گم گشتہ۔۔اسلم اعوان

جدید غزل کے منفرد شاعر شہاب صفدر کے پانچویں شعری مجموعہ”گم گشتہ“ کا تازہ نسخہ میرے سامنے ہے،جس کے بے کیف صفحات میں مجھے خطہ کی اُس اجڑی ہوئی تہذیب کا نوحہ سنائی دیا،جسے ایک پُرامن سماج نے تین سو سال تک اپنی آغوش محبت میں پال پوس کے جوان کیا تھا۔حسن اتفاق سے شہاب صفدر کے شاعرانہ ارتقاءکا سفر طویل عرصہ تک میری پیشہ وارانہ زندگی سے ہم قدم رہا،ہم دونوںاِس پیش پا افتادہ شہر کے گھٹن زدہ ماحول میں اُن افسردہ کن مشاعروں میں اکھٹے شریک ہوتے رہے جو نظروں سے اوجھل ہوتے ہوئے جرس کارواں کی ڈوبتی ہوئی آواز سے مشابہت رکھتے تھے،یعنی نوے کی دہائی میں شہاب صفدر جب اپنی ادیبانہ زندگی کی ابتداءکر رہے تھے تو اس شہر کی ادبی حیات اپنی آخری ہچکی لینے والی تھی،یہ وہ زمانہ تھا جب فرقہ وارانہ تشدد اور عالمی دہشتگردی کی خونخوار لہریں تہذیب و ثقافت کی نازک انگلیوں کوکچل رہیں تھیں اورعسکریت کا گیٹ وے ہونے کے ناتے ڈیرہ اسماعیل خان کی متنوع تہذیب اِس جارحیت کا خاص ہدف تھی۔

زندگی کے شعور سے لبریز یہ سرائیکی خطہ ماضی میں بین الاقوامی تجارتی مرکز رہنے کے علاوہ دنیا کے کئی عظیم فاتحین کی گزرگاہ رہا،سلطان محمود غزنوی نے سومنات کے مندر پہ آخری حملہ کرتے وقت اِسی راستہ کا انتخاب کیا،اس کی فوجیں دریائے سندھ کا پانی اترنے کے انتظار میں ڈیڑھ ماہ تک ببّرکچہ کے پتن پہ بیٹھی رہیں۔پندرہویں صدی میں بلوچوں کی آمد اور اٹھارویں صدی میں احمدشاہ ابدالی کی جارحیت کے باوجود شہر کاسماجی دھار بدستور ہموار رہا،حتّی کہ سکھوں کی بے رحمانہ یلغار نے بھی یہاں کے پُرکیف تمدن پرکوئی خاص منفی اثرات مرتب نہ کئے البتہ تقسیم ہند کے وقت یہاں پہ بھڑکنے والے ہندو مسلم فسادات نے دریائے سندھ کے کنارے پنپنے والی تہذیب کی روح کو ضرور گھائل کیا مگر وقت کے مرہم نے ان زخموں کو جلد مندمل کر دیا .

tripako tours pakistan

تاہم سنہ1986 سے شروع ہونے والی وہ فرقہ وارانہ کشیدگی،جو سنہ1995 تک دہشتگردی کے عالمی نیٹ ورک سے منسلک ہو کے زیادہ مہلک ہو چکی تھی،نے اس خطہ کی ادبی فضا اور تہذیب و ثقافت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔طالبان آئزیشن کے ان پچیس سالوں کے دوران شادی بیاہ کی رسومات،تدفین کی مناجات اورسیاسی تقریبات پہ ہونے والے خودکش حملوں نے سماجی وظائف کی ہیت بدل ڈالی،خوف سے مزین حالات میں جو ہزاروں لوگ یہاں سے نقل مکانی پہ مجبور ہوئے اُن میں فنکاروں کے علاوہ شاعروں ا ور ادیبوں کی قابل لحاظ تعداد بھی شامل تھی،وہ شاعر جو کسی بھی معاشرے کی روح کے ترجمان اور شعوری زندگی کا عکس ہوتے ہیں۔انہی کرب انگیز مظاہر نے جن حساس لوگوں کے دل و دماغ کو سب سے زیادہ اثر ڈالا ان میں نمایاں ترین نام پروفیسر شہاب صفدر کا تھا۔جنہوں نے اپنے اشعار میں اس شہر کی دلآویز زندگی کو کچھ یوں بیان کیا،

موسموں کی مصنوعی تبدیلی بطور جنگی ہتھیار ۔۔۔ حبیب خواجہ
رونق تھی فنکاروں سے اس خان اسماعیل کے ڈیرے میں۔

کیا کیا پھول مہکتے تھے اس رنگ برنگے سہرے میں۔

شہر تھا خوشبو کا گہوارہ موج اڑاتی گلیاں تھیں

رنگ چھڑکتے دروازے تھے مد چھلکاتی گلیاں تھیں

ٹھنڈک دیتے آنکھوں کو نظارے سندھ کنارے

شام ڈھلے جب منڈل مارتے تارے سندھ کنارے۔

اُس وقت بھی شہاب اردو زبان کے ایسے ابھرتے ہوئے شاعر تھے جس کی پذیرائی فنون جیسے قومی سطح کے وقیعی ادبی مجّلہ اور افتخار عارف جیسے نامور شعراءنے کی تھی۔بہرحال،ٹارگٹ کلنگ اور مذہبی تشدد کے خوف سے لبریز اسی ماحول میں رونما ہونے والے انگنت المیوں نے جواں سال شہاب صفدر کی نفسیات پہ ایسے مہیب اثرات مرتب کئے جو ان کی شاعری میں جمالیات کی بجائے انسانی دکھوں کا اظہار اور تہذیب کا ماتم بن کے ابھرے۔

مجھے تو خون پسینے پہ بات کرنی ہے

کباب و جام نہ شعر و شباب چاہتا ہوں

نہ ظالمان ہوں آئندہ نسل کے درپے 

میرے خدا یہیں روز حساب چاہتا ہوں

محبتوں کے صحیفوں سے بھائی چارہ بڑھے

عناد کش کوئی ایسا نصاب چاہتا ہوں۔

یہ غزل اُن التجاؤں سے معمور دکھائی دیتی ہے جن کا محور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے پُرامن ماحول کی تمناؤں پہ محمول تھا۔علی ہذالقیاس، شہاب صفدر کے نظام فکر میں خوف سے آزاد اُس پُرامن تہذیب و تمدن کے احیاءکو اوّلیت ملی جو صدیوں تک یہاں کے باسیوں کی مستقل شناخت سمجھی جاتی تھی،بلاشبہ کبھی امن ہی اس شہر کی قدرتی پہچان تھی،اس لئے ان کے اشعار میں ہمیں صدیوں پہلے اس دشت بے اماں میں نمو پانے والی گداز ثقافت کی نشاة ثانیہ کی آرزوئیں مچلتی دیکھائی دیتی ہے۔

کہیں نہ شام کے سایوں کے ساتھ خوف اترے

حسین آنکھوں میں رنگین خواب چاہتا ہوں

شہاب آیا تھا جس دشت میں جو صدیوں قبل 

پھر اس نگر میں وہی انقلاب چاہتا ہوں۔

ڈاکٹر نجیبہ عارف انہیں کلاسیکی مزاج اور اقدار کا شاعر سمجھتی ہیں اور ڈاکٹر شاہین مفتی کے مطابق شہاب صفدر اس آفاقی سچائی کو دہراتے نظر آتے ہیں جو ظالم و مظلوم کی ازلی آویزش پہ محیط تھی تاہم میرے خیال میں وہ انحراف اور ایسی برگشتگی کے نقیب شاعر ہیں،جو کبھی وقت اور حالات سے ہم آہنگ ہوئی نہ مستقل مزاحمتی روش اپنا سکی،بلکہ ان کا ناصحانہ انداز ایسی لذت خیال سے مزّین ہوا،جو مزاحمت کے نشتر کو کند کرکے انہیں بغاوت و الوالعزمی کے رجحانات سے دور کرتا گیا۔
اب ندامت نے وہ گھیرا ہے کہ اک لمحہ کو

بے حسی جشن غم ذات منانے کو نہیں

جل رہا ہوں مگر الفاظ میں ڈھلتی نہیں آگ

روح جلنے کی نہیں نظم جلانے کی نہیں

شٹ اپ پرائم منسٹر: انعام رانا

قمر رضا شہزاد نے،گم گشتہ کے سر ورق پہ جو حاشیہ لکھا وہ حقیقت سے زیادہ قریب لگا، لکھتے ہیں”جب کوئی عمدہ ذہن اور باصلاحیت شاعر،شاعری کی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو جو کچھ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے یا جس طرح محسوس کرتا ہے،وہ تمام کیفیات اسکی شاعری میں ظہور کرتی ہیں،معصوم بچے کی طرح انکی شاعری بھی اپنے سچ کے ساتھ جلوہ گر رہتی ہے“امر واقعہ بھی یہی ہے کہ ہر شاعر اپنے ماحول اور وراثت میں ملنے والی اقدار کا امین ہوتا ہے لیکن وہ مورخ کی طرح حالات و واقعات کی ویسی تدوین نہیں کرتا جیسے وہ نظر آتے ہیں بلکہ وہ معاشرے کو یہ بھی بتاتا ہے کہ فرد اور سماج کو کیسا ہونا چاہیے،اس لحاظ سے شہاب صفدر کا فکری مقام زیادہ بلند ہے،انہوں نے شاعری کے ذریعے اپنے لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ ایک صحت مند معاشرے کے قیام اور تہذیب کی افزائش کس طرح اور کیسی ہونی چاہیے۔

شعور بے خبری اوج آ گہی تو نہیں

نہ سمجھے جانے کا شکوہ ہے،خامشی تو نہیں

تجھے تو اور کسی منطقے میں رہنا ہے

 تیرا مقام یہ ایوان دلکشی تو نہیں۔

پہلے شعر میں شہاب صفدر نے سقراط کے اِس قول(میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا)کی مبہم تلمہی انداز میں استعمال سے یہ بتانے کی جسارت کی کہ اپنی بے خبری کا شعور بھی آگاہی کا کوئی اعلی مقام نہیں بلکہ یہ بھی محض نہ سمجھنے کا شکوہ ہے،وہ خاموشی نہیں جو گہرائی تک دیکھنے کے باوجود تعلّی سے گریزاں رہتی ہے۔

رنگ اتنے ہیں تیرے جامہَ عریانی میں

نہیں ممکن تجھے بے پردہ دکھا دے کوئی

یہ شعر برگشتگی و انحراف کی بہترین تمثیل نکلا،شاید اِسی تناظر میں غلام حسین ساجد نے”برگشتہ“ کے مقدمہ میں لکھا” یہ طے ہے کہ روایت سے انحراف روایت کو سمجھے بغیر ممکن نہیں،یگانہ کی غیر عشقی شعری سے اختراحسن کی زین ازم سے بندھی اور علی اکبر عباس کی پنجابی تہذیب سے جڑی غزلوں تک موزوں کی بےمثل رنگا رنگی ہے،جو اِس دو مصری اور بظاہر دولخت صنف سخن میں بہار دیکھا رہی ہے،شبیر شاید کی”مسافت“ ناصر کاظمی کی”پہلی بارش“ صابر ظفر کی”نامعلوم“ اور دیگر تجربے اسی مٹی سے شگفت ہوئے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس صنعت میں انجذاب اور نمو کرنے کتنی

گنجائش، روایت کو تازہ کرنے اور اس سے انحراف کرنے کی کتنی طاقت ہے۔

ہم کسی خواب کو اٹھے تھے حقیقت کرنے

غزنی و غور سے غول آ گئے غارت کرنے

پیروئے آل پیمبر تیرا مقسوم شہاب

 تو مدینہ سے بھی آخر لگا ہجرت کرنے۔

Advertisements
merkit.pk

بلاشبہ شہاب صفدر کی مربوط زاویہ نگاہ پہ محمول گداز شاعری ایسے خیالات پہ مشتمل ہے جو ذہنوں کو منور کرتے ہیں،لیکن اپنے کلام میں تواتر کے ساتھ کربلا کے استعارے استعمال کر کے انہوں نے حوصلے بڑھانے کی کوشش میں تشدد کو بھی گوارا بنا لیا ۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply