معاویہ اعظم کا بیٹا کیا سوچتا ہے

معاویہ اعظم کا بیٹا کیا سوچتا ہے
محمد بلال

Advertisements
julia rana solicitors

میں 6 سالہ بچہ ہوں۔ پرسوں سے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دیکھنے کے بعد میری حالت عجیب سی ہے۔ پرسوں سے دیکھ رہا ہوں کہ جیسے ہی ایک صاحب “سلمان حیدر”لاپتہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت سی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ “مکالمہ” ہو یا “ہم سب “سبھی ویب سائٹس پر لوگ کالمز ، شاعری اور احتجاج کے ذریعہ ان کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ اور تو اور الیکٹرانک میڈیا بھی ان کی گمشدگی پر خبریں دے رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے بھی حکم دیا ہے کہ ان کے والد کو تلاش کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی جائیں۔ میں خوش ہوں کہ سلمان حیدر کا بیٹا کس قدر خوش نصیب ہے کہ لوگ اس کی آواز بن رہے ہیں ۔اس کے والد کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں ۔سلمان حیدر کی زوجہ کو دلاسہ دے رہے ہیں۔ لیکن پھر سوچتا ہوں کہ میرے والد تو مہینوں سے لاپتہ ہیں کیا وجہ ہے کہ کوئی میری آواز نہیں بنتا ؟ کوئی میرے والد کے لیے آواز اٹھانے کو تیار نہیں ؟ میری والدہ کے آنسو پونچھنےکے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ؟ آخر کیوں؟
اس کیوں کا جواب ڈھونڈتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ اس میں قصور میرے والد کا ہے۔ وہ کیوں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ؟ کیوں انہوں نے بیرون ملک دینی تعلیم حاصل کی اور باقاعدہ عالم دین بنے ؟ یہ بھی میرے والد کا قصور ہے کہ ان کے والد کو قومی اسمبلی کا رکن ہوتے ہوئے دن دیہاڑے گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا ۔میرے والد کا قصور ہے کہ وہ ایک طبقہ کو دلائل کی بنیاد پر اسلام سے خارج سمجھتے تھے ۔ میرے والد کا قصور ہے کہ انہوں نے کبھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا ۔ میرے والد کا قصور ہے کہ انہوں نے ہمیشہ پرامن رہتے ہوئے ریاست کے تمام قوانین کا احترام کیا ۔
یا شاید قصور اس ریاست کا ہے جو ایک طرف تو میرے دادا کی جماعت پر پابندی لگاتی ہے دوسری طرف اسی ریاست کا چیف ایگزیکٹو میرے داداسے جمالی صاحب کو وزیر اعظم بنوانے کے لیے ووٹ مانگتا ہے ؟ وہی ریاست کی صوبائی حکومت جو میری جماعت پر پابندی لگاتی ہے لیکن اس کا وزیر قانون میرے والد کے ساتھ ووٹ مانگنے جاتا ہے ؟وہی ریاست جس کے مقتدر ادارے میرے والد کی جماعت کو بین کرتے ہیں لیکن دفاع پاکستان کے لیے قبول کرتے ہیں؟ وہی ریاست جس کے وزیر داخلہ میری جماعت کالعدم بھی قرار دیتے ہیں لیکن ملاقاتیں بھی جم کر کرتے ہیں اور جلسے کرنے کی اجازت بھی دیتے ہیں ؟
یا یہ منافق معاشرہ کا قصور ہے جس کے ظالم بھی اپنے ہیں اور مظلوم بھی اپنے ۔ جس کے نزدیک ان سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والے پر ہر ظلم جائز ہے ۔ اسی لیے وہ اپنے اپنے مظلوموں کے لیے روتے ہیں ۔وہ صرف اس تشدد کے خلاف ہوتے ہیں جو ان پر ہوتا ہے ۔ وہ اسی بات کو غلط کہتے ہیں جو ان کے ہم مشرب کے خلاف ہوتی ہے ۔ وہ اسی پالیسی کو ظلم سمجھتے ہیں جو ان کے پسندیدہ لوگوں کے خلاف ہو ۔ بولتے سب ہیں کہ بیٹاں سانجھی ہوتی ہیں ،بچے معصوم ہوتے ہیں،اور مائیں سب کی مائیں ہوتی ہیں ،لیکن جب وقت آتا ہے تو اپنی بیٹیاں ، اپنے بچے اور اپنی ماؤں کے علاوہ کسی کے دکھ کا احساس نہیں ہوتا ۔ کیا آپ سے مختلف نقطہ نظر والےکے بچے نہیں ہوتے ؟ کیا ان کی بیٹیاں اپنے والد کی راہ نہیں تکتیں ؟ کیا انسانیت صرف اسی کا نام ہے ؟کیا لبرل ازم یہی سکھاتا ہے ؟ کیا “انصاف سب کے لیے “کے نعرے میں ،سب ،کا مطلب اپنے ہم مسلک لوگ ہیں ؟
میرے لیے آنسو بہائیں ؟ میرے لیے کالمز لکھیں ؟ میرے والد کی گمشدگی کا پتہ چلائیں ؟ یا میرے دادا کے قاتلوں کا پتہ چلائیں ؟ ہر گز نہیں مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے ۔ میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ اپنا منافق ہونا تسلیم کر لیں ۔آپ تسلیم کریں کہ آپ جو بولتے ہیں وہ صرف جگالی ہوتی ہے ۔آپ جو نظریات بناتے ہیں ان کا ضمیر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔آپ سچ نہیں صرف اپنا سچ بولتے ہیں ۔آپ صرف اپنے زخم کا درد محسوس کرتے ہیں ۔آپ دل سے نہیں مفاد سے سوچتے ہیں ؟ اور حقیقت تو یہ ہے کہ آپ اپنے آپ سے دیانتدار نہیں ہیں ۔میں معاویہ اعظم کا بیٹا اور اعظم طارق کا پوتا ہوں۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply