سید قطب وبنان کے نظریات اور القائدہ ۔۔صائمہ جعفری

سید قطب اور بنان کے نظریات اور فلسفہ ء جہاد کے تحت باقاعدہ اور منظم جہاد کی بنیاد ڈالنے والی شخصیت اُسامہ بن لادن کی ہے ۔ اسامہ بن لادن کی شخصیت اور دہشتگرد کاروائیوں کا ذکر کرنے سے پہلے مناسب ہوگا کہ اس فلسفے کو زیر ِ بحث لایا جائے، جو ان کے پیچھے کار فرما تھی۔
سید قطب اور بنان نے جدید ترقی یافتہ معاشرے کو جاہلیہ قرار دیا ۔ ان کے نزدیک یہ وہ ممالک اور معاشرے ہیں جو فطرت اور دین سے دوری کے سبب تنزل کا شکار ہیں ۔ دونوں حضرت نے اسلام سے پہلے والے دور کو پرانی جاہلیہ اور نیے دور کو نئی جاہلیہ قرار دیا ۔ نئی جاہلیہ پرانی جاہلیہ سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ پرانی جاہلیہ غیر مسلموں پہ مشتمل تھی ،جبکہ نئی جاہلیہ میں وہ مسلم معاشرے بھی شامل ہیں جو کہ اسلام سے دور اور مغربی تہذیب کے نزدیک ہیں ۔
سید قطب اور بنان تاریخ کے مختلف ادوار کو اسلام اور جاہلیہ کے درمیان جنگ کا تسلسل سمجھتے تھے ۔ اسی نظریے کے تحت بن لادن نے مغرب کے خلاف جہاد کا اعلان کیا ۔
زیر ِ نظر تحریر میں بن لادن کی زنگادی، فکر اور دہشتگرد کاروائیوں پر ایک نظر ڈالی گئی ہے ۔
اسامہ بن لادن ریاض میں ١٩٥٧ میں پیدا ہوئے ۔ وہ اپنے والدین کی ١٧ ویں اولاد تھے ۔ ابتدائی زندگی لبرل اور سیکولر طرز پر گزاری ۔حصول علم کے لیے آپ جدہ گئے، جہاں آپ سید قطب کے نظریات کے زیرِ اثر آئے، اور یہیں سے آپ کی نظریاتی تبدیلی کا آغاز ہوا۔بن لادن کی سوچ اور القاعدہ کی دہشتگردی کے پیچھے ایک باقاعدہ نظریہ / ideology کارفرما تھی جس کی جڑیں سید قطب اور بنان کی تعلیمات میں ملتی ہیں ۔
١٩٧٩ میں انقلاب ایران نے بن لادن کو خاصا متاثر کیا ۔ اسی سال سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کر لیا جس سے بن لادن کو عملی طور پر جہاد کی ترغیب ملی۔ ابتدا میں بن لادن ایک سادہ مسلمان تھا جو محض اپنے اسلامی برادران کی مدد کرکے انہیں بیرونی تسلط سے نجات دلانا چاہتا تھا ۔ ٨٠ کی دہائی میں بن لادن نے ٢٠،٠٠٠ افراد پر مشتمل فوج کے ساتھ افغان جہاد میں شرکت کی ۔ القاعدہ کی بنیاد یہاں سے پڑی۔
القاعدہ :
١٩٩٠ میں طالبان ایک منظم عالمی دہشتگرد تنظیم کے طور پر سامنے آئی ،مگر یہ صرف افغانستان تک محدود تھی ۔ افغان جنگ کے وقت افغانستان میں طالبان کے دو کیمپ تھے ، ایک مصری دوسرا یمنی ۔ یمنی کیمپ کے جہادی سادہ افراد تھے ۔ ان کا جنگ میں شامل ہونے کا مقصد صرف اور صرف جہاد اور شہادت تھا جبکہ مصری کیمپ میں نظریاتی افراد تھے ۔ ان کا ایجنڈا امریکہ کی تباہی ، امریکہ کے ساتھ مسلم ممالک کی حکومتوں کا خاتمہ اور عالمی سطح پر ان حکومتوں کی غیر اسلامی سرگرمیوں کو نشانہ بنانا تھا ۔
بن لادن ١٩٩٦ میں سوڈان سے واپسی پر افغان جنگ کا حصّہ بنے جہاں آپ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ سعودی اور امریکن حکومت کے دباؤ کے تحت سوڈان نے بن لادن کو مزید ٹھہرانے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے ان کو افغانستان کا رخ کرنا پڑا۔
پاکستان اور القاعدہ :
امریکہ کے خلاف القاعدہ کی باقاعدہ جنگ کا آغاز ٩/١١ کے بعد ہوا۔ افغانستان پر امریکہ کے حملے کے بعد القاعدہ کے جہادی پاکستان کے قبائلی علاقہ جا ت میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ اس وقت تک مصری کیمپ مکمل طور پر القاعدہ میں ضم ہو چکا تھا ،جس کی قیادت ایمن الظواہری کر رہے تھے ۔ مصری کیمپ کے افراد سیاسی سمجھ بوجھ کے حامل تھے ۔ افغان جہاد نے ان افراد کو ایک جگہ پر ملانے کا کام سر انجام دیا ۔ اس گروہ میں ڈاکٹرز، انجینئرز اور وہ افراد شامل تھے جنھوں نے مصری جہاد میں حصہ لیا تھا ۔ ١٩٨١ میں صدر انور سادات کے قتل میں یہی افراد شامل تھے ۔ یہ افراد ایمن الظواہری کے زیرِ تربیت تھے اور ان کا ماننا تھا کہ نظریاتی تبدیلی کے ذریعے سے ہی امریکہ کے خلاف عالمی جنگ لڑی اور جیتی جا سکتی ہے ۔
القاعدہ کی پاکستان کی طرف ہجرت تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے ۔ پاکستان کی شکل میں القاعدہ کو اپنے جہادی نظریات کے پھیلاؤ کے لئے ایک اہم جگہ مل گئی ۔ ١٩٧٩ سے ١٩٩٣ تک افغان جہاد اور اس کی بعد کے پانچ سال طالبان کی حکومت نے پاکستان کے قبائلی علاقہ جات پر گہرے سیاسی ، سماجی اور نظریاتی اثرات مرتب کیے۔ ضیاء کی حکومت کے دوران ہزاروں طالبان پاکستان کے طول و عرض میں یا تو مختلف مدارس میں زیر تعلیم تھے یا پھر فارغ التحصیل ہو کر معاشرے میں ضم ہو چکے تھے ۔ افغان جنگ کی تباہ کاریوں کے سبب پاکستان کی عوام کے دلوں میں افغان مجاہدین کے لئے ہمدردی کے جذبات پاۓ جاتے تھے ۔یہ وہ تمام عوامل جن کی وجہ سے انتہا پسندی اور دہشتگردی کی بنیاد پاکستانی معاشرے میں مضبوط ہو گئی، جس نے ملک کو مذہبی انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیا ۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔