• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کمیونٹی سروس بطور قانونی سزا۔۔محمد اقبال دیوان

کمیونٹی سروس بطور قانونی سزا۔۔محمد اقبال دیوان

کم خواتین کا نام اتنا نشیلا ہوتا ہے”RefaEli-Bar”اسرائیل کی ٹاپ موسٹ اور دنیا میں سپر ماڈل مانی جاتی تھیں۔
چند سال قبل علم ہوا کہ باقاعدگی سے ٹیکس چوری کرتی ہیں۔ہم سے تو غلط انگریزی بولنے پر میرا گرفتار نہیں ہوتی، مگر اسرائیل کی  ایف بی آر ایسی  نہیں کہ شبر زیدی کی طرح عہدے سے ہٹنے کے بعد چٹاخ پٹاخ بولنے لگے ۔خود بھی ایف بی آر کے آنگن میں جوان ہوئے تھے ۔عہدہ کس کی رسیدیں سیدھی کرنے پر ملا یہ نہیں بتاتے۔اب نوکری گئی تو ایسے تیور بدلے جیسے ایف بی آر سگی خالہ نہ ہو بلکہ نری ظالم ساس ہو۔

رافیئل کی ٹیکس چوری کا جس دن علم ہوا ،اسی رات کالے ڈالے میں ماں بیٹی کو ڈال کرلے گئے۔ دوران تفتیش معصومہ سے یہ غلطی ہوئی کہ کہہ بیٹھی میرے اکاؤ نٹس تو میری اَن پڑھ نابینا ماں سنبھالتی ہیں۔میری مصروفیت کا تو آپ کو علم ہے  کہ کبھی  سپورٹس السٹریٹد کے سویم سوٹس اسپیشل والے کور پر تو کبھی لیونارڈو ڈا کیپریو کی بانہوں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتی ہوں،ادھر ڈوبی ادھر نکلی کے مصداق۔۔
ان بے مروتوں نے کہاں سنی تھی۔ماں کو چھ ماہ کی قید ٹھوک دی۔بیٹی پر جرمانہ اور بینک ریٹ سے ٹیکس کی وصولی کے ساتھ کمیونیٹی سروس کی سزا۔ ٹوائلٹ صاف کریں یا معذور بچوں کے سینٹر کی صفائی۔نہ ہوئی فخر سادات حریم شاہ المعروف بہ فضا حسین۔یا ہماری پڑوسن ایان علی۔۔

tripako tours pakistan
rafaeli
leonardo-dicaprio-bar-refaeli-lakers-game-04
ayan ali
fiza hussain
govt rest house
pakistan-karachi_street-vend

آج ایف بی آر کے دم سے عدالت کی چھپر چھاؤں تلے برج الخلیفہ کا فلیٹ آباد ہوتا اور انصاف مہنگی ایل پی جی کے چولہے پر بہن دی سری پکارہا ہوتا۔ایان علی اور جنرل مشرف کی طرح اس کا نام مجال ہے کسی عدالت کے لب شیریں پر برسر الزام بھی آجاتا۔اس دھوکے باز ٹیکس چور کامقدمہ کسی بڑے قانونی چوہدری کےپاس لگا ہوتاتو چوہدری صاحب تین دن کی بیماری کی چھٹی لے کر ان سمیت مری نتھیا گلی کے کسی سرکاری ریسٹ ہاؤس غائب ہوجاتے اور محکمہ زراعت بار بی بی کو ڈھونڈرہا ہوتاکہ بڑے صاحب کا جیا بے قرار ہے۔مل جا میری باربی تیرا انتظار ہے۔

پاکستان میں عدالتی نظام بھی ایسا ہے کہ ہم سوچتے ہیں کہ جانے امام ابو حنیفہ کیسے تھے بے نیاز اور اللہ لوگ انسان تھے بغداد  کے چیف جسٹس کا عہدہ آفر ہوا۔ ان کے شاگرد قاضی ابویوسف بضد تھے کہ خلیفہ جعفر منصور بےتاب ہے کہ عالم عرب میں ان سا اور کوئی باعمل عالم اس عہدے کا اہل نہیں ۔۔شاگرد کو سمجھایا کہ کوئی کتنا اچھا پیراک کیوں نہ ہو بلاوجہ سمندر کی گہرائی میں جانا قرین فہم نہیں۔ منصف کا منصب ایسا تکلیف دہ ہے کہ مانو اسے قیامت کے دن الٹی چھری سے ذبح کیا جائے گا۔اس کے باوجود کوئی اس منصب کو پاکستان میں کیسے قبول کرسکتا ہے۔یہاں تو انصاف کا عالم یہ ہے کہ مجبور اور غریب کےحلق اصغر میں تیر ترازو ہوجا تا ہے اور کسی مالدار اہل زر اور رسائی کا با ل بیکا نہ ہو چھری کے نیچے۔ہفتے کو گھر بیٹھے ضمانت ہوجاتی ہے۔شیطان پارٹی کے پروردہ وکیل ذات برادری اور چیمبر کنکشن کی بنیاد پر بڑی عدالت میں جج بن جاتے ہیں۔وہ جو ہر کسی کو اپنے فیصلے میں بالزاک اور گاڈ فادر کا یہ قول سناتے تھے”ہرخوش نصیبی کی پشت پر ایک جرم بڑا چھپا ہوتا ہے”
ان کے اپنے سسر جسٹس نسیم حسن شاہ بھی کھلم کھلا اعتراف کرچکے تھے کہ بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ انہوں نے ضیا الحق کی خوشنودی کی خاطر کیا تھا۔

ہم نے ملازمت کے ابتدائی دنوں میں جیلوں میں بھیڑ کم کرنے کے لیے ہوم سیکرٹری واجد رانا صاحب کے حکم سے بچہ جیل لانڈھی کراچی کا دورہ کیا۔مقصد یہ تھا کہ ان ملزمان کو بطور مجسٹریٹ رہائی دیں جو وہاں بے پیشی چھ ماہ سے زائد مدت سے بند ہیں۔
ان ملزمان میں 13 سال کا ایک لڑکا ایسا تھا جس سے اس کے حجام باس اور اس کے علاقے کا میں تعینات سپاہی دوست بدفعلی کرنا چاہتے تھے۔وہ رضامند نہ ہوا تو اسے پھیری لگاکر پرندے بیچتے ایک طوطے والے کو ڈرا دھمکا کر چار طوطے چوری کرنے کے الزام میں جیل بھجوادیا۔ سال بھر سے بند تھا۔ نہ پیشی ہوتی تھی نہ ضمانت۔ قصہ سنا تو لرز گئے ۔اسے یقیناً  کسی عدالت نے ہی جیل بھجوایا ہوگا۔ اسے اسی وقت رہائی دی۔

لیاری کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ تھے مگر کسی وجہ سے عید گاہ سب ڈویژن کا عارضی چارج بھی ملا ہوا تھا۔یہ وہ دن تھے جب انتظامی مجسٹریٹس کو عدالتی اختیارات تھے۔اس سے جرائم کی روک تھام میں بہت مدد ملتی تھی۔ایم کیو ایم اور لیاری گینگ وار والوں کا مجسٹریٹ صاحبان سے پتہ پانی ہوتا تھا۔ کسی وکیل کی جرات نہ تھی کہ کوئی اونچی نیچی بات کرتا حالانکہ جسٹس مشیر امیر مسلم ہانی اور قاضی فیض عیسی جیسے لوگ بھی ان عدالتوں میں  پیش ہوتے تھے۔بار اور بینچ دونوں ایک دوسرے کابہت احترام کرتے تھے۔ اب ایسا نہیں۔

raid

عیدگاہ تھانے کا کیس تھا۔ایک نوجوان ملزم پیش ہوا تو کھڑکھڑا تا سفید کرتا شلوار،ناپ سے مگر ذرا ادھر اُدھر۔ایرانی بلوچ تھا شادی میں شرکت کے لیے بلوچستان سے آیا تھا ۔قریبی بس اڈے پر اُترا تھا۔ساتھ ہی کراچی کی ہیرا منڈی نپیئر روڈ تھی۔یہ کبھی ویسی نہ تھی جیسی لاہور حیدرآباد کی ہوا کرتی تھی پھر اہل دل کو آنکھ کا سرمہ مل ہی جاتا تھا۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس کی پیشی کے درمیان وہ ایس۔ ایچ ۔او صاحب آگئے جنہوں نے اس کی چارج شیٹ اپنے دستخط سے عدالت بھجوائی تھی جو اس کے جیل جانے کا باعث بنی ہوگی۔یہ ہم سے پہلے کی بات ہے۔گرفتاری یقیناً موبائل گشت پر ہوئی ہوگی سو ان کا واسطہ محض ایک فرد جرم سے تھا۔ جرم یہ تھا کہ ملزم کے پاس ہیروئین کی ایک دس گرام کی پڑیا دستیاب ہوئی تھی۔
یقین جانیے سال بھر میں پہلی پیشی اس لیے ہوئی تھی کہ مجسٹریٹ کی شہرت بے رحم اور سر پھرے منصف کی تھی اور وہ عدالت کی حکم عدولی پر ایک دفعہ سندھ کے آئی جی عباس خان کو طلب کربیٹھا تھا۔
ہم نے چھیڑا کہ جیل میں بہت مزے ہیں ۔ ایسا اجلا لباس کہاں سے آیا؟۔کہنے لگا میرا اپنا جوڑا تو جیل میں مشقت سے پھٹ گیایہ ایک پھانسی کے سزا وار مجرم نے یہ کہہ کر دیاکہ مجھے تو جانے کب پھانسی لگے تو یہ پہن لے۔پہلی پیشی ہے۔اچھا لباس ہو تو یہ ڈائیریکٹ آفیسر مجسٹریٹوں پر بھرم پڑتا ہے۔
پوچھا قصہ کیا تھا۔ بتانے لگا لی مارکیٹ کے بس سے اترا ۔اڈے پر ایک دلال ملا۔کوٹھے پر لے گیا۔ مائی ذرا مست تھی ۔ پہلا چانس تھا ،سیکس کیا، نیچے ہوٹل پرکھانا کھایا۔ فرسٹ ٹائم والے سرور میں تھا باہر ایک آدمی نے ہیروئن کا سگریٹ بیچا دوسرا کش لیا تھا کہ موبائیل آگئی اور تھانے پر لے گئی۔ایک سگریٹ کےے دو کش سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔

ہم نے ضابطہ فوجداری قانون کی دفعہ 382(بی) کے تحت عرصئہ حراست کو سزا مان کر اس کی رہائی کا پروانہ جاری کیا تو عدالت میں خوشی سے اچھلنے لگا۔بتادیا کہ رہائی شام کو جیل سے ہوگی۔نہ ہوئی توکل سپریٹنڈنٹ  جیل اوکاش خود حاضر ہوگا۔
اس کے جانے کے بعد پیش کار کو ایس ایچ او کو اندر بھیجنے کا کہا۔شرمندہ کرنا چاہا کہ ایک سگریٹ کے پیچھے ایک نوجوان کی زندگی کا ایک سال ضائع کردیا ۔ ہم بتاتے ہیں اس کے علاقے میں کون کیا جرم کرتا ہے۔اس کا استدلال یہ تھا کہ بڑوں کو نہیں گرفتار کرسکتے تو کیا چھوٹوں کو بھی معاف کردیں۔تھانے بند کردیں۔چند ماہ بعد کسی قاتلانہ حملے میں مارا گیا تو یہ مکالمہ بہت یاد آیا۔

آئیں عدالتوں اور انصاف میں کیا رکھا ہے۔ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں کہ میرے رب کی پکڑ بہت شدید ہے۔یہ اس دن کہیں گے کہ یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے جب زمین اپنے سب پوشیدہ دفینے اگل دے گی۔

انہیں بتایا جائے گا کہ یہی تو وہ دن تھا جس سے تمہیں ہم نے باخبر کیا تھا
سورہ الزلزال-قرآن العظیم
یہ چمن یوں ہی پڑا رہے گا۔ہم ماڈلز کی بات کریں تاکہ ایسا لگے کہ فیض کے بقول
بہار آئی تو جیسے یک بار
لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے
شباب سارے

naomi during service
naomi during service

حشر ساماں سفرادی یہودن ماڈل رافئیل  بار کی کمیونٹی سروس کی سزا کی بات ہورہی تھی ۔سو آگے چلیں برطانیہ کی دیکھا دیکھی اسرائیل امریکہ میں بھی کمیونٹی سروس کی سزا  مروج ہے۔
اسے امریکہ میںcommunity restitution, کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔اس کا مقصد یہ ہوتا کہ ایک فرد کے تکبر اور گھمنڈ کی وجہ سے جو غیر معمولی حرکت ہوئی ہے اس سے معاشرے اور فرد کو نقصان پہنچا ہے۔ جرمانے ، جیل کے علاوہ اس گھمنڈی کو مزا چکھانے اور قانون کے سامنے اس کی اوقات یاد دلانے کے لیے اس سے کیوں نہ کمیونٹی کی خدمت لی جائے۔اس میں خیال رکھا جاتا ہے کہ سزا ایسی نہ ہو کہ جس سے بلاوجہ سختی کا شائبہ گزرے ۔وہ کام یا خدمت لی جائے جو غریب لوگ بہ حالت مجبوری بطور پیشہ سر انجام دیتے ہیں۔یہ خدمت انجام دے کر ملزم میں احساس ندامت apologetic reparation کو اجاگر کیا جانا مطلوب ہوتا ہے۔
1860 میں لارڈ میکالے نے شہر ہ آفاق The Indian Penal Code تن تنہا ڈرافٹ کیا جب کہ ہماری وزارت قانون تو ہمارے سپہ سالارکی ملازمت کا     تین چار لائن کا توسیع نامہ بھی ٹھیک سے ڈراٖفٹ نہ کرپائی ۔یہ ضابطہ قانون جو اب سے161 سال پہلے لکھا گیا اب بھارت پاکستان سری لنکا نیپال پاکستان میں معمولی تبدیلیوں کے ساتھ مروج ہے جب کہ ہمارا سرمایہء افتخار بہادر شاہ ظفر کی چنداداس غزلیں ہیں۔
اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس نے یہ کمیونٹی سروس کو اس میں شامل نہ کیا تھا۔۔

کمال کی بات یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے دونوں کے Penal Code. میں Section 53 موجود ہے جس میں اس کوآج بھی بطور سزا شامل کیا جاسکتا ہے۔ اس کی شاید ایک وجہ یہ ہو کہ میکالے جانتا تھا کہ سرکار انگلشیہ کے سامنے مقامی معززین جاگیرداروں اور سرداروں کی دو ٹکے کی وقعت نہ تھی۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد اس کا ایک قریبی عزیز ایک دعوت میں مدعو تھا۔ یہ دعوت کمشنر بہادر کی جانب سے تھی۔وہ ناہنجار ہال میں جوتوں سمیت داخل ہوگیا۔دعوت کے اختتام پر اسے مجبور کیا گیا کہ وہ یہ جوتے بغل میں داب کر جھک کے ہال سے باہر نکلے تاکہ سب کے سامنے اس کی اوقات عیاں ہوجائے۔

Advertisements
merkit.pk

آئیں اس مضمون کو پھر اسی حوالے سے ایک ماڈل ہی کے قصے پر ختم کریں۔مشہور سیاہ فام برطانوی ماڈل نیومی کیمبل امریکہ آئیں تو ایک دن ہڑبونگ میں اپنی پسندیدہ جینز ڈھونڈ رہی تھی۔اپنی 42 سالہ ملازمہ سے پوچھا تو جواب پسند نہ آیا۔ سیل فون کھینچ کا مارا تو سر کے پیچھے جاکر لگا۔چار ٹانکے آئے۔
عدالت میں پیش ہوئی ،جرمانہ ہوا،معافی منگوائی گئی اور اس کے غصے کے اور تکبر کو قابو میں لانے کے لیے سزا کے طور پر نیویارک کے پبلک ٹوائلٹس پانچ دن صاف کروائے گئے۔ بے چاری گھر سے قیمتی گاؤ نز پہن کر گھر سے نکلتی۔جمعداروں کا لباس پہنتی اور وائپر اور بروم لے کر میڈونا کا مشہور گیت گنگناتی
like a virgin touched for the very first time

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply