سعودی عرب میں جہاز سازی کی تاریخ کا جائزہ۔۔منصور ندیم

سعودی عرب زمانہ قدیم سے ہی بہت سارے پیشوں اور دستکاریوں کے لیے مشہور ہے، یہاں کے کشتی بنانے والے پیشے سے جڑے لوگوں کو مقامی زبان میں “قلاف” یا “جلاف” کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے “درخت کا چھلکا” ، کشتیاں بنانے کا پیشہ سعودی عرب میں زمانہ قدیم سے مشہور ہے۔ قلاف کے لفظ کی ابتداء اور اس پیشے کے آغاز کے بارے میں مورخین زیادہ نہیں جانتے کہ یہ لفظ کہاں سے نکلا، مگر ایک قیاس ہے کہ اس کا انگریزی لفظ گلف سے ہے، جس کا مطلب عربی زبان میں خلیج ہے، لیکن ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ قلافین اس پیشے سے وابستہ افراد کو سعودی عرب، خلیج اور عمان میں کہا جاتا ہے۔ایک اور قیاس آرائی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ قلاف لفظ کی وجہ لکڑی کے جہاز تیار کرنے اور پھر اس کے خول کو کسی مادے سے ڈھانپنے کی ہے، جیسا کہ نوح علیہ السلام نے کیا، جب انہوں نے اپنا جہاز بنایا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ لفظ قلع لپیٹنے سے ہی اخذ کیا گیا ہو، لیکن قلاف کے بارے میں اب بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ قلاف ہے اور کچھ اسے غلاف سمجھتے ہیں۔ یہ قلاف پرانے جہاز اور کشتیاں بناتے تھے اور اسے نہ صرف بناتے بلکہ اس کے ماہر انجینئر بھی تھے۔

دنیا میں اس پیشے کی ابتداء عرب خلیج کے خطے سے شروع ہوتی ہے جس کے لیے یہ مشہور تھا۔ یہ خطہ بہت سے ہنر مند قلاف بنانے میں کامیاب رہا جو بحری جہازوں کی تعمیر میں مہارت رکھتے تھے اور دور دراز ممالک کا سفر کرتے تھے۔ مقامی افراد زمانہ قدیم سے ہی جہاز یا کشتی کے لیے مطلوبہ سائز کا تعین کرنے کے علاوہ جہاز کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والی لکڑی میں کارپینٹری کے کام سے شروع ہوتے تھے۔ خلیج کے علاقے اورسعودی عرب میں تیار کردہ بحری جہاز بنانے کے لیے خاص ماہرین کی ضرورت ہوتی تھی۔ ایسے افراد کی ضرورت تھی جو اس میدان میں خصوصی اور پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہوں، ایسے جہاز تجارت اور سامان کی فراہمی کے لیے انڈیا، پاکستان اور دیگر ممالک جایا کرتے تھے۔ ماضی میں جہاز درختوں کی شاخوں اور تنوں سے بنتے تھے اور یہی وہ قدیم کشتیاں بنانے کی بنیاد تھی جس سے انسان سمندر پار کرتے تھے اور پھر بحری جہازوں کے بنانے کا مرحلہ آیا۔

tripako tours pakistan

سعودی عرب میں بحری جہازوں کی اقسام:

سیلنگ جہاز:

ایک ایسا مشہور بحری جہاز جو سعودی عرب میں تیار ہوتا ہے، یہ جہاز بہت بڑے ہوتے ہیں اور ان کی دو منزلیں ہوتی ہیں اسے عموماً سفر کے مقاصد کے لیے تیار کیا جاتا ہے، جدہ شہر ان بحری جہازوں کو بنانے میں مشہور ہے، ان بحری جہازوں کی تیاری میں روایتی جہازوں کی ڈیزائننگ ہوتی ہے، اور پھر ان کو بنایا جاتا ہے۔ جہاز کے ڈیزائنر کی ہنر مندی اور مہارت ضروری ہوتی ہے کیونکہ جہاز کی حفاظت کا دارومدار اسی پر ہوتا ہے.

ہوری جہاز:

ہوری جہاز جو سعودی عرب میں تیار کیے جاتے ہیں ان کابنیادی مقصد ماہی گیری ہے ، ان جہازوں کے ذریعے مچھلی پکڑنا ہوتا ہے خاص طور پر ساحل کے قریب کیونکہ ساحل سے دور ماہی گیری کے لیے کچھ دوسرے جہاز بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ونکہ میں بھی مشرقی سعودی عرب میں رہتا ہوں یہاں کے ساحلی علاقے میں کثرت سے گلی محلوں میں چھوٹی کشتیاں کئی افراد کی نجی ملکیت ہیں، جنہیں وہ شوقیہ تفریح یا ماہی گیری کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

جروی بحری جہاز:

بنیادی طور پر یہ بحری جہاز مال برداری کے لئے بنائے جاتے ہیں، یا پھر تجارتی ماہی گیری کے مقاصد کے لئے، ان جہازوں کے معماروں نے سپلائی اسٹور کرنے کے لیے انہیں بہت سے خانوں میں تقسیم کیا ہوتا ہے، کیونکہ ان میں صرف ایک ہی کردار ہوتا ہے اور یہ جہاز خاص طور پر ماہی گیری کے لیے تیار ہوتے ہیں لیکن ساحل سے دور مقامات کے لیے ،قریب کے لیے انہیں استعمال نہیں کیا جاتا۔

سعودی عرب کے ساحلی علاقے لکڑی کے بحری جہازوں کی تیاری اور دیکھ بھال کے لیے مشہور ہیں اور اس پیشے نے پورے خطے میں بہت زیادہ توجہ اور شہرت حاصل کی ہے چنانچہ تبوک شہر میں بہت سے خاندان جہاز بنانے میں مشہور ہیں، اور باوجود کئی سال گزر جانے کے اور اس میدان میں جدید ٹیکنالوجی کے کچھ لوگ اب بھی اسی پیشہ سے وابستہ ہیں۔

یہ سلسلہ سعودی عرب میں آج بھی جاری ہے، اس سال اقوام متحدہ کی تنظیم برائے تجارت و ترقی United Nations Conference on Trade and Development جسے ’اونک ٹیڈ‘ (UNCTAD) بھی کیا جاتا ہے، کے مطابق سعودی عرب جہاز رانی کے شعبے میں دنیا بھر میں 23 ویں اور عالم عرب میں اس وقت دوسرے نمبر پر ہے۔ ادارہ اونگ ٹیڈ (UNCTAD) نے عالمی جہاز رانی سے متعلق تازہ ترین رپورٹ میں بتایا کہ سعودی عرب 284 بحری تجارتی جہازوں کا مالک ہے۔ ان میں سے 133 سعودی پرچم بردار اور 151غیر ممالک کے پرچم والے ہیں۔ تجارتی جہازوں کی تعداد کے حوالے سے سعودی عرب کو فرانس اور کینیڈا جیسے ممالک پر بھی سبقت حاصل ہے۔ اونگ ٹیڈ (UNCTAD)جہاز رانی کے سلسلے میں جہازوں کی تعداد سے کہیں زیادہ بحری بیڑے کے وزن پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔

اونک ٹیڈ (UNCTAD) عالمی تنظیم کے معیار کے مطابق سعودی عرب کئی ممالک پر برتری حاصل کرچکا ہے۔ جن میں ویتنام شامل ہے جو 1.020 جہازوں ، اٹلی 692 ، برازیل 401، فرانس 435،قبرص 300، کینیڈا 373، ملائیشیا 599، تھائی لینڈ 406 اور سویڈن 298 جہازوں کے مالک ہیں۔ اونک ٹیڈ (UNCTAD) نے جنیوا سے اپنی رپورٹ “ریویو میری ٹائم ٹرانسپورٹ 2019” (Review of Maritime Transport 2019 ) کے عنوان سے جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سعودی پرچم بردار 133 جہازوں کا مجموعی وزن 18ملین 92 ہزار 485 ٹن ریکارڈ کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات بڑے جہاز راں ممالک میں عالمی سطح پر 22 ویں نمبر پر ہے۔ یہ 913 جہازوں کا مالک ہے اور اس کے جہازوں کا وزن 18ملین ٹن سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ وزن کے حوالے سے یہ سعودی عرب سے کم ہے البتہ جہازوں کی تعداد کے حوالے سے اسے سعودی عرب پر ایک نمبر سے برتری حاصل ہے۔ سعودی عرب میں ہر سال بحری جہازوں کا فیسٹول بھی ہوتا ہے حالیہ جنادریہ کے اکتیسویں فیسٹیول میں بھی قدیم اور جدید جہازرانی اوراس شعبے سے منسلک افراد کی مہارت کی نمائش ہوئی ہے۔