• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • ظلمت سے نور کا سفر(قسط7)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

ظلمت سے نور کا سفر(قسط7)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر

گزشتہ چند روز میں ایک بڑی تبدیلی اس کی ذات میں آ رہی تھی ۔وہ تھی بہت زیادہ سوچنا ۔
یہ سوال اس کے دل و دماغ میں جگہ بنائے ہوئے تھا،
“یہ جو منفی رویوں کے حامل افراد ہیں ۔ کیا معاشرے میں ان کا کوئی تعمیری کردار ہے ۔؟”

tripako tours pakistan

یہ سوچتے سوچتے اسکا سر درد سے پھٹ پڑتا ۔
اللہ!
“مجھے کیا ہو رہا ہے؟ میں کیا سوچتی جا رہی ہوں؟ان سوالات کے جوابات کہاں سے ملیں گے؟ ”
اس کی خودکلامیوں کا دورانیہ بڑھتاہی جا رہاتھا ۔
خود سے سوال وجواب کرنے کی کوشش میں مزید حساسیت کی دلدل اسے لپیٹنے لگی ۔
اردگرد اندھیرے اسے وسوسوں کی جھاڑیوں میں مزید الجھا رہے تھے ۔
” میں ایسی نگاہ بصیرت کہاں سے لاؤں ؟ ”
وہ کبھی کبھی جھنجھلا جاتی۔

ضحی کی زندگی کی کشتی ایک ایسے سمندری طوفان کے بھنور میں آگئی تھی جو اسے گھمائے جا رہا تھا ۔
نتیجتاً وہی ہوا جو ہوتا ہے ۔حالات کی تیز آندھی کے بگولوں میں اکثر ہم ثابت قدم نہیں  رہ پاتے اور ہم اپنی شخصیت مسخ کر لیتے ہیں۔۔۔
ضحی کی اپنی شخصیت اس زوال کی طرف گامزن تھی ۔ یہ اسکا حلیہ بتا رہا تھا۔۔

وہ اپنے بوتیک میں داخل ہوئی تو سب نے ہی ٹھٹک کر اسے دیکھا۔۔نک سک سے تو پہلے بھی تیار نہیں ہوتی تھی مگر اسکی شخصیت سے نفاست اور وقار بخوبی چھلکتا تھا۔۔
اس نے  ملگجے کپڑوں اور رت جگی آنکھوں کے ساتھ اپنے آؤٹ لٹ میں قدم رکھا ۔
بے زاری سے آکر اس نے اپنی ورکر سے کپڑوں کے بارے میں پوچھا جن کو آرڈر پر تیار کرنا تھا ۔۔۔خاتون ورکر بنا رُکے بولنا شروع ہوگئی ۔۔ضحی خالی آنکھوں سے اسکو دیکھتی رہی ۔۔سمجھنے کی کوشش کرتی رہی مگر اسکو صرف ورکر کے لب ہلتے محسوس ہوئے ۔بدقت اس نے اپنے حواس قائم رکھنے کی کوشش کی تو فوکسڈ رہنے کے چکر میں ٹانگیں کانپنے لگیں،ہاتھوں میں پسینہ اتر آیا ،آنکھیں دھندلی  ہونے لگیں، اس نے آنکھوں کو ملا اور پیشانی کو بھی ، مگر کچھ فرق نہیں پڑا۔۔ورکر جو پٹر پٹر تفصیلات گنوا رہی تھی اب حیرانی سے اسکی طرف دیکھنے لگی۔
“میڈیم آپ ٹھیک تو ہیں؟ ”
ورکر نے پوچھا
“بس کچھ بے آرامی ہے ”
ضحی نے جواب دیا ۔

ضحی نے آنکھیں بند کرکے خود کو ریلکس کرنے کی کوشش کی تو آنکھیں کھولتے ساتھ ہی روشنی آنکھوں میں چبھنے  لگی ،کمرہ گھومتا ہوا محسوس ہوا یوں لگا جیسے زمین تھر تھرا اٹھی ہو اور خوف سے انتڑیاں سکڑنے لگیں اسے لگا ابھی اسکی راکنگ چیئر پچھے کو الٹ جائے گی ۔۔وہ جلدی میں اٹھ کھڑی ہوئی۔۔کانپتی ہوئی آواز میں ورکر سے پوچھا
” تمہیں زلزلہ محسوس ہوا؟”
تو ورکر نے کھلے منہ کے ساتھ انکار میں سر ہلا دیا۔۔
ضحی نے اسے باہر کی طرف اشارہ کیا۔۔
“اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ”.

میز پر رکھے جگ میں سے پانی پینے کے لیے گلاس میں ڈالا تو پھر وسوسہ ہوا کہ ابھی پیٹ میں جو مرڑور اٹھا تو کہیں پانی سے پھر نہ پڑ جائے۔ اپنا بیگ اٹھا کر گھر کی راہ لی کہ یہاں بے ہوش ہونا،وہ افورڈ نہیں کرسکتی تھی۔۔ورکرز میں بیمار مشہور ہونا اچھا نہیں تھا۔۔

گھر کی طرف جاتے ہوئے رکشہ میں بھی وہ اپنے ذہن میں چھڑی جنگ سے چھٹکارا پانے کا  سوچ رہی تھی کہ مجھے کیا ہوا ایسا ویسا تو کچھ بھی نہیں کھایا ۔۔اب تو کتاب پڑھنی شروع کی ہے کہ دھیان بٹ سکے مگر یہ تو اور حالت خراب ہو رہی ہے۔

بیگ سٹریپ کو انگلی پر لپٹتے ہوئے ،ایک پاؤں ہلانے میں مصروف وہ اپنی اضطراری کیفیت سے بالکل انجان تھی۔اوور تھنکنگ کا آکٹوپس اسے پوری طرح جکڑے نگلنے کی تیاری میں تھا اور وہ انجان اپنی بیماری کی وجہ سوچنے میں لگی تھی۔۔رکشہ کے جھٹکے سے رکنے سے ہوش کی دنیا میں واپس آئی تو گھر میں خاموشی چھائی تھی گھر والے یقیناً اپنے مشاغل میں گم تھے ۔۔

ریشمہ کالج اور اماں محلہ ٹور پر گئیں ہوئیں تھیں۔ضحی آکر سیدھی بیڈ پر لیٹ گئی۔گھر کی درودیوار سے خوف محسوس ہورہا تھا۔خاموشی میں سرسراہٹیں بھی سماعتوں پر کسی چڑیل کی کرلاتی آواز کی طرح محسوس ہورہی تھی۔ضحی نے موبائل پر ریڈیو آن کیا تو قرآن کی تلاوت ہورہی تھی۔اس نے ایک بار پھر حواس مجتمع کرتے ہوئے کان لگا کر سننے کی کوشش کی مگر  آیت گزر گئی اور وہ ایک بھی لفظ نہ سمجھ پائی ۔۔قاری اب ترجمہ بیان کررہا تھا۔

“پھر الله نے اس غم کے بعد تم پر چین یعنی اونگھ بھیجی اس نے بعضوں کو تم میں سے ڈھانک لیا اور بعضوں کو اپنی جان کا فکر لڑ رہا تھا الله پر جھوٹے خیال جاہلوں جیسے کر رہے تھے کہتے تھے ہمارے ہاتھ میں کچھ کام ہے کہہ دو کہ سب کام الله کے ہاتھ میں ہے وہ اپنے دل میں چھپاتے ہیں جو تیرے سامنے ظاہر نہیں کرتے کہتے ہیں اگر ہمارے ہاتھ میں کچھ کام ہوتا تو ہم اس جگہ مارے نہ جاتے کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے البتہ اپنے گرنے کی جگہ پرباہر نکل آتے وہ لوگ جن پر قتل ہونا لکھا جا چکا تھا اور تاکہ الله آزمائے جو تمہارے سینوں میں ہے اور تاکہ اس چیز کو صاف کردے جو تمہارے دلوں میں ہے اور الله دلوں کے بھید جاننے والا ہے”
ال_عمران۔154

اللہ ۔۔۔ اسکی آنکھوں سے بے اختیار آنسوں رواں ہوگئے دل نے پھر شکر گزاری میں پناہ لی تھی ۔۔۔اللہ انسان بے حد ناشکرا ہے ۔۔امتحان گاہ میں آکر مصیبت،ابتلا،غم اور حزن کا شکوہ کرتا ہے یہ سب تو امتحان ہے۔۔۔اور انسان یہ بھول جاتا ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور ہر غم کے بعد چین ضرور ملے گا۔انسان کو موت کے خوف سے تقدیر پر عین الیقین ہی نکل سکتا ہے۔دل واقعی میں صاف ہوتا ہوا محسوس ہوا ۔۔ قرآن سے ملی انرجی سے مضبوط ارادہ کیا کہ اب میں اپنا کردار مضبوط بناؤ گی ،میں اپنے خواب سچ کروں گی ۔اسکو کہیں پڑھا جملہ یاد آرہا تھا کہ
” انسان کو کوئی چیز نہیں ہرا سکتی جب تک کہ وہ خود ہار نہ مان لے”

وہ اپنے اندر کی مایوسی،اضطرار،بے چینی،خوف اور ناامیدی سے ہار نہیں مانے گی۔۔کیا ہوا کہ راہ نہیں مل رہی مگر زندگی کے ہر مرحلے ،ہر راستے کے مسافر موجود ہوتے ہیں۔مجھے اب اس راہ پر گم نہیں ہونا۔۔۔مجھ سے پہلے جو ہجرت امید کرکے پریشان حالیوں سے آسودگی کی راہ پر چلے ہیں میں ان سے پوچھوں گی اور اسکے لی پہلے جو ہجرت امید کرکے پریشان حالیوں سے آسودگی کی راہ پر چلے ہیں میں ان سے پوچھوں گی اور اسکے لیے اسنے اپنی ایک دوست سے رابطہ کرنے کا سوچا ۔مسکراتے ہوئے ریڈیو پر لگی غزل کی طرف متوجہ ہوئی جو اسکے جذبات کی عکاسی کر رہی تھی۔۔ اے عشق ازل گیر و ابد تاب میرے بھی ہیں کچھ خواب میرے بھی ہیں کچھ خواب وہ خواب کہ اسرار نہیں جن کے ہمیں آج بھی معلوم وہ خواب جو آسودگیٔ مرتبہ و جاہ سے آلودگیٔ گرد سر راہ سے معصوم! جو زیست کی بے ہودہ کشاکش سے بھی ہوتے نہیں معدوم خود زیست کا مفہوم۔۔

جاری ہے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *