دیوانِ غالب کے دیوانے۔۔عاصم کلیار

غالب کی زندگی میں دیوانِ غالب(اردو)پانچ بار شائع ہوا 1841 میں شائع ہونے والا پہلا ایڈیشن اس لۓ اہم ہے کہ وہ اب نایاب ہے 1862 میں شائع ہونے والا چوتھا ایڈیشن اس لۓ اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں سب سے زیادہ 1802 اشعار شامل ہیں ۔1861 میں چھپنے والے تیسرے ایڈیشن میں اس قدر غلطیاں در آئیں کہ اس کے بارے غالب میر مہدی مجروح کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں”دیوان اردو چھپ چکا، ہاۓ لکھنُو کے چھاپے خانے نے جس کا دیوان چھاپا اس کو آسمان پر چڑھا دیا ۔۔۔ دِلی پر اور اس کے پانی پر اور اس کے چھاپے خانے پر لعنت، صاحب دیوان کو اس طرح یاد کرنا جیسے کوئی کتے کو آواز دے ۔”

میری لائبریری کے گوشہ غالب میں غالب کی زندگی میں آخری بار 1863 میں شائع ہونے والے دیوان کا ایک نسخہ ماہ و سال کے لحاظ سے قدیم ہونے کے باوجود اچھی حالت میں موجود ہے اس ایڈیشن میں 1795 شعر شامل ہیں یہ نسخہ مجھے ریگل میں واقع پرانی کتابوں کی دوکان صدیقی بکس کے مالک نے مشہور شاعر احسان دانش کے بیٹے سے خرید کر بیچا تھا ۔دیوان غالب کا یہ نسخہ اور نول کشور سے چھپنے والا دیوان ذوق یکجا مضبوط گتے کی جلد میں محفوظ مجھ تک پہنچے۔
غالب کا دیوان 146 صفحات پر مشتمل ہے آخری صفحے پر شکستہ خط میں سیاہ دوات سے یہ عبارت لکھی ہوئی ہے۔
مالک ایں کتاب بندہ جتی داس کنول
جالندھر
دیوانِ غالب کے اس نسخے کو پچھلے ڈیڑھ سو برسوں میں نجانے کتنے لوگوں نے سرد موسم کی طویل راتوں میں چراغ کی لو میں پڑھا ہو گا اور کتنے ہی لوگوں نے موسم بہار میں کسی چمن میں پھولوں کی روش کے کنارے بیٹھ کر اس نسخے سے لطف اٹھایا ہو گا، شاید دیوان غالب کی اس جلد میں محبت نامے بھی رکھ کر بھیجے گۓ ہوں کیونکہ شاعری اور محبت کا تعلق تو روزِ ازل ہی سے قائم ہے کسی پڑھنے والے نے اس دیوان پر مشکل الفاظ کو خط کشید کر کے ان کے اردو اور کہیں کہیں انگریزی معنی بھی لکھے ہیں۔

tripako tours pakistan

ہندوستان کی بات تو چھوڑیے صاحب، مملکت خداداد میں بھی اردو کو جان کے لالے پڑے ہوۓ ہیں وہ زمانے اور تھے جب جالندھر میں رہنے والا جتی داس کنول بھی اردو شاعری پڑھتا تھا۔جالندھر اب سرحد کے اس پار ہے اور یہ نسخہ اب لاہور میں رہنے والے غالب کے ایک گمنام پرستار کی ملکیت ہے اسے غالب کا فیضان ہی سمجھیں کہ اب بھی گاہے گاہے جتی داس کنول کے لۓ میرے ہاتھ دعا کے لۓ اٹھتے رہتے ہیں۔ میرے بعد یقینًا یہ نسخہ غالب کے کسی اور پرستار کے لۓ حرزجاں ہو گا یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ غالب کے چاہنے والے کسی بھی زمانے میں موجود نہ ہوں۔۔ کالی داس گپتا رضا اور سید معین الرحمن جیسے لوگ ہی تو ہر عہد اور ہر ملک کا ثقافتی ورثہ ہوتے ہیں۔
سرورق کی عبارت یوں ہے۔
“العلم قوۃ
دیوانِ غالب 1863
مطبع مفید خلائق آگرہ میں اہتمام سے منشی شیو نرائن کے چھپا”
یہ ایڈیشن اعلی طباعت اور جدید املا کی وجہ سے غالب کی زندگی میں شائع ہونے والے باقی سب ایڈیشنوں سے اہمیت کا حامل ہے۔

Advertisements
merkit.pk

تراجمِ غالب
1. افتخار احمد عدنی ۔ اردو ترجمہ ۔ رالف رسل ۔ انگریزی ترجمہ ۔غالب کی فارسی غزلوں سے انتخاب ترجموں کے ساتھ ۔ 1999 ۔ لاہور
2. افتخار احمد عدنی ۔ نقش ہاۓ رنگ رنگ ۔ 2005 ۔ لاہور
3. خواجہ احمد فاروقی ۔ دستنبو ۔ 2000 ۔ دہلی
4. دلشاد کلانچوی ۔ غالب دیاں غزلاں ۔ ترجمہ مع اردو کلام ۔ 1969 ۔ لاہور
5. رفیق خاور ۔ نقوش غالب ۔ ابرِ گہر بار ۔ 1969 ۔ کراچی
6. صابر آفاقی ۔ نقش ہاۓ رنگ رنگ ۔ مرزا غالب کے فارسی قصائد کا اردو ترجمہ ۔ 2004 ۔ کراچی
7. صادق ۔ مرتب ۔ مثنوی چراغ دیر ۔ (مع پانچ اردو تراجم) ۔ 2019 ۔ لاہور
8. ظ۔انصاری ۔ مثنویاتِ غالب ۔ اصل فارسی مع اردو ترجمہ ۔ 1983 ۔ دہلی
9. عبدالرشید ۔ مہر نیم روز ۔ 1969 ۔ کراچی
10. محمد افضل شاھد ۔ چریجے دل دے اُتے لُون دیا دھوڑا ۔ 2008 ۔ شاہ کوٹ
11. نبی احمد باجوہ ۔ شش جہاتِ غالب ۔ 1972 ۔ لاہور
12. نور الحسن ہاشمی ۔ سازِ اودھی میں نغمہ غالب ۔ 2005 ۔ لکھنُو
نوٹ ۔
غالب کے مکمل دیوان کا کچھ اہل علم نے مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا ہوا ہے مثال کے طور پر اسیر عابد کا کیا ہوا دیوانِ غالب کا پنجابی ترجمہ یا شوکت جمیل کا دیوانِ غالب کا انگریزی ترجمہ وغیرہ ایسے تراجم جو مکمل دیوان کی صورت ہیں ان کو میں نے دیوانِ غالب کے زمرے میں رکھا ہے سو ان کا اندراج تراجمِ غالب کے تحت نہیں کیا گیا۔ فارسی خطوط کے اردو تراجم کئ لوگوں نے کیے پرتو روہیلہ نے تمام فارسی خطوط کا ترجمہ کر کے پہلے کئ کتابوں اور بعد میں کلیات کی صورت چھاپ دیا اس کلیات و دیگر کئ ترجمہ کرنے والوں کی کتابیں خطوط غالب کے ذیل میں آپ ملاحظہ کریں گے انگریزی زبان میں غالب اور غالبیات سے متعلق سب کتب انگریزی کتابوں کی ذیل میں دیکھی جا سکتی ہیں خطوط غالب کے اردو سے انگریزی تراجم بھی انگریزی کتب کی ذیل میں رکھے ہوۓ ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply