اٹلی ہے دیکھنے کی چیز(قسط2)۔۔سلمیٰ اعوان

میلان

o شہر کا خاص الخاص تحفہ ڈومو سکوائر،اس کا کھیتڈرل اور گلیریا میلان کے لینڈ مارک ہیں۔
o چنترال ریلوے اسٹیشن پر بنگالی لڑکوں سے ملنا،ان کی ہدایات کو پلّے باندھنا اور اُن کے تجربات سُننا یقیناً  دلچسپ اور حیرت انگیز تھے۔
o خاندان،مذہب اور کھانا اٹلی کی معاشرتی اور تہذیبی زندگی کے تین پہلو جو کبھی بہت اہم تھے۔اب مذہب اور خاندان کا شیرازہ بکھر گیا ہے۔ اور کھانے باقی رہ گئے ہیں۔

tripako tours pakistan

میلان کی سیر کیلئے پہلے دن میں نے اقبال کو ساتھ لیا کہ ٹرینوں اور میٹرو کے پیچیدہ نظام کو سمجھنے کی ضرورت تھی۔مختلف ممالک میں اِن تجربات سے ہر روز گزری تھی۔مگر پتہ نہیں مجھے یہاں کچھ اُلجھن سی محسوس ہوئی تھی۔شاید عمر کا بھی تقاضا تھا۔
”سُنو۔میرے بیٹوں کی عمر کا تھاوہ۔۔آج مجھے اپنی شاگرد سمجھنا۔مجھے دیکھنا اور گائیڈ کرنا۔کل سے اکیلے سب کام ہوں گے۔“
خود کارنظام کو عملی طور پر کرنے میں بونگیاں ماریں مگر کچھ سمجھی بھی۔

حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے بھی تین سو سال قبل کا یہ شہر نام جس کا میلان ہے۔ جسے رومنوں نے مرکزی جگہ کا نام دیا۔چوتھی صدی بعد مسیح میں یہ رومن سلطنت کا دارلخلافہ تھا۔ابتدائی عیسائیت کو قبول کرنے اور اُسے اہم مذہبی مرکز بنادینے والا بھی یہی شہر ہے۔
تو رومنوں کا یہ شہر لیونارڈو نچی کا ثقافتی مرکز جسے وہ اپنا گھر کہتا تھا۔میں اسی شہر کو دیکھنے جارہی تھی اور خاصی پُرجوش تھی۔

میلانو کو دورنا اسٹیشن سے اُتر کر باہر نکلے تو میلان شہر کا انتہائی خوبصورت منظر دیکھنے کو ملا۔بلندوبالا عمارتیں۔سڑکوں پر چلتی گاڑیاں،بسیں،لوگوں کے ہجوم۔اب تھوڑا سا چلنے اور شہر کی دیدہ زیب عمارتوں کا حسن دیکھتے ہوئے سفورزاقلعہ Saforza castle کی طرف بڑھے۔
اینٹوں سے بنا یہ قلعہ دراصل شہر کا ماضی ہے۔کبھی اس کے نیچے گہری خندق تھی جو پانی سے بھری رہتی تھی۔ہر قلعہ کی طرح یہ بھی شہر کی حفاظت کیلئے 1450 میں بنایا گیا۔یہ زمانہ تھا کہ جب صفورزہ Sforzaڈیوک میلان شہر کا مئیر بنا تو اُسنے بہت سے آرٹسٹ اسے سجانے سنوارنے کیلئے بلائے جن میں لیونارڈوونچی بہت نمایا ں تھا۔تو یہ سجا سنورا شہر صفورزہ فیملی اور بعدازاں لیونارڈو کیلئے تہذیب و ثقافت کا مرکز بن گیا۔

چند لمحوں کیلئے مبہوت کرنے والا منظر تھا۔موتی اڑاتے فوارے کے سنگی بنیروں پر بیٹھے لڑکے لڑکیاں اور دور تک اینٹوں کی بلندوبالا دیواروں اور ان میں بنی برجیوں جس میں جھانکتا سینٹ ایمبروسیس St Ambrosius کا مجسمہ۔اب اندر سے ہوک اٹھنی تو قدرتی بات تھی کہ قلعے تو ہمارے پاس بھی ہیں اور ماشاء اللہ سے اچھے بھلے ہیں مگر ہم نے کتنے سنبھالے؟
بلند و بالا گیٹ سے داخلہ اور بلندو بالا دیواروں کے حصار میں دائیں بائیں سرسبز لان اورگول پتھروں کے راستے۔کونوں میں بنی خوبصورت برجیاں۔کشادہ اور بلندوبالا دیوڑھیوں جیسی راہداریاں۔
ٹکٹ لیا اور میوزیم میں داخل ہوئے۔یہ دو منزلہ وسیع وعریض میوزیم آرٹ اور تاریخ کا گھر تھا۔سات صدیوں کے مال و متاع جسمیں میلان شہر کی عظمتوں اور عہد کے رنگ حد درجہ مسحور کرنے والے تھے۔اس کی پکچر گیلری میرے خدایا ایسے کمال کے شاہکار، اسکا مصری حصّہ،قبل از تاریخ،لکڑی کے مجسمے،شاہکار پینٹنگز،صفورزہ فیملی کا محل،کمروں میں دھرا فرنیچر۔

بس زیادہ توجہ تو ابتدائی Lambard آرٹ نے ہی کھینچی۔دیر تک روکے رکھا۔سب سے دلچسپ اور اہم مائیکل اینجلو کا نامکمل پائیٹاPietaتھا۔اب پائیٹا کیا ہے؟کرسٹ کا مردہ جسم اور دُکھ کی عکاس کنواری مریم کا مجسمہ جسے مختلف روپ دئیے گئے۔ آرٹ کے اس شاہکار پرکام ہورہا تھا جب ونچی فوت ہوگیا۔اس نامکمل کام کی نمائش بھی بڑے انوکھے انداز میں کی گئی ہے۔
میں نے چند لوگوں کو گھوم کر پیچھے سے انہیں دیکھتے ہوئے پایا تو خود کو ایسا کرنے سے نہ روک سکی۔اس زاویے سے اِسے دیکھنا اور آرٹ کے اِس رُخ کا سامنے آنا کہ مقدس مریم کا عقبی حصّہ اپنے بیٹے کے بوجھ کو اٹھانے میں کِس اذیت سے دوچار ہے واقعی کمال کا تھا۔

قریب ہی خوبصورت پارک میں برنکا Branca Tower تھا۔یہ بھی دیکھنے کی چیز تھی۔3یورو کا ٹکٹ لفٹ کے ذریعے آپکو آسمانوں میں لے جاتا ہے۔جہاں سے آپ میلان شہر کا نظارہ کرتے ہیں۔
میلان شہر کا خاص الخاص تحفہ ڈومویا دوموDuomoضرور تھامگریورپ کا چوتھا بڑا کھیتڈ رل اوراس کا میوزیم بھی میلان کو منفرد بنانے میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ڈومو سکوائر دیکھنے اور وہاں کچھ وقت گزارنے کا بھی اپنا مزہ تھا۔میٹرو کی شور مچاتی،دل دہلاتی تیز اور ہنگامی زندگی کے طوفان سے نکل کر اور کوئی بیس کے قریب سیڑھیاں چڑھ کر جب کُھلے آسمان تلے آئی تو کھیتڈرل پر نظر پڑتے ہی آنکھیں چمکیں اور باچھیں کھلیں۔

مجھے اس سکوائر میں چھوڑ کر اقبال کو اس جگہ کے قریب ہی کسی سے ملنے جانا تھا۔خوشدلی سے اُسے اجازت دیتے ہوئے میں نے نکھرے چمکتے آسمان کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر مسرت بھری کلکاری بھری۔

”ہائے یہ خوبصورت منظر، میلان کا لینڈ مارک جسے زمانوں سے ہم اپنے ملک میں کیلنڈروں پر،اخباروں اور رسائل میں چھپا دیکھتے دیکھتے بوڑھے ہوگئے تھے۔آج اِسے مجسم صورت میں سامنے دیکھ کر بھلا آنکھیں کیوں نہ چمکتیں اور باچھیں کیوں نہ کھلتیں۔کتنی دیر ایک دلفریب سے سحر میں گرفتار اس کے انوکھے طرز تعمیر کو تحسین پیش کرتی رہی۔
کھیتڈرل میں داخل ہونے کے بڑے آداب تھے۔بڑا رکھ رکھاؤ تھا۔لباس کے معاملات میں بڑی سختی اور پابندی تھی۔شارٹس اور بغیر آستینوں والی قمیضوں کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں۔بڑوں کو تو چھوڑیں چھوٹے بچے بھی دروازے سے ہی دھتکار دئیے جاتے ہیں۔
سچی بات ہے ہمیں تو بڑی خوشی ہوئی تھی۔ بڑی شان سے اندر داخل ہوئے کہ پورے ڈھنپے ہوئے ہیں۔

اب اندر کے اُس نرالے طلسم،انوکھے سحر،حیران کن مجسموں، بلندوبالا ستونوں، انکے وجود سے پھوٹتی روشنیوں، نقش و نگاری، جابجا پینٹنگز انکی تاریخ۔بندہ تو آنکھیں پھاڑے کہیں فرشوں پر بکھرا ماربل اپنے خوش رنگ نمونوں کے ساتھ،کہیں کھڑکیوں کی بناوٹ،کہیں چھت کی کندہ کاری کو دیکھتے دیکھتے بے ہوش ہونے والا ہوجاتا ہے۔ قربان گاہ کے بلندوبالا حصّے، انکی رنگا رنگی یہاں اگر نظروں کو لبھاتی تھی تو تاریخ دل کو تڑپاتی تھی۔

جب یورپ بے شمار چھوٹے چھوٹے ملکوں میں بٹا ہوا تھا۔اس وقت میلان کے ڈیوک ز اپنے جرمنی اور فرانس کے ہم عصروں کو کچھ ایسا شاہکار بنا کر نہ صرف متاثر کرنا چاہتے تھے بلکہ شمالی یورپ کے بادشاہوں،شہزادوں اور ویٹی کن والوں کی نظروں میں “میلان “کو ممتاز اور منفرد بناکر دکھانا بھی مقصود تھا۔انسانی فطرت کی نمائش کے یہ انداز کوئی نئی بات تو تھی نہیں۔وہ کھیتڈرل پر اپنی بھرپور توانائیاں صرف کردینے کے متمنی تھے۔قدامت پرست تو میلان کو گوتھک سٹائل پر ہی رکھنے کے خواہش مند تھے مگر ڈیوک ز اس پرمُطمین نہ تھے۔اسی لئیے اس کی محرابیں کیا کلس تک کو جدّتوں کے ساتھ مزّین کردیا۔

قربان گاہ کے اردگرد کی ساری جگہ باروق سٹائل سے بنائی گئی ہے۔ قربان گاہ پر چمکتی سرخ روشنی میں یسوع کے کراس میں سے ایک پر نیل رکھا ہوا نظرآتا ہے۔اِس مقدس نشانی کو شہنشاہ کونسٹینن کی والدہ سینٹ ہیلن کوئی چوتھی صدی میں میلان لائی تھی۔ فلسطین پر لکھتے ہوئے میں اِس پاکباز خاتون سے بہت اچھی طرح متعارف ہوئی تھی۔
تو1386سے یہ جو بننا شروع ہوا تو 1965 تک بنتا ہی چلا گیا۔کہیں نہ کہیں کِسی نہ کِسی انوکھی چیز کا اضافہ۔ ہمہ وقت ہر قسم کی تبدیلی کیلئے سرگرم۔اِس مسلسل تعمیراتی عمل نے اطالوی زبان کی لغت میں اُس مشہورزمانہ کہاوت کا اضافہ کیا۔
“ایک کھتیڈرل کی تعمیر کبھی مکمل نہیں ہوتی۔”
ڈومو میوزیم دیکھنے کو معلوم نہیں کیوں جی نہیں چاہا۔شاید بروشروں میں دیا گیا مختصر سا تعارف ہی کافی تھا کہ یہ کھیتڈرل کی تاریخ کی تصویری صورت ہے۔
”چلو ہٹاؤ ایک تو رومن کیتھولک مذہب کی اتنی مشکل تاریخ سے ماتھا پھوڑو اوپر سے ٹکٹ بھی خریدو۔ہاں البتہ ایک چیز جو مس کرنے والی نہیں تھی وہ چھت کی سیر تھی۔8یورو کے ٹکٹ کے ساتھ۔جس کیلئے میں نے سوچا پندرہ دن رہنا ہے۔کِسی بھی دن آکر یہ مزے لوٹ لوں گی۔
ڈومہ سکوائر کلاسیکل یورپی سین ہے۔یہاں بیٹھنا اور اِس بھریے میلے کو دلچسپی سے دیکھنا کتنا دلچسپ کام تھا؟دو گھنٹے یہاں بیٹھنا ہے۔شام یہاں کیسے اُترے گی؟اس کے رنگ کِس انداز میں بکھریں گے اُسے دیکھنا ہے۔

فی الحال تو ریسٹورنٹوں کے سامنے کرسیوں پر بیٹھے لوگوں کا ایک ہجوم نظرآرہاہے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جوڑے کہیں تصویریں اُترواتے،کہیں چہلیں کرتے بہت اچھے لگ رہے ہیں۔
وہ خاتون آئس کریم کھارہی ہے۔کونسی ہے؟ اور کہاں سے ملتی ہے؟اُس سے پوچھنے جاتی ہوں کہ دل للچا رہا ہے۔اُس نے دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کیا ہے۔لمبی لائن میں لگ کر اسے خرید کر لائی ہوں۔ اب یہاں بیٹھی اُسے مزے سے کھارہی ہوں۔لُطف اٹھارہی ہوں۔
ایک طرف وکٹر ایموئنیل Emmanuel دوم اٹلی کے پہلے بادشاہ کا مجسمہ ہے۔نظریں کِس جانب دیکھ رہی ہیں۔تعارف پر جانا کہ عظیم الشان گلیریاGalleria کو دیکھا جارہا ہے۔
میلان کے شہریوں کی طرف سے شاہ کو تحفہ۔تبصرہ ہوگا اور ضرور ہوگا کہ یہ محبتوں بھرا تحفہ ہے۔ نام چمکانے کی خواہشوں سے قطعی مبّرا۔
شاہ کے بارے تو آنے کے ساتھ ہی متعارف ہوگئی ہوں۔ایک قابل قدر ہستی جسے میں نے چاہت بھری آنکھوں سے دیکھا ہے کہ مسز سمتھ سے وعدہ کیا ہوا ہے۔رات سیلوٹ بھی اسے اور اس کے ساتھیوں کو ہی تو مارے تھے۔

یہ گلیریا Galleria بھی میلان کا سمبل ہے کہ دو رویہ چار منزلہ خوبصورت عمارات فائبر گلاس یا اسی ٹائپ کے کسی اور شیشے سے ڈھنپی چھت کے تلے دو رویہ حسن و خوبصورتی سے سجی ہیں یوں کہ چلتے چلو۔دائیں بائیں مڑو۔تعمیراتی حسن اور شاندار دکانوں کے شیشوں سے چاتیاں مارو۔یہ عمارات کا وہ سلسلہ تھاجو سب سے پہلے بجلی سے مانوس ہوا۔
یہاں دکانوں میں تانکا جھانکی ضرور کی مگر جیب ڈھیلی نہیں کی کہ چیزیں باوا کے مول لگتی تھیں۔

گلیریا کی مخالف سمت نکل جاتی ہوں۔یہاں وہ جڑواں فاشسٹ عمارتیں دیکھتی ہوں جو بڑی نمایاں ہیں۔مسو لینی نے انکی بالکونیوں سے بڑی لفافٹری ٹائپ تقریریں بڑے جوش و خروش سے کی تھیں۔یہ بینتو Benito مسولینی بھی تاریخ میں کیا شے تھا۔مشہور اور ہردل عزیز لکھاری،سوشلسٹ نظریات کا پرچاری پرفسطائیت کا بھی بڑا علم بردار۔
کہیں 1922میں نئی نویلی بننے والی فاشٹ پارٹی کا سربراہ بنا تو روم پر چڑھائی کرنے پر تُل گیا۔کالی قمیضوں والے ٹولے پورے اٹلی سے کہیں بندوقوں،کہیں چھروں اور کہیں باورچی خانے کی چاقو چھریوں سے روم کی طرف چل پڑے۔مسولینی ان کا لیڈر تھا۔جس نے حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔وکٹر ایمونیل سوم نے اُسے روم بلایا اور حکومت شرافت سے اس کے حوالے کردی۔

وزیر اعظم کا تاج سر پر سجانے کے بعد اس کا پہلا کام اپنے فاشٹ ٹولوں کے ساتھ روم کی گلی گلی کوچے کوچے میں مارچ کرنا تھا۔یہ موسیلینی ہی تھا جس نے پوپ کو ویٹی کن سٹی کی مسند پر بٹھایا۔کیتھولک چرچ نے اپنی دعاؤں میں اطالویوں کو نوازا۔ترقی کے بہت سے منصوبے پروان چڑھے مگر اس نے خود کو ہٹلر نازی سے بھی جوڑ لیا اور دوسری جنگ عظیم میں گُھس گیا۔ذ ہنی اور جسمانی طور پر نہ ملک تیار،نہ فوج۔نتیجتاًجب اتحادی فوجیں 1943 سسِلی کے مقام پر اُتریں تو مقامی لوگوں نے نجات دہندہ کے طور پر ساتھ دیا۔

یہ اپریل 1945 تھا جب وہ اطالوی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ گرفتار ہوا۔انہوں نے دونوں کو گولی ماری اور دنوں میلان کے پبلک سکوائر میں لاشوں کو ٹانگے رکھا۔
عمارتوں کے چہرے مہرے متوجہ کرتے ہیں۔ان کے خوبصورت منقش نقوش کچھ سُنانے کی کوشش کرتے ہیں اطالویوں کی طرح۔ اِس ڈرامے سے جان چھڑاتے ہوئے آگے بڑھ جاتی ہوں۔
اقبال کا فون تھا۔بتاتا تھا کہ اسکا کام ختم ہوگیا ہے۔میرا پروگرام کیا ہے؟مجھے ٹھہرنا ہے یا واپس چلنا ہے۔لمحہ بھر کیلئے میں نے سوچا۔ اور خود سے کہا۔
”ارے ڈومو میں تو اتنا کچھ ہے کہ پورا دن یہاں گزارا جائے وہ بھی کم ہے۔لیکن خیر اب واپسی کرتی ہوں۔ٹکٹوں کے مرحلوں اور میٹرو سے کچھ مزید شناسا ہوتی ہوں اورکل کا سارا دن میلان کیلئے رکھتی ہوں۔
ثنا (بھانجی) نے جو شہر کی سیر کروانے والی بس ہوپ اون اور ہوپ آف کا ذکرکیا تھا۔اس پر چڑھوں اور مزے سے گھوموں پھروں۔اپنے آپ سے یہ سب طے کرلینے کے بعد اُس سے پوچھنے پر پتہ چلا تھا کہ وہ چنترال ریلوے اسٹیشن پر تھا۔
”چلو رُکو تم وہیں میں خود آتی ہوں۔“ میٹرو کا سمجھا اور اُسے رابطے میں رہنے کا کہا اور خود سے کہتے ہوئے کہ اب اِس ترقی یافتہ ملک کے اِس دریا میں اُترنا ہے تو اپنے زور بازو پر بھروسہ کرنا ہوگا۔بیساکھیاں کب تک پکڑوں گی۔ان سے تو یوں بھی بڑی الرجک رہی ہوں۔
ڈوموDuomo سے تین سٹاپ میٹرو پر میلان کا مرکزی ریلوے اسٹیشن چنترال ہے۔ٹکٹ کا مرحلہ بہت مشکل تھا۔مشینوں کے گرد کھڑے لڑکوں سے اقبال کی بات کروائی۔اس پل صراط کو سمجھتے ہوئے اِسے بہت دھیان سے طے کیا۔میٹرو کی سیڑھیوں کے

منہ پر اقبال کو کھڑے دیکھ کر خوشی ہوئی کہ بس اب اگلے مرحلے ایسے ہی رُل کھل کر طے کرتے جانے ہیں۔
اِس وقت دوپہر ڈھل رہی تھی۔میں بھوکی تھی۔یقینا اقبال بھی بھوکا ہی ہوگا۔بیس یورو اُسے دئیے کہ وہ کھانے کیلئے کچھ لے آئے۔
اسٹیشن سے باہر سرسبز گھاس کے خوبصورت ذرا سے اُونچے نیچے قطعات ہیں۔درختوں کی بہت گھنیری نہ سہی مگر گزارے لائق چھاؤں بھی ہے۔بے کار اور سیاہ فام لوگوں کے ڈیرے بھی یہاں براجمان ہیں۔تو میں یہیں بیٹھتی ہوں۔میں نے گھاس پر ٹانگیں پسار لی ہیں۔شکر ہے یہاں گھاس پر بیٹھنا منع نہ تھا۔ اور جب میں دائیں بائیں دیکھتی تھی تو جانی تھی کہ بہت سے بنگالی چہرے بھی ہیں یہاں۔

لمبی سانس بھری تھی۔” کبھی ہم میں تم میں بھی راہ تھی تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔”
توجو یہاں بیٹھے ہیں۔انہیں کیا یاد ہونا ہے؟وہ توتب پیدا بھی نہ ہوئے تھے۔ ہاں البتہ جب بات چیت ہوئی تو خوش بہت ہوئے۔کوئی انکی زبان بولے،چاہے ٹوٹی پھوٹی ہی ہو اور انکے شہروں کا احوال سنائے تو دل کا رانجھا راضی تو ہوتا ہی ہے۔
اُن سے بات چیت مفید رہی۔رش والی جگہوں خاص طور پر اسٹیشن اور ڈومہ سکوائر میں میلان کے چوروں ٹھگوں سے ہوشیار رہنے کی بہت تاکید کی۔حال حُلیے سے آگاہ کیا کہ فضول قسم کے پھٹے پرانے کپڑے پہنے،اخبار بیچتے،کہیں کارڈ بورڈ ہاتھوں میں پکڑے جہاں کہیں نظرآئیں محتاط رہیں۔ وینس میں بنگلہ دیشی بہت ہیں وہاں جائیں تو اُن سے مدد لے سکتی ہیں۔
میرے یہ پوچھنے پر کہ یہاں وہ لوگ کن سے زیادہ قربت محسوس کرتے ہیں؟ہندوستانیوں یا پاکستانیوں سے۔بڑا مزے کا جواب تھا۔کِسی سے بھی نہیں۔جس کا جس سے واسطہ پڑا یہ اسکے طرز عمل اور کردار پر منحصر ہے۔نہ مذہب کو اہمیت ہے وطن اور زبان کو ضرور اہمیت ہے۔ لیکن اِس سے بھی کہیں زیادہ انسان دوستی اہم ہے۔
انکی باتوں میں ان کی کم عمری کے باوجود وہ تجربہ بول رہا تھا جسمیں انکی ان مشقتوں،ان کے دکھوں،اپنے سے پیاروں کی جدائی کا غم اور پردیس میں ملنے والی اذیتوں کا کرب تھاجنہوں نے چھوٹی سی عمر میں انہیں وہ سب سکھا دیا تھا جنہیں سیکھنے کیلئے اِک عمر چاہیے ہوتی ہے۔

اقبال نے جب گھنٹہ بھر بعد آکر کہنی بھر لمبا برگر میرے ہاتھوں میں تھمایا۔میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
”اس سے اور بڑا نہیں تھاکیا۔“بمشکل آدھا کھایا گیا۔آدھا لپیٹ کر بیگ میں رکھا۔
اور جب اقبال مجھ سے میرے پروگرام کی بابت پوچھتا تھا کہ ابھی واپسی کرنی ہے یا کہیں اور کا پروگرام ہے؟میں نے نقشہ بیگ سے نکال کر کھولا۔سامنے پھیلایا۔مرکزی میلان میرے سامنے تھا۔اس پر نظر یں دوڑاتے ہوئے بولی۔
”اقبال ابھی دیکھا ہی کیا ہے؟اس کی تو ہر سٹریٹ میں کہیں میوزیم ہے،کہیں آرٹ گیلری ہے اور کہیں تاریخی چرچ ہے۔خاص الخاص ٹاورز ہیں،کہیں ونڈو شاپنگ کیلئے بلاتی شاپنگ سڑیٹ ز ہیں۔میں تو تمہارے بلانے پر یہاں آگئی ہوں۔وگرنہ تو میں نے شام کو ڈومہ کی صدیوں پرانی کلاسیکل عمارتوں اور گرجوں کے کلسوں سے پاؤں پاؤں اُترتے دیکھنا تھااور آنکھوں کو انوکھی مسرتوں سے بھرنا تھا۔
میں نے باتوں کی سر پٹ بھاگتی گاڑی کو بریک لگادئیے۔چند لمحے دائیں بائیں دیکھتی رہی۔پھر بولی۔
ارے ابھی سانتا ماریا گریزی St Maria D Grazie چلنا ہے۔ Last Supper The کا دیدار ہوجائے تو کیا کہنے۔ تھوڑی سی مزید تکلیف اٹھاؤ۔یہ ٹکٹوں والا مرحلہ بڑا مشکل ہے۔“
اقبال بہت سیدھا سادا نوجوان تھا۔پندرہ سال سے یہاں رہتے ہوئے بھی اُسے Last Supper The کا نہیں پتہ تھا۔
نقشے سے ہی تیر تکے چلائے کہ پہلے میڑو سے ڈومو چلتے ہیں وہاں سے گاڑی تبدیل کرنی ہوگی۔ اب کمرہمت کسی۔سچی بات ہے میڑو کی زیر زمین چیختی چنگھاڑتی دنیا دل کو بڑا ہراساں کرتی ہے۔شاید نہیں یقینا ً بڑھاپے میں دل بھی کمزور ہوجاتا ہے۔
ٹامک ٹوئیاں مارتے بہرحال جائے مقام پر پہنچے۔سانتا ماریا گریزی St Maria D Grazi کا یہ چرچ سادگی اور خوبصورتی کا عکاس تھا۔لوگ باگ کہیں بینچوں پر بیٹھے،کہیں ٹہلتے پھرتے تھے۔پتہ چلا کہ ٹکٹوں کی تو مہینوں پہلے بکنگ ہوتی ہے۔
اب درخواست کرتی ہوں۔ترش مزاج سی خاتون تھی۔فوراً بولی۔
”مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے۔“
دوبارہ درخواست کی تو بھی پذیرائی نہیں ملی۔ سوچاچلو ابھی تو کافی دن ہیں میلان میں۔ کوشش جاری رکھوں گی۔خیر خیرات مل ہی جائے گی۔
تھوڑی دیر وہاں بیٹھی۔پھر خود سے کہا۔”چلتی ہوں۔آج کا سبق اتنا ہی کافی ہے۔“

گہری شام بہرحال لُطف دینے والی تھی کہ گھر کا سا ماحول تھا۔ایک سادہ سی بہو خدمت کیلئے حاضر،ایک پوتی اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے بہلانے اور ٹی وی لگا کمرہ جس پر چلتے پاکستانی چینلز نے پاکستانی ماحول کی رہی سہی کسر بھی پوری کردی تھی۔اسی لئیے سیڑھیوں کی مشقت بھول گئی تھی کہ سُکھ کے اتنے پھولوں کے ساتھ اذیت کے کِسی نہ کِسی کانٹے کا ہونا تو لازم ہے۔
گو تھکاوٹ خاصی تھی۔مگر شام کے ڈھلتے سایوں میں مسز سمتھ سے ملاقات کے لئیے جانے کی اپنی خوشی تھی کہ یقینا فقیر کو کچھ دان پن ملنے کی آس امید ہی تھی۔
ابھی آٹھ نہیں بجے تھے۔دھوپ کے رنگ بہت ماند پڑگئے تھے۔ٹیرس پر کھڑی میں سامنے والے فلیٹ کو دیکھتی تھی جہاں وہ اُستاد ٹیرس پر کِھلی اپنی چھوٹی سی پھلواڑی کو دیکھنے آئی تھی اور مجھ پر نظر پڑتے ہی مسکرائی تھی۔رنگا رنگ پھولوں کے درمیان بیٹھی وہ خود بھی مرجھایا ہوا پھول ہی لگ رہی تھی۔قینچی سے اُن کی کتر بیونت ہورہی تھی۔
آٹھ بجے میں آہستہ آہستہ سیڑھیاں اُتری اور بیل پر ہاتھ رکھا۔مسز سمتھ نے کھولا اور مسکراتے ہوئے مجھے اندر آنے کا راستہ دیا۔نشست گاہ میں بیٹھتے ہی میں نے کہا۔
”آپ چائے کافی کے چکر میں نہ پڑئیے۔ میں چائے پی کر آئی ہوں۔بس باتیں کرنا چاہتی ہوں۔“
”مگر مجھے تو پینی ہے۔“وہ مسکرائیں۔
خجالت سی محسوس کرتے ہوئے میں نے کہا۔
”دراصل آپ کی تکلیف کا احساس ہے۔“
مسکرائیں۔مجھے محسوس ہوا جیسے میری احمقانہ بات پر مسکرائی ہیں۔اور کہتی ہوں۔ ”میں تو گھر کا سارا کام خود کرتی ہوں۔“
شرمندگی مٹانے کی کوشش میں کچھ تو بولنا ضروری تھا۔پس بغیر سوچے سمجھے بولی۔
”آپ کا گھر بہت صاف سُتھرا قرینے سلیقے سے سجا ہوا ہے۔“
”بالعموم ہم بہت صاف سُتھرے لوگ ہیں اور اپنے گھروں کو بھی ایسا ہی رکھتے ہیں۔ہمارے معاشرتی روےّے بھی اتنے اُلجھے ہوئے نہیں خاصے سُلجھے سے ہیں۔
باتیں کرتے کرتے وہ رُکیں اُن کا کتا دم ہلاتے ہلاتے ان کے پاس آگیا تھا۔چنبیلی کے سے رنگ اور لمبے لمبے بالوں والا۔وہ کچھ دیر اُسے محبت بھری نظروں سے دیکھتی رہیں۔پھر سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے گویا ہوئیں۔

یورپ بھر میں خاندانی نظام اپنی مظبوط بنیادوں کے ساتھ صرف ہمارے ہاں ہی تھا۔گو اب یہ بھی اپنی ان روایات سے منہ موڑ رہا ہے۔نئی نسل کی اپنی روش ہے۔مگر ہم جیسے بوڑھے لوگ اُن روایات اور قدروں کے ابھی بھی اسیر ہیں۔ہمیں رشتہ داروں اور عزیزوں دوستوں کے گھروں میں جمگھٹے اچھے لگتے ہیں۔کھانے کھانے اور گپیں لگانے میں ہم لُطف اٹھاتے ہیں۔گو ہمارے بچے بھی اِن میں کبھی کبھار شامل ہوجاتے ہیں۔تاہم پھر بھی اب وہ باتیں نہیں ہیں۔
مذہب کے بارے میں پوچھنے پر کہ یہ آپ لوگوں کی زندگیوں میں کتنا اہم اور دخیل ہے۔
انہوں نے کہا تھا۔ مذہب،خاندان اور کھانا پینا تین چیزیں ایک اطالوی کی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتی تھیں۔مگر جیسے خاندان منتشر ہورہے ہیں ویسے ہی مذہب بھی بس اب بوڑھے لوگوں تک محدود ہوگیا ہے۔نئے بچوں کے پاس نہ خاندان کے لئیے وقت ہے اور نہ چرچ کے لئیے۔

اٹلی کا اہم مذہب رومن کیتھولک ہے۔ویٹی کن بھی یہیں ہے اور پوپ بھی یہیں۔90%نوے فی صد لوگ اِس سے وابستہ ضرور ہیں۔مگر یہ وابستگی محض نام کی ہی ہے۔صرف بیس پچیس فی صد لوگ ہی مذہبی روایات کا احترام کرتے ہیں۔دس10 فی صدپروٹسٹنٹ،یہودی اور اب مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔ہاں البتہ مذہبی جنونیت نہیں۔رواداری اور برداشت ہے۔لوگ دھیمے اور خوش مزاج ہیں۔اگر کوئی زیادتی کرے تو پھر مزہ چکھاتے ہیں۔
ہم لوگ ہمیشہ یہ بات مدّنظر رکھتے ہیں کہ پانی کا شیوہ نیچے کی طرف بہنا ہے۔

Advertisements
merkit.pk

جاری ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply