فاٹا اصلاحات ایشو۔اسلم اعوان

نسلی قومیت،مذہبی سیاست اور انسانی حقوق!

قبائلی عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی اور فاٹا کو بندوبستی نظام کا حصہ بنانے کی مساعی سیاسی تنازعات میں الجھ گئی ہے،اسے ایک مصیبت زدہ نسل کی بدقسمتی ہی سے تعبیر کیا جائے گا کہ فاٹا اصلاحات بارے سیاسی و مذہبی جماعتوں اور قوم پرست تنظیموں میں بظاہر وسیع تراتفاق رائے کے باوجود عمیق اختلافات ابھر کے سامنے آ رہے ہیں،اصلاحات کے نفاذ کے حوالے سے لوگوں کے پاس متعدد منصوبے ہیں لیکن کوئی ایک تجویز بھی،معمولی اقلیت کے علاوہ کسی اور کو پسند نہیں۔قوم پرست اور مذہبی جماعتیں معاملات کو کسی حل کی طرف لے جانے کی بجائے اپنے طلسماتی مقاصد کی خاطر کنفیوژن بڑھانے میں مشغول ہیں،شاید اسی لئے قبائلی عوام خود متحیر ہیں،وہ خیبر پختون خوا میں ادغام،الگ صوبہ یا فاٹا کی پرانی حیثیت کو برقرار رکھنے میں سے کسی ایک آپشن کو چننے میں دشواری محسوس کرتے ہیں،

یہ سچ ہے کہ جنگ دہشتگردی کے تقاضوں نے ایف سی آر کے نظام کو کمزورکر دیا اور قبائلی معاشرہ خود بھی روایتی جکڑبندیوں سے آزادی حاصل کرنے کےلئے اندر سے آمادہ  ہے لیکن مراعات(نیکات) کی کشش اور صدیوں پہ محیط روایات کے ہاتھوں مجبور ہے،اسی تناظر میں قبائلی عوام کے مسائل کا حل تلاش کرنے کی بجائے قوم پرست جماعتیں ان کی آبائی  جبلتوں اور  دینی جماعتیں ان کے مذہبی تعصبات کو اپیل دے کر التباس کی دھند بڑھا رہی ہیں۔مرکزی حکومت قبائلی علاقوں میں بسنے والے عوام کو قومی دھارے میں لا کر بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے کسی قابل عمل منصوبہ  پر اتفاق رائے حاصل کرنے میں سرگرداں تو ہے لیکن وہ بھی کوئی واضح لائحہ عمل اپنانے سے ہچکچا رہی ہے،ماحول کی ژولیدگی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مذہبی جماعتیں نفاذ اسلام کے روایتی نعروں اور قوم پرست جماعتیں قبائلی روایات کے تحفظ پر اصرار کر کے قبائلیوں کے لئے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کی راہ کھوٹی بنا دیں گی،ان کی رسی کودنے کی یہی مشق  بلآخر غیر مری قوتوں کو فاٹا کے مستقبل کے تعین کا موقع  فراہم کرے گی۔

بظاہر متضاد نقطہ نظر کے حامل اسفندیار ولی،مولانا فضل الرحمٰن اور محمودخان اچکزئی جیسے قبائلی سماج کے خود ساختہ وارثان کا اصل ہدف فاٹاکو اجتماعی دھارے میں شامل کرانے کی بجائے اپنی اپنی سیاسی بالادستی کا حصول ہے،تاہم اپنے زمانے کے تقاضوں کا درست ادراک رکھنے کے باعث مولانا فضل الرحمٰن اس مسئلہ کا منطقی حل تلاش کرنے کی خاطر ریفرنڈم کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں،اصولی طور پہ بھی یہی درست راہ عمل ہو گی،اگر استصواب کے ذریعے قبائلیوں نے الگ صوبہ یا ادغام کا فیصلہ خود کر لیا تو یہ سب کے لئے قابل قبول اور دیرپا عمل ہو گا بصورت دیگر میڈیا کے زور پہ بنائی گئی جذباتی فضا تحلیل ہونے کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے کوئی بھی منفی پروپیگنڈہ بہت جلد قبائلیوں کو مملکت سے مایوسی کی راہ دکھا سکتا ہے۔

حیرت انگیز امر یہ ہے  کہ ہماری مذہبی و قوم پرست قیادت،قبائلی عوام کی فلاح، اخوت انسانی کے جمہوری تصور میں تلاش کرنے کی بجائے انہیں نسلی تعصبات اور مذہبی عصبیتوں میں منظم کرنے میں تلاش کرتی پھرتی ہے۔پچھلے ڈیڑھ سو سال کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مذہبی تحریکوں کی فعالیت نے قبائلی معاشرے کو ہمہ وقت دگرگوں رکھ کر  راہ اعتدال سے دور ہٹایا اور نوجوان نسل کو عہد جدید کے علوم سے گریزاں  کر کے جنگ وجدل کا ایندھن بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی،حتیٰ کہ اسی مقصد کے حصول کی خاطر یہاں قوم پرستی کی تحریکیں بھی مذہبی عقائدکی چادر اوڑھ لیتی ہیں،تحریک طالبان اس کی کلاسیکی مثال ہے۔

دوسری طرف سیاسی زعماء بھی قوم پرستی کے صحت مند رجحانات کو رفتہ رفتہ نسل پرستی کی دلدل میں اتار دینے میں حجاب محسوس نہیں کرتے۔خدائی  خدمتگار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان نے صوبہ خیبرپختون خوا  کے باشندوں میں بلا امتیاز زبان و نسل فرنگی استبداد کے خلاف جذبہ حریت کو ابھارا اور سرخپوش نامی نیم  فوجی تنظیم قائم کی تھی جس میں پشتونوں کے علاوہ جاٹ،گجر، ہندکو اور سرائیکی بولنے والوں کو شامل کر کے سماجی توازن قائم کر لیا تھا،سچ پوچھیے تو غیر پشتونوں کے برعکس نادر شاہ ،احمد شاہ ابدالی،ابراہیم لودھی  اور شیر شاہ سوری کے ہم نسل ہونے کے دعویداروں کی اکثریت انگریز سرکار سے الجھنا تو کجا ان کے خلاف بات سننے کی روادار تک نہ تھی شاید انہی خدمات کے اعتراف میں انگریزوں نے ہندوستان سے بستر بوریا سمیٹتے وقت انگریز مخالف مسلم قوتوں،جمیعت علماء اسلام، احرار،خاکسار اور خدائی خدمات گار تحریک کے اکابرین کو  وطن دشمن مشہور کرایا تا کہ تقسیم ہندکے بعد  ان کے گماشتے اشرافیہ کا مقام پا سکیں۔اسی کرم نوازی کا نتیجہ تھا کہ قیام پاکستان کے فورا بعد فرنگی مفادات کے رکھوالے ہیرو بن کر  ابھرے ،

جبکہ آزادی کے متوالے مغضوب و مطعون ٹھہرائے گئے اوروہ عفت دریدہ دوشیزہ کی مانند سر جھکانے اور منہ چھپانے پہ مجبور  ہوئے،بعد میں  جوہوا سو ہوا  لیکن  یہ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ برطانوی پونڈز  کی جھنکار اور امریکی ڈالروں کی پھنکار باچا خان کے ارادوں کو متزلزل نہ کر سکی، اس طرح ان کے جانشیں خان عبدا لولی خان اگرچہ ملکی سیاست میں متنازع رہے  تاہم ان کی سربراہی میں پارٹی کے وقار کو بٹہ لگا نہ ان کے شخصی کردار پہ انگلی اٹھی،یہ الگ بات کہ وہ پارٹی کو وسعت دینے میں کامیاب نہ ہو سکے، قومی سطح کی نیشنل عوامی پارٹی جس میں ہر صوبے اور ہر قبیلے کے سر کردہ زعماء شامل تھے ٹوٹی تسبیح کے دانوں کی طرح رفتہ رفتہ بکھرتی گئی اور یوں باچا خان کی تحلیق کردہ جماعت عملا ًصوبہ خیبر پختون خوا تک محدود ہوکر رہ گئی۔

گردش ایام کے ساتھ ساتھ پارٹی کے نام بدلے ، پروگرام بدلے،سیکولر ازم کی گردان چھیڑ کر سوشلزم پر تان توڑی، جس سے کئی وفادار ساتھی روٹھے، رفیق چھوٹے اور روس سے منہ موڑ  کے امریکہ سے رشتہ جوڑا، لال کرتہ اتارا پر لالی کمبخت نہ اتری، یعنی اس قدر  مراحل سے گزرنے کے باوجود نسلی قومیت کی سرخی ترک نہ کی، انجام کار صوبے کی اکثریتی نان پشتون آبادی پر اے این پی کے دروازے بند ہوتے گئے، پہلے غیر پشتونوں کو  دھتکارا گیا اب  پشتونوں میں اصلی تے نسلی کا فرق پیدا کر کے چارسدہ اور مردان ڈویژن کے تین خاندان بطور حصہ دار مالک بن کر پارٹی پر قابض ہو گئے تا کہ عہدوں کی تقسیم اور وزارتوں کی بندر بانٹ  کے وقت ہزارا، سوات اور جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیر دخیل کاروں کو شریک بنائے بغیر باچا خان کی میراث سے خود اور مجاور کماحقہُ فیضیاب ہو سکیں۔ اس قسم کے طرز عمل کے کارن عام پشتون سوچنے لگے کہ باچا خان تو انگریز مخالفت کی وجہ سے قابل تکریم ٹھہرائے گئے ان کے سیاسی جانشیں کن خدمات کے صلے اور کس احسان کے بدلے پشتونوں کے نام پر کاروبار سیاست جاری رکھے ہوئے ہیں۔

قصہ کوة جس طرح رائے عامہ کی حمایت کے بغیر صوبہ کے نام کی تبدیلی سے پشتونوں کے دن نہیں پھرے، اسی طرح قبائلی عوام کی مرضی کے بغیر اگر فاٹا کو خیبر پختون خوا میں مدغم کرانے کے بعد بھی قبائلی عوام کے شب و روز نہ بدلے تو  اس سے مایوسی بڑھ جائے گی،بنا برین تا ریخ و جغرافیہ کے بکھیڑو میں پڑے بغیر اور کسی بھی فریق کے جذبات سے کھیلے بغیر قبائلی مکینوں کی اپنی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع  دیاجائے تا کہ پیدا کردہ تفرقوں اور عصبتوں کا خاتمہ ہو اور قبائلی سماج جمہوری عمل کے ذریعے قومی دھارے کا حصہ بنے،قبائلیوں کے قومی دھارے میں شمولیت کا مطلب ملک گیر سیاسی جماعتوں،پیپلزپارٹی،مسلم لیگ یا تحریک انصاف سے وابستگی ہو گا کیونکہ قومی قیادت علاقائی عصبیتوں کے تنگ دائروں سے مبرّا  اور معتدل انداز فکر کی حامل سمجھی جاتی ہے۔

ملک گیر سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہونے کے بعد  قبائلی عوام سے یہ توقع بے جا نہیں ہو گی کہ وہ مذہبی عصبیتوں اور قومیت کے فرسودہ  نعروں کو ترک کر کے عصر حاضر کے جدید تقاضوں کے مطابق معاشرتی بھائی چارہ، سماجی انصاف اور معاشی ترقی کے رجحانات کو اپنائیں گے تا کہ یہاں کے پشتون اور غیر پشتون دونوں باہمی صلاحیتوں اور قومی وسائل سے یکساں استفادہ کر سکیں۔ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ چوٹے انتظامی یونٹس کو بڑا کرنے کی بجائے اگر بڑے انتظامی یونٹس کو چھوٹا کیا جائے تو مملکت کا انتظامی ڈھانچہ مضبوط اور عام آدمی کی اختیارات اور قومی وسائل تک رسائی ممکن ہو جائے گی۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *