• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • ظلمت سے نور کا سفر(قسط6)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

ظلمت سے نور کا سفر(قسط6)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

ساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہےاگر لب پر تو معذور ہیں ہم

“اولاد اللہ کی نعمت، قدرت کی سب سے بڑی خوبصورت نشانی ۔ ۔پھر اس کی بے قدری کیوں؟ ”
وہ خود سے ہی اکثر ہم کلام رہتی ۔ کبھی کبھی اس کی خود کلامی سرگوشی کی شکل اختیار کر لیتی اور دیگر افراد چونک اٹھتے ۔
ایک دن اسے بیٹھے بیٹھے روشن کمرہ دھندلا محسوس ہوا اور اس نے دل کی تسلی کے  لیے ریشمہ سے پوچھ لیا، شاید باہر بادل آرہے ہوں۔۔
“ارے ریشمہ اندھیرا کیوں چھا رہا ہے ” اس نے ریشمہ سے پوچھا ۔۔
” پاگل ہو دن کے 12 بجے ہیں سورج سوا نیزے پر ہے، دماغ خراب ہو گیا تمھارا ”

tripako tours pakistan

اک دم دل مٹھی میں آگیا ،اذیت نے اسے گھیرا اور لفظوں کے نشتر اسے چھلنی کر گئے۔۔ کیا جن کے لیے ہم اپنے مستقبل کی قربانی دیں ،احساس کریں کیا ہم ان سے دو بول تسلی کے بھی حقدار نہیں ہوتے۔۔کیا جو بنا جتائے خاموش احسان کرے تو کیا وہ ذرا سی بھی ہمدردی کے لائق نہیں ہوتا۔؟

اس نے سر جھٹکا اور بازار سے  لائی ہوئی  کتابوں میں سے ایک کتاب نکال کر پڑھنے لگی کہ شاید اس طرح دھیان بٹ جائے ،ور نہ تو سوچوں کے مؤجزن سمندر میں ہی ڈوب جائے۔
“یہ درست ہے کہ زندگی ان پر مہربان ہوتی ہے جو اپنی منزل کی تلاش میں سر گرداں ہوتے ہیں”
الکیمسٹ

دل میں بھرے احساس کمتری اور مایوسی کی شدید لہر اٹھی ۔۔مجھ پر زندگی کیوں مہربان نہیں ہے؟ میں بھی تو اپنا سکھ چین سب ترک کرکے اپنی منزل کی تلاش میں ہوں۔اپنا کوئی خیال نہیں بس اندھا دھند کام کام۔۔تاکہ مجھے میری منزل مل جائے۔۔ایسی منزل جہاں سکون بھرا گھر ہو،ہر قسم کی معاشی ،معاشرتی فکر سے آزادی ہو، جہاں مجھے بھی اپنائیت ملے،جہاں میرے بھی خواب پورے ہوں، اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے کھڑکی سے ابا کے ساتھ لپٹی ریشمہ کو دیکھا۔

آنکھوں کا اندھیرا گہرا ہوا اور جسم پر لرزا طاری ہوگیا۔ضحی نے خود کو چادر میں سمیٹ لیا اور جیسے چادر میں چھپنے کی ناکام کوشش کی ہو۔پھر سوچ کا دھارا ماضی کی طرف بہہ نکلا۔۔۔ والدین کے لیے پالنے کا مطلب کھلانا ،پلانا اور انکے ہاتھوں میں ڈگریاں تھما دینا ہی ہے۔اولاد کیا محسوس کرتی ہے اسکے کیا خواب ہیں،وہ کس چیز سے ڈرتی ہے،کیا چیز اسے خوشی دیتی ہے۔۔ لیکن آج کیا طریقہ کارہے؟ بستر کو  پاؤں  مار کر جگانا،چیخ چلا کر ناشتہ کروانا ،سکول بھیجنا اور گھر آتے ہی مار کر سلادو کہ شام کو ٹیوشن بھی جانا ہے ۔واپسی پہ بچہ ویسے ہی تھکا ہوتا ہے آکر سوجاتا ہے ۔۔پھر ڈگریاں بھی لے لے۔۔بزنس امپائر کھڑے کر لے مگر والدین کہتے ہیں کہ بچے نافرمان ہیں۔بے حس ہیں اور ہمیں وقت نہیں دیتے ۔۔والدین سے بندہ پوچھے کہ آپ نے اپنا کتنا وقت دیا بچے کے جذبات کو۔۔؟بچہ  اپنے بچپن میں جس طرح اپنے چار کلوکے بیگ کو ناپسندیدہ بوجھ کی طرح اٹھاتا ہے ویسے ہی پھر زندگی میں صرف رشتوں کا بوجھ ڈھویا کرتا   ہے۔

ضحی کو روشن منظر کی طرح اسکا بچپن یاد تھا جب اماں کو  کچن ،رشتہ داروں اور ہمسایوں کی غیبتیں کرنے سے فرصت نہ تھی۔ابا کا جب ایک بار کام چھوٹ گیا تو پھر بس دوستوں کی ہی محفلوں میں   وقت گزرتا،گھر آئے اور روٹی کپڑا مل گیا تو ٹھیک ورنہ اماں کو مار پیٹ کےگھر سے باہر نکل جاتے ۔۔انکے جاتے ہی اماں کے عتاب کا شکار ضحی ہوتی کیونکہ شروع سے ہی ریشمہ لاابالی اور بے فکری تھی ۔جبکہ ضحی اپنی حساس اور صفائی پسند طبیعت کی وجہ سے اپنے ننھے ہاتھوں سے گھر کے کام کاج میں لگی رہتی۔۔بس پھر اماں کوئی نہ کوئی نقص نکال کر ضحی کو روئی کی طرح دھنک ڈالتیں۔۔
ضحی ایک بار اپنے صحن  میں  جھاڑو  لگا رہی تھی کہ اسے بہت سی آوازیں یکا یک آئیں  ،تو وہ ڈر گئی ،مگر ڈرتے ڈرتے چارپائی کے پیچھے جھانکا تو بلی کے سات بچے وہاں  اچھل کود کررہے تھے۔۔گھر کی ناموافق فضا میں ضحی کی واحد خوشی وہ بلی اور اسکے بچے تھے۔۔

بلی اپنے پنجوں میں بچوں کو لیے لیے پھرتی ۔۔ خود دودھ پی لیتی اور بچے خود ہی دودھ پیتے یا ادھراُدھر سے کچھ کھا کر  آجاتے۔۔بلی بس بچے پورے گن کر رکھتی اور انکی حفاظت کرتی۔۔اس دن ضحی کے دل میں ایک سوال نے سر اٹھایا۔۔کیا انسان اور جانورں کے بچوں کے پالنے میں کوئی فرق نہیں ؟؟ انسان بھی وہی کچھ کر رہا ہے، جو ایک جانور اپنے بچوں کے لیے کرتا ہے۔اگلے دن سکول میں مس سے یہی سوال کیا تو مس نے کہا۔۔انسان حیوان ناطق ہے اسکے پاس اپنی عقل،جذبات اور احساسات ہیں جن کے اظہار کے لیے وہ بول بھی سکتا ہے۔

ضحی کئی دنوں تک سوچتی رہی کہ اماں ابا اکی ضروریات تو پوری کرتے ہیں مگر احساسات اور جذبات کا کیا؟؟ اماں آواز لگاتی کہ “ریشمہ او  ریشمہ ناشتہ ایچ کی کھا نڑا اے؟ اور ضحی کو یہی سننے کو ملتا “انڈہ بچا  پڑا ہے جلدی کھا۔دھپ چڑھ آئی ہے کام کر”۔۔ ضحی کا پور پور اذیت میں ڈوب جاتا ۔۔ ریشمہ عصر کے وقت ساتھ والی نوشادہ کے گھر کھیلنے جاتی ،جب ضحی قدم بڑھاتی تو اماں کہتی ” مجھے نہیں پسند تیرا باہر جانا۔۔۔گھر بیٹھ چپ کرکے۔۔” تو ضحی دبک کر بیٹھ جاتی کہ ابھی مار ہی نہ پڑ جائے۔۔

نوشادہ کی بڑی بہن کی شادی تھی۔ضحی خوش ہوگئی کہ اب مزا آئے گا۔شادی میں بچے آئیں گے کھیلیں گے ۔اماں تو جانے ہی دے  گی دیوار سے دیوار ملی ہے آخر۔۔ پھر تو شدت سے انتظار تھا کہ کب بارات کا دن آئے اور وہ شادی پہ جائے۔راتوں کو خوشی سے سوچتی کہ وہ کیا پہنے گی ۔۔ کیسے سجے گی۔۔ اور بارات کا دن آگیا۔۔ اماں نے ریشمہ سے پوچھا کہ تو کیا پہنے گی اور پھر اسکو تیار کرکے لے گئی اور ضحی سے کہا کہ ابا آئے تو روٹی دے کر  آجانا۔۔ ضحی لہک لہک کر اپنے عید والے جوڑے میں تیار ہوئی مگر ابانے تو کیا ہی آنا تھا ،شور نے بتا دیا کہ بارات آگئی ہے۔۔ضحی چپکے چپکے روتی رہی ۔۔ ابا بھی آگیا۔۔ “ضحی او ضوئی کتھے مرگئی” ضحی نے آنسو پونچھے اور باہر نکل کر پوچھا ابا روٹی لے آؤں ۔۔ابا نے کہا” روٹی تو میں شادی سے کھا لی بارات سے پہلے ہی انہوں نے لڑکی والوں کو کھلا دی ۔۔جا اماں کو بلا لا”۔ ضحی  نے جا کر اماں کو بلایا ۔۔دلہن رخصت ہو رہی تھی ۔۔بچے ماؤں کے پلو تھامے گھروں کو تیار تھے۔ضحی بھاگتی گھر آکر سوتی بن گئی۔۔تکیہ بھیگتا رہا اور رات گزرتی گئی

نہ اماں نے پوچھا کہ ضحی نے کھانا کھایا اور نہ پوچھنا تھا۔۔۔
اگلے دن صبح پھر وہی دوڑ۔۔۔

کتاب ڈھلکی تو ضحی ہوش میں آئی۔۔
جو حساس ہوں تو ان پر چھوٹے سے جملے  بھی تازینے لگتے ہیں ۔۔ایسا نہ تھا کہ ضحی کو بہن سے پیار نہیں تھا بلکہ اسی کے لیے آج بزنس کرتی تا کہ ا سکا کوئی خواب ادھورا نہ ہو ۔ لیکن جو خلا ماں باپ نے شخصیت میں چھوڑا وہ تو کبھی نہ بھرنا تھا۔۔اسکی مسافت آج بھی جاری تھی اپنی منزل کی طرف ۔۔۔

منفی سوچوں نے آنکھوں میں آئے اندھیرے کو گہرا کردیا۔۔اور اس نے کتاب پر آخری نگاہ ڈال کر جملہ پڑھا اور پھر حیران رہ گئی۔۔غنودگی میں جاتے ہوئے اس نے سوچا واقعی منزل کی تلاش کے سفر میں اس نے سب کو یاد رکھا، سب کے لیے خود کو فراموش کردیا۔۔۔اپنے کردار کو فراموش کردیا۔۔۔
“ہرشخص کا دنیا میں ایک کردار ہے چاہے وہ جو بھی کرتا ہو”
الکیمسٹ۔۔۔
جاری ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔