بڑے آئے ( سو الفاظ کی کہانی)۔۔سیف الرحمٰن ادیب

دونوں کی گاڑیاں آپس میں کیا ٹکرائیں، وہ بیچ سڑک پر ہی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔
پہلے ایک دوسرے کا گریبان نوچا،
پھر خوب گلا پھاڑ کر شور مچایا،
پھر راہ بند کر کے راہ گیروں سے بےشمار دعائیں لیں،
پھر عزتوں کو اچھال کر عزت دار ہونے کا قوی ثبوت پیش کیا،
پھر تھپڑ مکوں کی پوٹلی کھول کر آپس میں خوب افادہ اور استفادہ کیا،
پھر گالیوں کا بستہ کھولا اور اچھی طرح “فیض” تقسیم کیا
اور پھر ٹائیاں سیدھی کرتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔
ہونہہ! بڑے آئے تعلیم یافتہ۔

سیف الرحمن ادیؔب
سیف الرحمن ادیؔب
سیف الرحمن ادیؔب کراچی کےرہائشی ہیں۔روزنامہ”اسلام“میں انکی سوالفاظ کی کہانیاں شائع ہوتی رہتی ہیں۔فیسبک پر ان کاایک پیج ہےجس پر 200 سےزائد سو الفاظ کی کہانیاں لکھ چکے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی سو الفاظ کی کہانیوں کا ایک مجموعہ "اُس کے نام" بھی پی ڈی ایف کی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *