• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • امریکہ میں جمہوریت کی تدفین۔۔محمد کاظم انبارلوئی

امریکہ میں جمہوریت کی تدفین۔۔محمد کاظم انبارلوئی

بدھ 6 جنوری کا دن امریکہ کی تاریخ کا سیاہ دن تھا۔ گذشتہ دو صدیوں کے دوران امریکی شہریوں نے مختلف خصوصیات کے حامل کئی صدور مملکت کا مشاہدہ کیا ہے لیکن انہوں نے پہلی بار خود کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے ایک جواری شخص کو صدر مملکت کے طور پر وائٹ ہاوس بھیجا جو خود ایک بہت بڑی مشکل میں تبدیل ہو گیا۔ یہ بڑی مشکل “مشروعیت کا بحران” تھا۔ گذشتہ ہفتے بدھ کے روز دنیا والوں نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں جن مناظر کا مشاہدہ کیا بعض نے انہیں شرمناک، بعض نے ذلت آمیز اور بعض نے گریٹ امریکہ کا اختتام قرار دیا۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو 6 جنوری کے دن کانگریس کے سامنے احتجاجی مظاہرے منعقد کرنے کی کال دے رکھی تھی۔

عام طور پر جب گھاگھ جواری ایک بڑی شکست سے روبرو ہوتے ہیں تو وہ رسک لیتے ہیں اور اپنا پورا سرمایہ حتی عزت اور آبرو بھی داو پر لگا دیتے ہیں۔ وہ اپنے آپ سے کہتے ہیں: یا جیت جائیں گے یا ہار جائیں گے۔ صرف یہ کام ہی ان میں پائی جانے والی حب جاہ اور اقتدار کی شہوت کو تسکین دے سکتا ہے۔ ان کی نظر میں جیت کے علاوہ کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ “مکروا و مکراللہ واللہ خیر الماکرین” کے گرداب میں پھنس گیا تھا۔ جب واشنگٹن کے تھنک ٹینکس میں بیٹھے نرم جنگ کے ماہرین امریکہ کے زیر اثر ممالک میں رنگی انقلابوں کے منصوبے بنا رہے تھے تو اچانک انہوں نے دیکھا کہ رنگی انقلاب میں انہوں نے جو نرم ہوا پیدا کی تھی وہ ایک طوفان کی صورت اختیار کر کے خود کو دنیا میں جمہوریت کا گہوارہ کہلانے والے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

tripako tours pakistan

ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے والے 75 ملین امریکی شہریوں میں سے دس لاکھ مشتعل شہریوں نے اپنے امیدوار کی کال پر کانگریس پر دھاوا بول دیا اور چار دفاعی لائنوں کو آسانی سے پامال کرتے ہوئے چیونٹیوں کی طرح اس عمارت پر قبضہ کر لیا۔ یوں انہوں نے اس ملک میں جمہوریت کا محل اجاڑ دیا۔ اب امریکی حکمران غرور و تکبر سے دنیا کے دیگر ممالک پر جمہوریت کا رعب نہیں ڈال سکتے اور خود کو مثالی جمہوریت کا مرکز قرار نہیں دے سکتے۔ اب امریکی حکمران وائٹ ہاوس کے نقطہ نظرات کو دنیا کے دیگر ممالک میں جمہوری اقدار ناپنے کی کسوٹی قرار نہیں دے سکتے۔ گذشتہ ہفتے بدھ کے دن دنیا والوں نے امریکہ میں جو کچھ دیکھا وہ ایک بہت بڑا سیاسی اسکینڈل تھا جس نے اس ملک میں جمہوریت کی دکان ہمیشہ کیلئے بند کر دی ہے۔

عمران خان اور اُن کے حامی۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

یہ واقعہ امریکہ میں زوال کا ڈومینو ثابت ہو گا جس کے بعد اس ملک کا کوئی بھی سیاسی فلسفی سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں رہے گا۔ یہ سوچنا انتہائی سادہ لوحی کا ثبوت ہے کہ 6 جنوری کا واقعہ اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اپنے اندر “مفادات کے تضاد” کے شدید گرداب کا شکار ہو چکا ہے۔ امریکہ پر حکمفرما نظام میں کارفرما سیاسی شخصیات اور ادارے سیاسی عقلانیت اور اجتماعی معقولیت کے ذریعے یہ تضاد دور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے نقطہ نظرات کا جبری نتیجہ ایک سیاسی جواری کی جانب جانے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یوں اس نظام کے اندر سے ایک جواری صدر ابھر کر سامنے آیا۔ اس نے مغرب کی تمام فکری اور سیاسی اقدار اور جمہوریت، انسانی حقوق اور دیگر ایسے مفاہیم کو قربان کر دیا۔

مظاہرین نے کانگریس کی دالان، ہال اور اسپیکر کے کمرے میں جو یادگار تصاویر بنا کر شائع کیں ان سے سرمایہ دارانہ نظام کے زوال اور حل نہ ہونے والے تضادات کا بخوبی مشاہدہ ہوتا ہے۔ بدھ 6 جنوری کے امریکہ کا چہرہ کسی قسم کے نئے سیاسی مفروضے یا نظریے سے دھویا نہیں جا سکتا۔ کرونا وائرس سے روزانہ چار ہزار مرنے والے شہریوں کا امریکہ، مختلت شہروں میں ہزاروں بے گھر افراد کا امریکہ، چار کروڑ بھوکے اور بیروزگار افراد کا امریکہ، وہ امریکہ جس کی پولیس سیاہ فام شخص کی گردن پر گھٹنا رکھ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے، وہ امریکہ جس کی جیلوں میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور وہ امریکہ جس کے سیاست دان کسی قانون اور بین الاقوامی معاہدے کی پابندی نہیں کرتے، قابل دید امریکہ ہے۔

کیا بائیڈن ٹرمپ سے بہتر ہیں؟۔۔غزالی فاروق

78 ملین ووٹ حاصل کرنے والا منتخب صدر، جو بائیڈن کہتا ہے: “ٹرمپ دہشت گرد ہے اور جن افراد نے کانگریس پر حملہ کیا وہ دہشت گرد ہیں۔” دوسری طرف 73 ملین ووٹ حاصل کرنے والا ڈونلڈ ٹرمپ کہتا ہے: “امریکہ کا انتخاباتی نظام کرپٹ ہے اور جو بائیڈن ایک جھوٹا اور دھاندلی کرنے والا شخص ہے۔” ان دونوں بیانات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امریکہ میں جمہوریت مر چکی ہے۔ بدھ 6 جنوری کے دن جمہوریت کا جنازہ نکلا اور کانگریس میں اس کی تدفین ہو گئی ہے۔ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے حال ہی میں اپنی تقریر میں عالمی استکبار کے بڑے بت کی ناگفتہ بہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے عالمی کفر کے خلاف خدا کا مکر قرار دیا ہے۔

اسلام ٹائمز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *