بیچنا چاہتے تھے۔پاکستان میں پھر ان چینلز نے اپنے باجی چینلز (Sister channels) ڈراموں کے لیے کھول لیے مگر ان ڈراموں کا بجٹ بڑا تھا۔
ان رکاوٹوں کو سامنے رکھ کر نئے اور باہمت فن کاروں نےInternet-delivered video series کا آغاز کیا ۔یہ نیو میڈیا تھا۔
2005, تک کچھ ویڈیوز موجود تھیں مگر چونکہ انٹرنیٹ کی رفتار اتنی تیز نہیں تھی کہ اسٹریمنگ میں مزا آتا لہذاshort and sweet. فارمولے کے تحت اب کچھ فنکاروں نے تجارتی نقطہ  نگاہ سے نہ سہی اپنی بات بڑھانے کے لیے ایسی سیریز آگے پھیلانا شروع کیں۔اس وجہ سے سونی اور دیگر بڑے ادارے تین سال کے اندر اس میدان میں آگئے۔
بھارت میں بھی اس تجربے نے جڑ پکڑی۔باقاعدہ طور پر جس کو بھارت کی پہلی ویب سیریز مانا گیا وہ سن 2014 کی Permanent Roommatesتھی۔دو سال تک چلنے والی یہ سیریز دو سیزنوں پر محیط رہی،اس کا پہلا ایپی سوڈ پنتالیس لاکھ لوگوں نے دیکھا اور اس کے ہر ایپی سوڈ کے ناظرین کی تعداد کم از کم دس لاکھ رہی۔جو ایک نئے تجربے کے لیے بہت بہتر مانی گئی۔

Permanent Roommates
Bard of Blood

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک ٹی وہ سیریل اور ویب سیریز میں بنیادی طور پر کیا فرق ہے۔ ٹی وی سیریل کو آپ ایک ناول اور ویب سیریل کو افسانہ سمجھ لیں۔پہلا فرق تو یہ ہے۔دوسرا فرق اس کی موضوعاتی سچائی اور بے باکی ہے۔ٹی وی والے نئے تجربے سے ڈرتے ہیں ان کے اسپانسر اور اس کی پراڈکٹس کا بھی بہت خیال ہوتا ہے۔ٹی وی سیریل کو اس کے اسپانسر چلاتے ہیں۔

پاکستان بھارت کے اکثر ڈرامہ سیریلز کا تجارتی ہدف گھریلو عورتیں ہوتی ہیں۔ لہذا موضوعات ساس بھی کبھی بہو تھی ،کم کم ،جسی جیسی کوئی نہیں، اور کہانی گھر گھر کی ۔ان سب کو چلانے والے ان میں دکھائے جانے والے اشتہار ہوتے   تھے ۔ تیسرا یہ کہ ویب سیریز کو سنسر شپ کے ان کڑے مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا جو ٹی وی ناظرین کے حوالے سے ٹی وی سیریز کو سامنے رکھنے ہوتے ہیں اور آخری یہ کہ اس کا بجٹ کم ہونے کے باعث اس میں نئے فن کار اپنے اپنے فن کا جوہر دکھاپاتے ہیں۔فلم پر ڈائریکٹر کا بہت کنٹرول ہوتا ہے اور ٹی وی سیریز اگر آپ کو امجد اسلام امجد
،یونس جاوید ، اشفاق احمد حسینہ معین،خلیل الرحمان قمر اور فصیح باری خان کے ڈرامے سامنے ہوں تو وہ مصنف کی راج دھانی ہوتے ہیں۔۔ویب سیریز ایک ٹیم کا کام ہوتا ہے۔اسے ایک نام   آگے لے کر نہیں   بڑھ سکتا۔کہانی اور موضوعاتی اثر انگیز ی اپنی جگہ مگراگر اس میں   cinematic touchنہ ہوتو اس کا مزہ نہیں  آتا ۔ کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ دس اییی سوڈز   ۔ویب سیریز کی  ٹیم  کو اسکرین پلے کے structureپر بہت محنت کرنا پڑتی ہے ۔ خالی ہیروئن کے چہرے کے کلوز اپ اور مڈ شاٹس سے کام نہیں  چلتا۔
یہی وجہ ہے کہ بالی ووڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان جو تجارتی شعور میں اب بھی بہت آگے ہیں  ان کی جانب سے بھی Red Chilliesنامی ایک ادارے کی تشکیل دی گئی ہے جس نے نیٹ  فلکس کے ساتھ مل کرBard of Bloodنام سے ایک ویب سیریز کئی زبانوں میں  ڈب کرکےلانچ کی ہے۔
اس کا موضوع بھی پاکستان دشمنی ہے سو اسے بھارت میں کمرشل کامیابی ملنے کا قوی امکان ہے۔
خود ایک پاکستانی خاتون انعم عباس جو کینیڈا میں ہوتی ہیں ان کی ایک ویب سیریزLadies Onlyکا سرگوشیوں میں بڑا چرچا ہے۔اس میں جنس اور مذہبی سیاسی استحصال کے حوالے سے ایپی سوڈز فلمائے گئے ہیں حتی کہ  ایک چونکا دینے والا ایپی سوڈ مقتولہ قندیل بلوچ کے بارے میں  بھی ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *