غزہ مونامور “فلسطینی فلم کا تعارف”۔۔منصور ندیم

میں نے سعودی عرب کی چند فلموں کا تعارف لکھا ہے، لیکن آج کیوں نہ فلسطین کی ایک فلم کا تعارف لکھا جائے، یوں تو فلسطین گذشتہ کچھ دہائیوں سے جس ظلم و زیادتی کا شکار ہے،اس لئے کبھی بھی وہاں کی تہذیبی اور ثقافتی ورثے یا رویوں پر کوئی بات نہیں کی جاتی، تو سوچا آج وہاں کی اسی سال بنائی جانے والی ایک فلسطینی فلم “غزہ مونامور” (Gaza Mon Amour) جو مصر میں پچھلے جمعے ہونے والے بیالیسویں ‘قاہرہ انٹرنیشنل فلم فیسٹول’ میں پیش کی گئی، کو خاصی پسندیدگی اور پذیرائی ملی ہے، اس فلم شو میں عرب اور غیر ملکی فن کاروں اور فنی ناقدین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔

 

87 منٹ کی اس فلم کی کہانی ایک 60 سالہ مچھلیوں کو پکڑ کر بیچنے والے عیسی نامی ایک درمیانی عمر کے آدمی کے گرد گھومتی ہے، جو بازار میں اپنی دکان کے پڑوس میں کپڑوں کی فروخت کا کام کرنے والی ایک بیوہ خاتون سہام کی محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ سہام سے کبھی بھی اپنی محبت اور جذبات کا اظہار کرنے میں ناکام رہتا ہے وہ اپنے آپ کوسہامسے محبت کے اظہار پر آمادہ کرتا ہے مگر سہام سے اپنی محبت کے اظہار سے قبل عیسی کو سمندر میں Apollo کا ایک قدیم مجسمہ مل جاتا ہے۔ اس کے سبب عیسی کی محبت کی کہانی رک جاتی ہے اور اسے غیر متوقع حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

tripako tours pakistan

اس فلم میں غزہ کے میں موجود لوگوں کو درپیش دشوار نامساعد حالات کی بھی بہت اچھی تصویر کشی کی گئی ہے، کہ کیسے معاشی اور دوسرے تمام مسائل کے باوجود یہ لوگ زندگی اور پیار کو ان حالات میں بھی ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ اس فلم میں مزاح کو نرم اور رنجیدہ ماحول کے ساتھ بیک وقت میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ فلم غزہ میں پیش آنے والے ایک حقیقی واقعے پر مبنی ہے۔ جب ایک مچھیرے کو سمندر میں Apollo کا مجسمہ ملا تھا، اور فلسطینی تنظیم حماس نے اس مجسمے کو قبضے میں لے کر اس کا خریدار تلاش کرنا شروع کر دیا۔ اس امید کے ساتھ کہ ملک کو درپیش مالی مشکلات کا حل مل جائے گا۔ (تاہم اس کے بعد مجسمے کا کیا ہوا یہ کوئی نہیں جانتا)۔

یہ ایک ڈرامہ فلم ہے اور اس فلم کے ہدایت کار اور رائٹرز دو جڑواں بھائی عرب ناصر Arab Nasser اور طرزان ناصر Tarzan Nasser ہیں۔فلم کے مرکزی کردار ادا کرنے والے فن کار کا نام محمد نزار ہے، اس فلم کی مشرق وسطی اور شمالی افریقا میں پہلی نمائش تھی۔ اس فلم کو فلسطین آسکر کمیٹی نے آئندہ اپریل میں ہونے والے 93 ویں اکیڈمی ایوارڈز میں غیر ملکی زبان کی کیٹیگری (Best International Feature Film) کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ فلم کا پریمیر شو (2020 Venice Film Festival) وینیس میں فیسٹول کے دوران پیش کیا گیا تھا۔ جسے بعد میں ٹورنٹو فیسٹول (Toronto International Film Festival 2020 ) کی بہترین ایشیائی فلم کے طور پر (NETPAC Award) ایوارڈ کے لئے منتخب کیا گیا۔

اس فلم کے پروڈیوسر رانی مشالہ (Rani Massalha) ہیں جن کے مطابق اس فلم کی تیاری اور عکس بندی کے حالات آسان نہ تھے۔ عکس بندی ایک سے زیادہ ملکوں میں تھی۔ بعض مناظر اردن اور پرتگال میں عکس بند کیے گئے۔ ان کے مطابق خوش قسمتی یہ رہی کہ فلم کی عکس بندی کرونا کی وبا پھیلنے سے قبل مکمل کر لی گئی تھی۔ یہ فلم فرانس فرانس، فلسطین، جرمنی، پرتگال اور قطر کی کوپروڈکشن کمپنیز کے تعاون سے پایہ تکمیل تک پہنچی۔ اس فلم کو دیکھنے سے فلسطین کی تہذیبی اور ثقافتی رنگوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *