صادق وامین اورمظلوم عوام۔۔۔ محمد ارشد قریشی

جب بھی صادق و امین کا لفظ سنائی دیتا ہے توذہن میں ہمارا سیاسی نظام آتا ہے  ،کیوں کہ اس لفظ کی بازگشت حکومتی ایوانوں میں ہی زیادہ سنائی دیتی ہے  اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ صادق و امین اگر کہیں پائے جاتے ہیں تو وہ یا تو سیاسی برادری ہوتی ہے یا پھر سرکاری برادری،  رہی عوامی برادری تو جناب یہ کس کھیت کی مولی ہے اور کیا اوقات ہے؟ اس کی جو اس برادری میں کوئی مائی کا لال صادق و امین ہو، یہ تو وہ برادری ہے جو صادق و امین ہونے کی مہر ایک پرچی پر لگا کر صادق و امین  امیدوارکے ہاتھ میں تھما دیتی ہے ۔۔اور اپنی ہی دی ہوئی پرچی کی سند کی ہر پانچ سال بعد دوبارہ  تجدید بھی کردیتی ہے ۔

ویسے صادق  اور امین شخص کو پرکھا کیسے جائے؟    مطلب ایسی کون سی کسوٹی ہے جس سے ہمیں معلوم ہو کہ فلاں شخص  صادق و امین ہے ۔ دنیا  بھر میں ایک ہی پیمانہ ہے جانچنے کا کہ جو شخص سچا اور ایماندار ہو حق حلال کی کماتا ہو ، باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتاہو، ملکی قوانین پر عمل کرتا ہو اس کا ماضی بے داغ ہو، محب وطن ہو، اپنے یوٹیلیٹی بلز باقاعدگی سے ادا کرتا ہووغیرہ وغیرہ۔ الحمداللہ ہمارا ملک ایک اسلامی مملکت ہے اس لیئے ان دنیاوی قوانین کی پاسداری کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین پر  عملدرآمد کرنا بھی ضروری ہے۔  تمام دنیا میں ایسے لوگوں کو بہت سی سہولیات میسر ہوتی ہیں  وہ معزز کہلائے جاتے ہیں، حکومتی سطح پر ایسے لوگ قابل عزت  و  احترام ہوتے ہیں  لیکن کبھی بھی ان میں کسی بھی قسم کی تفریق نہیں کی جاتی ۔چاہے وہ عوامی برادری سے ہو، سیاسی سے یا حکومتی برادری سے۔ سب سے یکساں سلوک ہوتا ہے سب کو یکساں سہولت حاصل ہوتی ہے  ، افسوس یکساں سلوک کرنے   اور تفریق نہ کرنے کا حکم تو ہم مسلمانوں کو دیا گیا تھا ،مگر حکم کی تعمیل  مغرب کررہا ہے ۔

آخر یہ نا انصافی اس عوام کے ساتھ ہی کیوں؟  جو ناصرف ملکی قوانین کا احترام کرتے ہیں بلکہ باقاعدگی سے ٹیکس اور تمام یوٹیلیٹی بلز بھی جمع کراتی ہے۔ پھر اسی حق حلال کمائی  سے پیسے بچا بچا کر حج بھی کرتی ہے، بچوں کو سرکاری اسکولوں میں تعلیم دلواتی ہے اور سرکاری شفاء خانوں سے علاج معالجہ بھی کرواتی ہے ،شناختی کارڈ، پاسپورٹ، لائسنس،  پینشن   وغیرہ  کے حصول کے لیئے دھوپ ، گرمی، سردی میں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑی رہتی ہے  ،ستم ظریفی تو یہ ہے کہ یہی عوام ٹیکس اور یوٹیلیٹی بلز دینے کے لیئے بھی بڑی بڑی قطاروں میں کھڑی نظر آتی ہے ، کسی حادثے کے رونما ہوجانے کے بعد یہی عوام سب سے  پہلے  اپنے ہم وطنوں کی مدد کےلیئے دوڑتی ہے یہاں تک کہ اپنی  رگوں سے خون نکال کر ان کی رگوں میں منتقل کرتی ہے ۔   وی آئی پی  موومنٹ کے نام پر دوران سفر اسی عوام کو شاہراہوں پر گھنٹوں کھڑا کردیا جاتا ہے ، یہی عوام ان وی آئی پی موومنٹ کی وجہ سے بند ہونے والی سڑکوں پر ایمبولنس کو جگہ نہ ملنے کی وجہ سے جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ ان نام نہاد صادقوں اور امینوں کی موومنٹ کی وجہ سے ملک بھر میں روزانہ جو تضحیک اور ذلت ان حقیقی امین و صادق عوام  کی ہوتی نظر آتی ہے اس کی کوئی مثال کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی ۔ ملک بھر میں ایسی ہزاروں شاہراہیں موجود ہیں جہاں سے یہ سیاسی اور سرکاری صادق و امین جب  شاہانہ انداز میں اپنے گھروں سے نکلتے ہیں تو شاہراہوں کو اس طرح بند کردیا جاتا ہے ۔جیسے کہ کرفیو لگا دیا گیا ہو، اگر ٹریفک کی روانی کے دوران  کسی کی گاڑی ان کی گاڑی کے سامنے آجائے تو اس طرح سائرن بجائے جاتے ہیں جیسا کہ آپ نے اس شاہراہ پر چل کر بہت بڑا جرم کیا ہے۔

اگر آپ نے باوجود ان کے سائرن کے یہ مان کر جگہ نہیں دی کہ آپ اس ملک کے معزز شہری ہیں اور آپ کو پورا حق ہے کہ آپ قانون کے مطابق اس شاہراہ کا استعمال کریں تو بس پھر آپ کو وہ ذلت اور تضحیک کا سامنا ہوگا کہ آپ کو احساس ہونے لگے گا کہ آپ کا اس وطن پر کوئی حق نہیں،  چاہے آپ کتنے ہی قانون پر عمل کرتے ہوں۔  کیوں کہ آپ کے لیئے قانون کچھ اور ہے اور ان کے لیئے کچھ اور ، بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس ملک میں لاتعداد ایسی شاہراہیں بھی ہیں جو یوں تو بہت کشادہ ہیں لیکن ان پر مختلف جگہوں پر ٹریفک جام نظر آتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ چار پانچ ٹریک پر مشتمل وہ سڑک کئی جگہ پر عوام کے لیئے صرف دو تین ٹریک میں تبدیل ہوجاتی ہے ،باقی ایک   دو ٹریک کو بلاکس لگا کر اس دفتر کی حدود میں شامل کرلیا جاتا ہے جو وہاں پر موجود ہوتا ہے اگر کوئی سوال کرے تو بتایا جاتا ہے کہ یہ حفاظتی انتظامات ہیں ۔حکومت یہ دعوے تو کرتی ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں اب کوئی نو گو ایریا نہیں لیکن ایسے بیان دیتے ہوئے  ان نمائندوں کو یہ وضاحت کردینی چاہیئے کہ کوئی نجی نو گو ایریا نہیں ہیں لیکن عوامی گذرگاہوں پر بے شمار سرکاری نو گو ایریاز اب بھی موجود ہیں جہاں سے عوام کا ہی گذرنا محال ہے ۔

گذشتہ دنوں ایک خبر نظر سے گذری کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی گاڑی کا چالان  لندن میں ان کے ہی فلیٹ کے سامنے اس لیئے ہوا کہ گاڑی غلط پارک کی گئی تھی لیکن ایسا ہمارے ملک میں ممکن نہیں ہے، کیوں کہ یہاں تفریق کا نظام ہے یہ لوگ نہ کبھی سڑک پرلگے لال سگنل پر رکتے نظر آتے ہیں نہ نادرا، پاسپورٹ آفس، بینکوں، انکم ٹیکس کے دفاتر کے باہر لگی قطاروں میں نظر آتے ہیں اور نہ ہی کوئی قانون ان پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر ہوتا ہے تو صرف اس عوام پر جنہوں نے اپنے ووٹ سے انہیں چن کر ایوانوں میں بھیجا   اور اپنی جیب سے ٹیکس ادا کرکے انہیں تنخواہ دیتے ہیں تاکہ وہ  ہمارے مسائل حل کریں ، افسوس عوام کے مسائل حل کرنا تو کجا انہوں نے عوام کے لیئے مزید مسائل پیدا کردیئے ہیں ۔

ارشد قریشی
ارشد قریشی
محمد ارشد قریشی کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعری کا شغف بھی رکھتے اورم الف ارشیؔ کے تخلص کے ساتھ اشعار کہتے ہیں ، پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے انفارمیشن سیکریٹری ہونے کے ساتھ انٹرنیشنل ریڈیو لسنرز آرگنائیزیشن پاکستان کےصدر اور چائینا ریڈیو انٹرنیشنل کے پروگرام مانیٹر ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک اچھا سچا اور مخلص صحافی دنیا کو پرامن اور خوبصورت بنا سکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *