تقریباً سائنس؟ (8)۔۔وہاراامباکر

بہت سے شعبے ایسے ہیں جن کے سائنس ہونے پر کسی کو اختلاف نہیں، خواہ وہ ہارڈ سائنس میں آئیں یا سافٹ سائنس میں۔ پھر ایک درمیانہ علاقہ آتا ہے۔ یہاں پر کواسی سائنس پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اس علاقے میں ارتقائی نفسیات، ہسٹری یا خلائی مخلوق کی تلاش کے پروگرام جیسا کہ SETI آتے ہیں ۔
یہ علاقہ دلچسپ اس لئے ہے کہ یہاں پر اہم سوالات ہیں۔ یہ ہماری زندگیوں پر اثر ڈالتے ہیں۔ کائنات کے بارے میں تجسس کے سوالات ہیں۔ ہماری شناخت کے سوال ہیں۔ اور یہ سوڈوسائنس نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کبھی سائنس کی انٹرپرائز کا حصہ بن جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے کچھ حصے وہ راہ لیں اور ان کے ساتھ وہ ہو جو آسٹرولوجی اور پیراسائیکولوجی کے ساتھ ہوا یا پھر یہ اسی سرحد پر رہیں اور یہاں پر اسی طرح کے نئے شعبے میں آتے رہیں۔
اور ابھی ہم اس علاقے میں پائے جانے والے اس شعبے پر بات کرتے ہیں جس کے بارے میں شبہ نہیں کیا جاتا کہ یہ بھی اسی علاقے میں پایا جاتا ہے۔ یہ شعبہ فزکس ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت سے لوگ ایسا سوچتے ہیں کہ فزکس سائنس کی ملکہ ہے۔ جبکہ کئی بہت اچھے فزسسٹ فلسفے کو بے کار خیال اور یہاں تک کہ خطرناک انٹرپرائز بھی کہتے ہیں جو سائنس میں روڑے اٹکاتی ہے۔ (ریفرنس: نوبل انعام یافتہ فزسسٹ کی لکھی ہوئی ڈریمز آف فائنل تھیوری)۔ جبکہ دوسری طرف کئی دوسرے بہترین فزسسٹ ہیں جو خبردار کر رہے ہیں کہ فزکس کو یہ خطرہ لاحق ہے کہ وہ “محض فلسفہ” نہ بن جائے۔
مثال کے طور پر۔ جارج ایلس نے “کاسمک لینڈسکیپ” کا تجزیہ کرتے ہوئے متوازی کائناتوں کے ثبوت کے بارے میں دعوے کے ثبوت کے بارے میں کہا۔ یا مائیکل عطیہ نے “ہائیڈنگ اِن دی مِرر” کے بارے میں ریاضی کے ٹیک اوور سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ریاضی کی خوبصورتی فزیکل رئیلیٹی کے درست ہونے کا دعویٰ کرنے کے لئے کافی نہیں۔
ایلیس کے مطابق، فزکس اور کاسمولوجی میں سٹرنگ تھیوری یا ملٹی ورس کے آئیڈیا ایسی مثالیں ہیں جہاں پر تھیوری پر فیتھ کو ایویڈنس سے بالاتر سمجھا جاتا ہے۔ سٹرنگ تھیوری فزکس میں جنرل ریلیٹویٹی اور کوانٹم مکینکس کو یکجا کرنے کی کوشش ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت اس کو ایمپریکلی ٹیسٹ کرنے کا طریقہ نہیں۔ اس کو ایک دلچسپ فلسفانہ پوزیشن کہا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا اسے سائنس کہا جا سکتا ہے؟ کیا اس میں کام کرنے والے بہترین فزسسٹ سائنس پر کام کر رہے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے کوانٹم مکینکس کی مینی ورلڈز انٹرپریٹیشن کا تجزیہ (جس کا تعلق ملٹی ورس کوسمولوجی سے ہے جس کا ایلیس حوالہ دے رہے تھے)۔ کوانٹم مکینکس سائنس کی کامیاب ترین تھیوریوں میں سے ہے۔ لیکن ایک تھیوری کو “انٹرپریٹیشن” یا تعبیر کی ضرورت کیوں ہے؟ تعبیر کا لفظ تو قانونی یا لٹریچر کے مضامین وغیرہ کے لئے نہیں؟
چند سال پہلے فزکس کی دنیا کے کچھ بڑے نام برائن گرین، میکس ٹیگمارک، ڈیوڈ البرٹ اور ولیم فلپس فزکس اسی سوال پر نیویارک یونیورسٹی میں بہت ہی اچھی بحث کر رہے رہے تھے۔
سب سے پہلے تو تمام شرکا نے اس پر آسانی سے اتفاق کر لیا کہ کوانٹم مکینکس مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اور یہ کام کرتی ہے۔ یعنی اس کی پیشگوئیاں تجربات سے بہت اچھی مطابقت رکھتی ہیں۔ تو پھر مسئلہ کاہے کا؟ فلپس تجرباتی فزسسٹ ہیں۔ ان کا دعوٰی تھا کہ کوئی مسئلہ سرے سے ہی نہیں۔ وہ جس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اس کو “خاموش ہو کر کیلکولیشن کرو” والا مکتبہ فکر کہا جاتا ہے۔ اس مکتبہ فکر میں خیال ہے کہ اگر ریاضی درست ہے اور تجربات سے مطابقت رکھتی ہے تو پھر اتنا ہی بہت ہے۔ تھیوری کے معنی کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔
البرٹ کا آرگومنٹ تھا کہ نہیں، یہ بالکل بھی کافی نہیں۔ ایسا توانجینرنگ اور میڈیسن میں کیا جاتا ہے، سائنس میں نہیں۔ سائنس کا مقصد یہ نہیں کہ کیا کام کرتا ہے اور کیا نہیں۔ سائنس اس دنیا کی تُک بنانے کے لئے ہے۔ ریاضیاتی فارملزم نکالنے کے لئے نہیں۔
کوپرنیکس کے ماڈل اور گلیلیو کا کیتھولک چرچ سے جھگڑا کس پر ہوا تھا؟ جھگڑا ہی معنی کا تھا۔ سورج کی مرکزیت کے ماڈل پر اصرار کرنے کی وجہ سے ہی گلیلیو پابندِ سلاسل ہوئے تھے۔ اگر اس کے بجائے انہوں نے یہ کہا ہوتا کہ ان کی تھیوری صرف ایک ریاضیاتی آلہ ہے جو سیاروں کی جگہوں کو اچھا کیلکولیٹ کر دیتا ہے تو کسی کو پرواہ نہیں تھی۔ ان کا انقلابی خیال یہ ریاضی نہیں تھی۔ بلکہ اس ریاضی کے معنی تھے جو نیچر آف ریلیٹی کے بارے میں تھے۔ ان کا خطرناک خیال یہ تھا کہ نظامِ شمسی کا مرکز سورج ہے اور زمین اور دوسرے سیارے اس کے گرد گردش کرتے ہیں۔ اسی طرح اہم سوال کوانٹم مکنینکس کی ریاضی نہیں بلکہ یہ ہے کہ کوانٹم مکینکس کے معنی کیا ہیں۔
ٹیگمارک اور گرین دونوں البرٹ سے اتفاق کرتے تھے۔ لیکن دونوں کا جواب بالکل مختلف تھا۔ ٹیگمارک مینی ورلڈ انٹرپریٹیشن کے حامی تھے جبکہ گرین کی نظر میں کائنات کے بارے میں بالکل ہی نئے نکتہ نظر کی ضرورت ہے جو سٹرنگ تھیوری سے ملتا ہے۔ اس بارے میں تھیوریٹیکل فزکس میں دوسرے نظریات بھی ہیں۔ لیکن اس پر ہونے والی بحث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سخت ترین سائنس بھی یہاں پر خالص speculation اور تجریدی ریاضی یا فلسفانہ انکوائری کے درمیان کھڑی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں پر اختلاف کس پر ہے؟ سوال کیا ہے؟ یہ نیچر آف رئیلیٹی کا سوال ہے۔ اور یہی سوال تو فنڈامنٹل فزکس کا مرکزی سوال ہے۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *