شہداء ہی شہید ہوتے ہیں۔۔نذر حافی

تلوار اور گولی سے مرنا شہادت نہیں ہے، شہادت کا انحصار آلہ قتل پر نہیں، بہت سارے لوگ روزانہ قتل ہوتے ہیں لیکن شہید نہیں ہوتے۔ شہادت، زندگی کو خالِق و مالک کے حوالے کر دینا ہے۔ اگر زندگی کو ہم نے اپنے معبود کے حوالے نہیں کیا تو پھر فقط تلوار لگنے سے شہادت بھی نہیں ملتی۔ مالِ غنیمت اور کشورکُشائی کی بھینٹ چڑھنے والی جانیں شہید نہیں ہوتیں۔ بقولِ اقبال رحمۃ اللہ
شہادت ہے مطلوب و مقصود ِمومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
شہادت آرزو نہیں مطلوب ہے، تمنا نہیں مقصود ہے، جادہ نہیں منزل ہے اور قالب نہیں روح ہے۔ ہماری طرح اس کی خواہش کرنے والے بہت ہیں، اس کی تلاش میں بسترِ فراش پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے والوں کی تعداد ان گنت ہے، لیکن یہ گوہرِ مراد فقط انہی کو حاصل ہوا جو مادی حیات میں جیتے جی شہید ہوگئے۔ مادی زندگی میں جو شہید ہوا، شہادت اُسی کو نصیب ہوئی۔ جو اِس دنیاوی اور مادی زندگی میں شہید نہیں ہوتا، اُسے شہادت بھی نصیب نہیں ہوتی۔ جو اپنے نفس کے بحرِ ظلمات میں گھوڑے دوڑاتا رہتا ہے، وہ معراجِ شہادت پر فائز نہیں ہو پاتا۔

حدیثِ نبویﷺ ہے کہ شہید سے قبر میں کسی قسم کی باز پُرس نہیں ہوگی۔ اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ قبر میں حساب کتاب اُن کا ہوگا، جن کے ذمے بقایا ہے۔ بھلا جو اس دنیا میں ہی اپنا حساب بےباق کرکے جائے، اُس سے حساب کیسا!۔ ایک دوسری جگہ حدیثِ رسولﷺ ہے کہ اللہ نے شہید کو سات امتیازات عطا کئے ہیں۔ ان سات میں سے ساتواں امتیاز  زیارتِ خداوندِ متعال ہے، یعنی اگر ایک انسان اپنی اس زندگی میں ریاکاری کرتا ہے، وجہ اللہ کے بجائے طرح طرح کے مفادات پر نظر رکھتا ہے، اور  ہوائے نفس کو اپنا رب بنا لیتا ہے تو ایسا شخص قصاب کے ٹوکے سے مارا جائے یا کسی کی گولی سے، اُسے شہید نہیں کہا جا سکتا۔ ہمارے نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: جو شخص خدا کی راہ میں سرحدوں کی حفاظت یا جہاد کے لئے گھر سے نکل جاتا ہے۔ اس کے لئے  اٹھائے گئے ہر قدم پر سات لاکھ نیکیاں  لکھی جاتی ہیں، اس کے سات لاکھ گناہوں کو مٹایا جاتا ہے اور اس کے سات لاکھ درجات بلند ہوں گے۔ وہ اس وقت تک خدا کی حفاظت میں رہتا ہے، جب تک کہ وہ مر نہیں جاتا ہے اور اُسے جیسے بھی موت آئے، وہ شہید ہے اور اگر وہ محاذ سے واپس آجاتا ہے تو گناہوں سے معاف شدہ ہے اور اس کی دعا مستجاب ہے۔

tripako tours pakistan

قارئینِ کرام توجہ فرمائیں! جو شخص راہِ خدا میں نکل جاتا ہے، وہ پھر شہید ہے، چاہے جس طرح بھی اُس کی موت ہو۔ لیکن جو راہِ خدا میں مخلص ہی نہیں ہوا۔ جو اپنے گناہوں پر نادم ہی نہیں ہوا، جس نے حقوق الناس اور حقوق اللہ کو اہمیت ہی نہیں دی۔ اُس کا شہادت سے کیا تعلق۔ شہید وہ لوگ ہوتے ہیں، جو اپنی زندگیوں کو خدا کی اطاعت اور مخلوقِ خدا کی بھلائی اور رہنمائی کیلئے وقف کر دیتے ہیں۔ جو جب تک زندہ رہتے ہیں تو اُن کی ذات کا فیض سلسبیل کی طرح رواں دواں رہتا ہے، وہ جب مسکراتے ہیں تو یتیموں اور بیواوں کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے، وہ جب بات کرتے ہیں تو مظلوموں کی ترجمانی ہوتی ہے، اُن کے ماتھے کی شکن سے ظالموں کے دِل دہلتے ہیں، ان کے جوتوں کی نوک سے فرعونوں کے تاج لرزتے ہیں، ان کی گفتگو سے جبر و استبداد کی زنجیریں ٹوٹتی ہیں۔

وہ جب اِس دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہو جاتے ہیں تو کبھی اُن کی لاشوں پر گھوڑے دوڑا دیئے جاتے ہیں، کبھی اُنہیں رات کی تاریکی اور تنہائی میں دفن کیا جاتا ہے، کبھی اُن کے مسموم بدن پر ہتھکڑیوں کے نشان ملتے ہیں اور کبھی اُن کے جنازے سیلِ بلا بن کر اُمڈتے ہیں۔ یہ زندگی میں یتیموں کے منہ میں نوالے ڈالتے ہیں، اپنے کاندھوں پر مساکین کیلئے اناج اٹھاکر لے جاتے ہیں، اِن کی قوتِ بازو سے فقیروں کے چولہے جلتے ہیں اور ان کے آہنی سینے کمزوروں کی سِپر بنتے ہیں۔ جب ہماری زندگی میں یہ رنگ نہیں، جب چال چلن میں یہ ڈھب نہیں، جب سوچ میں یہ وسعت نہیں، جب عمل میں یہ خلوص نہیں تو پھر  فقط نعروں سے شہادت نصیب نہیں ہوتی۔ اگر آج ہمارے گھر سلامت ہیں، ہماری عزتیں محفوظ ہیں، ہماری ناموس بچی ہوئی ہے، ہمارے ہاں فوجیوں کے گلے کاٹ کر فٹبال نہیں کھیلے جاتے، اگر داعش کے جنات ہمارے ملک پر قبضہ نہیں کرسکے۔

اگر طالبان اور القاعدہ کے خونخوار وحشی سانحہ اے پی ایس کو تکرار نہیں کرسکے تو یہ سب ویسے ہی نہیں ہوگیا، یہ اُن کے خلوص کا ثمر ہے، جو دن رات مختلف محاذوں پر ہماری حفاظت کیلئے کمر بستہ ہیں۔ اگر آج ہماری سرحدیں سلامت، دفاع مضبوط اور ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں، اگر ہمارے بچے سکون سے اسکول جاتے ہیں، ہماری بچیوں کے اسکولوں کو بموں سے نہیں اُڑایا جاتا، ہماری عبادت گاہوں سے فرقہ واریت کے عفریت کو نکال دیا گیا ہے اور ہمارے ہاں امن و سکون کی واپسی ممکن ہوئی ہے تو اس میں نائیک سیف علی جنجوعہ شہید، کیپٹن محمد سرور شہید اور کم سِن طالب علم اعتزاز حسن شہید سے لے کر شہید قاسم سلیمانی جیسوں کی مخلصانہ قربانیوں کا ہی عمل دخل ہے۔

شہید قاسم سلیمانی نے شہداء کی نشانی یہ بتائی تھی کہ “شرط شهید شدن، شهید بودن است۔ اگر امروز بوی شهید از رفتار و اخلاق کسی استشمام شد، شهادت نصیبش می شود. تمام شهداء دارای این مشخصه هستند” یہ جملہ رہتی دنیا تک عرفاء و شہداء اور مجاہدینِ اسلام کے ہاں زیرِ بحث رہے گا، اپنے اپنے ظرف کے مطابق ادباء اور مترجمین اس کے تراجم اور تفاسیر کرتے رہیں گے۔ تاہم ایک سال تک مسلسل سوچنے کے بعد مجھے اس کا جو مفہوم سمجھ آیا، وہ سادہ الفاظ میں کچھ یوں ہے کہ “شہید ہونے کی شرط اِس زندگی میں شہید بننا  ہے۔ اگر آج کسی کے  طرز عمل اور اخلاق سے اخلاص کی خوشبو آئے تو وہی شہید ہوگا۔” اپنے دانشمند طبقے کی زبانی حاصل ِکلام یہ ہے کہ شہداء ہی شہید ہوتے ہیں۔ جی ہاں آج ہی شہید ہو جائیں، تاکہ کل کو شہید ہوسکیں۔