مشرقی پاکستان میں ہمارے”گناہ”۔۔رانا اظہر

ہماری نئی نسل کی بدقسمتی یہ نہیں کہ ان کے سامنے دانشوروں کی خرافات آتی ہیں بلکہ اصل بدنصیبی یہ ہے کہ یہ نسل خود سے کچھ جاننے، پڑھنے، چیک اور کراس چیک کرنے سے معذور ہے۔ اس ذہنی معذوری کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا بھی ہے جو دنیا بھر میں تو علم کی ترسیل کا ایک بڑا ذریعہ ہے لیکن ہمارے ہاں یہ جہالت اور پراپیگنڈا کا آلہ ہے۔ اسی سوشل میڈیا سے جنم لینے والے زیر تعمیر دانشور کے پاس علم تو کیا ہونا، معلومات کا بھی شدید فقدان ہے۔ اسی وجہ سے آپ کو یہ انہی مختصر جملوں کی جگالی کرتے نظر آتے ہیں جو دانشوروں نے چبا کر ان کی طرف پھینک دیے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا پسندیدہ جملہ بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمان کی سیاسی بکواس ہے کہ “مجھے اسلام آباد کی سڑکوں سے (بنگال کی) پٹ سن کی بو آتی ہے۔ اس جملے یہ تاثر ابھرتا ہے گویا مغربی پاکستان نے مشرقی پاکستان میں اور تو کچھ نہیں کیا بلکہ ان کا سرمایہ اس طرف لانے کا گناہ ہی کرتا رہا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ جان لیجیے کہ انگریز سامراج کے وقت ہی سے بنگال معاشی اور ترقیاتی طور پر دو ایسے حصوں میں منقسم تھا جن کے درمیان معاشی تفاوت کی گہری لکیر حائل تھی۔ برٹش راج میں ہی تمام تر ترقی کا محور صرف مغربی بنگال تھا جبکہ مشرقی بنگال کی حیثیت ایک پسماندہ دیہاتی علاقے سے زیادہ نہیں تھی جس کا کام صرف مغربی بنگال کے لیے زرعی خام مال مہیا کرنا تھا۔ سن 47 میں آزادی کے وقت مشرقی پاکستان میں سوائے ڈھاکا کے کوئی قابل ذکر سہولیات والا شہر نہیں تھا۔ صوبے (مشرقی پاکستان) کی واحد قدیم بندرگاہ چٹاگانگ تھی جس کی بدولت یہ قصبہ نما شہر آباد تھا۔ قیام پاکستان کے بعد مرکزی حکومت نے پسماندہ ترین مشرقی پاکستان کی ترقی کے لیے کیا کچھ کیا، اس کی ایک مختصر سی جھلک پیش ہے۔
تعلیم:
تعلیمی سہولیات کے لیے عام سکول کالجز کی تفصیل آپ خود تلاش کر لیجیے، میں آپ کو ان کیڈٹ کالجز کا بتاتا ہوں جو مرکزی حکومت نے قائم کیے اور وہ بھی اس علاقے میں جس کے متعلق دانشوروں کو صرف ایک ہی بات یاد ہے کہ مغربی پاکستان والے بنگالیوں کو فوج میں شامل نہیں کرتے تھے کہ ان کے قد چھوٹے ہیں۔ یہ روایت انگریز کی تھی لیکن پاکستان کی حکومت نے بنگالیوں کو فوج کی طرف راغب کرنے کے لیے کیا کوشش کی، دیکھ لیجیے ۔۔۔۔۔۔
فوجدارہاٹ کیڈٹ کالج
چٹاگانگ کے قریب فوجدارہاٹ کے علاقے میں اس کیڈٹ کالج کا قیام 28 اپریل 1958 کو جنرل ایوب خان کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اسے برطانوی پبلک سکولز کے ماڈل پر قائم کیا گیا تھا تاکہ (بنگالی) مشرقی پاکستانی بچے تعلیم حاصل کر کے فوجی اور سول ملازمتوں میں جا سکیں۔ اس کالج کا پرنسپل آج بھی فوج کا ایک کرنل ہی ہوتا ہے۔ اس کے طلبا میں بنگلہ دیش کے دو آرمی چیفس، متعدد فوجی اور سول افسران اور گورنر سٹیٹ بینک بھی شامل ہیں۔
جھنیدا کیڈٹ کالج
یہ کالج 18 اکتوبر 1963 کو جھنیدا کے قریب کشتیا ہائی وے پر 103 ایکڑ رقبے پر بنایا گیا۔ اسے بھی فوجدارہاٹ کیڈٹ کالج کے ماڈل پر قائم کیا گیا تھا۔ یہ کالج آج بھی بنگلہ دیش کے بہترین کیڈٹ کالجز میں شمار ہوتا ہے۔
مرزاپور کیڈٹ کالج
یہ کالج اس وقت میمن سنگھ (جسے اب تانگیل کہا جاتا ہے) کے علاقے مرزا پور میں قائم کیا گیا۔ جنرل ایوب خان نے 29 نومبر 1963 کو اس کا سنگ بنیاد رکھا اور 9 جنوری 1965 کو میجر جنرل فضل مقیم نے اس کا افتتاح کیا۔ اس کالج کے قیام کا مقصد پاک فوج کے لیے افسران کی تیاری تھا۔ اس کے طلبا میں ایک چیف اَو آرمی سٹاف، متعدد جرنیل، ایک اور گورنر سٹیٹ بینک شامل ہیں۔
راجشاہی کیڈٹ کالج
جنرل ایوب خان نے اس کالج کا سنگ بنیاد 6 نومبر 1964 کو رکھا اور 11 فروری 1966 کو اس نے ایوب کیڈٹ کالج کے نام سے کام کا باقاعدہ آغاز کیا۔ 1972 میں اس کا نام راجشاہی کیڈٹ کالج رکھ دیا گیا۔
یونیورسٹی اَو راجشاہی
قیام پاکستان کے وقت مشرقی پاکستان میں صرف ایک یونیورسٹی تھی ۔۔۔۔۔ ڈھاکا یونیورسٹی۔ اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت نے راجشاہی شہر سے متصل دریائے پدما کے کنارے پر 753 ایکڑ اراضی پر 31 مارچ 1953 کو یہ یونیورسٹی قائم کی۔
یونیورسٹی اَو چٹاگانگ
مشرقی پاکستان کے دوسرے بڑے شہر چٹاگانگ سے 22 کلومیٹر کے فاصلے پر 1764 ایکڑ رقبے پر محیط یونیورسٹی اَو چٹاگانگ 3 دسمبر 1965 کو قائم کی گئی۔
ایگریکلچر یونیورسٹی
میمن سنگھ سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر کالج اَو ویٹرنری سائنسز 18 اگست 1961 کوقائم ہوا جسے بعد ازاں ایگریکلچر یونیورسٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔ 1971 تک مشرقی پاکستان میں یہ واحد زرعی یونیورسٹی تھی۔ 1973 میں اس کا نام بنگلہ دیش ایگریکلچر یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔
چٹاگانگ میڈیکل کالج
قیام پاکستان سے ایک برس پہلے ڈھاکا میں ایک میڈیکل کالج بنا تھا۔ ملکی ضروریات کے پیش نظر مشرقی پاکستان کے دوسرے بڑے شہر میں چٹاگانگ میڈیکل کالج 20 ستمبر 1957 کو قائم ہوا۔ اس کے ساتھ ابتدائی طور پر 120 بیڈز کا ہسپتال بھی بنایا گیا۔ 1969 میں اس کی موجودہ چھ منزلہ عمارت اور 750 بیڈز کا ہسپتال تعمیر کیا گیا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

انفراسٹرکچر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مونگلا پورٹ
قیام پاکستان سے پہلے مشرقی بنگال میں صرف ایک ہی قدیم تجارتی بندرگاہ تھی ۔۔۔۔۔ چٹاگانگ جو جنوب مشرقی علاقے میں واقع تھی۔ اس بندرگاہ کی توسیع کے باوجود دوسرے علاقوں میں انفراسٹرکچر کو ترقی دینے کے لیے صوبے کے مغربی ساحل پر ایک اور بندرگاہ تعمیر کرنے کا فیصلہ ہوا اور 1951 میں کھلنا سے 48 کلومیٹر دور دریائے پاسور پر اسے چالنا پورٹ کے نام سے تعمیر کیا گیا تاہم اسے وسعت دینے کے لیے 11 دسمبر 1954 کو دریائے پاسور اور دریائے مونگلا کے سنگم پر منتقل کر دیا گیا۔ آج بھی چٹاگانگ کے بعد یہ ملک کی دوسری بڑی بندر گاہ ہے۔
کپتائی ڈیم
مشرقی پاکستان میں زیادہ تر دریا میدانی علاقوں میں بہتے ہیں اور ان کا قریباً نصف علاقہ ڈیلٹا پر مشتمل ہے۔ صرف ایک دریا کرنا فلی ایسا ہے جس پر پانی کا ذخیرہ کرنے اور اسے آب پاشی کے علاوہ بجلی پیدا کرنے کے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ 1957 میں دریائے کرنافلی پر کپتائی کے مقام پر ڈیم کی تعمیر شروع ہوئی اور 1962 میں مکمل کر لی گئی۔ اس ڈیم میں باون لاکھ ایکڑ فٹ سے زاید پانی کی گنجائش تھی اور ابتدائی طور پر اس سے 80 میگا واٹ بجلی پیدا کی جاتی تھی جو بعد میں بڑھ کر 230 میگا واٹ ہو گئی۔ آج بھی یہ بنگلہ دیش کا واحد ہائڈرو پاور جنریٹنگ ڈیم ہے۔
میگھنا کراس ڈیم ون اینڈ ٹو
دریائے میگھنا کے سیلاب اور کٹاؤ سے بچانے کے لیے ایسٹ پاکستان واٹر ڈویلپمنٹ بورڈ نے 1957 میں 12 کلومیٹر اور 1964 میں 16 کلومیٹر طویل کراس ڈیمز بنائے جنہیں میگھنا کراس ڈیم ون اور میگھنا کراس ڈیم ٹو کے نام دیے گئے۔ ان ڈیمز کی بدولت نہ صرف وسیع علاقہ سیلاب سے محفوظ بنایا گیا بلکہ 770 مربع کلومیٹر زمین دریا سے واگذار کر کے خشک کی گئی۔
کرنافلی پیپر ملز
چٹاگانگ میں دریائے کرنافلی کے کنارے پر 1953 میں پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے کرنافلی پیپر ملز قائم کی جو پورے پاکستان میں کاغذ بنانے کی سب سے بڑی مل تھی۔
آدم جی جیوٹ ملز
جب پاکستان وجود میں آیا تو بنگال میں پٹ سن کی 108 ملز قائم تھیں جو سب کی سب مغربی بنگال میں واقع تھیں۔ اس طرح مشرقی پاکستان میں جہاں سب سے زیادہ پٹ سن پیدا ہوتی تھی، ایک بھی جیوٹ مل نہیں تھی۔ پاکستان کے قیام کے بعد حکومت نے سرمایہ داروں کو جیوٹ مل لگانے کی آفر دی جس کے جواب میں معروف صنعتکار عبدالواحد آدم جی نے 1949 میں مل قائم کرنے کی حامی بھری۔ 1950 کے اواخر میں یہ مل نارائن گنج کے علاقے میں مکمل ہوئی اور 1951 میں اس نے کام شروع کر دیا۔ اس کے لیے نصف سرمایہ آدم جی گروپ اور نصف پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے فراہم کیا۔ بعد ازاں آدم جی نے حکومت پاکستان کے شئیرز بھی خرید لیے اور ملز کی توسیع شروع کی۔ اس طرح یہ مل بھارت ہی نہیں برطانیہ کی جیوٹ ملز کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی جیوٹ مل بن گئی اور مشرقی پاکستان کی وہ پٹ سن جو بنگالی سیاستدانوں کی ملی بھگت سے اونے پونے داموں بھارت سمگل کی جاتی تھی، اس کا معقول معاوضہ کسانوں کو ملنا شروع ہوا۔ 1972 میں اس مل کو حکومت بنگلہ دیش نے قومیا لیا جس کے نتیجے میں 12 ارب ٹکا کا خسارہ دینے بعد 2002 میں اسے بند کر دیا گیا۔
ایسٹرن ریفائنری لمیٹڈ
حکومت پاکستان نے مشرقی ونگ کی ضروریات کے پیش نظر 1963 میں ایسٹرن ریفائنری لمیٹڈ کے نام سے ایک بہت بڑی آئل ریفائنری قائم کی جس میں 35 فیصد شئیر حکومت پاکستان، 30 فیصد برطانوی برما آئل کمپنی اور 35 فیصد نجی سرمایہ کاروں کے تھے۔ یہ آئل ریفائنری جسے 1972 میں قومیا لیا گیا، آج بھی بنگلہ دیش کی ضروریات کا 40 فیصد تیل اور لبریکینٹس مہیا کرتی ہے اور ملک کی واحد سرکاری آئل ریفائنری ہے۔
پاکستان کی پہلی سٹیل مل
پاکستان کی پہلی سٹیل مل مغربی نہیں، مشرقی پاکستان میں قائم کی گئی تھی۔ یہ سٹیل مل بنانے کا ارادہ پہلے پنج سالہ منصوبے میں رکھا گیا تھا لیکن اسے دوسرے پنج سالہ منصوبے میں پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ چٹاگانگ سٹیل مل کا افتتاح ایوب خان نے 24 اگست 1967 کو کیا۔ اس پر اس وقت 335 ملین سے زیادہ لاگت آئی اور اس کی سالانہ پیداوار ڈیڑھ لاکھ ٹن سے زاید تھی جسے 1970 تک اڑھائی لاکھ ٹن ہونا تھا۔

Facebook Comments