زندگی کا دوسرا راز(قسط3)۔۔وہاراامباکر

فرانسس کرک نے 1953 میں اعلان کیا کہ انہوں نے جیمز واٹسن کے ساتھ ملکر زندگی کا راز دریافت کر لیا ہے۔ انہوں نے ڈی این اے کے ڈبل ہیلکس کے سٹرکچر کا پتا لگا لیا تھا۔ یہ سائنس کا ایک بڑا سنگِ میل تھا۔
لیکن جو کرک اور واٹسن نے دریافت کیا تھا، وہ صرف نصف راز تھا۔ اس کا دوسرا نصف ڈی این اے کے بیس پئیر میں نہیں لکھا ہوا۔ یہ کسی ٹیکسٹ بک میں نہیں۔ نہ ابھی، اور نہ ہی آئندہ کبھی۔
کیونکہ اس کا دوسرا نصف آپ کے چاروں طرف بکھرا ہوا ہے۔ یہ دنیا اور اس کا تجربہ ہے۔ یہ ذائقے اور خوشبوئیں، رنگ اور ساخت، حادثے اور محبتیں، زبانیں اور کہانیاں ہیں۔
اس نکتے کو سمجھنے کے لئے ایک سوال کرتے ہیں۔
فرض کیجئے کہ آپ کا ڈی این اے تیس ہزار سال پہلے کی دنیا میں لے جایا جائے اور آپ دوبارہ زندگی شروع کریں۔ بالکل اسی ڈی این اے کے ساتھ آپ پیدا ہوئے، اپنی آنکھیں ایک مختلف دور میں کھولیں۔ آپ کیسے ہوں گے؟ کیا آپ کسی جانور کی کھال کا لباس زیبِ تن کئے آگ کے الاوٗ کے پاس بیٹھ کر ستاروں کو دیکھتے ہوئے مسحور ہوں گے؟ کیا آپ درخت پر چڑھ کر دور کسی شکار کی تلاش میں ہوں گے؟ کیا آپ رات کو باہر سونے کے بارے میں فکرمند ہوں گے کیونکہ بارش والے بادل امڈے چلے آ رہے ہیں؟
آپ نے جو بھی جواب دیا ہے، وہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس سوال میں ایک چکر تھا۔
وہ والا شخص آپ نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ شخص آپ کے قریب قریب کا بھی نہیں ہو گا۔ آپ کے آئیڈینٹیکل ڈی این اے والے شخص کی شکل میں آپ سے مشابہت ہو گی کیونکہ جینیاتی ترکیب آپ والی ہے۔ لیکن اس کی سوچ آپ سے بہت مختلف ہو گی۔ نہ ہی وہ آپ کی طرح تصورات بناتا ہو گا، نہ اس کے مستقبل یا ماضی کے بارے میں آپ جیسے خیالات ہوں گے۔ نہ آپ جیسی پسند یا ناپسند کرتا ہو گا۔ اپنی خوشی، غم، محبتیں، عداوتیں، خدشات اور امیدیں ہوں گی۔ وہ آپ نہیں بلکہ ایک بالکل الگ انسان ہو گا۔
کیوں؟ کیونکہ اس کے زندگی کے تجربات میں آپ سے کوئی مماثلت نہیں ہو گی۔ ظاہر ہے کہ ڈی این اے زندگی کی کہانی کا ایک حصہ ہے لیکن صرف ایک حصہ ہی ہے۔ باقی بڑی کہانی ان نفیس تفصیلات کا نتیجہ ہے جو ہم تجربہ کرتے ہیں، جو ہمارا ماحول ہے۔ اور یہ سب کچھ ہمارے دماغ کے خلیات اور ان کے ایک دوسرے سے رابطوں پر نقش ہو جاتا ہے۔ مقامی کلچر، ٹیکنالوجی اور ہمارے گرد کی تنام دنیا ہمیں تراشتی رہتی ہے۔ ہم محسوسات کا سپیس اور ٹائم کے حصے میں ایسا برتن ہیں جس میں تجربات انڈیلے جاتے ہیں۔ اندر کا ڈی این اے اور یہ سب تجربات ۔۔۔ یہ سب ملکر ہمیں تشکیل دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انڈونیشیا میں بہت شاندار جانور کوموڈو ڈریگن پایا جاتا ہے۔ اگر آج کے کوموڈو ڈریگن کی زندگی کا موازنہ آج سے تیس ہزار سال پہلے کے کوموڈو ڈریگن کی زندگی سے کیا جائے تو ان میں تفریق کرنا مشکل ہو گا۔ ایسا کیوں؟ فرق کہاں پر ہے؟
کوموڈو ڈریگن اپنے ساتھ جو دماغ لے کر آتے ہیں۔ وہ بڑی حد تک ہر عمل کے جواب میں وہی ردِ عمل دیتا ہے۔ ان کی مہارتیں ہارڈوائیرڈ ہیں (کھاوٗ پیو، تیرو، ساتھی تلاش کرو) اور ان مہارتوں نے انہیں ایکوسسٹم میں ایک مستحکم گوشہ دیا ہے۔ لیکن یہ لچکدار نہیں۔ ان کو جنوب مشرقی انڈونیشیا سے اٹھا کر برف والے کینیڈا میں لے جایا جائے تو جلد ہی دنیا میں کوموڈو ڈریگن ختم ہو چکے ہوں گے۔
اس کے مقابلے میں انسان دنیا بھر میں ہر قسم کی ایکولوجی میں بستے ہیں (اور چند لوگ خلا میں بھی)۔ یہ کرشمہ کیوں ہے؟ یہ اس وجہ سے نہیں کہ ہم زیادہ سخت جان ہیں یا زیادہ جسمانی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ اگر اس کا مقابلہ کیا جائے تو ہم دوسرے جانوروں سے بآسانی شکست کھا جائیں گے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اس دنیا میں نامکمل داخل ہوتے ہیں۔ اپنے ابتدائی برسوں میں مکمل طور پر دوسروں پر منحصر ہوتے ہیں۔ یہ غیرمعمولی طور پر طویل عرصہ وہ قیمت ہے جو ہمیں منفرد بناتی ہے۔ کیونکہ ہمارا دماغ دنیا کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کو ساخت دے۔ ہم مقامی زبانیں، کلچر، فیشن، سیاست، مذہب، اور اخلاقیات سیکھ لیں۔
نیم پختہ اور ادھورے دماغ کے ساتھ اس دنیا میں آمد ہماری جیت کا سبب ہے۔ ہم دنیا کی ہر نوع سے مقابلے میں کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ پوری زمین کو آباد کر دیا ہے۔ سمندروں کو فتح کر لیا ہے۔ چاند پر قدم رکھ لئے ہیں۔ اپنی زندگی بڑھا لی ہے۔ ہم نظمیں لکھتے ہیں، فلک بوس عمارتیں بناتے ہیں اور بہت ہی پریسژن کے ساتھ اپنے دماغ کی تفصیلات کی پیمائش بھی کر لیتے ہیں۔ یہ سب صلاحیتیں جینیاتی کوڈ کا حصہ نہیں۔ جینیاتی کوڈ تو محض وہ سٹرکچر ممکن کرتا ہے جو ان صلاحیتوں کو اپنا سکے۔
جینیاتی کوڈ کا سادہ اصول یہ ہے “لچکدار ہارڈوئیر بنانا ہے جو دنیا کے ساتھ ڈھل سکے”۔ ہمارا ڈی این اے جاندار کو بنانے کا فکسڈ نقشہ نہیں ہے۔ یہ ایک ڈائنامک سسٹم بناتا ہے جو خود اپنی سرکٹری کو مسلسل دوبارہ لکھ رہا ہے تا کہ اپنی دنیا کا عکس اس پر کنندہ ہو سکے اور یہ خود اس میں مفید طریقے سے زندگی بسر کر سکے۔

(جاری ہے)

tripako tours pakistan

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *